آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنکی کا جانے کیا ہو گا؟
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اگر پابہ زنجیر روایتی بصری میڈیا اور بگٹٹ سوشل میڈیا پر یقین کر لیا جائے تو ٹرمپ کے دورہ بیجنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کو جس ہستی نے پچھلے ایک ہفتے سے ریٹنگ کی دوڑ میں لٹا لٹا کے مارا ہے اس ہستی کا نام ہے انمول عرف پنکی۔ ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔‘
جب حساس قومی، علاقائی اور عوامی مفاد کو براہِ راست زدوکوب کرنے والے موضوعات کے منھ سی دیے جائیں، بنیادی آزادیوں کے بحران پر سوال اٹھانا قانوناً گناہ قرار پائے، مقدس جزدانوں میں لپٹے اداروں، عہدوں، خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر اشاروں کنایوں میں بات بھی حرام ٹھہرے۔
گورنننس کی سڑاند سے بچنے کے لیے منھ پر رومال رکھ کے بڑبڑانا بھی معتوب عمل سمجھا جائے۔ اس متعفن فضا میں پوڈ کاسٹیوں، فیس بکیوں، یو ٹیوبروں، ٹک ٹاکروں، چینل بازوں اور کالم کلوچ سے جڑی روزی روٹی کا بھی سوال ہو تو ان تمام میڈیمز کو زندہ رہنے کے لیے ہفتے دو ہفتے بعد کوئی تو ایسی ہڈی چاہیے جسے بھنبھوڑ کر کچھ دن گزارا ہو جائے۔
ہاں آپ گلوبل ایپسٹین کلاس پر آج بھی کھل کے بات کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس کی آڑ میں کوئی مقامی ایپسٹین نشانے پر نہ آ جائے۔ آپ ایسی تمام کرپشن اور کرپٹوں پر بات کرنے کے لیے مکمل آزاد ہیں جن کے بارے میں بات کرنے کا این او سی جاری ہو چکا ہے۔
آپ ایسے کیسز کا پٹارا بھی بن داس کھول سکتے ہیں جن کا سامنے آنا ریاستی بیانیے کو مزید تقویت پہنچا سکے مگر اپنی مرضی سے آپ کسی ایسے مقدمے کی عدالتی کارروائی کو بھی نشر یا شائع نہیں کر سکتے جس سے طے شدہ بیانیہ کمزور پڑتا دکھائی دے۔
انمول پنکی کے بخیے ادھیڑنے پر بھلا کسے اعتراض ہو گا مگر اس کے منشیاتی تقسیم کار نیٹ ورک کے وفادار بے شمار گاہکوں کا نام لینے سے پہلے دس بار سوچنا بھی ضروری ہے۔ گفتگو کی آنچ بس اتنی ہی رکھیے گا کہ خود کے ہاتھ پاؤں نہ جھلس جائیں۔
روایت ہے کہ قدیم فلسطین میں قائم مملکتِ کنعان میں ایک سالانہ رسم یہ بھی تھی کہ ایک مخصوص دن گزرے برس کے گناہ دھونے کے لیے بکری کے سینگوں سے رنگ برنگی دھجیاں باندھ کے انھیں بیابان کی جانب ہنکال کر فرض کر لیا جاتا تھا کہ ہمارے گناہ سینگوں پر بندھی دھجیوں کے روپ میں غائب ہو گئے۔
ہم بھی تو یہی کرتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں، نااہلیاں، بزدلیاں، موشگافیاں، آنا کانیاں کسی نچلی سطح کے مجرم یا راندہ درگاہ گناہ گار کے سر سے باندھ کر یا اس کے گلے میں ڈال کر اندر کے احساسِ جرم کو تھپک تھپک کے سلا دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ عرصے بعد جب ضمیر دوبارہ سے کچوکے دینے لگتا ہے تو پھر یہی رسم ادا کر کے عارضی مکتی پا لیتے ہیں۔ گویا اندر پلنے والی خجالت میں بھی کمی اور جزا سزا کا پھٹیچر سسٹم بھی پہلے جیسا سرخرو اور رواں دواں۔
فضا کچھ ایسی ہے کہ ہم میں سے شاید ہی کوئی اس سوال کے پیچھے پڑنا چاہتا ہو کہ وہ کون سی طاقت ہے جو کسی ریپسٹ، قاتل، اغواکار، منشیات فروش کو یہ یقین بخشتی ہے کہ جو کرنا ہے کر گزر کوئی نہ کوئی بچانے آ ہی جائے گا۔
اب تو حالات یہاں تک آن پہنچے ہیں کہ جب بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کسی بھی طرز کی ہائی پروفائل واردات کا ڈنکا بجنے لگتا ہے تو ٹھیلے والا بھی یقین سے بتاتا ہے کہ ’اینہے جیل نہیں جانا، چھٹ جانا اے۔‘
عموماً ان مجرموں کا بال کم ہی بیکا ہوتا ہے جن کا جرم قانون نافذ کرنے والوں کی اوقات سے بڑا ہو یا جن مجرموں کا دماغ چل جائے اور وہ طے شدہ دائروں، سمجھوتوں یا انڈرسٹینڈنگ کے مدار سے نکل کے اپنا وکھرا دائرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یا پھر ان کے ہتھے کوئی ایسے راز چڑھ جائیں کہ کسی بااثر کے لیے چلتا پھرتا بم بن جائیں یا پھر اپنے آپریٹرز اور ماسٹر مائنڈ کے لیے کسی کام کے نہ رہیں اور خامخواہ کا بوجھ ہو جائیں۔
ایسوں سے پھر کڑا رسمی یا غیر رسمی انصاف کرنا ہی پڑ جاتا ہے۔ اس انصاف کو بھی سسٹم تمغے کی طرح سینے پر سجا کے بتاتا ہے کہ اندھیرا بھلے ہو مگر اندھیر ہرگز نہیں۔ گورننس بھینگی ضرور ہو سکتی ہے مگر اندھی نہیں۔
جن ملزموں کی کہیں بھی کسی بھی طرح کی پہنچ ہو۔ پھر بھی ستاروں کی گردش کے سبب اچانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے وقتی چارہ بن جائیں تو ایسے کارآمد لاڈلوں اور لاڈلیوں پر کمزور ایف آئی آر، مکرنے کے ماہر گواہوں اور لاغر ثبوتوں کے ساتھ کچھ عرصے مقدمہ بھی چلتا ہے۔
عوامی دباؤ کے سبب نظام چلانے والوں پر وقتی گھبراہٹ بھی طاری ہوتی ہے، ملزم کو بظاہر جیل کسٹسڈی بھی ہو جاتی ہے، ملزم سرکاری عمل دار ہو تو تب تک معطلی بھی رہتی ہے جب تک میڈیا یا رائے عامہ اس پر فوکسڈ ہے اور پھر ساری قانونی و صحافتی کاوشیں وقت کے غبار میں کہیں بتدریج گم ہو جاتی ہیں یا نئی وارداتوں کے غل غپاڑے میں دب کے رہ جاتی ہیں۔
جسے معافی ملنی ہے اس کی بخشش دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ بھلے وہ معافی اللہ کے نام پر کسی مظلوم ماں کے لرزتے لبوں سے ملے، کسی باپ کو دھمکی دے کر حاصل کردہ دستخطوں کے ذریعے ہو یا پھر ناکافی ثبوتوں اور ناقص میڈیکل رپورٹوں کے سائے میں دستیاب ہو۔
پنکی کا جانے کیا ہو گا البتہ یہ چمن یونہی رہے گا۔
ہم روحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
(رضی اختر شوق)