جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کو لاہور میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے نواز شریف کو قید کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے مبینہ انکشافات پر مبنی ویڈیو جاری کی جس کے بعد پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ہلچل مچ گئی۔
پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے جج ارشد ملک کی ایک لیگی کارکن ناصر بٹ کے ساتھ ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس میں مبینہ طور پر جج فیصلہ لکھنے سے متعلق کچھ 'نامعلوم افراد' کی طرف سے دباؤ کے بارے میں بتا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ویڈیو کے بعد تو مریم نواز شریف نے یہ مطالبہ تک بھی کر دیا کہ ان 'ناقابلِ تردید ثبوتوں کے سامنے آنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ اور مقتدر ادارے نوٹس لیں اور اس کے بعد نواز شریف کا جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔'
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جعلی‘ قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس ویڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے اسے ’اعلٰی عدلیہ پر الزام تراشی اور بہتان‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منظر عام پر آنے کے بعد اس ویڈیو کی قانونی حیثیت پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ ویڈیو کی قانون میں کیا حیثیت ہے اس بارے میں بی بی سی نے قانونی ماہرین سے بات کی ہے۔
ویڈیو کی قانونی حیثیت
وکیل سعد رسول کا کہنا ہے کہ قانون شہادت کے تحت جدید آلات سے بنائی گئی آڈیو یا ویڈیو جو کسی مقدمے سے تعلق رکھتی ہو اور اسے حل کر سکتی ہو تو اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ سنہ 2002 کا الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز عدالت کے سامنے پیش تو کی جا سکتی ہیں لیکن کیونکہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان کے ذریعے ویڈیو کی تردید کر دی ہے لہذا اب بار ثبوت الزام لگانے والوں پر ہوگا۔
ان کے مطابق اگر الزام ثابت نہ ہوسکا تو الزام لگانے والوں پر ہتک عزت کا مقدمہ و سکتا ہے۔
ویڈیو یا آڈیو قابل بھروسہ شہادت ہے؟
سعد رسول کے مطابق ایسے مقدمات میں عدالت فارنزک آڈٹ، ویڈیو میں موجود لوگوں اور ٹائم لائن کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچتی ہے۔ جج ارشد ملک سے متعلق مبینہ ویڈیو پر بات کرتے ہوئے ان کے مطابق ’ویڈیو میں روزوں کا ذکر ہے، تو یہ رمضان کے وقت کی بنی ہوئی ہے، اب عدالت دیکھے گی کہ اس دوران یہ ویڈیو کس کی تحویل میں رہی اور اس میں کوئی رد و بدل تو نہیں کی گئی۔ جس شخص کی تحویل میں یہ ویڈیو تھی اسے شامل تفتیش ہونا ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سینئر وکیل اور قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آڈیو یا ویڈیو پیش کرنے کے کچھ قانونی لوازمات ہوتے ہیں ’جس شخص نے ویڈیو یا آڈیو بنائی ہے اس شخص کو پیش ہونا ہو گا اور بتانا ہو گا کہ اس نے یہ کب اور کیسے بنائی؟‘
ان کا کہنا ہے کہ دیگر لوگ جو اس میں نظر آتے ہیں ان میں سے بھی اگر کوئی پیش ہو کر تصدیق کر سکے کہ یہ گفتگو ہوئی تھی تو یہ ایک قابل بھروسہ شہادت سمجھی جاتی ہے۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ربیعہ باجوہ کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی ویڈیو کو ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع کروایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنانے والوں کے ساتھ ’ان کو بھی موقع دیا جائے گا جو اس سے متاثر ہو رہے ہیں کہ وہ ان شواہد پر جرح کریں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کیونکہ جج صاحب نے ویڈیو کی تردید کر دی ہے، بار ثبوت ویڈیو پیش کرنے والوں پر ہے۔‘
انھوں نے کہا اب ’یہ (معاملہ) ٹرائل کورٹ میں جائے گا جہاں کورٹ فیصلہ کرے گی کہ یہ قابل شہادت ہے یا نہیں۔‘
عمران خان کے مقدمات میں مختلف عدالتوں کے سامنے پیش ہونے والے ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر ویڈیو جعلی نکلی تو مریم نواز پر ایف آئی آر تک بھی درج ہو سکتی ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’پریس ریلیز کے ذریعے جج نے مزید تنازعات کھڑے کردیے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’جج کو اگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں تو پھر انھوں نے اس بارے میں وقت پر کیوں نہیں بتایا اور رشوت جیسی آفرز کو ریکارڈ پر کیوں نہیں لائے۔‘
























