لائیو, ایران پر امریکہ کے مزید حملے، متحدہ عرب امارات کا دو بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں ایک انڈین شہری کی ہلاکت کا اعلان

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے میں، عمان کی علاقائی سمندری حدود کے اندر، دو آئل ٹینکرز مومباسا اور باہیا ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے۔ حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا، جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
  • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. امریکی فوج نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے حملے مکمل کر لیے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے 13 جولائی کو ایران کے خلاف حالیہ حملوں کی لہر مکمل کر لی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر موجود پانچ گھنٹے پر مشتمل اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے کامیابی کے ساتھ فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق اس مشن کے دوران، امریکی افواج نے ایران بھر میں فوجی اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا جن میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس شامل ہیں، تاکہ تجارتی جہازرانی پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور بحری صلاحیتوں کے خلاف درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے۔

    سینٹکام کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ امریکی افواج چوکس، مہلک اور ہر وقت تیار ہیں۔

  2. خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر ایران کے حملوں میں ایک انڈین شہری ہلاک، آٹھ زخمی ہو گئے: متحدہ عرب امارات

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ دو آئل ٹینکر، مومباسا اور باہیا، آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اسے ’کھلا حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

  3. ابوظہبی میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں امریکی قونصل خانے نے خدمات عارضی طور پر معطل کر دیں

    ابوظہبی میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں قونصل خانے نے اعلان کیا ہے کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث 13 سے 15 جولائی (موجودہ ہفتے کے پیر، منگل اور بدھ) کے دوران تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ ان تاریخوں کے دوران جن شہریوں کو ملاقات کا وقت دیا گیا تھا، وہ نہ آئیں اور نئے وقت سے انھیں بعد میں آگاہ کر دیا جائے گا۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ چند دنوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔

  4. امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Central Command via Getty Images

    امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ حملے ’کمانڈر اِن چیف‘ (یعنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ) کی ہدایت پر کیے گئے۔

    سینٹ کام کے بیان میں مزید کہا گیا: ’یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرتے رہیں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور تجارتی جہاز رانی پر حملہ کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔‘

  5. ٹرمپ جمعرات کو قوم سے خطاب کریں گے، موضوع کا اعلان نہیں کیا گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو ’قوم سے خطاب‘ کریں گے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ خطاب کس موضوع پر ہوگا۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ وہ رات 9 بجے مشرقی امریکی وقت (برطانوی وقت کے مطابق رات 2 بجے) خطاب کریں گے۔

    اس سے قبل انھوں نے اپریل میں جنگ کے حوالے سے قوم سے خطاب کیا تھا۔

  6. ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا سعودی عرب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ’سعودی جارحیت، جس نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا‘ کے جواب میں کی گئی ہے۔

    دوسری جانب، یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثی باغیوں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا۔

    سعودی عرب نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ یمن کی فوج نے صنعا کے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تھا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔

    حوثیوں نے ان حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا تھا۔

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جبکہ حوثیوں کا ملک کے بعض حصوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر کنٹرول ہے۔

  7. ٹرمپ نے کانگرس کو بھیجے خط میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے سے آگاہ کیا

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ طور پر کانگریس کو اطلاع دی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

    10 جولائی کو امریکی صدر نے سینیٹر چک گراسلی کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے بتایا کہ فوجی سرگرمیاں 7 جولائی سے دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔

    خط میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ’امریکی شہریوں اور امریکہ کے ملکی و غیرملکی مفادات کا تحفظ‘ کرنا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائیاں ’محدود، متوازن اور پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیں، اور انھیں اس انداز میں انجام دیا گیا ہے کہ شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’میں یہ رپورٹ کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ رکھنے کی اپنی کوششوں کے تحت پیش کر رہا ہوں، جیسا کہ وار پاورز ریزولوشن کے مطابق ضروری ہے۔‘

    اس قرارداد کے تحت صدر پر لازم ہے کہ کسی فوجی حملے کے آغاز کے 48 گھنٹوں کے اندر قانون سازوں کو اس بارے میں آگاہ کریں۔

  8. ناکہ بندی کی بحالی سے قبل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی ہدایات

    جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (JMIC) نے منگل سے ایرانی بندرگاہوں پر شروع ہونے والی امریکی بحری ناکہ بندی سے قبل ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا ہے۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اس نوٹس کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں سمندری سلامتی کے خطرے کی سطح اب بھی شدید ہے۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ’جان بوجھ کر کی جانے والی مزید دشمنانہ سرگرمیوں‘ کا امکان ہے۔

    بحری جہازوں کے عملے کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ’بحری افواج کی مسلسل موجودگی، راستوں پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے بڑھتے ہوئے رابطوں اور نگرانی‘ کی توقع رکھیں، اور یہ بھی امکان ہے کہ حفاظتی اقدامات سختی سے نافذ کیے جائیں گے۔

    انھیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ناکہ بندی نافذ کرنے والی فورسز کی ہدایات پر عمل کرنے پر غور کریں، اپنے سفر کے مقصد کو واضح طور پر ظاہر کریں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  9. امریکی ناکہ بندی منگل سے دوبارہ نافذ ہوگی، سینٹ کام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی 14 جولائی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے (برطانوی وقت رات 9 بجے) دوبارہ شروع کی جائے گی۔

    اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ناکہ بندی ’فوری طور پر‘ نافذ کی جائے گی۔

    امریکی فوج نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ’سینٹ کام کی فورسز ان تمام جہازوں کے خلاف ناکہ بندی نافذ کریں گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی فوج ان تمام جہازوں کے لیے خطے کے سمندری راستوں میں آمد و رفت کی حمایت جاری رکھے گی جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔‘

    امریکی فوج نے تمام بحری جہازوں کے عملے سے کہا ہے کہ وہ نشریاتی اعلانات پر نظر رکھیں اور خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب کام کرتے وقت امریکی بحری افواج سے رابطے میں رہیں۔

  10. ایران کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے ہوائی اڈے پر مبینہ حملے کی مذمت کر دی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’ہوابازی کے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے آج پہلے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے۔

    یمن کا دارالحکومت صنعا ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جنوبی یمن کے شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے۔

    بعد میں حوثی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی طیارہ اس کے باوجود ہوائی اڈے پر اتر گیا تھا۔

    اس واقعے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن ابتدائی طور پر یہ کئی برسوں سے نسبتاً غیر فعال یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں ایک اہم اور سنگین کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ ہمارے نامہ نگار نے پہلے رپورٹ کیا تھا۔

  11. ہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی مخالفت کرتے ہیں: بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ وہ آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔

    اس سے قبل، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا: ’ہم اس پوسٹ سے آگاہ ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’ٹول کے بارے میں ہماری پوزیشن ہمیشہ واضح رہی ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے استعمال ہونے والے آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول وصول کرنے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ صرف آبنائے سے گزرنے کے لیے لازمی ٹول عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔‘

  12. ایران کے سپریم لیڈر کہاں ہیں؟, غنچے حبیبی‌زاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے آغاز میں اپنے والد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کسی تصدیق شدہ ویڈیو یا تصویر میں نظر نہیں آئے۔

    اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو تہران میں ہونے والے اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد علی خامنہ ای مارے گئے تھے۔ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے پہلے روز ایران پر کیا تھا۔ تاہم، ایران کی وزارتِ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ ان کی چوٹیں شدید تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا کہ وہ ’90 فیصد ختم ہو چکے ہیں‘۔

    اب تک، 8 مارچ کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب کئی تحریری پیغامات سامنے آ چکے ہیں۔ دو روز پہلے جاری ہونے والے تازہ ترین پیغام میں انھوں نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ حالیہ دنوں میں ایرانی حکام نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای جولائی کے آغاز میں اپنے والد کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک ہفتے کی تقریبات کے دوران عوام کے سامنے نہیں آئے، حالانکہ ان کے بھائی ان تقریبات میں شریک ہوئے تھے۔

    ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں سوال اب بھی برقرار ہے۔

    تاہم، مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے سے پہلے اور بعد میں اسرائیل یہ کہہ چکا ہے کہ وہ انھیں نشانہ بنائے گا، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ کب، یا آیا کبھی، عوام کے سامنے نظر آئیں گے یا نہیں۔

  13. ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کے بعد ٹرمپ نے امریکی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی

    اگر آپ ابھی بی بی سی اردو لے لائیو پیج پر آیے ہیں تو آپ کے لیے اہم خبروں کا خلاصہ:

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر نئی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ’ایران کے جہازوں یا ان کے صارفین‘ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    • انھوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے امریکہ خطے میں ’حفاظت اور سکیورٹی‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے بھیجے جانے والے تمام مال بردار سامان پر 20 فیصد فیس عائد کرے گا۔
    • یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اس اہم بحری گزرگاہ پر ناکہ بندی نافذ کی ہو۔ اپریل میں لگائی گئی ناکہ بندی تین ماہ تک جاری رہی تھی، جس دوران امریکی فوج نے کم از کم نو جہازوں پر فائرنگ کی تھی۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ان جہازوں نے ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔
    • ٹرمپ کا یہ اعلان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والے نئے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے جواب میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک آبدوز اور جہازوں کی مرمت کی تنصیب بھی شامل تھی۔
    • نئی ناکہ بندی کے جواب میں ایرانی رکنِ پارلیمان ابراہیم رضائی نے کہا ’آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے ہمیں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت نہیں!‘
    • اس تازہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ آج دو جہاز مشرق کی جانب خلیجِ عمان کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ دو دیگر جہازوں نے آبنائے سے نکلنے کی سمت بڑھنے کے بعد اپنی پوزیشن کی معلومات نشر کرنا بند کر دیں۔
  14. ایف بی ائی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات

    ایف بی ائی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ

    ،تصویر کا ذریعہX

    ایف بی ائی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ شراکت داری نہایت اہم ہے۔

    انھوں نے لکھا ’پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز میں میزبانی ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خطے میں ہماری کوششوں میں ان کے تعاون کو ایف بی آئی بہت سراہتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس ملاقات میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور سائبر تحقیقات کے شعبوں میں، ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر، وسائل اور خصوصی تربیت کی فراہمی سے متعلق اہم گفتگو ہوئی۔ ہماری شراکت داری نہایت اہم ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی۔‘

  15. آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں: ابراہیم رضائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف نئی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان اور رکنِ پارلیمنٹ ابراہیم رضائی کا بیان سامنے آیا ہے۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال رہا ہے، ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ہمیں غیر ملکیوں کی ضرورت نہیں!‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

  16. امریکہ نے ایران میں آبدوز اور بحری جہازوں کے مرمتی مرکز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

    امریکی سینٹرل کمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہCentcom / X

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے گذشتہ رات ایران میں ایک آبدوز اور بحری جہازوں کی مرمت کے منصب کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق جنوبی ایران میں واقع بندر عباس نیول بیس کی بندرگاہ پر متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا: ’گزشتہ رات کے حملوں نے تجارتی جہاز رانی پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔‘

    امریکہ اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

  17. ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا

    امریکی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا: ’آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی کھلی رہے گی۔‘

    ’ہم ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ بحال کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے، تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’آج کے بعد امریکہ کو ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔‘

    تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک ’انتہائی غیر مستحکم حصے میں سلامتی اور تحفظ‘ فراہم کرنے کے تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کو تمام کارگو پر ’20 فیصد‘ ادائیگی کی جائے گی۔

    ’اس عمل اور اس کے نظام کی تشکیل فوری طور پر شروع کی جائے گی۔‘

  18. آبنائے ہرمز میں ’امریکی مداخلت‘ نے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو خطرات سے دوچار کر دیا: پاسداران انقلاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری ایک اور بیان میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے ’عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

    پاسداران انقلاب نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ: ’ہم امریکہ کو اس کی نئی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید ذلت اور مایوسی سے دوچار کریں گے۔‘

    آج صبح امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم وہ اب بھی اس سطح سے نمایاں طور پر کم ہیں جو تنازع کے عروج کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔

  19. امریکہ کو آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے: ایرانی فوج

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ایران کے عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے ایک بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ تہران آبی گزرگاہ کے انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کچھ دیر پہلے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’کنٹرول سنبھال رہا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ’بار بار کی مہم جوئیوں‘ نے ’خطے کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا: ’ہم امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی نہ اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی دیں گے۔‘

    ایرانی فوج کے مطابق اس کی مسلح افواج امریکی ’غاصب فوج‘ کی جانب سے پیدا کی جانے والی کسی بھی کشیدگی یا خلل سے نمٹ رہی ہیں۔

    بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون ایران کی خودمختاری کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے: ’اگر تنازع مزید پھیلتا ہے تو جنگ کے شعلے خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔‘

  20. صنعا ایئرپورٹ پر حملہ: ایرانی حمایت یافتہ حوثی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے, سیبسٹین اُشر، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

    صنعا ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یمن کے صنعا ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن بظاہر یہ کئی برسوں سے نسبتاً کمزور سے پڑ جانے والے تنازع میں سب سے بڑی کشیدگی معلوم ہوتی ہے، جو بین الاقوامی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری ہے۔

    دونوں فریقوں کو خطے کی حریف طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، یمنی حکومت کو سعودی عرب کی جبکہ حوثیوں کو ایران کی۔

    یہی وجہ ہے کہ حوثیوں نے فوری طور پر سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    حوثی تحریک کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا ’ردعمل دیا جائے گا اور اور سزا دی جائے گی۔‘

    اس بیان نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تنازع دوبارہ بھڑکنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

    یمن کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے پاس متعدد چھوٹی کشتیوں کے پہنچنے کی اطلاعات نے بھی تشویش پیدا کر دی ہے کہ ممکنہ طور پر حوثی ایک بار پھر بحری جہاز رانی کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں۔