حماس کی غیرمسلح ہونے پر رضامندی غزہ میں جنگ کے خاتمے کی جانب پہلا ٹھوس قدم

A Palestinian woman sits amidst debris as people inspect the site of an Israeli strike on a house in Gaza City, 30 July 2026.

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, رشدی ابوعلوف
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

کئی ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد حماس نے پہلی بار غزہ میں مکمل طور پر غیرمسلح ہونے کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کے منصوبے کے فریم ورک کو قبول کر لیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت حماس کے پاس موجود بھاری ہتھیار اور ذخیرے کی نگرانی فلسطینیوں کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔

اس سے قبل اس معاملے پر حماس کے مسلسل انکار کو اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا تھا۔

یہ اقدام حماس کی جانب سے قیادت کے انتخابات کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں غزہ میں مقیم رہنما خلیل الحیا کو تحریک کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

مذاکرات میں شامل فلسطینی حکام کا خیال ہے کہ حماس کی نئی قیادت حماس کی تاریخ کے سب سے نتیجہ خیز سیاسی فیصلے کے لیے تیار تھی۔

حماس کے ایک سینیئر اہلکار اور تحریک کی مذاکراتی ٹیم کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات ’طویل اور انتہائی مشکل‘ تھے۔

حماس نے اس کے پاس موجود ہتھیار اسرائیل کے حوالے کرنے کے بجائے فلسطینیوں کی نگرانی میں ’ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے اور ذخیرہ کرنے‘ کے الفاظ پر اصرار کیا تھا۔

یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوگا یا تمام فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں گے۔

لیکن اگر یہ برقرار رہتا ہے، تو یہ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے اور وسیع تر سیاسی عمل کے لیے راہیں کھولنے کی طرف پہلا قابل اعتبار قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے غزہ کے لیے ایک نئے امن منصوبے پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے حماس کو تنبیہ کی تھی کہ وہ بھی اس منصوبے کو قبول کرے

Gaza

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شکوک و شبہات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم غزہ میں اس اعلان کو عوام میں بہت کم جوش و خروش سے دیکھا گیا۔

برسوں کی ناکام جنگ بندی اور ٹوٹے ہوئے معاہدوں کے بعد بہت سے فلسطینی نئی سیاسی پیش رفت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

کچھ رہائشیوں نے آن لائن اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات میں اس بات کے مقابلے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ حقیقت میں جنگ کا خاتمہ کرے گا، بے گھر خاندانوں کو گھر واپس آنے اور دیرپا راحت پہنچانے کی اجازت دے گا۔

بہت سے لوگوں کے لیے حماس اور اسرائیل دونوں پر اعتماد کم ہے، کیونکہ زمینی سطح پر بامعنی بہتری لانے سے پہلے پچھلے معاہدے بار بار ٹوٹ چکے ہیں۔

حال ہی میں صحافیوں کے ساتھ ایک بریفنگ کال کے دوران امریکی حکام سے پوچھا گیا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُرامید ہیں کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل غزہ سے انخلا پر رضامند ہو جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے جواب میں کہا: ’ہم اسرائیل سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اسی 20 نکاتی منصوبے پر عمل کرے جس سے وہ ابتدائی طور پر اتفاق کر چکا ہے۔ اس لیے ہمیں پورا اعتماد ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے گا۔‘

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ سے اپنی فوج نہیں نکالی تو صدر ٹرمپ 'بہت مایوس' ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل آئندہ بھی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرتا رہے گا۔

’جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی‘

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ 20 نکاتی ٹرمپ منصوبے پر عمل درآمد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس معاہدے پر محتاط انداز میں مرتب کیے گئے مختلف مراحل کے تحت عمل کیا جائے گا۔‘

’جیسے جیسے غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج غزہ سے واپس چلی جائیں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ غزہ کو اس کے رہائشیوں اور پڑوسیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ذمہ داری سنبھالی جا سکے۔‘

انھوں نے ثالثی کے کردار پر مصر، قطر اور ترکی کا بھی شکریہ ادا کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، جس نے مصری سرکاری ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیا ہے، قاہرہ میں غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ثالثوں کا ایک اجلاس منعقد ہو گا۔

Gaza

،تصویر کا ذریعہGetty Images

20 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ کیا ہے؟

گذشتہ برس ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کے اعلان کے بعد اسے وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ غزہ دہشت گردی سے پاک علاقہ ہو گا اور یہ اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ نہیں ہو گا۔ غزہ کو اس کے شہریوں کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جو پہلے ہی بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔

امن منصوبے کے تحت اگر دونوں فریق، اسرائیل اور حماس، اس تجویز پر راضی ہو جاتے ہیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ اسرائیلی فورسز یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے طے شدہ لائن پر واپس چلی جائیں گی۔ اس دوران، تمام فوجی کارروائیاں، بشمول فضائی اور توپخانے سے بمباری روک دی جائے گی، اور مکمل انخلا کی شرائط کے مکمل ہونے تک ہر طرح کی عسکری کارروائیاں روک دی جائیں گی۔

اس معاہدے کی منظوری کے بعد فوری طور پر غزہ کے لیے مکمل امداد بھیجی جائے گی۔ امداد کی مقدار کم از کم 19 جنوری 2025 میں ہونے والے انسانی امداد کے معاہدے کے مطابق ہو گی، جس میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی (پانی، بجلی، سیوریج)، ہسپتالوں اور بیکریوں کی بحالی، اور ملبہ ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کے لیے ضروری مشینری کا غزہ داخلہ شامل ہے۔

غزہ کی پٹی میں امداد کا داخلہ اور تقسیم دونوں فریقوں، اسرائیل اور حماس، کی مداخلت کے بغیر اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں، اور ہلال احمر کے علاوہ دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ہو گی۔

اس کے علاوہ کسی ایسی تنظیم کو بھی امدادی کارروائیوں کی اجازت نہ ہو گی جو کسی بھی فریق کے ساتھ کسی بھی طرح سے وابستہ ہو۔ رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا 19 جنوری 2025 کے معاہدے کے تحت نافذ کردہ اسی طریقہ کار سے مشروط ہو گا۔

غزہ میں ایک ٹیکنوکریٹک، غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کی عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی، جو غزہ میں عوامی خدمات اور بلدیاتی ادارے چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ کمیٹی اہل فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی۔

اس کمیٹی کی نگرانی ایک نیا بین الاقوامی عبوری ادارہ 'بورڈ آف پیس' کرے گا، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اس بورڈ میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے جبکہ دیگر اراکین اور سربراہان مملکت کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

یہ ادارہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک کا تعین کرے گا اور اس وقت تک فنڈز کو سنبھالے گا جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا مؤثر طریقے سے کنٹرول سنبھال نہیں لیتی اور اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل نہیں کر لیتی جیسا کہ صدر ٹرمپ کے 2020 کے امن منصوبے اور سعودی فرانسیسی منصوبے جیسی مختلف تجاویز میں بیان کیا گیا ہے۔