آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام، بحیرہ احمر میں کشیدگی سے تیل برآمدات متاثر

حوثی گروپ انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی اتوار کو قاہرہ پہنچے ہیں۔ ان کا یہ دورہ سعودی ولی عہد کے دورۂ مصر کے چند روز بعد ہوا ہے۔

خلاصہ

  • حوثی گروپ انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں
  • ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق
  • امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے: خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کا دعویٰ
  • متحدہ عرب امارات میں امریکی مشن کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
  • روس کا ماسکو پر یوکرینی ڈرون حملے میں دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی

لائیو کوریج

  1. پارلیمانی انتخابات سے قبل ماسکو پر ’سینکڑوں ڈرونز‘ سے یوکرین کا حملہ، میئر کا دعویٰ

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے دعویٰ کیا ہے کہ ’یوکرین نے گذشتہ دو روز کے دوران روسی دارالحکومت ماسکو پر سینکڑوں ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

    ماسکو کے میئر کے مطابق سنیچر سے اب تک کم از کم 450 ڈرونز نے ماسکو کو نشانہ بنایا، جسے انھوں نے شہر پر ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ قرار دیا ہے۔

    ان کے مطابق حملے میں ماسکو کی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا ہے۔ جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریفائنری آگ کی لپیٹ میں ہے۔

    روسی علاقائی حکام کے مطابق حملوں میں دو افراد ہلاک اور کم از کم چھ زخمی ہوئے ہیں۔

    روسی دارالحکومت پر یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ روسی حملے میں دارالحکومت کییف کے علاقے میں دو بچوں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  2. پاکستان تحریکِ انصاف کا عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی گرفتاری اور گھروں پر چھاپوں کا دعویٰ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے پارٹی کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی دیگر بہنوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے ہیں اور بعض رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما سوکت بسرا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ ’پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں کو ان کے بچوں سمیت گرفتار کر لیا ہے، جبکہ علیمہ خان کے دونوں بیٹوں اور ان کی 20 سالہ بھانجی سکینہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’زیرِ حراست افراد کو بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘

    تاہم دستیاب اطلاعات میں علیمہ خان کی گرفتاری کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے انھیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لینے کا حکم دیا تھا اور بعد ازاں انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہلِ خانہ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ علیمہ خان کی حراست کے بعد عمران خان کی دیگر بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین خانم سے منسلک گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے اور کچھ رشتہ داروں کو اپنے ساتھ لے گئی۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بہنوں، ان کے بچوں اور دیگر رشتہ داروں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی۔

    تاہم پی ٹی آئی کے احتجاجی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے اٹک پل پر بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

  3. امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور کم

    آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر نظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد بدستور کم ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور امریکی حکومت نے گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں اضافے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ’سٹریٹس‘ ویب سائٹ نے اتوار کو بتایا کہ صرف آٹھ تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق خبر رساں ادارے الجزیرہ نے برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد امریکہ کی جانب سے بتائی گئی تعداد کے مقابلے میں ’کافی کم‘ ہے۔

    تاہم گزشتہ تین روز کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہ ملنے سے تیل کی عالمی منڈی میں کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔ شمالی سمندر سے حاصل ہونے والا برینٹ خام تیل، جس کی قیمت گزشتہ ہفتے 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، پیر کی صبح تقریباً 104 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہی۔

  4. اگر ایران ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے تو اس کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز

    اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور اس مقصد کے لیے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ جاری رکھا جائے گا۔‘

    والٹز نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ’اگر ایران ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے تو اس کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے۔‘

    اس پوسٹ میں نیویارک میں ’المونیٹر‘ کی میزبانی میں ہونے والی ایک تقریب سے والٹز کی گفتگو کا ایک مختصر ویڈیو کلپ بھی شامل تھا۔ ویڈیو میں والٹز نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو 47 سال سے جاری تنازع کا تسلسل قرار دیا۔

    انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اپنے اس مقصد پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں کہ ایران، جو دنیا میں ’دہشت گردی‘ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ سرگرم سرپرستی کرنے والا ملک ہے، جوہری ہتھیاروں کی آڑ میں دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکے گا، بالخصوص آبنائے ہرمز کو۔‘

    تاہم ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس نے سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔

    مگر صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔

  5. حلب کے قریب اسلحہ ڈپو میں دھماکے، کم از کم چار افراد زخمی

    شام کے شمالی صوبے حلب کے جنوبی مضافات میں پیر کی صبح ایک اسلحہ ڈپو میں شدید دھماکے ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    شامی سرکاری ٹی وی ’الاخباریہ‘ اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق دھماکے حلب کے جنوبی مضافات میں واقع شہر العیس کے قریب ہوئے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق شامی وزارتِ دفاع سے منسلک ایک اسلحہ ڈپو موجود ہے۔

    شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے بھی بتایا ہے کہ دھماکے علی الصبح العیس کے قریب شامی فوج کی ایک پوزیشن پر ہوئے۔

    دھماکوں کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اسرائیلی فضائی حملوں کا نتیجہ تھے اور جس اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا وہاں ترکی کی حمایت یافتہ فوجی ہتھیار ذخیرہ کیے جاتے تھے۔

    مقامی حکام نے شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

  6. تہران، واشنگٹن میں ممکنہ رابطے کی کوششیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    پیر کی صبح مشرقی ایشیا کی تیل منڈیوں میں قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں۔ یہ صورتحال قطر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطے کا ذریعہ قائم کرنے کی کوششوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

    شمالی سمندر سے حاصل ہونے والا برینٹ خام تیل، جس کی قیمت گذشتہ ہفتے 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم پیر کی صبح تقریباً 104 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا۔

  7. عباس عراقی نیویارک روانہ، خطے کی صورتحال پر مشاورت کے لیے دوحہ میں مختصر قیام

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی اتوار کی شام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے تہران سے قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق عباس عراقی نیویارک جاتے ہوئے دوحہ میں مختصر قیام کریں گے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ان کے قطر میں رکنے کا مقصد ’خطے کی تازہ ترین صورتحال پر مشاورت‘ کرنا ہے۔

  8. حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام، بحیرہ احمر میں کشیدگی سے تیل برآمدات متاثر

    حوثی گروپ انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 28 فضائی حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی اتوار کو قاہرہ پہنچے ہیں۔ ان کا یہ دورہ سعودی ولی عہد کے دورۂ مصر کے چند روز بعد ہوا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی حکومت کے ملازمین کے سعودی شہروں طائف اور ینبع کے سفر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ینبع بحیرہ احمر پر تیل کی برآمد کے ایک بڑے ٹرمینل کا مرکز ہے، جسے ماضی میں حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

    ریاض اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے باعث دنیا کے سب سے بڑے خام تیل فراہم کنندہ سعودی عرب سے تیل کی برآمدات کے ساتھ ساتھ سمندری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے اتحادی امریکہ کی جانب سے بھی مختلف نوعیت کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق واشنگٹن نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ فاکس نیوز نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے امریکی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اتوار کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ یہ قاہرہ کا ان کا ایک غیر معمولی دورہ ہے۔

    یہ دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مصری دارالحکومت کے دورے کے چند روز بعد ہوا، جہاں انھوں نے صدر السیسی کے ساتھ آبنائے باب المندب سے بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔ تاہم حوثیوں نے یمنی ساحل پر آبنائے کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    حوثیوں نے اس سے قبل یمن کی جنگ میں سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

    سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ اتوار کو سعودی عرب کے بڑے اخبارات نے ریاض پر ہونے والے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے دارالحکومت پر حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا ہے۔

    اتحاد نے کہا کہ حوثیوں نے مملکت کے مغربی حصے کے کئی شہروں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع بھی شامل ہے، جو سعودی تیل کی برآمد کا ایک بڑا مرکز ہے۔

  9. امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے: خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کا دعویٰ

    ایران کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ایک بیان میں خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسے ایسی معلومات ملی ہیں کہ امریکہ، خطے کے کچھ ممالک کی حمایت سے، ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موصولہ معلومات کی بنیاد پر، امریکہ نے خطے کے کچھ ممالک کی رضامندی (گرین سگنل) کے ساتھ، ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے اجلاس میں شریک فریقین یا میزبان یورپی ملک کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    ایران کے اس اعلیٰ ترین عسکری ادارے نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی حملے میں ’شامل‘ ہوتے ہیں یا اس کا ساتھ دیتے ہیں، تو ’انھیں اس مذموم عمل میں شریک سمجھا جائے گا اور وہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے تحمل یا نرم رویے کی توقع نہیں رکھ سکیں گے۔‘

    خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر نے امریکہ کو بھی خبردار کیا کہ حملے کی صورت میں، ’خطے میں اس ملک کے تمام فوجی مراکز اور مفادات کو بغیر کسی پابندی یا لحاظ کے مسلسل، مؤثر اور شدید (تکلیف دہ) حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔‘

  10. ایران کے معاملے پر بڑا فیصلہ لینے کے مرحلے پر ہوں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں ایران سے متعلق بڑے معاملات پر فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہوں۔‘

    فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے حوالے سے مستقبل قریب میں پیش آنے والے انتہائی اہم معاملات پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا سوال یہ ہے کہ میں پورے ملک کو کب اور کیسے تباہ کروں؟ بہتر ہے کہ وہ درست اقدام کریں۔‘

    خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر امریکہ اور خطے کے ممالک نے کوئی غلطی کی تو اس کا جواب بغیر کسی مصلحت یا پابندی کے دیا جائے گا۔‘

  11. گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • گذشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے اتوار کی شب ان کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ سفر کرنے والے تین دیگر افراد کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر دو سینیئر سرکاری اہلکاروں نے ڈپٹی کمشنر کے اغوا کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم انھوں نے ان کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ منیر سومرو کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے اور ضلع نوشکی سے گزرنے کے بعد جب خاران کی حدود میں داخل ہوئے تو ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
    • قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبوں کے لیے درکار ضروری سامان قطر تک نہیں پہنچ پا رہا۔
    • سابق وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ خان نے اتوار کی شب دعویٰ کیا کہ ان کے گھر کے اطراف سکیورٹی ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جس کے باعث خاندان کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شیر شاہ خان نے کہا کہ ’ہمارا گھر محاصرے میں ہے۔ ہماری گلی کے دونوں سروں کو بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہمارا پورا خاندان عملاً گھر میں نظر بند ہو گیا ہے۔‘
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔