لائیو, قطر کا امریکہ ایران مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم: ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا اور ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں، شہبازشریف
قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے جبکہ برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے جبکہ صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں۔
خلاصہ
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران نے خطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے 'وقار' کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔
لائیو کوریج
مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے قومی مفادات کا تحفظ جنگ سے بہتر ہے: ایرانی صدر پزشکیان
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو ’اپنے جائز حقوق کے دفاع سے متعلق کوئی خوف نہیں تاہم جنگ کی کیفیت میں رہنے کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اتوار کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ جب ایران مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے تو اسے حالتِ جنگ برقرار نہیں رکھنی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران سوئٹزرلینڈ میں واشنگٹن کے ساتھ ایک 60 روزہ فریم ورک کے تحت ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں مصروف ہے، جن کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
پزشکیان نے ملک کے خلاف امریکہ-اسرائیل کی جارحیت کے بعد قومی اتحاد اور یکجہتی کو ایران کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی ’غیر معمولی اور بے مثال‘ ہے اور اسے برقرار رکھنے کے ساتھ مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل اسلامی انقلاب کے رہبر کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔
صدر نے کہا کہ آج ہم جس بڑی اور غیر معمولی پیش رفت کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ ملک کے تمام سیاسی، انتظامی، عسکری، سکیورٹی اور عدالتی شعبوں کے درمیان بے مثال ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔
قطر کا ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے تسلسل کا خیرمقدم
،تصویر کا ذریعہX/@MBA_AlThani_
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے شریک ثالث قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان التھانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور ایران کے مذاکرات کے تسلسل کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں محمد بن عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم لوسرن لیک اجلاس کی کارروائی کے انعقاد اور آج سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے جاری رہنے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ طہم پاکستان سمیت ان تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس مفاہمت میں کردار ادا کیا اور ہم اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے خواہاں ہیں۔‘ انھوں نے مذاکرات کی میزبانی پر سوئٹزرلینڈ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
قطر کے وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے امریکہ سے بلاواسطہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیان پر احتجاج کیا گیا تھا
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے گماشتہ گروہوں کو ’مسائل پیدا کرنے‘ سے نہ روکا تو وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
ایرانی وفد کے ارکان احتجاجاً پہلے دور کی تکمیل پر مشاورتی عمل مکمل کرنے کے بعد کانفرنس روم میں واپس آنے کی بجائے برگن سٹاخ میں اپنی قیام گاہ میں چلے گئے تھے۔
برگن سٹاخ میں موجود پاکستانی صحافی انس ملک کے مطابق اگرچہ ایرانی وفد اپنی قیام گاہ میں ہی ہے لیکن بلواسطہ بات چیت کا سلسلہ پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی مدد سے جاری ہے۔
بریکنگ, کراچی: تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر مجلس میں شریک متعدد افراد زخمی, روحان احمد، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSocial Media
کراچی پولیس کے مطابق ڈیفینس کے علاقے میں ایک تیز رفتار گاڑی نے ایک امام بارگاہ کے احاطے میں موجود افراد کو کچل دیا ہے اور اس واقعے میں کم از کم 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے بیشتر خواتین ہیں۔
یہ واقعہ اتوار کی شب ڈیفنس کے فیز فائیو میں واقع مسجد و امام بارگاہ بقیتہ اللہ میں اس وقت پیش آیا جب وہاں مجلس جاری تھی کہ ایک سوزوگی ویگن عمارت کے باہر رکھی گئی رکاوٹوں سے ٹکرائی اور صحن میں موجود لوگوں پر چڑھ گئی۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی تیز رفتاری سے امام بارگاہ کے احاطے میں داخل ہوئی اور پردے کے لیے لگائی گئی قنات کو توڑتی ہوئی وہاں موجود خواتین پر چڑھ گئی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گاڑی کی زد میں آ کر 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ شدید زخمی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور شدید زخمی ہونے والی خواتین کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے ویگن میں سوار تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی کا ڈرائیورنشے میں تھا اور حادثہ بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ادھر شیعہ علما نے بھی اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد ایکس پر اپنے پیغام میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تفصیلات تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
انھوں نے بتایا کہ وہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کے ہمراہ بقیتہ اللہ امام بارگاہ اور جناح ہسپتال گئے اور زخِمیوں کی عیادت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس افسوسناک واقعے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں جو گاڑی میں سوار تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
کراچی کے میئر کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے اور اُن کا علاج جاری ہے، جبکہ دیگر افراد کی حالت مستحکم ہے۔
اسرائیلی افواج کا لبنان میں رہنا ناممکن ہے: حزب اللہ
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جنوبی لبنان میں سکیورٹی (بفر) زون میں اسرائیلی افواج کے تعینات رہنے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کا لبنان میں رہنا ناممکن ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کے لیے کوئی سیکیورٹی زون نہیں ہے، ہمارے پاس ایک قومی فوج ہے جو ملک کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور ہم اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’جب تک ملک کے شمال میں رہنے والوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گا، ہم جنوبی لبنان میں سکیورٹی (بفر) زون میں رہیں گے۔
اس بیان کے جواب میں حزب اللہ کے رہنما نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں مزید کہا کہ اسرائیل ایک دشمن ملک ہے اور اسے لبنان چھوڑ دینا چاہیے۔
حزب اللہ کے رہنما نے لبنان میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔
’جب تک میں اسرائیل کا وزیراعظم ہوں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا‘
اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کتھا کہ ’ملک کے شمال کے باشندوں کے ساتھ ساتھ تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے جب تک ضروری ہو جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون میں رہیں گے، جو ہمیں عزیز ہیں۔‘
اسرائیل کے وزیر اعظم نے امریکہ-ایران مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ (مذاکرات میں) سیاسی پیش رفت ہو یا نہ ہو ، میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ جب تک میں اسرائیل کا وزیراعظم ہوں، ایسا نہیں ہو گا۔‘
ایران کے ساتھ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کی پیشکش اہم کیوں؟, بہرنگ تاج دین، بی بی سی فارسی
بلا شبہ، جنگ کے خاتمے کے لیے ایران-امریکہ کے درمیان مفاہمت کا سب سے پرعزم حصہ اس کی ساتویں شق ہے، جو تمام بنیادی اور ثانوی امریکی پابندیوں کو ہٹانے کی بات کرتی ہے۔
یہ وسیع اور کثیر الجہتی پابندیاں ہیں جو مختلف قوانین کے ساتھ ساتھ 1996 اور 2017 میں امریکی کانگریس کے پاس کردہ قوانین کے تحت کئی دہائیوں سے لاگو ہیں
ان تمام پابندیوں کو اٹھانا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے اور اس کی امریکی صدر کے لیے اہم سیاسی قیمت ہو سکتی ہے لیکن ایسی تجویز پیش کرکے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات کی میز پر ایک ایسی ترغیب دی ہے جو ان تمام فوائد سے کہیں زیادہ ہے جو جے سی پی او اے جوہری معاہدے سے ایران کو ملنے والے تھے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سوئس مذاکرات میں ایران کے ساتھ تعلقات میں ’بنیادی طور پر تبدیلی‘ کے لیے اپنے ملک کی تیاری کے بارے میں تبصرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فریق نہ صرف اس کی تجویز کی وسعت سے واقف ہے، بلکہ اس کے پاس عوامی طور پر یہ بتانے کی سیاسی خواہش بھی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نصف صدی کی دشمنی کو ترک کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایسی چیز جس پر شاید پہلے کبھی غور نہ کیا گیا ہو۔
یقیناً اس کے لیے ایران کے رہنماؤں کو امریکہ کے مطالبات، خاص طور پر جوہری پروگرام اور ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کے علاقائی کردار کے بارے میں متفق ہونے کی ضرورت ہے۔
اگر دونوں فریق ایک ایسے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں تمام امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں، تو یہ ایرانی معیشت میں بنیادی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے، ایک ایسی معیشت جو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے کئی دہائیوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری سے محروم ہے اور بین الاقوامی سپلائی چین سے منقطع ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات میں اتوار کو کیا ہوتا رہا؟
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران-امریکہ مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایرانی عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک دھمکی آمیز پیغام میں لکھا کہ ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے گماشتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے روکنا چاہیے، ورنہ ہم انھیں دوبارہ سختی سے نشانہ بنائیں گے۔‘
اس پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جواب دیا کہ امریکی حکام اپنے بیانات کے بارے میں محتاط رہیں، ہماری مسلح افواج دوسرے طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ جو بھی کہیں گے، ہم بھی وہی کریں گے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’جب تک ملک کے شمال میں رہنے والوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گا، ہم جنوبی لبنان میں سکیورٹی (بفر) زون میں رہیں گے۔‘
پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والی ایک میٹنگ میں ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے پر زور دیا جو ایک ’پائیدار، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول‘ حل فراہم کرے گا جو علاقائی خدشات بالخصوص خلیج فارس کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو مدنظر رکھے۔
ایرانی وفد کمرے میں موجود مگر کیمرے میں نہیں
،ویڈیو کیپشنایرانی وفد کمرے میں موجود مگر کیمرے میں نہیں
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیرِ اعظم نے گفتگو کی۔ لیکن اس موقع پر ایرانی وفد موجود نہیں تھا۔
ایرانی براڈ کاسٹ کارپوریشن کے نمائندے نے بتایا کہ ایرانی وفد نے اصرار کیا کہ وہ امریکی وفد کے ہمراہ کیمرے کے سامنے نہیں آنا چاہتے۔
اب تک ان مذاکرات میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ جانیے برگن سٹاخ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار خالد کرامت سے۔
بات چیت کا ایک موضوع ایرانی تیل پر عائد پابندیاں تھیں: حمید بورد
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ملک کی قومی تیل کمپنی این آئی او سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر حمید بورد کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے دوران اتوار کو ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور متعلقہ استثناؤں کا معاملہ زیر بحث آیا۔
اتوار کے روز ایک انٹرویو میں، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات میں شامل ایرانی وفد کے رکن کا کہنا تھا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد ایرانی تیل کی برآمد خلیج فارس کے راستے دوبارہ شروع ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ایرانی جہاز پہلے سے مقررہ محدود تصوراتی لائن کو عبور کر چکے ہیں اور اب اپنے مقررہ مقامات کی جانب رواں دواں ہیں۔
حمید بوارد کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ملک کی ماہانہ تیل برآمدات کا تقریباً نصف حصہ بیرونِ ملک بھیجا جا چکا ہے اور مفاہمتی ادداشت پر مکمل عملدرآمد کے ساتھ برآمدات مکمل صلاحیت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
حمید بوارد نے یہ بھی بتایا کہ ’مذاکرات کے دوران ہم نے سرمایہ کاری اور تیل کی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امور کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا۔ اس معاملے پر امریکی فریق کو ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں، جن کے نفاذ کے لیے ہم پرامید ہیں۔‘
بریکنگ, ایرانی قیادت نے بحران کو بردباری سے سنبھالا، ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو حالیہ بحران سے نمٹنے کے انداز پر سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نےخطے کی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے ’وقار‘ کا مظاہرہ کیا۔
سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاخ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے اس پورے بحران کو بڑی سنجیدگی اور بردباری سے سنبھالا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ایرانی قیادت واقعی خطے میں امن کو فروغ دینا چاہتی ہے۔‘
وزیرِاعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی امن کے خواہاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا یہ ماننا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی امن کے لیے مخلص ہیں اور مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ امن پسند شخصیت ہیں۔‘
امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بہتر ہے وہ اپنے بیانات سے باز رہے۔
باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں لکھا کہ ’ کیا وہ خود سے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو آج وہ مایوسی کے اس مقام پر نہ پہنچتے؟‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے، بہتر ہے کہ وہ اپنے بیانات میں محتاط رہیں۔ ہماری مسلح افواج دوسرے طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
یاد رہے کہ سوئٹزر لینڈ میں ایران، امریکہ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دھمکی دی تھی کہ ایران کو لبنان میں اپنی پراکسیوں کو فوری طور پر روکنا چاہیے، اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو ہم اسے ایک بار پھر سختی سے نشانہ بنائیں گے، بالکل پچھلے ہفتے کی طرح، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘
ایران، امریکہ مذاکرات: 80 منٹ کی بات چیت کے بعد مشاورت کے لیے وقفہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئٹزرلینڈ میں امریک اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات میں 80 منٹ بعد وقفہ آیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس وقفے میں فریقین اپنے وفود کی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت ایرانی وفد، قطری وفد کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
امریکہ اور ایرانی مذاکراتی ٹیموں نے بند کمرے میں پاکستان اور قطری ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے صدر ٹرمپ کی دھمکی آمیز سوشل میڈیا پوسٹ پر احتجاج بھی کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی وفد اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے آغاز کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ 'ایران لبنان میں اپنے بھاری معاوضہ لینے والے گماشتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے فوری طور پر روکے۔'
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے پر 'ہم ایران پر دوبارہ سخت حملہ کریں گے، بالکل ویسا ہی جیسا ہم نے گذشہ ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔'
واضح رہے کہ امریکہ، ایران میں مفاہمتی یادداشت میں طے کیا گیا تھا کہ لبنان سمیت 'تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ' کیا جائے گا۔ تاہم 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے خارجہ پالیسی کی ’بڑی ناکامی‘ کیسے بنی
،تصویر کا ذریعہEPA
یہ جنگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اب تک کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی ہے۔
اس نے امریکہ کے لیے اپنے دشمنوں کو روکنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
اس جنگ نے خلیج کی تیل پیدا کرنے والی عرب بادشاہتوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، جن کا پورا کاروباری ماڈل مشرقِ وسطیٰ کی بے چینی کے درمیان خود کو استحکام کے جزیرے کے طور پر پیش کرنے پر قائم تھا اور اسے بحال ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
نجی طور پر ان ممالک کے حکام پہلے ہی اپنے اتحادیوں میں تنوع لانے اور ایران کے ساتھ، جو سمندر کے پار ان کا پڑوسی ہے، کسی نہ کسی طرح ساتھ رہنے کے طریقے تلاش کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ادھر چین بھی اس صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہوگا، کیونکہ امریکہ نے اپنے قیمتی اسلحہ ذخائر تیزی سے استعمال کیے اور اپنی طاقت کی حدود کو بھی چھو لیا۔
یہ معاہدہ ایک ایسی جنگ کا خاتمہ کرتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تہران میں اپنے مخالف کی طاقت کو غلط سمجھنے کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ اس سے ان تمام لوگوں کے لیے بڑی راحت پیدا ہوگی جن کی زندگیاں اس جنگ سے متاثر ہوئیں، خاص طور پر وہ شہری جو براہِ راست زد میں تھے۔
300 ارب ڈالر کا سوال: ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے اربوں ڈالرز کی ادائیگی کون کرے گا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور ایران کی جانب سے دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت دراصل آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور باقی تمام دیگر اہم معاملات پر ایک جامع حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کا آغاز ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر طویل پریس کانفرنس کے دوران اس مفاہمتی یادداشت کو امریکہ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جس کے چند ہی گھنٹوں بعد دونوں ممالک نے تصدیق کی کہ اس یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کر دیے گئے ہیں اور اب یہ نافذ العمل ہے۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے صحافیوں کو دی گئی بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جامع اور دیرپا امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔
ایران کے جوہری معاملات سمیت ایک اہم موضوع ایران کو اربوں ڈالر کی ادائیگی ہے اور اس وقت یہ موضوع بحث بھی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔
اسرائیلی فوج لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ میں رہے گی: اسرائیلی وزیرِ دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج لبنان میں ’سکیورٹی زونز‘ میں رہے گی اور اسے کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے پر جواب دینے کے احکامات ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی سے متعلق اسرائیلی وزیرِ دفاع کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے بنیادی نکات میں سے ایک ہے۔
جمعے کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سنیچر کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
ایران لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے جاری رہنے کو امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی سمجھتا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں جنگ نہ رکی تو وہ مذاکرات سے دستبردار بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ لبنان میں اس وقت لڑائی تھم چکی ہے۔
ایران کبھی بھی یورینیم افزودہ کرنے کے بنیادی حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا: صدر مسعود پزشکیان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران یورینیم افزدگی کے اپنے بنیادی حق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کا بھی ہمیشہ سے یہی موقف تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ دوسرے فریق کے پاس ایران کے اس بنیادی حق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کو تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ رہبرِ اعلی کئی مواقع پر واضح کرتے رہے ہیں کہ ایران کی جوہری بم بنانے کی خواہش نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ کا یہی مطالبہ تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے وفود پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق آٹھ کے مطابق ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور نہ ہی خریدے گا اور دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے پاس پہلے سے موجود افزودہ یورینیئم کے معاملے کو حل کیا جائے گا۔
اس مواد کو سنبھالنے کا کوئی طریقہ واضح نہیں کیا گیا۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد کے مذاکرات میں 'باہمی طور پر طے کیا جائے گا'، تاہم کم از کم اسے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای سے) کی نگرانی میں اسی مقام پر 'کم افزودہ' کیا جائے گا۔
امریکہ، ایران مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور اُمید ہے کہ فریقین حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
قاہرہ میں چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر العربیہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ ’زیادہ مشکل‘ ہو گا۔
انٹرویو کے دوران اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ ایران کے پاس موجود جوہری مواد میں یورینیم کی مقدار کم کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
مذاکرات سے قبل کانفرنس ہال میں ہونے والی گفتگو کے دوران ایرانی وفد کی عدم شرکت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیرِ اعظم نے گفتگو کی۔ لیکن اس موقع پر ایرانی وفد موجود نہیں تھا۔
یہ تقریب براہِ راست نشر کی جا رہی تھی، اس دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کچھ دیر کے لیے کانفرنس ہال میں آئے لیکن کچھ لمحوں بعد ہی واپس چلے گئے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، جے ڈی وینس اور قطری وزیرِ اعظم کی گفتگو کے بعد وہاں موجود میڈیا نمائندگان کو وہاں سے بھیج دیا گیا، جس کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
ایرانی براڈ کاسٹ کارپوریشن کے نمائندے نے بتایا کہ ایرانی وفد نے اصرار کیا کہ وہ امریکی وفد کے ہمراہ کیمرے کے سامنے نہیں آنا چاہتے۔
مذاکرات کے آغاز پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیرِ اعظم نے کانفرنس ہال میں اظہارِ خیال کیا تھا۔
لیکن ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی وہاں موجود نہیں تھے۔
سوئٹزرلینڈ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی میڈیا سمیت دیگر میڈیا کی غیر موجودگی اور تقریب کی براہِ راست کوریج ختم کرنے کی صورت میں سامنے آنے کی شرط رکھی تھی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے فیصلہ کیا کہ وہ کیمرے کے سامنے اور براہِ راست کوریج کے دوران امریکی وفد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔
تقریب کی براہِ راست کوریج ختم ہونے کے بعد ہی ایرانی وفد کانفرنس ہال میں داخل ہوا۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کا مقصد تہران میں کسی بھی قسم کے ردِعمل سے بچنا ہو سکتا ہے۔
ایران نے لبنان میں اپنے حامی گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے نہ روکا تو دوبارہ سخت حملہ کریں گے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
امریکی صدر
ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے لبنان میں اپنی حمایت یافتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے نہ روکا تو اسے دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے آغاز کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ایران لبنان میں اپنے
بھاری معاوضہ لینے والے گماشتہ گروہوں کو مسائل پیدا کرنے سے فوری طور پر روکے۔‘
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے پر ’ہم ایران پر دوبارہ سخت حملہ کریں گے، بالکل ویسا ہی جیسا ہم نے گذشہ ہفتے کیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔‘
واضح رہے کہ امریکہ، ایران میں مفاہمتی یادداشت میں طے کیا گیا تھا کہ لبنان سمیت ’تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ‘ کیا جائے گا۔ تاہم 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے فعال رہنے تک لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں گے جبکہ حزب اللہ کے مطابق جب تک اسرائیلی فوج لبنان میں موجود ہے تب تک ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے۔
لبنان پر حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ دُنیا کے امن کے لیے بھی تاریخی موقع ہے: قطری وزیرِ اعظم
قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر اُس وقت ثالثی جاری رکھے گا، جب تک امریکہ اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ جاتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات بہت تاریخی موقع ہے اور نہ صرف خطے کی سکیورٹی بلکہ دُنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔
قطری وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ جشن کا موقع تو ہیں ہے، لیکن اس کا آغاز تو ضرور ہو گیا ہے۔
قطری وزیرِ اعظم نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ایران عدم استحکام کو ہوا دینا ترک کر دے تو امریکہ باہمی تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے: جے ڈی وینس
،ویڈیو کیپشن’چند ماہ میں جتنی بات فیلڈ مارشل سے کی، کسی اور سے نہیں کی‘
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے موقع پر پاکستانی اور قطری وزرائے اعظم کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے۔
’اسلام آباد اور یہاں کے سوا، یعنی گذشتہ چند مہینوں سے پہلے، اس سطح پر ایرانی اور امریکی قیادت کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ صدر نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم ایک نیا باب کھولیں اور ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کریں، اور ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔
’پیغام یہ ہے کہ اگر ایران کی قیادت خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینا چھوڑ دے، اگر وہ طویل مدت کے لیے جوہری ہتھیاروں کی خواہش ترک کر دے، تو امریکہ اس ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔ ہم نے گذشتہ چند گھنٹوں میں ہی خاصی پیش رفت کی ہے اور آنے والے وقت میں مزید پیش رفت کی توقع ہے۔‘
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ علاقائی سطح پر جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ ’میرے خیال میں امریکہ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس مقام تک پہنچانے میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور ان کا یہ عزم کلیدی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کو آئندہ دس برسوں میں اس سے مختلف دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ یہ گذشتہ دس برسوں میں رہا۔
’ہم یہاں ایک سادہ مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں: سفارت کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنا، جہاں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان یا تو جنگی صورتحال رہی ہے یا تعلقات نہایت کشیدہ رہے ہیں، اور جہاں ایران کو علاقائی عدم استحکام کا محرک سمجھا جاتا رہا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مستقبل کی تصویر دیکھتے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی نائب صدر کے مطابق گذشتہ چند مہینوں میں ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جتنی بات ہوئی اتنی شاید کسی اور نہیں ہوئی
جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انھیں اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ ان متعدد مسائل کا سفارتی حل تلاش کریں جو امریکہ کے عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے اہم ہیں۔
’آبنائے ہرمز کا کھلنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، یہ مقاصد پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم مل کر مزید کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا ہم ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کو مستقل طور پر بدل سکتے ہیں؟ یا پھر ہم پرانے طریقوں پر واپس چلے جائیں گے، جو ہماری ترجیح نہیں، لیکن ایک ایسی صورتحال ہے جو پیش آ سکتی ہے۔‘
اس مذاکراتی عمل کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے شکرگزار ہیں، ’جو صدر کے بھی قریبی دوست ہیں اور میرے بھی۔ ان کی قیادت اور مہارت سے بھرپور مذاکراتی کوششوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جب ان کی میزبانی کی تو اس کے بعد سے وہ اکثر مذاقاً کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم افراد ہیں۔ ایک انڈین اور ایک پاکستانی۔ انڈین ان کی اہلیہ ہیں اور پاکستانی فیلڈ مارشل منیر ہیں۔
’گذشتہ چند مہینوں میں میری فیلڈ مارشل منیر سے جتنی بات ہوئی اتنی شاید کسی اور نہیں ہوئی۔ ان کے سفارتی کردار کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ وہ یقیناً ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن میرے خیال میں انھوں نے خود کو ایک بہترین سفارتکار کے طور پر بھی منوایا ہے۔‘