حمل، زچگی اور جسمانی تبدیلیاں: ’کیا کترینہ بچے کی پیدائش کے اگلے ہی دن جم چلی جاتیں؟‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 12 منٹ

پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں خواتین کو عمومی طور جاذبِ نظر دکھائی دینے کے لیے عموماً خاندان اور معاشرے کی جانب سے ایک غیر معمولی دباؤ کا سامنا رہتا ہے، اور جب بات شوبز شخصیات کی ہو تو یہ دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں اسی معاملے پر شوبز سے منسلک خواتین نہ صرف ناقدین بلکہ لاکھوں صارفین کے تبصروں اور آرا کا بھی سامنا کرتی ہیں، جن میں اکثر اُن کے کام کے بجائے اُن کی ظاہری حالت کو موضوع بحث بنایا گیا ہوتاہے۔

اور حال ہی میں یہی کچھ بالی وڈ اداکار کترینہ کیف کے ساتھ ہوا ہے۔

اپنے شوہر وکی کوشل کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں۔

کترینہ کیف اور وکی کوشل کے ہاں گذشتہ برس نومبر میں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ اور اب لگ بھگ نو ماہ بعد کترینہ کیف پہلی بار کسی تقریب میں منظر عام پر آئی ہیں اور ظاہر ہے کہ ماں بننے کے عمل کے بعد کترینہ میں آنے والی ظاہری تبدیلیاں بھی واضح تھیں۔

کترینہ کی تصاویر پر بہت سے صارفین نے تبصرے کیے، جن میں اُن کے وزن کا بھی ذکر کیا گیا۔ اور جب چند صارفین کی جانب سے باڈی شیمنگ (ظاہری جسمانی حالت پر تنقید یا مذاق) شروع ہوئی تو بہت سے لوگوں نے ناقدین کی سرزنش کی اور بتایا کہ حمل اور زچگی کا عمل کیسے ایک عورت کے جسم پر اثرانداز ہوتا ہے۔

اس صورتحال میں ایک پاکستانی سوشل میڈیا تجزیہ کار کی ویڈیو نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اُن کے کترینہ کیف کے بارے میں تبصرے کے بعد انھیں انڈیا اور پاکستان میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

متعدد صارفین، صحافیوں اور شوبز مبصرین نے ایسے تبصروں کو ’باڈی شیمنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی جسمانی ساخت یا ظاہری شکل کو مذاق یا تنقید کا موضوع بنانا ہرگز مناسب نہیں۔

انڈین ناقد فریدون شہریار نے لکھا کہ تصاویر میں کترینہ کیف نہایت پُرکشش نظر آ رہی ہیں۔

انھوں نے ناقدین پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی زندگی کے خوشگوار ذاتی لمحات کو اپنی منفی اور ٹاکسک آرا سے آلودہ نہ کریں۔

انھوں نے کہا ’یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے فنکار وزن کم کرنے کے غیر قدرتی طریقے اپناتے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی جانیں بھی گئی ہیں۔‘

فریدون شہریار نے کہا کہ ’کترینہ کیف نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا ہے، اب یہ وقت ان کے لیے بہت اہم ہے اور بچہ اُن کے لیے اہم ہے۔‘

پاکستانی اداکار و گلوکار علی ظفر ماضی میں کترینہ کام کے ساتھ فلم میں کام کر چکے ہیں۔ انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر انھیں کچھ پوسٹس اور تبصرے ایسے دیکھنے کو ملے کہ ’کترینہ پہلے ایسی دِکھتی تھیں اور اب ایسی دکھتی ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’مرد ہونے کے ناطے ہمارا عورت کو لے کر جو تصور ہے، اگر ہمارے بنائے ہوئے معیار کے مطابق پورا نہیں اُتر رہا تو وہ عورت۔۔۔ یہ غلط ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ عورت کو دیکھنے کا یہ طریقہ اچھا نہیں ہے۔‘

علی ظفر نے کہا کہ ’ہمیں نہیں پتا کہ کس انسان کو اپنی زندگی میں کس صورتحال کا سامنا ہے۔ ہمیں سب سے اچھا برتاؤ کرنا چاہیے، نرمی کا شفقت کا اور سراہنے کا۔‘

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس بحث کو خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے وسیع تر رویوں سے جوڑا۔

ایک پاکستانی صارف عاصمہ بخاری نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’کسی بھی عورت کی جسمانی ساخت یا ظاہری شکل کا مذاق اڑانا غلط ہے۔ وہ کون ہوتے ہیں کسی کے ذاتی انتخاب پر تنقید کرنے والے؟ وہ حال ہی میں حمل اور زچگی کے مرحلے سے گزری ہیں، اور ممکن ہے یہ ان کی بعد از زچگی کی کیفیت ہو۔‘

ان کے مطابق ایسے موقع پر ہمدردی اور احترام کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے، ’نہ کہ ان کی ظاہری شکل کی بنیاد پر انھیں تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔‘

ایک اور صارف کنیز فاطمہ نے لکھا کہ مشہور شخصیات بھی عام انسانوں کی طرح عمر کے مختلف مراحل اور جسمانی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں، اس لیے اُن سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنا مناسب نہیں۔

انھوں نے لکھا ’لوگ ایک بالکل معمول کی بات پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟ اداکاروں کی بھی عمر بڑھتی ہے اور وہ بھی عام انسانوں کی طرح عمر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔‘

بعض خواتین صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ ماں بننے کے بعد اکثر خواتین کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور اُن کی توجہ اپنی ظاہری شکل سے زیادہ اپنے بچے کی دیکھ بھال پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی تبدیلیوں کو تنقید کے بجائے فطری عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اسی حوالے سے فاطمہ نے لکھا ’ماں بننے کے بعد عورت سب سے پہلے اپنے بچے کو دیکھتی ہے، اس کی ضرورتیں، اس کی خوشیاں اور اس کی زندگی۔۔۔ اپنی خوبصورتی، جسم اور اپنی ذات تو بہت بعد میں آتی ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے خود کو بھول جاتی ہے، اور یہی قربانی شاید وہ لوگ کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے جو صرف ظاہری شکل دیکھ کر فیصلے سُنانے لگتے ہیں۔‘

جویریہ اختر نے بھی اپنی طویل پوسٹ میں کچھ ایسی ہی باتیں کہیں اور کہا ’براہِ کرم، انھیں (کترینہ) آپ کے فٹنس مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب وہ چاہیں تو خود کو بہترین جسمانی شکل میں لا سکتی ہیں۔ شاید اس وقت وہ صرف ماں بننے کے اس خوبصورت مرحلے سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں، اور اس میں کوئی غلط بات نہیں۔‘

خواتین کے حوالے سے سوشل میڈیا کانٹیٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر خواتین کے جسم اور ان کی زندگیاں آپ کے مواد کا موضوع ہیں، تو کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بہت سی حقیقی خواتین بھی آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہیں، جو اپنے جسم، خود اعتمادی، حمل کے بعد آنے والی تبدیلیوں اور اپنی خودی کے احساس سے متعلق مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ تھوڑی سی ہمدردی دکھانے پر کوئی خرچ نہیں آتا۔‘

اس بحث میں بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خواتین کو آخر کس معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی اداکارہ کا وزن نہ بڑھے تو اس پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں، اور اگر حمل یا زچگی کے بعد جسمانی تبدیلیاں نظر آئیں تو وہ بھی تنقید کا باعث بن جاتی ہیں۔

ایکس پر ایک انڈین صارف نے لکھا ’یہ لوگ آخر ہوتے کون ہیں؟ جب دیپیکا حاملہ تھیں اور اُن کا وزن زیادہ نہیں بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ ان کا حمل والا پیٹ جعلی ہے۔اور اب کترینہ کیف کا حمل اور زچگی کے دوران کچھ وزن بڑھ گیا ہے تو اچانک کہا جا رہا ہے کہ 'اُن کی کشش ختم ہو گئی۔‘

’آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ کیا وہ بچے کی پیدائش کے اگلے ہی دن جم چلی جائیں؟ اور سچ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں مردوں سے زیادہ خواتین ہی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ واقعی افسوسناک رویہ ہے۔‘

صارفین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی ظاہری شکل کو مسلسل موضوعِ بحث بنانے کا رجحان نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ عام خواتین کی خود اعتمادی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی، ہمدردی اور ذمہ دارانہ گفتگو کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

جویریہ اختر نے بھی اپنی طویل پوسٹ میں کچھ ایسی ہی باتیں کہیں اور کہا ’براہِ کرم، انھیں آپ کے فٹنس مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب وہ چاہیں تو خود کو بہترین جسمانی شکل میں لا سکتی ہیں۔ شاید اس وقت وہ صرف ماں بننے کے اس خوبصورت مرحلے سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں، اور اس میں کوئی غلط بات نہیں۔‘

خواتین کے حوالے سے سوشل میڈیا کانٹیٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر خواتین کے جسم اور ان کی زندگیاں آپ کے مواد کا موضوع ہیں، تو کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بہت سی حقیقی خواتین بھی آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہیں، جو اپنے جسم، خود اعتمادی، حمل کے بعد آنے والی تبدیلیوں اور اپنی خودی کے احساس سے متعلق مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ تھوڑی سی ہمدردی دکھانے پر کوئی خرچ نہیں آتا۔‘

اس بحث میں بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خواتین کو آخر کس معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی اداکارہ کا وزن نہ بڑھے تو اس پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں، اور اگر حمل یا زچگی کے بعد جسمانی تبدیلیاں نظر آئیں تو وہ بھی تنقید کا باعث بن جاتی ہیں۔

ایکس پر ایک انڈین صارف صارف چلبلی نے لکھا ’یہ لوگ آخر ہوتے کون ہیں؟ جب دیپیکا حاملہ تھیں اور ان کا وزن زیادہ نہیں بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ ان کا حمل والا پیٹ جعلی ہے۔اور اب کترینہ کیف کا حمل کے دوران کچھ وزن بڑھ گیا ہے تو اچانک کہا جا رہا ہے کہ ’ان کی کشش ختم ہو گئی‘۔

’آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ کیا وہ بچے کی پیدائش کے اگلے ہی دن جم چلی جاتیں؟ اور سچ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں مردوں سے زیادہ خواتین ہی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ واقعی افسوسناک رویہ ہے۔‘

صارفین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی ظاہری شکل کو مسلسل موضوعِ بحث بنانے کا رجحان نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ عام خواتین کی خود اعتمادی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی، ہمدردی اور ذمہ دارانہ گفتگو کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

حمل اور زچگی: جسمانی تبدیلیاں جن کے نارمل ہونے میں وقت لگتا ہے

یوں تو دورانِ حمل کے دوران ماں کے وزن میں کئی کلو اضافہ ہوتا ہے اور پیدائش کے بعد یہ وزن کم بھی ہو جاتا ہے مگر ظاہر ہے ایسا چند دنوں میں ہونا ممکن نہیں ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس عمل میں چھ ماہ سے لے کر ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد سے وابستہ گائناکولوجسٹ ڈاکٹر نادیہ خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ دوران حمل خواتین کا وزن بڑھنا ایک فطری عمل ہے کیونکہ پریگنینسی میں ان کی صرف چربی نہیں بڑھ رہی بلکہ اس بڑھتے وزن میں بچے کا پلیسینٹا یعنی آنول نال کا وزن اور امیوٹک فلیوڈ( وہ مائع جو بچہ دانی کے اندر موجود حمل کو محفوظ رکھتا ہے) کا وزن بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق ’ایک نارمل وزن کی خاتون کا دوران حمل 10 سے 12 کلو وزن بڑھنا نارمل سمجھا جاتا ہے۔ پریگنینسی کے دوران اور جسم میں پانی کی اضافی مقدار بھی شامل ہوتی ہے اس کی وجہ سے حمل میں عورت کا وزن بڑھ جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر نادیہ خان کے مطابق ’یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ حمل سے پہلے عورت کا وزن اور جسمانی ساخت کیسی تھی۔ کیا وہ انڈر ویٹ تھی یا ان کا بی ایم آئی 18 سے کم تھا۔ یا نارمل تھا یا موٹاپے کی جانب مائل تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹرزکو دیکھنا ہوتا ہے کہ دوران حمل خاتون کا وزن مزید کتنا بڑھنا چاہیے کیونکہ وہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے اور ماں دونوں کی صحت کے لیے اس وقت وزن بڑھنا ضروری ہے۔‘

’ڈلیوری کے بعد وزن واپس جانے میں تقریبا سال لگ سکتا ہے‘

تو ڈلیوری کے بعد خواتین کا جسم کتنے عرصے بعد بہتر حالت میں واپس آتا ہے اور ماں بننے کے بعد خواتین کو اضافی وزن کب کم کرنا چاہیے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نادیہ کے مطابق ڈلیوری کے بعد کا 6 ہفتے کا پیریڈ پوسٹ پارٹم کیئر کا پیریڈ کہلاتا ہے جس میں ماں اور بچے دونوں کی کیئر بہت ضروری ہوتی ہے تاہم یہ سمجھنا کہ 40 دنوں میں یا چھ ہفتوں میں ماں کی کا جسم پہلے جیسا ہو جائے گا یہ غلط ہے اس میں وقت لگتا ہے۔

ان کے مطابق ’عمومی طور پر وزن پریگنینسی سے پہلے والی سطح پر جانے میں نو سے 12 ماہ بھی لگ سکتے ہیں جو نارمل بات ہے۔ اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ماں کا جسم نو مہینے تک ڈلیوری کی تیاری میں لیتا ہے اور اس عرصے میں جسم کی ہیئت اور وزن بڑھتا ہے تو اس اضافی وزن کو جانے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔‘

ڈاکٹر نادیہ خان نے کہا کہ ’اضافی وزن کم کرنے کے لیے ہلکی پھلکی واک اور ہلکی ورزش کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ دیکھنا ضروری ہے کہ عورت کی نارمل ڈلیوری ہوئی ہے یا سی سیکشن ہوا ہے۔‘

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر نارمل ڈلیوری ہوئی ہے تو وہ اپنی سہولت کے مطابق آہستہ آہستہ اپنی معمول کی ایکٹیویٹی کر سکتی ہیں لیکن اس میں دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے وہ اپنی طبیعت کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 150 منٹ کے قریب چہل قدمی کر سکتی ہیں۔‘

’لیکن اگر پیچیدہ ڈلیوری ہوئی ہو زیادہ خون بہہ گیا ہو، آپریشن کی جگہ میں انفیکشن ہو گیا ہو یا خون کی کمی ہو گئی ہو تو ایکسرسائز یا ایکٹیویٹی ڈاکٹر کے مشورے سے شروع کی جاتی ہے اور پیچیدگیوں کی صوریت میں ڈاکٹر جو غذا یا ادوایات بتائے اس کا لازمی استعمال کیا جائے نہ کہ وزن کم کرنے کے اقدامات شروع کیے جائیں۔‘

ان کے مطابق ’ہم کبھی خاتون کو ان حالات میں وزن کم کرنے یا کریش ڈائیٹ کا نہیں کہہ سکتے کیونکہ پیچیدہ ڈلیوری کے بعد کیلوریز کاؤنٹ کرنا بعض اوقات نقصاندہ بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر ماں بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہے تو یومیہ 500 کیلوریز ماں کے جسم سے استعمال ہوتی ہیں جو صحت مند طریقے سے وزن میں کمی لاتی ہیں۔‘

پریگنیسنی کے فورا بعد وزن کم کرنے کی کوشش ماں اور بچے کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں اسلام آباد کی رورل ہیلتھ سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر سعدیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ڈلیوری کے بعد فوری طور پر وزن کم کرنے کی کوشش کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں مثلا بچے کو مناسب مقدار میں ماں کا دودھ نہیں مل پاتا اور بچے کی صحت بھی خراب ہو جاتی ہے اور دوسری جانب ماں بھی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’دوسری جانب ذیادہ مقدار میں چکنائی پر مبنی غذائیں بھی ماں بننے والی خاتون کا وزن مزید بڑھا دیتی ہیں جس کو کنٹرول کرنا دشوار ہو جاتا ہے اس لیے مناسب غذا کا استعمال کیا جائے۔‘

لاہور میں مقیم ماہر نفسیات ڈاکٹر مریم سہیل نے ماضی میں میں بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’بچے کی پیدائش کے بعد کم از کم آٹھ ماہ تک کا عرصہ کسی ماں کے لیے بہت نازک وقت ہوتا ہے کیوںکہ پیدائش کے مشکل مرحلے سے گزرنے کے بعد ماں کے جسم میں ہارمونز میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہوتی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق زچگی کے بعد خواتین کے جسم میں آنے والی ایک بظاہر بڑی تبدیلی اُن کے وزن میں ہونے والا اضافہ ہے اور کئی خواتین اس حوالے سے لوگوں کے غیر حساس تبصروں کی شکایت کرتی بھی نظر آتی ہیں۔

حمل کے دوران اور اس کے بعد جسم میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے جسم اپنے اندر موجود چربی کے ذخائر کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

ماہر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کرنیکا تیواری نے 2024 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حمل کے دوران جسم میں ہڈیوں کی پوزیشن بدل جاتی ہے اور ڈیلیوری کے بعد یہ ہڈیاں آہستہ آہستہ اپنی جگہ پر آنا شروع ہوتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے میں وزن کم کرنے کے لیے جسم پر کسی قسم کا دباؤ مزید جسمانی پیچیدگیوں کی وجہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ خواتین اکثر حمل سے پہلے والا جسم حاصل کرنے کے لیے زچگی کے فوری بعد بہت زیادہ پرہیز اور ورزش شروع کر دیتی ہیں، مگر یہ سب خود بخود صحتیابی کی جسمانی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور اس سے ماں اور بچہ دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔