70 کلفٹن کے باہر پہلی گولی چلنے کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو کی زندگی کے آخری دو گھنٹوں کی روداد

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 20 منٹ

’ہم نے اپنا آخری سہارا کھو دیا ہے۔ جب کسی شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر سے جھگڑا ہوتا ہے تو وہ اپنا سامان اٹھا کر اپنے خاندان کے کسی مرد رُکن کے پاس جا سکتی ہے، اور میر (مرتضیٰ) ہمارے خاندان کا آخری مرد رُکن تھا۔ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کے پیچھے موجود خفیہ ہاتھ کو سامنے لایا جائے۔‘

میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے ٹربیونل کے سامنے جب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اپنا بیان قلمبند کر رہی تھیں تو اُن کی آنکھیں نم تھیں۔

20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو سرجانی ٹاؤن میں جلسے سے خطاب کے بعد اپنے گھر 70 کلفٹن واپس آ رہے تھے جب انھیں گھر کے باہر روک لیا گیا۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس موقع پر میر مرتضیٰ کے محافظوں نے فائرنگ کی تھی جس پر جوابی کارروائی ہوئی اور میر مرتضیٰ مارے گئے، جبکہ میر مرتضیٰ بھٹو کی تنظیم کا مؤقف تھا کہ پہلے پولیس کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مرتضیٰ سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی۔

اس واقعے کو 30 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی یہ سوال موجود ہے کہ 20 ستمبر 1996 کی اُس رات 70 کلفٹن کے باہر اصل میں ہوا کیا تھا؟

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے اس واقعے کو ’منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل‘ قرار دیا تھا جس سے یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ اس کے پیچھے کون تھا؟

اسی تحریر میں ہم ان سوالات کے جواب مختلف بیانات، شواہد اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔

طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے بعد پاکستان واپسی سے انکار

میر مرتضیٰ بھٹو 18 ستمبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے تھے۔ تاہم وہ سیاسی اور انتظامی معاملات میں اپنی بہن بینظیر بھٹو کی طرح براہِ راست شامل نہیں تھے۔

سنہ 1979 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو مرتضیٰ بیرون ملک موجود تھے اور اپنے والد کی زندگی بچانے کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ جبکہ ان کی بہن بینظیر بھٹو پاکستان میں قید تھیں۔

والد کی پھانسی کے بعد مرتضیٰ بھٹو کی زندگی کا رُخ بدل گیا۔ وہ طویل عرصے تک افغانستان، لیبیا اور شام میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ اسی دوران ان کا نام ’الذوالفقار‘ نامی مسلح تنظیم کے ساتھ بھی جوڑا گیا۔

سنہ 1981 میں کراچی سے پی آئی اے کا ایک طیارہ ہائی جیک کر کے کابل لے جایا گیا تھا۔ اس ہائی جیکنگ کے دوران فوجی افسر طارق رحیم بھی ہلاک ہوئے تھے اور مرتضیٰ بھٹو پر اس واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مرتضیٰ بھٹو اس الزام کی تردید کرتے تھے اور اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیتے تھے۔

سنہ 1984 میں جنرل ضیا الحق کے دور میں جب بینظیر بھٹو کو بیرون ملک علاج کی اجازت ملی اور وہ لندن چلی گئیں تو اُن کی غیر موجودگی میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گئے۔

سنہ 1986 میں بینظیر بھٹو جلاوطنی سے واپس پاکستان آئیں اور انھوں نے اپنے بھائی کو بھی پاکستان واپس آنے کا مشورہ دیا، لیکن مرتضیٰ اس پر راضی نہ ہوئے۔

بینظیر بھٹو نے یہ واقعہ صحافی مظہر عباس کے ساتھ گفتگو میں بیان کیا تھا۔

مظہر عباس کے مطابق 1986 میں جب بینظیر پاکستان واپس آ رہی تھیں تو اُن کی دمشق میں مرتضیٰ سے ملاقات ہوئی جس کے دوران انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ انھوں نے ماضی میں جو کچھ کیا، وہ اُن کی اپنی سیاست اور مسلح جدوجہد تھی لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔

مظہر عباس کے مطابق بینظیر نے مرتضیٰ سے کہا کہ وہ مسلح جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں، کیونکہ اب پاکستان میں ایک سویلین حکومت ہے اور انھیں واپس آنے کی اجازت ہے۔

انھوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ پاکستان واپس آئیں اور ان کا بازو بنیں کیونکہ اس سے انھیں طاقت ملے گی۔

مظہر عباس کے مطابق مرتضیٰ نے جواب دیا کہ بینظیر ’یہ کیوں سمجھ رہی ہیں کہ یہ جونیجو کی حکومت یا حقیقی سویلین حکومت ہے؟ صدر تو اب بھی جنرل ضیا الحق ہیں تو وہ اس حکومت پر کیسے اعتماد کر سکتی ہیں؟‘ اس پر بینظیر کا جواب تھا کہ جمہوریت کو ایک موقع دینا چاہیے۔

صدر اسحاق نے واپسی مشکل بنائی

سنہ 1988 میں جنرل ضیا الحق کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کے بعد انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی۔ بینظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو انھوں نے اپنے بھائی کی واپسی کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔

ایک سمری صدر غلام اسحاق خان کو بھیجی گئی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔

فرحت اللہ بابر ان دنوں بینظیر بھٹو کے پرسنل سیکریٹری تھے۔ ان کے مطابق بینظیر کا خیال تھا کہ کچھ وقت گزرنے دیا جائے تاکہ مرتضیٰ بھٹو اپنے پُرتشدد ماضی سے خود کو لاتعلق کر سکیں۔

اس کے باوجود ایک سمری تیار کی گئی جس میں کہا گیا کہ جن لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں یا جو جلاوطنی میں ہیں، انھیں رعایت دی جائے، تاہم اس رعایت کا اختیار وزیر اعظم کے پاس نہیں تھا اور سمری صدر کو بھیجی جانی تھی۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق بینظیر کا خیال تھا کہ صدر غلام اسحاق خان نے سمری کی منظوری میں ایسی شرائط شامل کر دی تھیں جن سے مرتضیٰ کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی تھیں اور اِسی لیے بینظیر چاہتی تھیں کہ مرتضیٰ فوری طور پر واپس نہ آئیں بلکہ حالات بہتر ہونے کے بعد پاکستان آئیں۔

البتہ اس کے ساتھ بینظیر نے مرتضیٰ کے لیے پاکستانی پاسپورٹ جاری کر دیا تھا تاکہ جب بھی وہ آنا چاہیں، ان کے پاس واپس آنے کا راستہ موجود ہو۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق ’مرتضیٰ بھٹو کا شاید یہ خیال تھا کہ آصف زرداری مجھے نہیں چاہتا، میری بہن مجھے نہیں چاہتی، پارٹی کے اندر بھی کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے شاید بات کی ہو گی، مگر اس کے باوجود اس نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔‘

بینظیر کی مخالفت کے باوجود مرتضیٰ کی واپسی

میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد جب سنہ 1993 میں انتخابات کا اعلان ہوا تو مرتضیٰ بھٹو نے وطن واپسی کا اعلان کر دیا۔ نصرت بھٹو اس صورتحال میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور ان کی انتخابی مہم چلائی۔

بینظیر بھٹو نے مرتضیٰ کو روکنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں شام کے صدر حافظ الاسد کی مدد بھی لی گئی، جو بھٹو خاندان کے دوست تھے۔

مظہر عباس کے مطابق بینظیر نے انھیں بتایا تھا کہ خاندان کی مرتضیٰ سے بات ہوئی تھی اور انھیں کہا گیا تھا کہ وہ ’فی الحال واپس نہ آئیں۔ انتخابات ہونے دیں، وہ وزیر اعظم بن جائیں گی، اس کے بعد وہ آسانی سے پاکستان آ سکتے ہیں۔ بینظیر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو ان کے لوگوں کو سندھ سے انتخابی ٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔‘

مظہر عباس کے مطابق بیگم نصرت بھٹو نے بھی ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دباؤ تھا کہ مرتضیٰ واپس نہ آئیں۔ ایک افسر نے ان سے ملاقات کر کے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ پاکستان آئے تو نتائج خراب ہو سکتے ہیں، جس پر انھوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔‘

اس صورتحال کے باوجود شام کے صدر نے مرتضیٰ بھٹو کو اپنا صدارتی جہاز فراہم کیا، لیکن حکومت پاکستان نے انھیں پاکستان میں اُترنے کی اجازت نہیں دی۔

مرتضیٰ اسی جہاز کے ذریعے دبئی روانہ ہوئے اور پھر وہاں سے ایک کمرشل فلائٹ کے ذریعے چار نومبر 1993 کو پاکستان واپس پہنچے، جہاں پہنچتے ہی انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

بعد میں 1995 میں انھوں نے ’پاکستان پیپلز پارٹی، شہید بھٹو‘ کے نام سے اپنا الگ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا اور اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کی کوشش کی اور اسی دوران ’بھٹو کا وارث بھٹو‘ کے نعرے لگنے لگے۔

ایک طرف وزیر اعظم بینظیر بھٹو تھیں، دوسری طرف ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو۔

مرتضیٰ بھٹو اپنی بہن کی حکومت پر بدانتظامی کے الزامات لگاتے تھے اور خاص طور پر بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری ان کی تنقید کا مرکزی نشانہ تھے۔

ہلاکت سے تین ماہ قبل وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات

میر مرتضیٰ بھٹو نے ہلاکت کے دن جو قمیض پہن رکھی تھی، اس میں لگے کف لنکس انھیں بینظیر بھٹو نے اُن کی ہلاکت سے تین ماہ پہلے ہونے والی ملاقات میں تحفے میں دیے تھے۔

سیاسی فاصلے کے باوجود دونوں بہن بھائی کے درمیان رابطے اور صلح کی کوششیں ہوتی رہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ایسی ہی ایک ملاقات کے گواہ فرحت اللہ بابر تھے۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق ملاقات ختم ہونے کے بعد مرتضیٰ باہر آئے اور بینظیر بھی ان کے ساتھ تھیں۔ دونوں گاڑی کی طرف گئے۔ ’بینظیر کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا۔ انھوں نے مرتضیٰ کو خدا حافظ کہا اور واپس اندر آئیں۔‘

فرحت اللہ بابر کے مطابق وہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیڑھیوں پر کھڑے تھے کہ بینظیر نے ان سے کہا: ’ایف بی، کیا تمہیں یقین آتا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟‘

اس کے بعد انھوں نے دونوں ہاتھ شکرانے کے لیے اٹھائے اور کہا ’یا اللہ تیرا شکر۔‘

انھوں نے فرحت اللہ بابر سے ایک ایسی آیت انگریزی ترجمے کے ساتھ لانے کو بھی کہا جس میں ’نظر بد‘ کا ذکر تھا۔

کمیشن کے روبرو دیے گئے بیان میں بھی بینظیر بھٹو نے اس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ ملاقات خوشگوار رہی تھی اور انھوں نے مرتضیٰ کے سالگرہ پر دوبارہ ملاقات کا تہیہ کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مرتضیٰ کی ہلاکت سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے وہ اسلام آباد میں موجود تھیں اور وہاں مرتضیٰ سے ملاقات طے تھی، لیکن عین موقع پر جب مرتضی کو اپنے کچھ ساتھیوں کی گرفتاری کی خبر ملی تو وہ واپس چلے گئے۔

70 کلفٹن کے باہر غیر معمولی سرگرمیاں اور پہلا فائر

20 ستمبر کو قتل سے چند گھنٹے پہلے میر مرتضیٰ بھٹو نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔

اس میں انھوں نے پولیس افسران کو کہا تھا کہ ’میں، تمہیں چیلنج کرتا ہوں، مجھے گرفتار کر کے دکھاؤ۔ تمھیں اس کے سیاسی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘

اس پریس کانفرنس میں صحافی مظہر عباس بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق اسی روز 70 کلفٹن کے باہر انھیں کچھ غیر معمولی سرگرمیاں نظر آئی تھیں۔

مظہر عباس کے مطابق جب وہ باہر نکلے تو سینیئر صحافی ادریس بختیار بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں سادہ کپڑوں میں لوگ موجود تھے جو کہ عام طور پر 70 کلفٹن کے باہر کھڑے ہوتے تھے، لیکن اس روز ’کچھ لوگ کارنر پر کھڑے تھے اور ایک دوسرے کو اشارے کر رہے تھے۔‘

مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ پریس کانفرنس سے قبل ان کے والد نے اپنے دو محافظوں، یار محمد اور سجاد، کو بلایا اور ہدایت کی کہ وہ ان کے ساتھ نہ جائیں کیونکہ حالات خراب ہیں۔

تاہم یہ دونوں محافظ نہ مانے اور اُن کے ساتھ جانے پر بضد رہے۔

’ایک فائر ہوا‘

پریس کانفرنس کے بعد مرتضیٰ بھٹو نے یوسف گوٹھ میں اپنی زندگی کے آخری جلسے سے خطاب کیا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 70 کلفٹن، یعنی اپنے گھر، کی طرف روانہ ہوئے۔

یہیں سے دونوں فریقین کے بیانیے ایک دوسرے سے متضاد ہو جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق گاڑیوں کو روکا گیا اور مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں نے فائرنگ شروع کی۔ دوسرے مؤقف کے مطابق پولیس نے پہلے فائرنگ کی اور اسی فائرنگ میں مرتضیٰ بھٹو اور ان کے ساتھی مارے گئے۔

ڈاکٹر مظہر میمن اس وقت مرتضیٰ بھٹو کے قافلے کے ساتھ موجود تھے اور فائرنگ میں زخمی بھی ہوئے تھے۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ جب مرتضی بھٹو کا قافلہ یوسف گوٹھ سے روانہ ہوا تو پولیس اس کا پیچھا کرتی رہی اور دو تلوار کے قریب بھی دونوں طرف پولیس کی موجودگی نظر آ رہی تھی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ جب قافلہ 70 کلفٹن کے قریب پہنچا تو پولیس نے راستہ بند کر دیا۔ وہاں تین چار پولیس موبائلیں موجود تھیں اور راستہ بند کر کے انھیں گھر کے اندر جانے سے روکا گیا۔

قافلے میں سب سے آگے سرخ رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی تھی، جس میں گارڈز موجود تھے۔ اس کے بعد میر مرتضیٰ کی گاڑی تھی، پھر ڈاکٹر مظہر میمن کی گاڑی تھی، جبکہ کچھ دوسری گاڑیاں دو تلوار کے قریب ہی الگ ہو گئی تھیں۔

مظہر میمن کے مطابق جب میر مرتضیٰ کو روکا گیا تو ان کے ساتھ موجود ایک گارڈ گاڑی سے اُترا جس کے بعد ایک فائر ہوا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جو پہلا فائر تھا، وہ پولیس کی طرف سے تھا۔‘ اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی اور میر مرتضیٰ کے قریب موجود افراد کو گولیاں لگیں۔

مرتضیٰ زخمی حالت میں تقریباً دو گھنٹے زندہ رہے

کلفٹن روڈ پر دو اور تین تلوار کے درمیان جس جگہ آج ایک شاپنگ مال موجود ہے، وہاں کسی زمانے میں مڈ ایسٹ ہسپتال ہوا کرتا تھا۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اِسی ہسپتال میں گزارے۔

کراچی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ رات 8 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا اور میر مرتضیٰ بھٹو کو تقریباً ساڑھے نو بجے مڈ ایسٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ ٹائم لائن ظاہر کرتی ہے کہ مرتضیٰ بھٹو تقریباً ایک گھنٹے تک جائے وقوعہ پر زخمی حالت میں رہے۔ جس ہسپتال انھیں لے جایا گیا وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کا مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔

صحافی اے ایچ خانزادہ جب مڈ ایسٹ ہسپتال پہنچے تو انھوں نے مرتضیٰ بھٹو کو فٹ پاتھ پر دیکھا۔

اُن کے مطابق ’میں نے یہ دیکھا کہ مرتضیٰ بھٹو زخمی حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے، اور اُن کے پاس ڈپٹی کمشنر کراچی (جنوبی) عارف الٰہی موجود ہے جو کہ پریشانی کے عالم میں تھے۔ وہاں ایک بہت پتلا دبلا سا آدمی، جو شاید مرتضیٰ کا ساتھی رہا ہو گا یا مرتضیٰ کی پارٹی کا کوئی آدمی رہا ہو گا، وہ بھی وہاں کھڑا تھا۔‘

خانزادہ کے مطابق ’بڑی مشکل سے مرتضیٰ کو فٹ پاتھ سے اٹھا کر سٹریچر پر منتقل کیا گیا۔ سٹریچر کو گھسیٹ کر گراؤنڈ فلور تک لایا گیا اور پھر لفٹ کے ذریعے دوسری منزل پر پہنچایا گیا۔ دوسری منزل پر آئی سی یو ٹائپ کا ایک کمرہ تھا۔‘

اُن کے مطابق مرتضیٰ سٹریچر سے خود بستر پر منتقل ہوئے۔

اے ایچ خانزادہ کے مطابق اگر مرتضیٰ کو ’کسی ایسے ہسپتال لے جایا جاتا جہاں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مکمل سہولت موجود ہوتی تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔‘

ان کے مطابق مرتضیٰ ہسپتال پہنچنے کے بعد تقریباً 40 سے 45 منٹ تک زندہ رہے۔

70 کلفٹن سے وزیر اعظم ہاؤس فون

فائرنگ کے وقت 70 کلفٹن کے اندر بھی مرتضیٰ بھٹو کا خاندان ایک کرب سے گزر رہا تھا۔

مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو اور چھوٹے بیٹے ذوالفقار جونیئر گھر میں موجود تھے۔

فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب میں اس رات کے حالات بیان کیے ہیں۔ اُن کے مطابق وہ اپنی سکول کی دوست نوریا سے بات کر رہی تھیں جب اچانک انھیں بہت قریب سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔

پہلی گولی کی آواز ابھی ان کے کانوں میں گونج ہی رہی تھی کہ چند سیکنڈ بعد گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ان کے مطابق فائرنگ رُکنے کے تقریباً 45 منٹ بعد بھی انھیں معلوم نہیں ہو پا رہا تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔

فاطمہ بھٹو نے اس موقع پر اپنی والدہ سے کہا کہ وہ اپنی پھوپھی (وزیر اعظم بینظیر بھٹو) کو فون کرتی ہیں کیونکہ اس وقت تک انھیں یقین ہو چکا تھا کہ شاید ان کے والد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر فون کیا۔ کچھ دیر بعد ان کی بات وزیر اعظم کے اے ڈی سی سے ہوئی جس میں فاطمہ نے اصرار کیا کہ ان کی اپنی آنٹی، بینظیر بھٹو، سے بات کروائی جائے اور کال آخرکار منتقل ہوئی اور آصف علی زرداری نے فون اٹھایا۔

فاطمہ کے مطابق انھوں نے آصف زرداری سے کہا کہ ان کی آنٹی سے بات کروائی جائے جس پر جواب ملا کہ وہ (بینظیر) فون پر نہیں آ سکتیں کیونکہ وہ شدید اضطراب میں ہیں۔

اسی دوران فاطمہ کو پس منظر میں زور زور سے رونے کی آواز سنائی دی۔

وہ مسلسل اصرار کرتی رہیں کہ آنٹی سے ان کی بات کروائی جائے۔

آخرکار زرداری نے ان سے کہا کہ ’اوہ، کیا تمھیں معلوم نہیں؟ تمھارے والد کو گولی مار دی گئی ہے۔‘

وزیر اعظم ہاؤس میں خبر کیسے پہنچی؟

بینظیر بھٹو نے کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ رات تقریباً 8 بج کر 55 منٹ پر وزیر اعظم ہاؤس کی ایک اہلکار، رخسانہ بنگش، نے ایک کارڈ بھیجا جس میں بتایا گیا تھا کہ انھیں میر مرتضیٰ کے بچپن کے دوست نجیب ظفر کی فون کال موصول ہوئی ہے۔

نجیب ظفر نے بتایا تھا کہ ’70 کلفٹن کے باہر فائرنگ ہو رہی ہے، لوگ چیخ رہے ہیں اور مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔‘

یہ اطلاع ملنے پر رخسانہ بنگش نے جنرل بابر، جو وفاقی وزیر داخلہ تھے، سے بات کی اور جنرل بابر نے انھیں بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔

مگر رات 9 بج کر 20 منٹ پر جنرل بابر نے انھیں فون کر کے بتایا کہ میر مرتضیٰ کے محافظوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ ہو رہی ہے، تاہم میر کی گاڑی کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بینظیر بھٹو کے بیان کے مطابق رخسانہ بنگش نے یہ صورتِحال وزیر مملکت برائے قانون و پارلیمانی امور رضا ربانی کو بتائی تاکہ وہ ان کے بھائی کو گھر سے باہر نکلنے سے روک سکیں۔

انھوں نے آصف زرداری کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا۔ دونوں کو تشویش تھی کہ پولیس اور میر مرتضیٰ کے محافظوں کے درمیان فائرنگ کے دوران مرتضیٰ 70 کلفٹن سے باہر نہ نکلیں۔

بینظیر بھٹو نے بتایا کہ انھیں دادو سے وزیر اعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ کی فون کال موصول ہوئی۔ جنھوں نے بتایا کہ ایک ’بُری خبر ہے۔ میر کے پیٹ میں گولی لگی ہے اور وہ کراچی روانہ ہو رہے ہیں۔‘

اسی دوران رات ساڑھے نو بجے جنرل بابر کی کال آئی جنھوں نے مطلع کیا کہ مرتضیٰ کی حالت تشویشناک ہے اور اُن کے بچنے کے امکانات پچاس، پچاس فیصد ہیں۔

بینظیر بھٹو کے مطابق یہ خبر سُن کر وہ حواس باختہ ہو گئیں اور فوراً کراچی روانہ ہونا چاہتی تھیں۔

انھوں نے اپنے ملٹری سیکریٹری سے طیارے کا انتظام کرنے کو کہا، لیکن ان کے شوہر آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ صورتِحال شاید اتنی سنگین نہیں اور انھوں نے انھیں کراچی نہ جانے کا مشورہ دیا۔

بینظیر نے کمیشن کو بتایا کہ انھوں نے بستر کے قریب رکھا قرآن پاک اٹھایا اور اس کی تلاوت شروع کر دی۔

ساتھ ہی انھوں نے اس وقت کے وزیر داخلہ اور ان تمام افراد سے، جو مسلسل انھیں فون کر رہے تھے، کہا کہ وہ کراچی میں ان کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں، ایمبولینس کا انتظام کریں اور کہیں سے بھی بہترین ڈاکٹروں کو بلائیں۔

بینظیر کے مطابق ’رات 10 بجے تک مڈ ایسٹ ہسپتال میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا، نہ اینستھیٹسٹ، نہ فون کی مناسب سہولت، سوائے ایک فون کے، اور نہ ہی ڈرِپ لگانے کی سہولت موجود تھی۔‘

ان کے مطابق میر کو کسی ایسے دوسرے ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا جہاں یہ تمام سہولیات موجود ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رات ساڑھے نو بجے تک انھیں دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ابھی دیر نہیں ہوئی تھی، لیکن رات 10 بجے تک بہت دیر ہو چکی تھی۔‘

ننگے پیروں ہسپتال آمد

بینظیر بھٹو کے مطابق جب وہ مڈ ایسٹ ہسپتال پہنچیں تو وہ غم سے نڈھال تھیں اور اُن کے پیروں میں چپل بھی نہیں تھی۔

کمیشن کے روبرو انھوں نے بتایا کہ جب وہ خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ ہوئیں تو کراچی پہنچنے پر وہ سیدھا ہسپتال جانا چاہتی تھیں لیکن انھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے منع کیا گیا اور اس کے بجائے وہ گھر چلی گئیں۔

جب وہ 20 ستمبر کی رات تقریباً ڈھائی بجے کراچی پہنچیں تو ایئرپورٹ پر کسی نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان کے بھائی کو دنیا سے گزرے ڈھائی گھنٹے گزر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں تقریباً ڈھائی بجے ایئرپورٹ پہنچی اور تین بجے تک بلاول ہاؤس پہنچ چکی تھی۔ تقریباً 15 منٹ بعد مجھے زرداری اور ان کے ڈاکٹر نے میر کی موت کے بارے میں بتایا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں ہسپتال کب گئی، لیکن صبح چھ بجے تک میں گھر واپس آ چکی تھی۔‘

کمیشن نے سوال کیا کہ ’کیا آصف زرداری ہسپتال گئے تھے؟‘

بینظیر نے بتایا کہ ’سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے یہ مناسب نہیں سمجھا گیا کیونکہ محافظوں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی اور خدشہ تھا کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ آصف آئے، گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرتے رہے اور پھر واپس چلے گئے۔‘

کیا مرتضیٰ کے ساتھ جرائم پیشہ افراد موجود تھے؟

حکومت نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن بنایا تھا تاہم اس کی کارروائی کے دوران ہی پانچ نومبر 1996 کو صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی۔

کمیشن کے روبرو اس وقت کے ڈی آئی جی شعیب سڈل نے دعویٰ کیا تھا کہ مرتضٰی بھٹو کے قریبی ساتھی اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن علی سونارا سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ ’جرائم پیشہ افراد اور را (انڈین خفیہ ایجنسی) سے تربیت یافتہ عناصر موجود تھے۔‘

انھوں نے خاص طور پر بیان دیا کہ مرتضیٰ کے ساتھ تعینات محافظ کانسٹیبل ایاز علی کی شناخت 19 ستمبر کو انڈین ایجنسی را سے تربیت یافتہ ایجنٹ کے طور پر ہوئی تھی۔

ڈی آئی جی شعیب سڈل کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کلفٹن کے ایس ایچ او نے مسلح افراد کو لے جانے والی سرخ ٹویوٹا پک اپ گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا تو انھوں نے پولیس پر اپنے ہتھیار تان لیے اور گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے میر مرتضیٰ بھٹو کی ہدایت پر پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔

لیکن 30 سال بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شعیب سڈل کے اپنے ایک بیان میں اس کارروائی کے حوالے سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

ان کے مطابق ’نہ تو آئی جی لیول پر یہ آپریشن پری پلان طریقے سے ڈسکس ہوا تھا، نہ میرے لیول پر۔ مجھے تو یہ پتہ نہیں تھا کہ آج وہ سرجانی ٹاؤن میں کسی سیاسی اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور نہ مجھے اس وقت تک یہ پتا تھا، جب تک فائرنگ شروع نہیں ہو گئی۔‘

شعیب سڈل کے مطابق مرتضیٰ کو روکنے کے لیے وہ جگہ مناسب نہیں تھی کیونکہ ’روکنے کی وہ جگہ ہی نہیں تھی۔ ایک طرف ان کا اپنا گھر ہے، دوسری طرف ڈی آئی جی کی رہائش گاہ ہے۔ یہ شاید سب سے احمقانہ کام تھا جو کیا جا سکتا تھا۔‘

ان کے مطابق جب مرتضیٰ کو روکا گیا تو ایک فائر ہوا۔ ’میں نے بھی وہ فائر یہاں بیٹھے ہوئے سنا اور میں نے ایس ایس پی سے پوچھا کہ یہ فائر کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا سر، میں چیک کرتا ہوں۔‘

ان کے مطابق پہلے فائر کے بعد ’دھڑا دھڑ فائرنگ ہوئی۔‘ انھوں نے واجد درانی سے دوبارہ پوچھا ’بھائی، یہ اتنی فائرنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟‘

درانی نے جواب دیا ’سر، بس بتاتے ہیں، بس بتاتے ہیں۔‘

شعیب سڈل کے مطابق صورتِحال جس وجہ سے زیادہ خراب ہوئی، اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ’جمعہ تھا اور چھٹی کا دن تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا فوری ردعمل یہ تھا کہ ’بھائی، کیا مرتضیٰ ٹھیک ہے؟ کیا وہ 70 کلفٹن گیا ہے؟ جواب ’نہیں‘ دیا گیا۔‘

انھیں بتایا گیا کہ ’جی سر، چیک کر کے آپ کو بتاتے ہیں۔‘

’پھر چار، پانچ منٹ بعد معلوم ہوا نہیں، وہ زخمی ہے۔‘

’یہ محض پولیس مقابلہ نہیں تھا‘

جوڈیشل کمیشن کے روبرو بینظیر بھٹو بھی پیش ہوئیں۔ ان کا موقف تھا کہ مرتضیٰ کا قتل ’محض ایک پولیس مقابلہ نہیں تھا بلکہ انھیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔‘

بینظیر بھٹو نے کہا ’میرے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو گردن میں ایک گولی لگی۔ میرے خیال میں یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا۔ یہ کوئی حادثاتی پولیس مقابلہ نہیں تھا۔‘

بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کے قتل کے پیچھے ایک ’خفیہ ہاتھ‘ تھا۔

وہ سمجھتی تھیں کہ ’اس سازش کے پیچھے صدر فاروق لغاری کا ہاتھ تھا۔ صدر لغاری نے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے سابق آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس افسر برگیڈیئر امتیاز کو استعمال کیا۔‘

بینظیر بھٹو نے علی سونارا کے کردار پر بھی سوال اٹھایا، جن کی گرفتاری کے بعد مرتضیٰ بھٹو نے شہر کے مختلف تھانوں پر ساتھیوں سمیت چھاپے مارے تھے۔

بینظیر کا کہنا تھا ’علی سونارا کی گرفتاری اور اس سے متعلق ہونے والی فون کالز کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے گئے، جن کے نتیجے میں میرے بھائی کو گھر سے باہر آنا پڑا اور پولیس نے انھیں روکنے کی کارروائی کی۔‘

بینظیر نے کمیشن کو بتایا کہ انھوں نے اپنی حکومت کے دوران پولیس اور انتظامیہ کو واضح ہدایت دے رکھی تھی کہ ’مرتضیٰ کو نہ چھوا جائے، نہ گرفتار کیا جائے۔‘

بینظیر بھٹو نے اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے بھائی شاہنواز بھٹو کی موت کے وقت الزام مرتضیٰ پر عائد کیا گیا تھا، اب مرتضیٰ کے قتل کے بعد میرے شوہر آصف علی زرداری کو شریکِ ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں ایک بھٹو کی موت کے بعد دوسرے بھٹو کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔‘

فرانزک شواہد نے کیا بتایا؟

کمیشن کے روبرو پولیس کی کرمینلسٹک ڈویژن کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ میں پولیس کی جانب سے استعمال کی جانے والی بارہ سب مشین گنز شامل تھیں۔ یہ تمام ہتھیار 7.62 ملی میٹر بور کے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کے جسموں پر موجود تمام زخم 7.62 بور کی سب مشین گن سے چلنے والی گولیوں کے تھے۔

رپورٹ میں ماہرین کے مطابق پولیس موبائل پر گولیوں کے نشانات کے زاویے نسبتاً کم تھے اور یہ زاویے میر مرتضیٰ کے قافلے میں موجود گاڑیوں کی پوزیشن سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

کمیشن نے جائے وقوعہ کے شواہد کے حوالے سے بھی مشاہدہ کیا کہ ممکن ہے وہاں سے تمام حقائق جان بوجھ کر مٹا دیے گئے ہوں کیونکہ نہ کوئی سواب لیا گیا، نہ انگلیوں کے نشانات محفوظ کیے گئے، نہ قدموں کے نشانات درج کیے گئے اور نہ ہی جائے وقوعہ پر موجود پولیس کی گاڑیوں کی تفصیلات نوٹ کی گئیں۔

کمیشن کی رپورٹ اور عدالتی فیصلے میں تضاد

کئی ماہ کی کارروائی کے بعد ٹریبونل کی رپورٹ سامنے آئی۔ 242 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں پولیس کے موقف پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔

ٹریبونل نے مرتضیٰ بھٹو اور ان کے سات ساتھیوں کی ہلاکت کو ’ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ پولیس کارروائی ’کسی اعلیٰ سطح کے حکم کے بغیر ممکن نہیں تھی۔‘

ٹریبونل نے یہ بھی کہا کہ شعیب سڈل کے پاس اس کارروائی کو روکنے کا موقع تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا تاہم ٹریبونل نے آصف علی زرداری کو مجرم قرار نہیں دیا۔

میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں تین ایف آئی آر درج کی گئیں۔

پہلی ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف تھی۔ دوسری ایف آئی آر بینظیر بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد دائر ہوئی جس میں آصف علی زرداری، ڈی آئی جی شعیب سڈل، ایس ایس پی واجد درانی، ایس پی شاہد حیات، شکیب قریشی سمیت دیگر اہلکاروں کو نامزد کیا گیا۔

یہ مقدمہ ماتحت عدالت میں زیر سماعت رہا اور بالآخر سنہ 2009 میں عدالت نے تمام ملزمان کو شک کی بنیاد پر رہا کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد ایک تضاد سامنے آیا۔

جوڈیشل کمیشن نے اس واقعے کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا تھا تاہم فوجداری مقدمے میں تمام ملزمان بری کر دیے گئے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔

اس واقعے کو 30 سال گزر گئے، گڑھی خدا بخش میں اس عرصے کے دوران ایک اور لاش کی تدفین ہوئی۔ وہ بہن جو اپنے بھائی کے قتل کے پیچھے موجود سازش کو بے نقاب کرنا چاہتی تھی، 11 سال بعد خود بھی اسی مقام پر پہنچ گئیں۔

لیکن میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بارے میں بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا 20 ستمبر 1996 کی رات ہونے والی فائرنگ محض ایک پولیس مقابلہ تھی یا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ؟

اگر یہ منصوبہ بندی تھی تو اس کے پیچھے کون تھا؟

تین دہائیاں گزرنے کے باوجود اس سوال کا کوئی ایسا جواب سامنے نہیں آیا جس پر تمام فریق متفق ہوں۔