آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, کویت اور اُردن کا ایرانی ڈرون و میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ: ایشیائی منڈیوں میں تیل کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر سے تجاوز کر گئی

اُردن کی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’ایرانی سرزمین سے داغےگئے‘ چھ میزائلوں اور چار ڈرونز کو انٹرسیپٹ کر کے فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے جبکہ کویتی فوج کا دعویٰ ہے اُن کا فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے ڈرونز کا مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ایشیائی منڈیوں میں برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا جمعرات سے ایک روزہ علامتی ہڑتال کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جمعرات کی صبح چھ بجے سے جمعہ کی صبح چھ بجے تک ملک بھر کے پٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔

    ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے 30 روزہ طریقۂ کار برقرار رکھا جائے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک روزہ ہڑتال کے باوجود حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    بدھ کو پی پی ڈی اے کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر 24 گھنٹے بعد ازسرِنو تعین کرنے کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔

    ملک خدا بخش نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے نہ کہ ہر 24 گھنٹے بعد۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس سے ڈیلرز کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا، لہٰذا ڈیلرز کے لیے مستقل طور پر 8 فیصد کمیشن مقرر کیا جائے۔

    انھوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی الاٹمنٹ پالیسی ختم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

    ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بینکوں اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کے تحت عائد ہونے والے اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ او ایم سیز کی موجودہ ایندھن الاٹمنٹ پالیسی غیر منصفانہ ہے، جسے ختم کر کے ایندھن کی فراہمی کا نظام بہتر بنایا جائے۔

    اس موقع پر تنظیم کے سندھ کے صدر حاجی امیر خان نے کہا کہ ڈیلرز گزشتہ دو برس سے اپنے مارجن میں اضافے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آٹھ فیصد ڈیلر مارجن سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے۔

    نائب چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے پانچ مطالبات رکھے ہیں اور پی پی ڈی اے ان میں سے کسی بھی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

    پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ جلد اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔

    واضح رہے کہ وزیر پیٹرولیم نے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اعلان کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ یہ فیصلہ ’تکلیف دہ‘ ضرور ہو گا لیکن ریاست کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ لازم تھا۔ قیمت روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا ’تکلیف دہ‘ فیصلہ کیوں کیا گیا؟

  2. کویت اور اُردن کا ایرانی ڈرون و میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ: ایشیائی منڈیوں میں تیل کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارہویں روز حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اردن کے میڈیا کے مطابق اسرائیلی شہر ایلات کے قریب واقع اردنی شہر عقبہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

    اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے چھ میزائلوں کو روکا جو اس کی سرزمین کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے چار میزائل مار گرائے جبکہ دو دیگر دور دراز غیر آباد علاقوں میں گرے جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران سے آنے والے چار ڈرون بھی مار گرائے گئے جنھوں نے اردنی علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔

    دوسری جانب کویت کی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس کا فضائی دفاع ایران سے آنے والے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جبکہ بحرین کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا۔

    یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور انتظامی عمارتیں شامل تھیں۔

    ایران میں امریکی حملوں کے باعث دھماکوں کی آوازیں

    ایران میں مقامی میڈیا نے بدھ کی صبح ایران کے جنوبی شہروں بوشہر، مہشہر، امیدیہ اور سرک اور شمال مغربی شہر تبریز سے امریکی حملوں کے نتیجے میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    ایران کے صوبے بوشہر کےنائب گورنر نے نے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بوشہر کے نائب سیاسی و سکیورٹی گورنر احسان جہانیاں کے مطابق بدھ کی صبح یہ حملے دشتی کاؤنٹی کے مرکزی شہر خرموج کے نواحی علاقوں میں کیے گئے۔ جبکہ بوشہر کو بیک وقت دو مراحل میں امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب واقع ایک بجلی کے سب سٹیشن پر امریکی میزائل حملے کے باعث بندرگاہی علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی، تاہم حملے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر بجلی کا نظام مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔

    ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرک کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے سرک ان مقامات میں شامل رہا ہے جنھیں امریکی حملوں کا اہم ہدف قرار دیا جاتا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔

    پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

  3. بنوں میں شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن: فون اور انٹرنیٹ سروس معطل، شہریوں کے معمولات زندگی متاثر, عزیر اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ’انٹیلیجنس کی بنیاد‘ پر شدت پسندوں کے خلاف جاری سکیورٹی آپریشن کے باعث گذشتہ چھ روز سے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران کی گئی سکیورٹی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم اس کی مکمل تفصیلات تاحال فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    اس سکیورٹی آپریشن کے پہلے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 23 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

    اس کے بعد بنوں پولیس کی جانب سے بھی کارروائیوں سے متعلق متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بنوں کے ضلعی پولیس افسر فرقان بلال کی جانب سے 21 جولائی کو ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں وہ ایک جاری کارروائی کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس وقت وہ اُس مقام پر موجود ہیں جہاں اس سے قبل پولیس کی رسائی نہیں تھی۔

    اس ویڈیو پیغام میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ منگل (21 جولائی) کو چھ اہم شدت پسند کمانڈروں ہلاک کیا گیا جبکہ 50 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    بنوں پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میریان کے مختلف علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے جس کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی، شہریوں کے شناختی کارڈز کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔

    21 جولائی کو ہی خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور اسی لیے سکیورٹی آپریشن جاری ہے جس میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں ان کارروائیوں سے متعلق تمام تفصیل اور ڈیٹا جاری کیا جائے گا۔

    سینیئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں صوبائی حکومت اور دیگر ادارے ایک پیج پر نظر آ رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی کہ بنوں میں امن قائم کیا جا سکے۔

    بدھ کی صبح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے بھی بنوں کا دورہ کیا۔

    اس موقع اجلاس کے دوران آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات اور ان کی فوری امداد سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    بنوں کے حالات

    ضلع بنوں میں رواں سال سکیورٹی صورتحال مسلسل خراب رہی ہے اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائیاں جاری رہی ہیں۔

    رواں سال اپریل میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک پولیس تھانے پر بڑا حملہ کیا گیا جس میں پولیس کے علاوہ عام شہریوں کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔

    اسی طرح 10 مئی کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں ہوئے حملے میں شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس چوکی سے ٹکرا دی تھی اس میں کم سے کم 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    اس حملے میں شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر کا استعمال بھی کیا تھا۔ اسی طرح 20 جون کو بنوں میں دو مختلف مقامات پر حملے ہوئے جس میں سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ جولائی میں تھانہ میریان پر بارود سے بھری گاڑی سے حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

    اس نوعیت کے چھوٹے بڑے واقعات بنوں میں تواتر سے پیش آتے رہے ہیں۔ معمولات زندگی متاثر ان جاری ٹارگٹڈ کارروائیوں کی وجہ سے بنوں شہر میں معمول کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    بنوں سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فدا عدیل نے بتایا کہ بنوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہے اور چند علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے۔ ان علاقوں میں بکا خیل، میریان، جانی خئل ہوید نورڑ کے علاوہ لنک روڈ وغیرہ شامل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے مطابق لگ بھگ 600 خاندان ایسے ہیں جن تک راشن پہنچانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بنوں میں رہنے والے ایسے افراد جو ملک کے دیگر علاقوں یا بیرون ممالک مقیم ہیں انھیں اپنے گھر والوں کی رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح بنوں کے چند علاقوں میں تجاری سرگرمیاں متاثر ہیں۔

  4. بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں 10 مبینہ شدت پسند ہلاک، دو خواتین خودکش بمبار اور ایک سہولت کار گرفتار: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 10 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ایک سہولت کار کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں ان گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔

    آئی ایس پی آرنے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’ضلع مستونگ میں تین مبینہ دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ان کے ایک سہولت کار کو گرفتار کیا گیا۔‘

    بدھ کے روز آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ضلع سوراب میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سات مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں مزید مبینہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔

  5. اب تک کی خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • پاکستان نے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔ دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، پاکستان اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
    • ایف آئی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشترکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
    • کراچی پولیس نے نادرا کے افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے والد اور سینیئر صحافی سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد سانگی 20 جولائی کی شام چھ بجے لاپتہ ہوئے۔ مدعی سہیل سانگی نے بیان دیا ہے کہ ان کے بیٹے نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے۔
    • انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم میں زیرِ تعمیر سرنگ کا حصہ گیس کے دھماکے کے بعد منہدم ہونے سے کم از کم 12 مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق پیر کے روز سرنگ منہدم ہونے کے بعد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ مزید 13 افراد کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کے فوجی سربراہ اولیکسینڈر سیرسکی کو برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مقبول وزیرِ دفاع میخائلو فیڈوروف کی برطرفی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
    • بلوچستان کے تین مختلف اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد کی موت گولیاں لگنے اور تشدد کے باعث ہوئی۔ ان کے بقول تینوں افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    • خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے جاری تیز بارشوں اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 19 زخمی ہوئے ہیں۔
    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے علاوہ جموں خطے کے کٹھوعہ اور ڈوڈہ، جبکہ وادی کشمیر کے بڈگام، کولگام اور دیگر علاقوں میں مسلسل بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث متعدد بستیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
    • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک ایسی ’خطرناک نظیر‘ قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
    • امریکہ نے منگل کی شب ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے کیے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کو اپنی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
  6. افغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات کے الزام میں نادرا افسران سمیت چار ملزمان گرفتار: ایف آئی اے

    ایف آئی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشترکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔‘

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں انعام الحق (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، فیاض احمد (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، جنید احمد (چوکیدار، نادرا) اور محمد عمر شاہ (پرائیویٹ ایجنٹ) شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد کی گمشدگی کا مقدمہ کراچی پولیس نے ان کے والد سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کیا تھا۔ اس مقدمے کے مطابق فیاض احمد 20 جولائی کی شام سے لاپتہ ہیں۔ ان کے والد نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

    بی بی سی کے رابطہ کرنے پر نادرا کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    ایف آئی اے کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری میں ملوث تھے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ابتدائی شواہد سے اس منظم نیٹ ورک کے بعض دہشت گرد عناصر سے ممکنہ روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے حوالے سے مزید جامع تحقیقات جاری ہیں۔‘

    ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ’کارروائی کے دوران اہم ریکارڈ، ڈیجیٹل مواد اور دیگر شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔‘ ایف آئی اے کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات اور گرفتاریوں کا امکان ہے اور اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام سہولت کاروں اور مرکزی کرداروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کو درپیش خطرات، دہشت گردی کی معاونت، جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا اور ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    تاہم ایف آئی اے نے اپنے بیان میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے نام اور تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں۔

  7. بحری مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو دفاع کا حق استعمال کریں گے: پاکستان کا یمن کے حوثی گروہ کو انتباہ

    پاکستان نے حوثی گروہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، پاکستان اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘

    دفترِ خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچاتے ہیں، قواعد پر مبنی بحری نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’تجارتی جہاز رانی اور سعودی عرب کے ساتھ تجارت کے خلاف دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان کو خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش ہے جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم رہتے ہوئے پاکستان تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔‘

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی گروہ نے ملک کے شمال مغربی علاقے کی بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کی مبینہ ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔

    یہ اعلان حوثی گروہ کے فوجی ترجمان کی جانب سے کیا گیا جنھوں نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم حوثی میڈیا سے تعلق رکھنے والے حکام نے کہا ہے کہ وہ سعودی جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر رہے ہیں جو بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔

  8. انڈیا میں سرنگ کا ایک حصہ گرنے سے 12 مزدور ہلاک

    انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم میں زیرِ تعمیر سرنگ کا حصہ گیس کے دھماکے کے بعد منہدم ہونے سے کم از کم 12 مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پیر کے روز سرنگ منہدم ہونے کے بعد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ مزید 13 افراد کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔

    قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی آر ایف) کے مطابق حادثہ سرنگ کے اندر تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

    زیرِ تعمیر یہ سرنگ قریبی دریائے تیستا کا پانی ایک پن بجلی منصوبے کے ٹربائنز تک پہنچانے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ یہ ہمالیائی ریاست میں جاری ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جسے سرکاری ادارہ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) تیار کر رہا ہے۔

    این ایچ پی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چٹانوں میں موجود میتھین گیس کے اچانک اخراج کے بعد دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں گہرے دھویں اور زہریلی گیسوں کا اخراج ہوا‘ جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

    سکم حکومت نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حادثہ ’میتھین گیس کے بھڑک اٹھنے‘ کے نتیجے میں پیش آیا۔

    ایک سرکاری اہلکار کے مطابق میتھین قدرتی طور پر پیدا ہونے والی گیس ہے جو بعض اوقات زیر زمین پھنس جاتی ہے۔ اگر سرنگ کی کھدائی کے دوران یہ گیس کسی محدود جگہ میں خارج ہو جائے تو چنگاری یا کسی اور وجہ سے آگ پکڑ سکتی ہے یا دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔

    حکام کے مطابق سرنگ کے مختلف حصوں میں مجموعی طور پر 27 افراد کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد دو افراد باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ 25 سرنگ کے اندر پھنس گئے۔

    پولیس سپرنٹنڈنٹ سونم ڈی بھوٹیا نے بدھ کی صبح بی بی سی کو بتایا: ’پھنس جانے والے 25 افراد میں سے اب تک 12 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ باقی 13 افراد کی تلاش جاری ہے۔‘

    پولیس کے مطابق سات ہلاک افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان میں ایک سکم کا رہائشی ہے جبکہ دیگر مغربی بنگال، اتراکھنڈ اور آسام سے تعلق رکھتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد معلوم ہو سکے گی۔

    این ڈی آر ایف کے افسر محسن شاہدی نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ امدادی ٹیمیں سرنگ کے ایک مخصوص 200 میٹر طویل حصے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں باقی افراد کے موجود ہونے کا امکان ہے۔

    سکم کے وزیرِ اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

  9. یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ملک کے فوجی سربراہ کو برطرف کر دیا

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کے فوجی سربراہ اولیکسینڈر سیرسکی کو برطرف کر دیا ہے۔

    یہ فیصلہ مقبول وزیرِ دفاع میخائلو فیڈوروف کی برطرفی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

    ابتدائی طور پر یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ فیڈوروف کی معزولی کا تعلق ان کے اور سیرسکی کے درمیان اختلافات سے ہے، اور بعد میں ان کی تصدیق بھی ہو گئی۔

    35 سالہ فیڈوروف کو وزارتِ دفاع میں نئی توانائی پیدا کرنے، مسلح افواج میں اصلاحات لانے اور بد عنوانی کے خلاف مہم کی قیادت کرنے پر بھرپور سراہا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب 60 سالہ سیرسکی کو یوکرین میں بہت سے لوگ سوویت طرز کے ایسے کمانڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جو فوج میں بنیادی تبدیلیاں لانے سے گریزاں تھے۔

    وزیر دفاع میخائلو فیڈوروف کو برطرف کیے جانے کے خلاف چھ روز تک وسیع پیمانے پر احتجاج جاری رہا اور زیلنسکی پر سیرسکی کو بھی عہدے سے ہٹانے کا دباؤ بڑھتا گیا۔

    سیرسکی کی جگہ 43 سالہ میخائلو ڈراپاٹی کو مقرر کیا گیا ہے، جنھیں جنگی تجربے کا حامل اور مقبول جنرل سمجھا جاتا ہے۔

  10. کراچی میں نادرا افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ درج، صحافتی و انسانی حقوق تنظیموں کا فوری بازیابی کا مطالبہ

    کراچی پولیس نے نادرا کے افسر فیاض احمد سانگی کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے والد اور سینیئر صحافی سہیل سانگی کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد سانگی 20 جولائی کی شام چھ بجے لاپتہ ہوئے۔ مدعی سہیل سانگی نے بیان دیا ہے کہ ان کے بیٹے نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے۔

    سہیل سانگی کے مطابق جب فیاض احمد سانگی معمول کے مطابق گھر نہیں پہنچے تو اہلِ خانہ نے ان کے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم فون بند ملا۔ بعد ازاں ان کے ساتھیوں سے رابطہ کیا گیا، جنھوں نے بتایا کہ فیاض احمد سانگی شام چھ بجے دفتر سے گھر کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

    مدعی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ انھوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور فیاض احمد سانگی کا سراغ لگا کر ان کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔

    فیاض احمد سانگی کے لاپتہ ہونے پر کراچی پریس کلب، سندھ پولیس اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیاض احمد کی گمشدگی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور متعلقہ ادارے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔

    پریس کلب کے مطابق فیاض احمد نادرا کے عائشہ منزل دفتر میں بطور افسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ روز شام تقریباً چھ بجے اپنی سفید رنگ کی سوزوکی آلٹو کار میں دفتر سے روانہ ہوئے تھے، تاہم دفتر سے نکلنے کے کچھ دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

    کراچی پریس کلب نے وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی سرکاری افسر کا دفتر سے نکلنے کے بعد اچانک لاپتہ ہو جانا ایک سنگین معاملہ ہے جس کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ پریس کلب کے مطابق اگر اس واقعے میں کسی فرد یا گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔

    کراچی پریس کلب نے یہ بھی کہا ہے کہ صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی یقینی نہ بنائی گئی تو صحافی برادری سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر پولیس حکام سینیئر صحافی سہیل سانگی سے مسلسل رابطے میں ہیں اور فیاض احمد کی تلاش کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ پولیس یونٹس نے اہل خانہ سے ضروری معلومات حاصل کر لی ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اس معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ سندھ پولیس نے سہیل سانگی، ان کے اہل خانہ، صحافی برادری اور سول سوسائٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

    ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لائی جائے۔

    فیاض احمد کے اہل خانہ نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی ہے اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی جلد از جلد اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

    واضح رہے کہ خبر شائع ہونے تک فیاض احمد سانگی کے بارے میں مزید سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی تھیں اور ان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری تھیں۔

    دریں اثنا، ورلڈ سندھی کانگریس نے بھی فیاض احمد سانگی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نادرا افسر، ایچ آر سی پی کے کونسل رکن سہیل سانگی کے صاحبزادے اور بی بی سی سے وابستہ صحافی ریاض سہیل کے بھائی فیاض احمد 20 جولائی سے لاپتہ ہیں۔

    تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ فیاض احمد کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے، یا اگر وہ کسی سرکاری تحویل میں ہیں تو انھیں بلا تاخیر اور بغیر کسی شرط کے رہا کیا جائے۔

    ورلڈ سندھی کانگریس نے کہا ہے کہ وہ فیاض احمد کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں، جب تک کہ فیاض احمد بحفاظت واپس نہیں آ جاتے اور معاملے کی مکمل وضاحت سامنے نہیں آتی۔

    سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے صدر ڈاکٹر مقبول حلیپوتا نے کہا ہے کہ ’میں یہ جان کر گہری تشویش میں مبتلا ہوں کہ نادرا کے افسر اور ایچ آر سی پی کے کونسل رکن سہیل سانگی کے صاحبزادے فیاض احمد سانگی گذشتہ روز سے مبینہ طور پر لاپتہ ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’میں حکومتِ سندھ اور تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیتا ہوں کہ فیاض احمد کی بحفاظت بازیابی کو فوری ترجیح دی جائے۔ یہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کہ ایک سرکاری ملازم، یا کوئی بھی شہری، لاپتہ ہو جائے اور اس کے بعد فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فیاض احمد کا سراغ لگانے، ان کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے اور ان کے اہلِ خانہ کو ضروری معلومات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔ ہر گمشدگی کے واقعے میں فوری توجہ، شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے۔

    نادرا کے ترجمان شباحت علی نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کو بتایا کہ ان کے لاپتہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے متعلق ایف آئی اے سے رابطہ کر کے تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ادارے نے اپنے طور پر اس مقدمے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نادرا شباحت علی نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق فی الحال نادرا کے کسی اور افسر کی گمشدگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  11. بلوچستان کے تین اضلاع سے سات افراد کی لاشیں ملیں: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے تین مختلف اضلاع سے سات افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ لاشیں قلات، سوراب اور خاران سے ملی ہیں اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    سات میں سے تین لاشیں ضلع قلات سے ملیں۔ قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو لاشیں ریج کے علاقے سے جبکہ ایک لاش چھپر سے ملی۔

    انھوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد کی موت گولیاں لگنے اور تشدد کے باعث ہوئی۔ ان کے بقول تینوں افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی اور لاشوں کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مزید تین افراد کی لاشیں قلات سے ملحقہ ضلع سوراب سے ملیں ہوئیں۔

    سوراب میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ان افراد کو کہاں اور کن حالات میں قتل کیا گیا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق ان تینوں افراد کی شناخت بھی تاحال نہیں ہو سکی۔ سوراب منتقل کی جانے والی لاشوں کے چہروں پر بھی گولیوں کے نشانات موجود تھے۔

    ساتویں لاش ضلع خاران میں سی پیک روڈ کے قریب سے برآمد ہوئی۔ سرکاری حکام کے مطابق مقتول کی شناخت حافظ کبیر ایجباڑی کے نام سے ہوئی ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چند روز قبل خاران میں حافظ کبیر کے گھر پر حملہ کیا تھا، جس میں ان کا ایک بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد مسلح افراد حافظ کبیر اور ان کے ایک اور بیٹے کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

    دو روز بعد حافظ کبیر کی لاش سی پیک روڈ کے قریب سے ملی، جبکہ ان کے دوسرے بیٹے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

  12. سیلابی ریلوں سے 25 ہلاک، سینکڑوں املاک تباہ، پورے کشمیر میں فلڈ الرٹ جاری, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے علاوہ جموں خطے کے کٹھوعہ اور ڈوڈہ، جبکہ وادی کشمیر کے بڈگام، کولگام اور دیگر علاقوں میں مسلسل بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث متعدد بستیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں متعدد مکانات اور دیگر تعمیرات بہہ گئی ہیں جبکہ اب تک خواتین اور بچوں سمیت 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز حکومت نے تازہ الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں بھی ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ شدید بارشوں کے باعث کشمیر کو انڈیا کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہے، جبکہ ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا، جو جون کے آخر سے اگست کے آخر تک جاری رہتی ہے، عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

    اس دوران سینکڑوں مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    سنیچر کی رات سے شروع ہونے والی طوفانی اور مسلسل بارشوں کے باعث پیر پنجال کے پہاڑی علاقوں میں دریاؤں اور مقامی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خطے میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز کے خدشے کا الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد اتوار کی صبح صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    مقامی حکام کے مطابق سنیچر کی رات راجوری شہر کے وسط سے گزرنے والے دریا درہالی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے بلند ہو گئی۔ سیلابی ریلے نے بیلا کالونی کے قریب قائم حفاظتی بند کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی نیو بس سٹینڈ اور قریبی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔

    اچانک آنے والے اس ریلے کے باعث بس سٹینڈ پر کھڑی درجنوں گاڑیاں بہہ گئیں یا پانی میں ڈوب گئیں۔ اس کے علاوہ عبداللہ برج اور طارق برج کے اطراف قائم کچی آبادیوں اور رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    سیلاب سے نہ صرف راجوری شہر بلکہ تھنہ منڈی، درہال اور منجاکوٹ جیسے دور دراز دیہی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر مالی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ متعدد مقامات پر مٹی کے مکانات منہدم ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث راجوری، پونچھ نیشنل ہائی وے سمیت کئی اہم رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

    مقامی انتظامیہ اور پولیس ہنگامی کنٹرول رومز کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی نے عوام اور حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

    ادھر وادی کشمیر کے ضلع بڈگام کی تحصیل بیروہ میں درجن بھر دکانوں اور نجی دفاتر پر مشتمل ایک شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی زد میں آ کر منہدم ہو گیا۔ تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کیونکہ عمارت میں موجود افراد کو سیلاب آنے سے قبل ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    مقامی محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے سیلاب کا الرٹ بھی جاری کیا ہے۔

  13. آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا: روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک ایسی ’خطرناک نظیر‘ قائم کر سکتا ہے جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا کہ اس نے مسلسل گیارہویں رات بھی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ اگر دنیا یہ قبول کر لیتی ہے کہ کوئی ملک کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول قائم کر سکتا ہے، وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول یا فیس وصول کر سکتا ہے اور ادائیگی نہ ہونے پر ان کی نقل و حرکت روک سکتا ہے، تو یہ ایک انتہائی خطرناک مثال ہوگی۔

    ان کے بقول ’اگر ایسی نظیر قائم ہو گئی تو یہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسے اختیار کا دعویٰ کر رہا ہے جس کی اسے بین الاقوامی قانون کے تحت اجازت حاصل نہیں۔

    ’بنیادی مسئلہ بہت سادہ ہے۔ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کا حق جتا رہا ہے، حالانکہ اسے کسی قانونی طریقہ کار کے تحت ایسا اختیار حاصل نہیں۔‘

    مارکو روبیو نے زور دیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور اسے خطرے میں نہیں پڑنا چاہیے۔

    ’آزادانہ جہاز رانی بین الاقوامی نظام کا ایک بنیادی اصول ہے، اور اسے کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔‘

    مارکو روبیو کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بحیرہ جنوبی چین میں بھی چین اور آسیان کے بعض رکن ممالک کے درمیان سمندری حدود اور اہم تجارتی گزرگاہوں کے کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔

  14. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈز سے 14 افراد ہلاک، 19 زخمی

    خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے جاری تیز بارشوں اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 19 زخمی ہوئے ہیں۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق مرنے والوں میں چھ مرد، چھ بچے اور دو خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، چار خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے علاوہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور فلیش فلڈز سے 28 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 22 گھروں کو جزوی جبکہ چھ گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

    یہ واقعات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر اور اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارہ، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    اتھارٹی نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے اور امدادی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں فی الحال پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم تیز بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

    ادارے نے پہلے ہی تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزریز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اس کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے جبکہ عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال، موسمی معلومات یا شکایت کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  15. فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی منظوری

    فرانسیسی پارلیمان نے ایک قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس اقدام کے ساتھ فرانس سوشل میڈیا تک کم عمر افراد کی رسائی محدود کرنے والا یورپ کا پہلا ملک بن جائے گا۔

    اس قانون کے تحت فرانس میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر فرد کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔ یہ اقدام بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق بڑھتے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور یورپی یونین بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ ان وعدوں میں شامل تھا جن کا اعلان انھوں نے اپنی صدارت کے آخری دور میں کیا تھا۔

    قانون دو مراحل میں نافذ ہوگا: ستمبر 2026 سے 15 سال سے کم عمر افراد نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے، جبکہ تمام نئے صارفین کے لیے عمر کی تصدیق لازمی ہوگی۔ جنوری 2027 سے یہ شرط تمام موجودہ اکاؤنٹس پر بھی لاگو ہو جائے گی، یعنی فرانس میں ہر صارف کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی عمر 15 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

    قانون کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فرانسیسی پرائیویسی ریگولیٹر کی منظور شدہ عمر کی تصدیقی ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہوگی۔

    خدشات اور تنقید

    قانون پر بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات بھی ظاہر کیے گئے ہیں، جن میں صارفین کی رازداری، عمر کی تصدیق کے نظام کی مؤثریت، کم عمر افراد کی جانب سے ممکنہ طور پر پابندی کو بائی پاس کرنے کے امکانات اور قانون کے جلد نفاذ جیسے مسائل شامل ہیں۔

    فرانس کی ڈیجیٹل وزیر این لی ہیناف کا کہنا ہے کہ قانون کے تیز رفتار نفاذ کی وجہ یہ ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے ضروری ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ہے۔

    آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک

    فرانس اس نوعیت کی پابندی متعارف کرانے والا آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہے۔ تاہم آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر عائد پابندی کے باوجود بہت سے کم عمر صارفین اب بھی سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کا ماڈل اس لحاظ سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے کیونکہ یہاں عمر کی تصدیق صرف کم عمر افراد نہیں بلکہ تمام صارفین کے لیے لازمی ہوگی، البتہ اس سے رازداری کے حوالے سے نئے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

    بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پابندیاں نوجوانوں کو کم ضابطہ شدہ آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتی ہیں، جبکہ خبروں اور سیاسی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

  16. ایرانی فوج کی کویت میں امریکی اڈوں پر حملے کی تصدیق

    ایران کے مختلف علاقوں پر امریکہ کی جانب سے مسلسل گیارہویں رات کیے گئے حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ایرانی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کویت کے بعض مقامات پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    تہران کے وقت کے مطابق بدھ کی صبح جاری کیے گئے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ ’آپریشن لائٹننگ کے 21ویں مرحلے میں چند گھنٹے قبل مجرم امریکی فوج کے زیرِ استعمال مغربی کویت میں واقع دوحہ گیریژن کے گولہ بارود کے ذخیرے اور زمینی افواج کے کمانڈ سینٹر سے متعلق لاجسٹک تنصیبات کو بڑی تعداد میں تباہ کن ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘

  17. امریکہ کے ایران پر مسلسل 11ویں روز حملے، ٹرمپ کی زیرِ زمین جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    امریکہ نے منگل کی شب ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے کیے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کو اپنی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ تبریز، چاہ بہار، کنارک اور بوشہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بوشہر ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کا مقام ہے۔

    ایران، جو امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے، نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری مرکز کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

    اپریل میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

    سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی رسد کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی فوج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران نے گذشتہ تین ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’بلاجواز حملوں نے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور آزادانہ بحری آمدورفت کو نقصان پہنچایا۔‘

    تاہم سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔

    دوسری جانب کویت کی فوج نے بُدھ کی صبح کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ بحرین اور اردن نے بھی ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ٹرمپ کی نئی دھمکی

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کا اگلا ہدف ممکنہ طور پر ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی زیرِ زمین جوہری کمپلیکس ہو سکتا ہے، جہاں ایران کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر اعلانیہ یورینیم افزودگی مرکز تعمیر کر رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد اور پوری شدت کے ساتھ اس علاقے کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ عام طور پر فوجی اہداف کا پہلے سے اعلان نہیں کرتے، لیکن اس معاملے میں ’وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے‘۔

    ایران کی جوابی دھمکی

    ایران کے خاتم الانبیاء فوجی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ ایسی کسی کارروائی کو ’خطے میں جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

    سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ اس صورت میں امریکہ، اس کے اتحادیوں اور حامیوں کے تمام مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    حوثیوں کی دھمکی اور تیل کی ترسیل پر اثرات

    ٹرمپ نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکہ ان سے بھی نمٹے گا۔

    اس سے قبل حوثیوں کے ایک میڈیا کے عہدیدار نے اعلان کیا تھا کہ وہ باب المندب کی آبی گذرگاہ کو سعودی جہازوں کے لیے بند کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد بحیرہ احمر سعودی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستہ بن گیا ہے۔

    برطانوی ادارے وینگارڈ کے مطابق حوثیوں کے اعلان کے بعد سعودی بندرگاہ ینبع سے چین اور انڈیا کے لیے خام تیل لے جانے والے دو ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔

    ماہرین کے مطابق حوثیوں کی دھمکیاں عالمی جہاز رانی کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی پہلے ہی عالمی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سبب بن چکی ہے۔

  18. ایران بحران پر امریکہ اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، لیکن تہران بات چیت کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، بڑھتے ہوئے تنازع نے دنیا کی دو اہم ترین توانائی گزرگاہوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

    مارکو روبیو نے یہ بیان جنوب مشرقی ایشیا کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل سعودی عرب کا خام تیل ایشیا لے جانے والے تین آئل ٹینکر بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر کے واپس لوٹ گئے۔ بظاہر یہ اقدام یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے جواب میں کیا گیا۔

  19. ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ کے 37.5 ارب ڈالر خرچ، پینٹاگون نے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لیے

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔

    پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    سماعت کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے کئی بار مداخلت کی، جبکہ اجلاس کے اختتام پر وزیرِ دفاع اور ایک سینیٹر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔

    ایران کے ساتھ گذشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد کیپیٹل ہِل میں یہ ہیگستھ کی پہلی پیشی تھی۔ اس دوران خطے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اپریل میں کانگریس سے آئندہ مالی سال کے لیے پینٹاگون کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کے بجٹ کی درخواست کی تھی، جس سے جدید دور میں امریکی دفاعی اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ جائیں گے۔

    منگل کو امریکہ نے مسلسل گیارہویں روز ایران پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اتحادی اہداف پر جوابی حملے کر رہا ہے۔

    ہیگستھ نے اپنی بات کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’ہم ایک خطرناک دنیا میں رہتے ہیں، اور اس صورتحال میں جرات مندانہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

    مظاہرین کی مداخلت کے بعد انھوں نے کہا کہ اضافی فنڈنگ کی درخواست ایک نازک وقت میں کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر یہ فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو ہمیں ایسے شدید مالی خسارے کا سامنا ہوگا جو فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی، آلات اور گولہ بارود کی فوری فراہمی، اور اہم فوجی کارروائیوں کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دے گا۔‘

    ہیگستھ کے مطابق منظور ہونے والا ہر ڈالر امریکی فوج کی ’جنگی صلاحیت‘ بڑھانے اور ’طاقت کے ذریعے امن‘ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔

    کمیٹی کی ریپبلکن چیئرپرسن سوسن کولنز نے سوال کیا کہ اگر مطلوبہ بجٹ فراہم نہ کیا گیا تو کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا کہ موجودہ اور مستقبل کی فوجی تربیت میں کٹوتی کرنا پڑے گی۔ انھوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فوج کو مناسب فنڈنگ نہیں ملی۔

    کمیٹی میں سب سے سینیئر ڈیموکریٹ رکن پیٹی مرے نے فنڈنگ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ درخواست زیادہ منطقی دکھائی نہیں دیتی۔‘

    سینیٹر ڈک ڈربن کے سوال پر پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ اب تک ایران جنگ کی لاگت 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    تاہم دو ڈیموکریٹ ذرائع اور ایک دیگر باخبر ذریعے نے بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ اندازے میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی تعمیرِ نو جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

    12 مئی کے بعد حکومت کی جانب سے جنگی اخراجات کا کوئی سرکاری تخمینہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت ایک سینیئر پینٹاگون اہلکار نے یہ لاگت 29 ارب ڈالر بتائی تھی۔

    پینٹاگون پہلے قانون سازوں کو بتا چکا ہے کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ 11.3 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔

    پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ اضافی رقم منظور ہو جاتی ہے تو یہ ایک ’نسل در نسل یا تاریخی سرمایہ کاری‘ ثابت ہوگی، جو امریکہ کو دیگر ممالک کی فوجوں کا پیچھا کرنے کی ضرورت سے بچائے گی۔

    اگرچہ ایران اور امریکہ نے اپریل میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور گزشتہ ہفتے دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔

    سماعت کے دوران نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے ’بمباری کے لیے لامحدود رقم‘ مانگ رہی ہے، جبکہ امریکی عوام اپنے خاندانوں کے لیے خوراک تک خریدنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انھوں نے سوال کیا کہ جب صدر پہلے ہی جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کر چکے ہیں تو پھر مزید دسیوں ارب ڈالر کیوں درکار ہیں؟

    سماعت کا اختتام اس وقت شدید تنازع پر ہوا جب ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    پیٹرز نے ہیگستھ کو ’ناکام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک اور ’لامتناہی جنگ‘ شروع کر چکی ہے۔

    اس پر پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘ اور مزید کہا کہ سینیٹر ’ٹرمپ سے غیر معمولی نفرت‘ کا شکار ہیں۔

    زیادہ تر ڈیموکریٹس اس اضافی بجٹ کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ مالیاتی قدامت پسند ریپبلکن چاہتے ہیں کہ اضافی دفاعی اخراجات کے بدلے دیگر شعبوں میں کٹوتی کی جائے۔

    دوسری جانب ایوانِ نمائندگان جمعرات کو تعطیلات پر جا رہا ہے اور کانگریس کے دونوں ایوان ستمبر تک ایک ساتھ اجلاس نہیں کریں گے۔ اس لیے حتیٰ کہ اگر ریپبلکنز مطلوبہ ووٹ حاصل بھی کر لیں تو پینٹاگون کو فنڈز ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    اسی دوران صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکہ کی ماضی کی طویل اور خونریز جنگوں کی ایک فہرست شیئر کی اور ان کی مدت اور ہلاکتوں کا موازنہ موجودہ ایران جنگ سے کیا۔

    انھوں نے لکھا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    منگل کے روز پینٹاگون نے عراق میں 30 سالہ امریکی فوجی سارجنٹ مائیکل ایمانوئل سوِنٹن کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ 28 سالہ سارجنٹ اینجل ریمپرساد کو اردن میں لاپتا اور غالباً ہلاک قرار دیا گیا۔

    ایک روز قبل فوج نے اردن میں ہلاک ہونے والے دو دیگر اہلکاروں کی شناخت پرائیویٹ فرسٹ کلاس ازابیلا گونزالس (19 سال) اور فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر فیہان (25 سال) کے طور پر کی تھی۔

    صدر ٹرمپ بدھ کے روز امریکی ریاست ڈیلاویئر کے ایک فضائی اڈے کا دورہ کریں گے، جہاں ان فوجیوں کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت وطن واپس لائے جائیں گے۔

  20. ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے: امریکی فوج کا دعویٰ

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل 11 ویں رات بھی حملے کیے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے فوجی آپریشنز کے مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق حملوں کا مقصد یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر بیان میں سینٹکام نے الزام لگایا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران، ایران نے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔

    سینٹکام کے مطابق ’یہ بلا جواز حملے سینکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں اور جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔‘

    امریکی فوج کی مرکزی کمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی جارحیت کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔