آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیلی انتخابات ایگزٹ پولز: نیتن یاہو مخالف اتحاد کو معمولی برتری مگر کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی

اسرائیل میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ تاہم اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز (ابتدائی اندازوں) کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا سب سے بڑے پارلیمانی گروپ کے طور پر سامنے آنے کا امکان ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    28 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. نیتن یاہو مخالف ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں حامیوں کا جشن

    تل ابیب میں نیتن یاہو مخالف گاڈی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں موسیقی زوروں پر ہے۔

    جیسے ہی بڑی سکرین پر ’ایگزٹ پولز‘ (انتخابی نتائج کے ابتدائی اندازے) دکھائے گئے، وہاں موجود کچھ حامی رقص کرنے، گانے گانے اور اسرائیلی پرچم لہرانے لگے۔

    تاہم، ابھی تک کسی بھی پارٹی کے نمائندے سٹیج پر نہیں آئے ہیں اور ہال بھی ابھی آدھا خالی ہے۔ ٹی وی عملے اور دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے سامنے، جو یہاں نتائج جاننے کے لیے موجود ہیں، کافی جگہ خالی پڑی ہے۔

    آئزنکوٹ کا ’تبدیلی کا بلاک‘ نیتن یاہو کے بلاک کے مقابلے میں بڑا دکھائی دے رہا ہے، لیکن پھر بھی یہ اکثریت حاصل کرنے سے کافی دور ہے۔

    اس رات کی اصل کہانی عرب جماعتوں کے گرد گھومتی ہے، جن کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ تقریباً 17 یا 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔

  3. اسرائیلی انتخابات کے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو کی جماعت سب سے بڑی پارٹی، مگر اپوزیشن اتحاد نشستوں میں آگے

    اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز ظاہر کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اسرائیلی انتخابات میں سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    یہ حکمران اتحاد سے تو آگے ہے، لیکن اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد سے کافی کم نشستیں ملی ہیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے۔

    اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔

    اسرائیلی چینلز 11، 12 اور 13 کی جانب سے نشر کیے گئے ابتدائی اندازوں کے مطابق، سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کیمپ 52 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے کیمپ جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

    عرب اسرائیلی جماعتوں نے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔

    سرکاری نتائج کا اعلان اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد کر دیا جائے گا، تاہم تقریباً چھ لاکھ ’غیر حاضری والے ووٹ‘ جن میں سے تقریباً تمام فوجیوں کے ہیں اور جو کل ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل نہیں ہو سکے گی۔

    تمام نتائج سامنے آنے اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس پارٹی رہنما کو حکومت سازی (اتحادی حکومت بنانے) کی دعوت دیں گے جن کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔

    یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

  4. اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

    اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق، اسرائیل میں رات 8 بجے تک ووٹ ڈالنے والوں کی قومی شرح 74.3 فیصد رہی۔

  5. ووٹنگ کی شرح ریکارڈ 74 فیصد سے تجاوز کر گئی: الیکشن کمیٹی اسرائیل

    اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والی الیکشن کمیٹی کے مطابق اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 74 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق، اسرائیل میں رات 8 بجے تک ووٹ ڈالنے والوں کی قومی شرح 74.3 فیصد رہی۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر 54 لاکھ 49 ہزار سے زائد ووٹرز نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2022 کے انتخابات میں اسی وقت تک ووٹنگ کی شرح 66.3 فیصد تھی۔

  6. افغان طالبان کی مبینہ فائرنگ سے ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے: ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان

    جنوبی وزیرستان (لوئر) کے ڈپٹی کمشنر نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 اکتوبر کی رات افغان طالبان کی جانب سے انگور اڈہ بازار اور گھروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق مارٹر گولہ گرنے سے متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے۔

    افغان طالبان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

  7. پاکستان اور افغان طالبان فورسز میں سرحدی جھڑپ کی اطلاعات

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شام افغان طالبان فورسز کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

    اگرچہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں منگل کی شام سے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپ کی اطلاع دی جا رہی ہے، تاہم تاحال پاکستان اور افغان طالبان حکام نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’پاکستان ٹی وی‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے مبینہ طور پر افغان طالبان فورسز کی جانب سے داغا گیا ایک گولہ شمالی وزیرستان میں ایک گھر پر گرنے سے ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔

    سرکاری ٹی وی کی جانب سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی اس مبینہ کارروائی کے جواب میں پاکستانی فوج نے فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

  8. نیتن یاہو کی جماعت کا ووٹنگ کا وقت بڑھانے کا مطالبہ مسترد

    اسرائیل کی الیکشن کمیٹی نے نیتن یاہو کی جماعت کی جانب سے پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اس سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی تاکہ اسے اپنے حامیوں کو پولنگ سٹیشنوں تک لانے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

    لیکن سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت ’یشار‘ نے اس مطالبے کی مخالفت کی تھی۔

    دوسری جانب انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 66.7 ہو گیا ہے۔

    اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا وقت رات 10 بجے (پاکستانی وقت رات ایک بجے) ختم ہو رہا ہے۔

  9. خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا ہو گئے ہیں: پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری برائے بہبود آبادی آغا عمر احمد زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد کے بڑے صاحبزادے شہزادہ محمد خان بلوچستان کے ضلع خضدار سے قلات جاتے ہوئے تین دیگر افراد سمیت لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    آغا عمر احمد زئی خان آف قلات کے بھائی اور شہزادہ محمد خان کے چچا ہیں۔

    سرکاری حکام اور خاندانی ذرائع کے مطابق شہزادہ محمد خان پیر اور منگل کی درمیانی شب خضدار سے قلات جا رہے تھے، تاہم وہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکے۔

    آغا عمر احمد زئی نے بتایا کہ شہزادہ محمد خان کو رات کے وقت خضدار سے قلات میں اپنے گھر پہنچنا تھا، لیکن وہ وہاں نہیں پہنچے۔

    آغا عمر احمد زئی کے مطابق بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ان کی رہائش گاہ آ کر اس معاملے پر ان سے بات چیت کی ہے۔

    دوسری جانب قلات میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شہزادہ محمد خان ایک گاڑی میں اپنے ڈرائیور اور دو ذاتی محافظوں کے ہمراہ خضدار سے قلات آ رہے تھے۔

    اہلکار کے مطابق راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی روکی اور انھیں اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات اور شہزادہ محمد خان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    خیال رہے کہ شہزادہ محمد خان، خان آف قلات میر سلیمان داؤد کے بڑے صاحبزادے اور ولی عہد ہیں۔

    بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران بعض شاہراہوں پر اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

    چند روز قبل بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات نے صوبائی وزیرِ داخلہ کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  10. ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں روسی صدر پوتن سے ملاقات

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملاقات کے دوران پوتن نے امید ظاہر کی کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی سطح میں کمی آئے گی۔

    مسعود پزشکیان کے ٹیلی گرام چینل نے ملاقات کی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین نے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس سے قبل، ماسکو میں گیس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ نے یکطرفہ پابندیوں اور فوجی مداخلتوں کے ذریعے عالمی توانائی منڈی کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    سربراہی اجلاس میں خطاب سے قبل، مسعود پزشکیان نے ماسکو میں قطر کے امیر سے ملاقات کی۔

    قطر کے امیر کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، بالخصوص مذاکرات کی تازہ ترین پیش رفت، آبنائے ہرمز اور توانائی کی فراہمی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

  11. اسرائیل میں ووٹنگ کا وقت بڑھانے کے لیے نیتن یاہو کی جماعت کی درخواست

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی ہے تاکہ اسے اپنے حامیوں کو پولنگ سٹیشنوں تک لانے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

    لیکوڈ نے ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کی درخواست جمع کرا دی ہے۔

    بنیامن نیتن یاہو اور ان کے حامی اسرائیلی میڈیا ادارے عرب اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

    اسرائیل کی اہم عرب جماعتوں میں سے ایک، یونائیٹڈ عرب لسٹ کے رہنما منصور عباس نے نیتن یاہو پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا۔

    ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’بنیامن نیتن یاہو جھوٹ بول رہے ہیں اور یونائیٹڈ عرب لسٹ کے خلاف اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔‘

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی حامی سمجھی جانے والی ٹی وی چینل 14 نے عرب اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹنگ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے ’انتخابات کی شفافیت‘ متاثر ہو سکتی ہے۔

    بنیامن نیتن یاہو بھی انتخابات ’چوری‘ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کر چکے ہیں، حالانکہ مرکزی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے اب تک کسی بے ضابطگی کا مشاہدہ نہیں ہوا۔

    اخبار ہاریتز کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے اسرائیل کے فلسطینی علاقوں میں واقع پولنگ سٹیشنوں پر مبصرین تعینات کرنے کے لیے لاکھوں شیکل خرچ کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، لیکوڈ اس صورتِ حال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے کہ اگر اسے انتخابات میں شکست ہوئی تو وہ نتائج کو ’چوری شدہ‘ قرار دے سکتی ہے۔

    نیتن یاہو نے ایکس پر چینل 14 کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں بریکنگ نیوز کے دوران عرب شہریوں کے پولنگ سٹیشنوں پر غیر معمولی ہجوم دکھایا گیا تھا۔

  12. حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

    خبر رساں ادارے انادولو اور روئٹرز کے مطابق، یمنی حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی فورسز نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع آئل ریفائنری کی جانب بیلسٹک میزائل داغا۔

    یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا اور وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    اس سے قبل منگل کو سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے نجران، ابہا اور خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر ابتدائی انتباہی الرٹ جاری کیے تھے۔ بعدازاں حکام نے خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا، تاہم اس کی نوعیت نہیں بتائی۔

    یہ پیش رفت حوثی جنگجوؤں اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔

    اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب داغے گئے حوثیوں کے چار ڈرونز اور تین بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ہے۔

    حوثی جنگجوؤں نے جولائی سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی لائی ہے۔ اکتوبر کے دوران ملک کے شہری ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی عرب مارچ 2015 سے یمنی حکومت کی حمایت میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حوثیوں پر ایران کی حمایت حاصل کرنے کا الزام ہے اور یہ گروہ ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے مختلف علاقوں پر قابض ہے۔

  13. آبنائے ہرمز کے مشرق میں داخل ہونے والا تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا: ایرانی فوج کا دعویٰ

    ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ’خلاف ورزی کرنے والا‘ تیل بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز کے مشرق میں بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے۔

    ایرانی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان کے مطابق، جہاز نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ممنوعہ اور غیر محفوظ علاقے سے گذرنے کی کوشش کی تھی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔

    تاہم، برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی سمیت بین الاقوامی بحری تحفظ کے اداروں نے تاحال ایسے کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی ہے۔

  14. اسرائیلی انتخابات: پہلے سات گھنٹوں میں ریکارڈ ووٹنگ، نیتن یاہو کی حامیوں سے پولنگ سٹیشن پہنچنے کی اپیل

    اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے پہلے سات گھنٹوں میں اہل ووٹرز میں سے 44.9 فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو ووٹنگ کی شرح کا نیا ریکارڈ ہے۔

    کمیشن نے کہا کہ ووٹنگ میں ٹرن آؤٹ نے ’تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں‘۔ پولنگ ختم ہونے میں اب تقریباً پانچ گھنٹے باقی ہیں۔

    اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے سات کروڑ نہیں بلکہ 73 لاکھ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

    انتخابی تجزیہ کار اب بھی محتاط ہیں کہ ووٹرز کی غیر معمولی شرکت انتخابی نتائج پر کیا اثر ڈالے گی۔

    فلسطینی النسل اسرائیلی شہریوں کی زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے سے بنیامن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو نشستیں حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ دوسری جانب، نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے بننے والی کسی بھی حکومت کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    ووٹنگ شروع ہونے کے پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بنیامن نیتن یاہو نے اپنے حامیوں کو پیغام دیا کہ وہ پولنگ سٹیشنوں کا رخ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ بائیں بازو کے مخالفین اور عرب اسرائیلی شہریوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ ہے۔ عرب اسرائیلی شہری ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہماری ووٹنگ کی شرح بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ آپ سب کو بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر پہنچنا چاہیے۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔‘

  15. ایران کی فضائی اور بحری ناکہ بندی سے عالمی توانائی منڈیوں کا استحکام خطرے میں ہے: پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں اور ایران کی فضائی و بحری ناکہ بندی سے عالمی توانائی کا تحفظ خطرے میں پڑ رہا ہے۔¬

    پزشکیان نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور توانائی کی تنصیبات کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خلیج فارس کے خطے میں امریکی فوجی مداخلت صرف علاقائی فریقوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ توانائی کی قیمتوں کے تعین، رسد اور نقل و حمل کے عمل میں بھی نئے مسائل پیدا کرتی ہے، جس سے عالمی معاشی ترقی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘

    اجلاس سے خطاب سے قبل پزشکیان نے ماسکو میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی۔

    قطر کے امیر کے دفتر کے بیان کے مطابق، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتِ حال، خصوصاً مذاکرات کی تازہ پیش رفت، آبنائے ہرمز اور توانائی کی فراہمی پر تبادلۂ خیال کیا۔

    کریملن نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن آج قطر کے امیر اور ایران کے صدر سے ملاقات کریں گے۔

  16. قطر کے امیر اور پزشکیان کی ملاقات: آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    یہ ملاقات ماسکو ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے آٹھویں اجلاس سے قبل ہوئی۔

    قطر کے امیر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتِ حال، خصوصاً مذاکرات میں پیش رفت، آبنائے ہرمز، توانائی کی فراہمی اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل امور پر گفتگو کی۔

    ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دونوں ممالک کے متعدد دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

  17. اسرائیل کی مرکزی بائیں بازو کی جماعت کے رہنما یائر گولان کے قریب چاقو لے کر آنے والا شخص گرفتار

    اسرائیل کے شہر تل ابیب میں بائیں بازو کی مرکزی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما یائر گولان کے قریب چاقو لے کر آنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 20 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا، تاہم اس نے چاقو سے حملے کی کوشش نہیں کی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یائر گولان تل ابیب میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک شخص دھمکی آمیز انداز میں ان کے قریب آیا۔ جب سکیورٹی اہلکار اس کی جانب بڑھے تو اس کے کپڑوں میں چھپایا گیا ایک بڑا چاقو زمین پر گر گیا۔

    پارٹی نے اس واقعے کو یائر گولان کے خلاف جاری دھمکیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انھیں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شِن بیت نے بھی حال ہی میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

    یائر گولان نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد پر اکسانے اور خود تشدد کے ذریعے انھیں خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔

    انتخابی مہم کے دوران بائیں بازو کے رہنماؤں کے خلاف سخت زبانی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے اس واقعے کو وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی ’زہر پھیلانے والی مشین‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

    یائر گولان اسرائیلی فوج کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی اسرائیل کی لیبر پارٹی کے زوال کے بعد قائم کی گئی تھی۔ گولان حزبِ اختلاف کے ان امیدواروں کے اتحاد میں شامل ہیں جن کی قیادت گادی آئزن کوٹ کر رہے ہیں۔

    گولان اسرائیل کی بڑی جماعتوں کے واحد امیدوار ہیں جو اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سماجی معاملات پر بھی نسبتاً وسیع النظری کا مؤقف رکھتے ہیں اور ہم جنس پرستوں سمیت ایل جی بی ٹی کیو افراد کے مساوی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔

  18. پاکستان کی خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت میں برآمدات میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی خطے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران نو علاقائی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ان ممالک سے درآمدات میں اضافہ ہوا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ان نو ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.62 فیصد اضافے کے بعد 4.97 ارب ڈالر ہو گیا، جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.93 ارب ڈالر تھا۔

    افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سمیت ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات 6.72 فیصد کم ہو کر 94 کروڑ 42 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہ گئیں۔ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ برآمدات تقریباً 1.01 ارب ڈالر تھیں۔

    اس کے برعکس، ان ممالک سے پاکستان کی درآمدات میں 19.79 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 5.92 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ان درآمدات کا حجم 4.94 ارب ڈالر تھا۔

    سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں انڈیا سے پاکستان کی درآمدات 68.90 فیصد اضافے کے بعد 6 کروڑ 17 لاکھ 40 ہزار ڈالر ہو گئیں۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ درآمدات 3 کروڑ 65 لاکھ 50 ہزار ڈالر تھیں۔

    تاہم، اس عرصے میں انڈیا کو پاکستان کی کوئی برآمدات ریکارڈ نہیں کی گئیں، جبکہ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 20 لاکھ ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔

    افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران یہ برآمدات 88.34 فیصد کم ہو کر ایک کروڑ 88 لاکھ 60 ہزار ڈالر رہ گئیں، جبکہ گذشتہ سال اسی مدت میں ان کا حجم 16 کروڑ 17 لاکھ 60 ہزار ڈالر تھا۔

    اسی طرح افغانستان سے پاکستان کی درآمدات بھی 94.40 فیصد کم ہو کر ڈھائی لاکھ ڈالر رہ گئیں۔ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ان کا حجم 45 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھا۔

    واضح رہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت، بشمول پاکستانی برآمدات، 10 اکتوبر 2025 سے معطل ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

    پاکستان کی بنگلہ دیش کو برآمدات میں 2.96 فیصد کمی ہوئی اور یہ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے 18 کروڑ ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 17 کروڑ 47 لاکھ 70 ہزار ڈالر رہ گئیں۔

    بنگلہ دیش سے پاکستان کی درآمدات میں بھی 36.11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ان کا حجم ایک کروڑ 38 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہا، جبکہ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ دو کروڑ 17 لاکھ 30 ہزار ڈالر تھا۔

    چین سے پاکستان کی درآمدات میں 19.76 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 5.82 ارب ڈالر ہو گئیں۔ گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ان کا حجم 4.85 ارب ڈالر تھا۔

    دوسری جانب، چین کو پاکستان کی برآمدات میں بھی 17.95 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ برآمدات گذشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے 56 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 66 کروڑ 35 لاکھ 70 ہزار ڈالر ہو گئیں۔

    ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں کوئی تفصیلات درج نہیں کی گئیں۔

    تجارت کے شعبے کے ماہر اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سابق چیئرمین زبیر موتی والا نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ غیر رسمی تجارت کا حجم کافی زیادہ ہے۔

    ان کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں کمی کی ایک اہم وجہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدوں کی بندش ہے، جس کے باعث تجارت متاثر ہوئی ہے۔

    زبیر موتی والا نے بتایا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا آزاد تجارتی معاہدہ موجود ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کھلی ہونے کے دوران پاکستان بڑی مقدار میں مصنوعات وہاں برآمد کرتا تھا اور اس تجارت میں پاکستان کا تجارتی توازن مثبت تھا۔

  19. ’ووٹ ڈالنے باہر نہ نکلے تو عرب جماعتوں کی حکومت قائم ہو جائے گی‘: نیتن یاہو کی دائیں بازو کے ووٹرز سے اپیل

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ’دائیں بازو کے ووٹرز‘ سے گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیتن یاہو نے لکھا کہ ’پولنگ سٹیشنز کی طرف بسیں جا رہی ہیں اور عرب آبادیوں میں لمبی قطاریں لگنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد سے کہا کہ ’اگر آپ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ آئے تو عرب جماعتوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔‘

    اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن انتخابات میں سے ایک قرار دیے جانے والے الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ سنہ 1977 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    ایک اور پوسٹ میں نیتن یاہو نے لکھا کہ ’عرب علاقوں میں معمول سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ نظر آ رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دائیں بازو کے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہے۔‘

    ابتدائی سرویز کے مطابق موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور دونوں امیدوار تقریباً برابر پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔

    تاہم اندازوں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے سیاسی اتحاد پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں یا حتیٰ کہ کئی ماہ تک سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے۔

    اس انتخاب کو بڑی حد تک نیتن یاہو کی حکمرانی پر عوامی رائے شماری یا ریفرنڈم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  20. خطے کے ممالک کو سکیورٹی کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے: محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سکیورٹی کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    منگل کو ایکس پر جاری بیان میں رضائی نے لکھا کہ ’امریکہ نے خطے کے کسی بھی ملک کو سکیورٹی فراہم نہیں کی اور سکیورٹی ضمانتیں دینے میں واشنگٹن کی ناکامی اب واضح ہو چکی ہے۔ مغربی ایشیا میں سکیورٹی کا سرچشمہ خود خطہ ہونا چاہیے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکا جانا چاہیے۔‘

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خلیجی ممالک میں قائم متعدد فوجی اڈے جنگ کے عروج کے دوران بارہا حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔