لائیو, ٹرمپ کا سی این این سمیت تین صحافتی اداروں پر وائٹ ہاؤس میں داخلے پر ’پابندی‘ کا اعلان

صدر ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ (ٹرمپ انتظامیہ) کے بارے میں ’مسلسل افسانے اور جھوٹی خبریں‘ شائع یا نشر کرتے ہیں،‘ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مثال نہیں دی۔ امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے پابندی کو امریکی آئین میں دی گئی آزای صحافت پر ’غیر قانونی حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کی رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ کے بعد خطرہ ٹل گیا: سعودی سول ڈیفنس

    Fayez Nureldine / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہFayez Nureldine / AFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ریاض میں جولائی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ جولائی میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کے لیے ’سمندری ناکہ بندی‘ کا اعلان کیا تھا۔

    سعودی سول ڈیفنس نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دارالحکومت سمیت کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیے۔ اس دوران سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔

    روئٹرز اور اے ایف پی کے صحافیوں نے ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم حکام نے بعد میں کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ شہریوں کو ہجوم کی صورت میں جمع ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    حوثیوں نے حال ہی میں نہایت اہم بندرگاہی شہر موخا اور جزیرہ پریم پر قبضہ کر لیا تھا، جو خلیجی ریاست سے ایشیا اور یورپ کو ہونے والی تجارت کے لیے اہم بحری راستے کے قریب واقع ہیں۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فوجی ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے شمال مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی گئی۔

    آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سعودی بحری جہاز تیل کی برآمد کے لیے بحیرہ احمر کے اسی راستے پر انحصار کر رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے حوثیوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب کی کئی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے بعد وہاں کام عارضی طور پر روکنا پڑا تھا۔

  2. امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روس پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ایران پر عائد پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے۔

    اس قانون کے تحت ایران کے خلاف عائد موجودہ امریکی پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے، جبکہ روس کے خلاف پابندیوں، محصولات اور دیگر پابندیوں کا دائرہ بھی بڑھایا گیا ہے۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے رواں ہفتے کے آغاز میں پابندیوں کے اس بل کی منظوری دی تھی۔

    قانون میں روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر اداروں پر پابندیاں، جبکہ روس کے توانائی اور تجارتی شعبوں سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کو روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    قرارداد کے تحت سنہ 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ میں بھی پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے اور تہران پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی اختیار برقرار رکھا گیا ہے۔

  3. ٹرمپ کا سی این این سمیت تین صحافتی اداروں پر ’پابندی‘ کا اعلان

    CNN

    ،تصویر کا ذریعہCNN

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’سی این این‘، ’ایم ایس ناؤ‘، اور ’پولیٹیکو‘ نامی خبر رساں اداروں کو فوری طور پر وائٹ ہاؤس سے ’بین‘ کر رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ (ٹرمپ انتظامیہ) کے بارے میں ’مسلسل افسانے اور جھوٹی خبریں‘ شائع یا نشر کرتے ہیں،‘ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مثال نہیں دی۔

    ٹرمپ نے بعد میں اسے ’بہت سادہ پابندی‘ قرار دیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندی کیسے عائد کی جائے گی یا ان اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا جائے گا یا نہیں۔ اعلان کے کچھ دیر بعد بھی سی این این اور پولیٹیکو کے نامہ نگار وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ممکنہ پابندی کو امریکی آئین میں دی گئی آزادیٔ صحافت پر ’غیر قانونی حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کی رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں۔

    پولیٹیکو نے بھی کہا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور دفاع کرے گا۔ تاہم ’ایم ایس ناؤ‘ جو پہلے ’ایم ایس این بی سی‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، نے تبصرے سے انکار کیا۔

    وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہینرچ نے کہا کہ ’صحافیوں کو ان کا کام کرنے پر نشانہ بنانا قابلِ دفاع نہیں۔‘ ان کے مطابق معاملہ صرف صحافیوں کے حقوق کا نہیں بلکہ امریکی عوام کے اس حق کا بھی ہے کہ انھیں صدر اور حکومت کی سرگرمیوں، پالیسیوں اور فیصلوں سے متعلق مکمل اور آزاد معلومات مل سکیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اس سے قبل فروری 2025 میں وائٹ ہاؤس نے ایسوسی ایٹڈ پریس یعنی ’اے اپی‘ کے رپورٹرز کو بعض تقریبات میں داخلے سے روک دیا تھا۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اے اپی کی جانب سے ٹرمپ کے حکم کے باوجود اپنی رپورٹنگ میں ’گلف آف میکسیکو‘ کا نام تبدیل کرکے ’گلف آف امریکہ‘ لکھنے سے انکار کیا تھا۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں سنہ 2018 میں سی این این کے صحافی جم ایکوسٹا کی وائٹ ہاؤس پریس کریڈینشل بھی منسوخ کر دی تھی، اگرچہ یہ پورے سی این این پر پابندی نہیں تھی بلکہ ایک مخصوص صحافی کی رسائی کا معاملہ تھا۔

  4. وقت آ گیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے برطانیہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے: سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن

    بورس جانسن اور عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہx.com/BorisJohnson

    ،تصویر کا کیپشن24 نومبر 2016 کی تصویر: بورس جانسن عمران خان سے ہاتھ ملا رہے ہیں

    برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو عمران خان کی رہائی کے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔

    انھوں نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے لیے ایک کالم لکھا ہے، جس کا عنوان ہے: ’کرکٹ کے لیجنڈ عمران خان پاکستان میں جیل کی چھوٹی سی کوٹھڑی میں بتدریج موت کی جانب دھکیلے جا رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ ان کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔‘

    ڈیلی میل میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں بورس جانسن نے الزام لگایا ہے کہ 73 سالہ عمران خان کو مسلسل کئی کئی دن تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ مناسب ورزش بھی نہیں کر سکتے کیونکہ بیت الخلا سمیت اس کمرے کا سائز صرف چھ فٹ ضرب آٹھ فٹ ہے۔

    سابق برطانوی وزیر اعظم نے یہ الزام بھی لگایا کہ عمران خان کی ’کوٹھڑی میں کوئی کھڑکی نہیں ہے اور بعض اوقات روشنیاں بھی بند کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث وہ اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ فروری میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ بیرسٹر سلمان صفدر نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اپنی رپورٹ میں درج کیا تھا کہ عمران خان نے جیل میں اپنی مصروفیات، مشکلات اور سہولیات سے متعلق کیا بتایا اور خود انھوں نے کیا دیکھا۔

    رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو بتایا تھا کہ انھیں جیل میں ورزش کے لیے سامان دیا گیا ہے، دو بار احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے اور دن اور رات کے وقت ہوا اور روشنی کا مناسب انتظام ہے۔

    اپنے کالم میں بورس جانسن نے لکھا کہ جن حالات میں عمران خان کو جیل میں رکھا جا رہا ہے، اس کی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد مذمت کر چکے ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور پاکستان کی سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ قیدی کو مناسب طبی سہولتوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے اگست میں سپریم کورٹ کو رپورٹ جمع کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہر منگل کو جیل قوانین کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور اب تک ایسی 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور چار اپریل 2026 کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    21 اگست کو پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ عمران خان کا اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنہ کرایا گیا جس کے مطابق ’وہ صحت مند پائے گئے۔‘

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ’پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

    ڈیل میل میں اپنے کالم میں سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے لکھا کہ عمران خان کے خلاف وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد متعدد مقدمات قائم کیے گئے جن میں سے اکثر ختم ہو گئے، سوائے اس الزام کے کہ ان کی حکومت نے برطانوی حکومت سے ملنے والی کچھ رقم ایک مخصوص پراپرٹی ڈیولپر کی جانب منتقل کی، جس نے بعد ازاں ایک ایسی یونیورسٹی کو بڑی رقم عطیہ کی جس کے عمران خان اور ان کی اہلیہ سے روابط تھے۔

    بورس جانسن نے مزید لکھا کہ اگر عمران خان کے خلاف مقدمات موجود بھی ہوں تو انھیں ایسے حالات میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا اور ان کی اپیل کی جلد اور آزادانہ سماعت ہونی چاہیے۔

    اپنے کالم میں بورس جانسن نے عمران خان کی بطور وزیرِ اعظم بعض پالیسیوں، خصوصاً ماحولیات اور خواتین کی تعلیم سے متعلق اقدامات کی تعریف کی، تاہم یہ بھی کہا کہ وہ عمران خان کے تمام سیاسی مؤقف سے متفق نہیں تھے، جن میں روس اور طالبان سے متعلق بعض آرا بھی شامل ہیں۔

    سابق برطانوی وزیرِ اعظم نے لکھا کہ عمران خان کی صحت خراب ہو رہی ہے، ان کی رہائی کی کوئی واضح امید نظر نہیں آتی اور ان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم کو بھی جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

    بورس جانسن کے مطابق پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر عمران خان رہا ہوئے تو وہ عوامی حمایت کے سبب دوبارہ سیاسی طور پر مضبوط ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے برطانوی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے معاملے پر لندن نے بہت کم آواز اٹھائی ہے، حالانکہ عمران خان کے برطانیہ کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں اور ان کے لاکھوں مداح برطانیہ میں بھی موجود ہیں۔

    کالم میں بورس جانسن نے لکھا کہ پاکستان کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ عمران خان کو رہا کیا جائے یا اپیل کے فیصلے تک گھر میں نظر بند رکھا جائے۔

    انھوں نے لکھا: ’عمران خان کو تین برس سے اذیت میں دیکھنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہچکچاہٹ ترک کریں، اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کریں۔‘

    سابق برطانوی وزیر اعظم نے اپنے کالم کا اختتام ان الفاظ میں کیا: ’اس کوٹھڑی کا دروازہ کھولیں اور عمران خان کو آزاد کریں۔‘

  5. پیٹرول ایک روپے 65 پیسے، ڈیزل 88 پیسے فی لیٹر سستا

    پاکستان پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے۔

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز کے مقابلے میں 19 ستمبر کے لیے پیٹرول کی قیمت ایک روپے 65 پیسے فی لیٹر کم ہوئی ہے۔

    18 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت 390.79 روپے فی لیٹر تھی جو 19 ستمبر کے لیے کم ہو کر 389.14 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 18 ستمبر کو 424.92 روپے فی لیٹر تھی جو 19 ستمبر کے لیے 424.04 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یوں ڈیزل 88 پیسے فی لیٹر سستا ہوا ہے۔

  6. فیول سبسڈی سکیم میں نرمی: موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے پانچ لیٹر پیٹرول خریدنے کی شرط ختم

    پاکستان پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    نائب وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے خصوصی ریلیف پیکیج کے تحت فیول سبسڈی سکیم میں عوامی آرا کی روشنی میں بعض تبدیلیوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کے تحت موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور رکشوں کے لیے ایک وقت میں کم از کم پانچ لیٹر پیٹرول خریدنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے جبکہ اب 20 سال پرانی موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی چلانے والے بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔

    بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کا اجلاس ہوا جس میں سکیم کے ملک گیر آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران موصول ہونے والے عوامی ردعمل اور اس پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

    اعلان کردہ تبدیلیوں کے تحت اب موٹر سائیکل، رکشہ اور دیگر تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے کا ٹوکن دیا جائے گا جسے وہ کسی بھی مقدار میں ایندھن خریدنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کم مقدار میں پیٹرول خریدنے والے شہری بھی سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔

    حکومت کے مطابق 800 سی سی تک کی چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ کار برقرار رہے گا، جس کے تحت ہر 10 روز بعد 10 لیٹر پیٹرول کے مساوی ایک ٹوکن دیا جائے گا، یعنی ایک ماہ میں مجموعی طور پر تین ٹوکن فراہم کیے جائیں گے۔

    بیان کے مطابق 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل رقم صارف کو منتقل کی جائے گی اور پیٹرول پمپ کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہیں کر سکیں گے۔

    اجلاس میں رجسٹریشن، ٹوکنز کے استعمال اور پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں کی صورتحال پر روزانہ دو مرتبہ، صبح 11 بجے اور شام 7 بجے، رپورٹ پیش کی جائے تاکہ مسترد ہونے والی ٹرانزیکشنز کی وجوہات فوری طور پر معلوم کر کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

  7. آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر پر حملے کی اطلاعات

    ٹوگو کا پرچم بردار بحری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تنظیم کے مطابق نا معلوم نوعیت کے ایک میزائل کے ٹکرانے کے بعد ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاز سے تیل کے رساؤ کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    اس سے ایک رات قبل بھی تنظیم نے آبنائے ہرمز میں عمان کے شہر خصب کے شمال مشرق میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر اس نوعیت کے ایک اور واقعے کی اطلاع دی تھی۔

    اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ’ٹوگو کے پرچم والے ایک آئل ٹینکر‘ کو نشانہ بنایا ہے جو آبنائے ہرمز سے ’غیر قانونی طور پر‘ گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

  8. ایندھن کی قیمتیں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں: فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا فیصلہ نہیں بلکہ ’جغرافیائی و سیاسی حالات‘ کا نتیجہ ہے۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے، تاہم اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینا ضروری ہے، جو بقول ان کے قلیل مدت میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ ہفتوں میں صنعتی ممالک کے گروپ کے سات ممالک کے وزرائے توانائی فرانس میں جمع ہوں گے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں میکخواں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے لکھا کہ سمندری ناکہ بندی نے فرانسیسی شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات پیٹرول پمپس پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتیں ’ناقابلِ برداشت‘ ہو چکی ہیں۔

    ادھر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز وہاں آمد و رفت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

  9. امریکہ جنگی جرائم کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا: ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی

    کاظم غریب آبادی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع میں مبینہ ’جنگی جرائم‘ پر امریکہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکے گا۔

    ایرانی وزیر کا یہ بیان اقوام متحدہ کے ماہرین کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے ایک سکول اور ایک سپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دینے کے لیے معقول بنیاد قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔

    جمعے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں غریب آبادی نے کہا کہ ’میناب کے ایک سکول اور لامرد کے ایک سپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملے آپریشنل غلطیاں نہیں بلکہ واضح جنگی جرائم‘ تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ انسانی حقوق کونسل سے نکل کر اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔‘

    غریب آبادی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔

    امریکی حکام نے رپورٹ کو ’امریکہ مخالف بیانیے‘ پر مبنی قرار دیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے دستبردار ہو چکی ہے، اور اسی لیے ’ہم اس رپورٹ کے نتائج کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے۔‘

    اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میناب کے ایک پرائمری سکول اور لامرد کے ایک سپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملوں کے بارے میں یہ ماننے کی ’معقول بنیادیں موجود ہیں‘ کہ وہ اندھا دھند حملے تھے، جن میں بچوں سمیت کم از کم 177 شہری ہلاک ہوئے۔

    امریکہ پہلے ہی لامرد حملے کی ذمہ داری سے انکار کر چکا ہے جبکہ اس کا کہنا ہے کہ میناب حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ دونوں حملے 28 فروری کو اس وقت ہوئے تھے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔

  10. کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں، پہلے بتا دیا ہے بعد میں گلہ نہ کریں: محسن نقوی

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA/MOHSIN NAQVI/FACEBOOK

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت وفاقی دارالحکومت میں دھاوا نہیں بولا جا سکتا۔ کسی نے بھی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی نے جو احتجاج کی کال دی ہے تو اس کے حوالے سے تفصیلی اجلاس کیا گیا ہے۔ کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں یہ ہم پہلے بتا رہے ہیں بعد میں گلہ نہ کریں۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کو علاج کی سہولیات دینے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی فورسز کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اس کو ہر ممکن طریقے سے روکیں گے۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جتنی تیاری دھرنے کے لیے کی ہے اتنی اپنے صوبے میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے کریں۔

    محسن نقوی کے مطابق ’ماضی میں بھی ہمارے نقصان بہت ذیادہ ہوتے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے جوانوں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا کہ وہ آپ پر گولی چلائیں اور آپ چپ کر کے بیٹھے رہیں۔ ان پر گولی چلائی گئی تو وہ چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ان کی قیادت ہے ان سے درخواست کروں گا کہ آپ ضرور احتجاج کریں مگر اپنے شہر اور اپنے علاقے پر کریں۔ آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک جانب ہم شہدا کے جنازے اٹھائیں اور دوسری جانب آپ دھرنوں کی تیاری کریں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سیاسی جلسے جلوس اور جتھوں کی یلغار مییں فرق ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی جان گئی تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے جو جتھے جمع کر رہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کے اپنے لوگوں کو بھی شاید اتنی تشویش نہ ہو جتنا بہتر ان کا علاج ہوا ہے۔ باقی یہ فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیتے ہیں۔‘

    اسلام آباد میں کنٹینرز لگانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میں کنٹینر لگانے کے لیے ذاتی طور پر خلاف ہوں لیکن جب سکیورٹی ایجنسیز اپنے خدشات بتاتی ہیں تو پھر ہم کنٹینر لگاتے ہیں۔ اگر وہ احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں اسلام آباد کو سکیور کرنا ہے تاہم کوشش ہے کہ شہریوں کو کم سے کم زحمت ہو۔‘

    یاد رہے پی ٹی آئی نے جن مطالبات کے لیے احتجاج کا اعلان کیا ہے ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر نے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ عمران خان سے ان کے وکلا، ڈاکٹروں، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بحال کرنے اور اُن کے ذاتی معالج اور اہلخانہ کی موجودگی میں علاج کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

  11. آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی ہے۔

    ادارے کے مطابق، ایک نامعلوم شے کے ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد اس میں آگ لگ گئی تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق کارگو کے اخراج کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ رات بھی تنظیم نے عمان کے شہر خصب سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں آبنائے ہرمز میں اسی نوعیت کے ایک واقعے کی رپورٹ جاری کی تھی۔

  12. وائٹ ہاؤس نے میناب اور لامرد پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

    white House

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے ایران کے شہر میناب کے ایک پرائمری سکول اور لامرد کے سپورٹس کمپلیکس پر حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایران پر حملے سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ’موجودہ تنازع میں ایران واحد فریق ہے جس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی ایک نئی آزاد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ امریکہ میناب کے ایک سکول اور لامرد میں ایک سپورٹس کمپلیکس پر حملوں کا ذمہ دار ہے، اور یہ کہ یہ حملے جنگی جرائم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔‘

    اینا کیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ’انسانی حقوق کے لیے کچھ حاصل نہیں کر پائی۔‘

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کیا کہا گیا

    ایران کے شہر میناب میں واقع سکول جو حملے میں تباہ ہوا، عمارت کے باہر ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر آویزاں ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے شہر میناب میں واقع سکول جو حملے میں تباہ ہوا، عمارت کے باہر ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر آویزاں ہیں

    ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن نے جمعرات کو کہا تھا کہ اس کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں ایران میں ایک سکول اور کھیلوں کے ایک مقام پر ہونے والے دو فوجی حملوں کے پیچھے امریکہ تھا، اور یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران سے متعلق حقائق معلوم کرنے والے مشن کی یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون شہری تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنانے سے منع کرتا ہے اور شہری مقامات اور فوجی اہداف میں امتیاز برتنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میناب کے پرائمری سکول کو ہدف بناتے وقت امریکہ اس بات کی تصدیق کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا کہ آیا وہ واقعی ایک فوجی ہدف تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا: ’امریکہ کو اس خطرے کا خاطر خواہ اندازہ تھا کہ ایک سویلین مقام ہدف بن سکتا ہے، اس کے باوجود سکول کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فروری میں ایران کے لڑکیوں کے ایک سکول پر ’جان بوجھ کر‘ حملہ نہیں کیا گیا تھا۔

    ماہرین نے لامرد میں واقع ایک سپورٹس سینٹر پر حملے کے بارے میں بھی اسی نوعیت کا نتیجہ اخذ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک سکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حملہ بھی اندھا دھند تھا اور اس لیے جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے مذکورہ دن لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔

  13. باب المندب کی تشویشناک صورتحال، پاکستان کا امن مذاکرات کا مطالبہ

    دفتر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان نے 17 ستمبر کو باب المندب آبنائے کے گرد صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’غیر معمولی طور پر سنگین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حوثی تنازع کا حل زبردستی کے اقدامات کے بجائے بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’باب المندب کی صورتحال غیر معمولی حد تک سنگین اور تشویش کا باعث ہے، اور ہمیں پورے خطے میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کو اس تنازع سے علاقائی استحکام اور سمندری سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حوثیوں کو بھی اپنی سرگرمیاں بند کرنی چاہییں اور اس سلسلے میں زبردستی کے اقدامات لاحاصل ہیں جبکہ ہماری بات چیت کا بنیادی مقصد مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے امن اور استحکام لانا ہے۔‘

  14. یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کی جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک

    حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحوثی فوج کے میڈیا کے مطابق حوثی سعودی حمایت یافتہ فورسز پر حملہ کر رہے ہیں

    بی بی سی عربی نے خبر دی ہے کہ یمن میں سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعرات کو جنگ بندی کے دوبارہ خاتمے کے بعد پہلی بار ڈرون حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    یاد رہے کہ کئی سال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث جولائی سے یمن میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے حوثیوں کے ایک اچانک حملے کے بعد لڑائی مزید بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ بحر ہند اور بحیرہ احمر کو ملانے والی اہم آبنائے باب المندب تک اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو پھیلانے میں کامیاب ہو گئے۔

    زمین پر لڑائی کے علاوہ، حوثی سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کر رہے ہیں۔

    ان حملوں میں خاص طور پر تیل اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،جبکہ سعودی تیل لے جانے والے تجارتی جہاز بھی نشانے پر ہیں۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان کے علاقوں پر سعودی عرب کی جانب سے عائد ناکہ بندی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز اور لحج میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں اور جھڑپوں میں 23 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  15. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس مرحلے پر ہم آپ کے لیے اب تک اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران ابھی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔
    • ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اسے اختلافات بھڑکانے یا علاقائی کشیدگی میں اضافے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔‘
    • امریکہ نے سعودی عرب کو ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی کل مالیت 24.3 ارب ڈالر ہے۔
    • امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیے ہیں۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
    • سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی مدت میں توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کردی
    • پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ 15 سے 17 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں میں عسکریت پسند گروہ کے 10 ارکان ہلاک مارے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے میں چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
    • اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع طائف ایئر بیس پر جمعرات کی شب ہونے والے حملے میں اٹلی کا ایک یوروفائٹر ایف-2000 جنگی طیارہ متاثر ہوا، تاہم وہاں تعینات تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔
  16. بریکنگ, کوہاٹ میں پولیس لائن کی پرانی عمارت کے قریب دھماکہ، 20 سے زائد افراد زخمی, بلال احمد، بی بی سی اُردو، پشاور

    صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس لائن کی سابقہ عمارت کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان ریسکیو بلال احمد فیضی کے مطابق ریسکیو ایمبولینسز کے ذریعے اب تک 20 سے زائد زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق اس وقت جائے وقوعہ پر 14 ایمبولینسز، ریسکیو ور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

  17. سعودی عرب کے فضائی اڈے پر حملے میں اطالوی جنگی طیارہ بھی ہدف بنا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

    SPA

    ،تصویر کا ذریعہSPA

    اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئڈو کروسیٹو نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں واقع طائف ایئر بیس پر جمعرات کی شب ہونے والے حملے میں اٹلی کا ایک یوروفائٹر ایف-2000 جنگی طیارہ متاثر ہوا، تاہم وہاں تعینات تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔

    اٹلی کی نیشنل ایسوسی ایٹڈ پریس ایجنسی کے مطابق وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ رات بھر چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل لوسیانو پورٹولانو کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہے اور سعودی عرب کی صورتحال، بالخصوص طائف ایئر بیس کی صورتِ حال کا جائزہ لیا، جسے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    اٹلی کے وزیرِ دفاع نے بتایا کہ اس اڈے پر ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ کے تحت اطالوی فوجی اہلکار تعینات ہیں، تاہم حملوں کے باوجود کسی اطالوی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    ان کے مطابق حملے کے وقت ایک اطالوی ایف-2000 جنگی طیارہ اڈے کے نسبتاً غیر مرکزی حصے میں موجود تھا، جو حملے کی زد میں آ گیا۔ تاہم اطالوی اہلکاروں کے زیرِ استعمال دیگر گاڑیوں، سازوسامان یا تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    وزیرِ دفاع نے کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اڈے پر تعینات اطالوی اہلکار محفوظ ہیں۔

    Taif

    ،تصویر کا ذریعہSPA

    یاد رہے کہ جمعرات کو سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع (سول ڈیفنس) نے آگاہ کیا تھا کہ فضا میں تباہ کیے گئے ایک ڈرون کا ملبہ طائف شہر پر گِرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    محکمہ شہری دفاع نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ اس واقعے کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضا میں تباہ کیا گیا ڈرون حوثیوں کی جانب سے داغا گیا تھا۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص یمنی شہری ہے جبکہ زخمی ہونے دو افراد میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک ہے۔

  18. روسی تیل خریدنے پر انڈیا کو بھاری امریکی ٹیرف کا سامنا ہو سکتا ہے: امریکی کانگریس کا نیا قانون

    USA, India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی کانگریس نے روس اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک طاقتور نیا اختیار دے دیا ہے، جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر بھی بھاری محصولات عائد کیے جا سکیں گے۔ اس اقدام سے انڈیا اور چین براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 منظور کر لیا۔ امریکہ میں شدید سیاسی تقسیم کے باوجود اس بل کو غیر معمولی طور پر دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ اس کے حق میں 203 ریپبلکن، 58 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے ووٹ دیا، جبکہ 152 ڈیموکریٹس اور سات ریپبلکن نے مخالفت کی۔

    سینیٹ اس بل کی منظوری پہلے ہی 7 اگست کو 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے دے چکی تھی۔ اب اسے دستخط کے لیے صدر ٹرمپ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

    انڈیا کے لیے اس قانون کی اہم ترین شق یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو روس سے تیل یا گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ چونکہ انڈیا اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے نئی دہلی اور بیجنگ میں اس قانون پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    انڈیا میں خاص طور پر ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کے بیانات موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ بل کی منظوری کے بعد کیپٹل ہل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے چین اور انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ وہ روس کے بجائے کہیں اور سے تیل اور گیس خریدیں، کیونکہ ’کسی کو خوش کرنے کی کوشش کوئی حکمتِ عملی نہیں۔‘

    بلومینتھل کے اس انتباہ پر ردِعمل دیتے ہوئے دی ہندو کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ورگیز کے جارج نے لکھا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ کے عہد کے بعد انڈیا اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ بش اور اوباما دور کی پالیسیوں کی طرف لوٹ جائیں گے، لیکن اب اسی نوعیت کا مؤقف ایک ڈیموکریٹ سیاست دان کی زبان سے بھی سننے کو مل رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینیئر فیلو تنوی مدن نے اس تجزیے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کو مکمل طور پر ماضی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق روس سمیت متعدد معاملات پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، دونوں جماعتوں کے قانون ساز ماضی میں بھی انڈیا سے اختلاف رکھتے رہے ہیں۔

    تنوی مدن کا کہنا تھا کہ فرق صرف یہ تھا کہ سابق امریکی حکومتوں نے ان اختلافات کو ایک وسیع تر حکمتِ عملی کے تحت سنبھالے رکھا۔ یہ حکمتِ عملی دو اہم نکات پر مبنی تھی: چین کے مقابلے میں انڈیا کی اہمیت اور عالمی تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات۔ اسی تناظر میں روسی تیل پر قیمت کی حد مقرر کرنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی تھی۔

  19. وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے لیے 25 ارب روپے جاری، اہل صارفین کو 48 گھنٹوں میں ادائیگی کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے پہلے مہینے کے لیے 25 ارب روپے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو جاری کر دیے ہیں، جبکہ پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کو اہل صارفین کے دعووں کی رقم 48 گھنٹوں کے اندر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول پمپس اور ڈیلرز کی نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں بتایا کہ پروگرام کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ مستحق صارفین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ادائیگیوں اور رقوم کی واپسی کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈیلرز کو یقین دلایا کہ پروگرام کے تحت جمع کرائے گئے دعووں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کی جائے گی۔

    اس موقع پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے بھی پروگرام کے لیے تیار کیے گئے ڈیجیٹل نظام سے متعلق بریفنگ دی۔ پیٹرول پمپس کو درپیش مسائل اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں ڈیلرز 9772 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    اجلاس میں اہل صارفین کی شناخت اور شریک پیٹرول پمپس کے ذریعے ریلیف کی فراہمی کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈیلرز نے پروگرام پر عمل درآمد سے متعلق مختلف سوالات اور خدشات اٹھائے، جن کا حکام نے تفصیلی جواب دیا۔

    پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کی تنظیموں نے پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پروگرام کی شفاف اور مؤثر عملداری کو یقینی بنانے اور ادائیگیوں میں تاخیر سے بچنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن، سٹیٹ بینک، وزارتِ آئی ٹی، متعلقہ اداروں اور ڈیلرز کے درمیان مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔

  20. تہران میں حکومت کے حامیوں کی ریلی، ’ایران کی قربانیوں کی جنگ‘ مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت

    Tehran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تہران میں حکومت کے حامی ’ایران کی قربانیوں کی جنگ‘ کے عنوان سے نکالے گئے مارچ میں شرکت کے لیے سڑکوں پر آ گئے ہیں۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق اس مارچ، جسے ’فوجی پریڈ‘ قرار دیا جا رہا ہے، کا انعقاد پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ محمد رسول اللہ کور کے کمانڈر حسن حسن زادہ نے کہا کہ اس اجتماع کا مرکزی مقام انقلاب سکوائر ہے، جبکہ مقررہ دستوں کو علی الصبح ساڑھے چار بجے تک اپنی پوزیشنوں پر تعینات کر دیا جائے گا۔

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے ’زندگی بچانے کی مہم‘ شروع کی تھی، جس کے تحت شہریوں کو ملک کے دفاع میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کی دعوت دی گئی۔

    ایران نے جنگ کے دوران شہریوں کے لیے خصوصی فوجی تربیتی پروگرام بھی متعارف کرایا، جس کا مقصد عوامی سطح پر دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    تقریب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔