پاکستان کی چین کی مارکیٹ میں ’پانڈا بانڈ‘ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر کا سرمایہ حاصل کرنے میں کامیابی, سارہ حسن، صحافی
پاکستان نے پہلی مرتبہ چین کی مارکیٹ میں بانڈ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر کا سرمایہ حاصل کی ہے۔ چین کی کیپٹل مارکیٹ میں جاری کیے گئے پانڈا بانڈ کی مدت تین سال ہے اور اس رقم پر پاکستان ڈھائی فیصد شرح سود ادا کرے گا۔
اس قبل پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے یورپی بانڈ مارکیٹ میں باقاعدگی سے یورو بانڈ اور اسلامی بانڈ مارکیٹ میں سکوک بانڈ جاری کرتے رہا ہے لیکن چین کی سرمائے کی مارکیٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ پانڈا بانڈ جاری کیے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ چین کی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ مقامی کرنسی یعنی آر این بی میں بانڈ جاری کیے ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خرم شہزاد نے بتایا کہ پانڈا بانڈ کی مالیت مقامی کرنسی میں ایک ارب 75 کروڑ آر این بی ہے جس کی مالیت ڈھائی کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے پانڈا بانڈ میں غیر معمولی دلچسپی لی اور ڈھائی کروڑ ڈالر کے بانڈ کی خریداری کے لیے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر مالیت کی بولیاں یا پیشکش موصول ہوئیں۔
خرم شہزاد کے مطابق طلب سے زیادہ بولیاں موصول ہونا پاکستان کے معاشی استحکام، مالیاتی ڈسیپلن پر چین کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کا اعلان کیا اور حکومت کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں انٹری سے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں اپنی نمائندگی کو بڑھانا چاہتا ہے۔
حکومتیں بانڈ کیوں جاری کرتی ہیں؟
بین الااقوامی معشیت میں مختلف ممالک ایک دوسرے کی سرمائے کی مارکیٹس میں بانڈ جاری کرے کے رقم ادھار لیتے ہیں۔
بانڈز کے اجرا کے ذریعے یہ رقم تین پانچ یا دس سال سمیت مختلف مدت کے لیے ادھار لی جاتی ہے اور اس پر شرح سود ادا کیا جاتا ہے۔
مقررہ مدت مکمل ہونے پر یہ ادھار لی گئی رقم واپس کر دی جاتی ہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ کے اجرا مقاصد محض قرض یا ادھار لینا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ممالک ایک عالمی کیپٹل مارکیٹ میں اپنی نمائندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سنئیر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ چین ایک بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان انٹرنینشل بانڈ مارکیٹ میں اپنے آپ کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں بانڈا کا اجرا ایک مشکل اور پیچیدہ مرحلہ تھا کیونکہ اُن کی شرائط کافی زیادہ تھیں اسی لیے پانڈا بانڈ کے اجرا میں تاخیر بھی ہوئی۔
مہتاب حیدر کے مطابق چین کی مارکیٹ میں وافر سرمایہ موجود ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ مختلف مراحل میں چین کی مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر تک کے بانڈ جاری کیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں یور اور سکوک بانڈ کے اجرا کے بعد اب چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان نے اپنے مالیاتی انسٹرومنٹس کے ایونیوز کو بڑھایا ہے۔