لائیو , امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیا: ’اگر میرا نام بیلٹ پیپر پر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے‘ ٹرمپ

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی جا رہی ہے۔ پارٹی نے شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی پہلی نشست ریپبلکنز سے چھیننے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ کئی اہم ریاستوں میں اس کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔

خلاصہ

  • اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر بی بی سی اردو تک براہِ راست رسائی کے لیے BBC WORLD SERVICE ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے BBC News اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
  • امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: متعدد ریاستوں میں پولنگ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری
  • سینیٹ کی 35 جبکہ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
  • امریکہ کی 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے
  • امریکی سینیٹ میں برتری کا فیصلہ کرنے والی اہم ریاستیں کونسی ہیں؟
  • اس وقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے
  • یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں کا ملبہ ’نام نہاد ریپبلکنز‘ اور فاکس نیوز پر ڈال دیا

    Reuters

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے بعض ریپبلکن رہنماؤں اور فاکس نیوز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے لکھا: ’میں اب ایک سیاسی مبصر بننے جا رہا ہوں اور امیدواروں کی جیت اور شکست کی وجوہات پر رائے دوں گا۔‘

    انھوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گزشتہ چھ ماہ میں ’رائنو‘ (صرف نام کے ریپبلکن) نہ بنے ہوتے تو انتخابات نہ ہارتے۔

    ٹرمپ نے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’ویٹو` لکھا تھا، جو بظاہر اس اختیار کی جانب اشارہ تھا جس کے تحت وہ ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول ہونے والی آئندہ کانگریس کی منظور کردہ قانون سازی کو روک سکتے ہیں۔

    انھوں نے فاکس نیوز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چینل کو اپنی سیاسی نشریات میں ڈیموکریٹ شخصیات کو مسلسل جگہ دینے کی وجہ سے انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

  2. ریپبلکنز کو تاریخی شکست کا سامنا، ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے قریب

    ڈیموکریٹس کے لیے جشن کی رات ریپبلکن پارٹی کی ایک تاریخی انتخابی شکست میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے، ایسی کامیابی جس کا تصور چند ماہ قبل خود ڈیموکریٹک پارٹی کے بہت سے رہنما بھی نہیں کر رہے تھے۔

    اب پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

    یہ پیش رفت ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا میں کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جو صرف دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً آسانی سے جیتی تھیں۔

  3. ’ایک کے بعد ایک غلطی‘: ریپبلکنز نے انتخابی شکست کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈال دی

    Reuters

    انتخابی نتائج واضح ہونے کے ساتھ ریپبلکنز کو اپنی شکست کی سنگینی کا زیادہ شدت سے احساس ہونے لگا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کو ابتدا ہی سے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم بہت سے افراد کو اب بھی امید تھی کہ سینیٹ میں مقابلہ ان کے حق میں جا سکتا ہے۔

    لیکن اب جب انتخابی شکست کا حجم واضح ہو رہا ہے تو متعدد ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ڈال رہے ہیں۔

    ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا: ’اس کی ذمہ داری انھی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی اور پر نہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔‘

    ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں جیتی ہیں جہاں وہ برسوں، اور بعض جگہوں پر دہائیوں سے کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ آئیوا اور اوہائیو جیسی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں پیش رفت کی ہے، جو ٹرمپ کے دور میں ریپبلکنز کی جانب جھک گئی تھیں۔

    ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی کم مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی کے بارے میں ووٹروں کی تشویش کو بار بار کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کو نقصان پہنچایا۔

    مِنیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے کہا: ’یہ ایک کے بعد ایک غلطی تھی۔ واضح طور پر مختلف ریاستوں میں لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔‘

  4. بریکنگ, لوزیانا کی سینیٹ نشست پر کانٹے کا مقابلہ جاری

    سی بی ایس نیوز نے لوزیانا کی سینیٹ نشست کے بارے میں اپنی تازہ درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں اب کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔

    لوزیانا ماضی میں مسلسل ریپبلکنز کے حق میں ووٹ دیتی رہی ہے، اس لیے اس ریاست میں مقابلے کا غیر یقینی صورت اختیار کرنا ڈیموکریٹس کے لیے ایک اور حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

  5. ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل کرنے جا رہے ہیں

    bbc

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹس امریکی سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یوں ریپبلکنز سے اس کا کنٹرول واپس لینے کے قریب ہیں۔

    اس پیش گوئی کے مطابق ڈیموکریٹس اب کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، کیونکہ اس سے قبل سی بی ایس ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی اکثریت کی پیش گوئی کر چکا ہے۔

  6. بریکنگ, کینساس کی سینیٹ نشست اب ڈیموکریٹس کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہے

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز نے کینساس کی سینیٹ نشست کی درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے اسے اب ’ڈیموکریٹس کے حق میں جاتی ہوئی‘ قرار دیا ہے۔

  7. ٹرمپ کا انتخابی نتائج قبول کرنے کا اعلان، مخالف جماعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار

    gettyimages

    ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے بعض حلقوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی کامیابی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر تازہ ردعمل دیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان نتائج کو ’مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں‘ اور مخالف جماعت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہوں گے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا: ’ممکنہ طور پر ہم کسی نہ کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جائیں گے۔‘

  8. بریکنگ, سی بی ایس کے مطابق اوہائیو کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ شیرروڈ براؤن کے نام ہونے کا امکان

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق اوہائیو کی سینیٹ نشست ڈیموکریٹ امیدوار شیرروڈ براؤن کے حصے میں جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  9. ٹیکساس میں ڈیموکریٹس دہائیوں سے ریاست کا سیاسی رخ بدلنے کے خواہش مند تھے

    gettyimages

    ٹیکساس کے ڈیموکریٹس کئی دہائیوں سے اس ریاست کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ہر بار وہ کامیابی کے قریب پہنچتے، لیکن آخری مرحلہ عبور نہ کر پاتے۔

    مسلسل ناکامیوں کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کس حد تک کمزور ہو گئی تھی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ کئی برس تک پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں میں کامیابی کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی۔

    تاہم گذشتہ ہفتے جب میں ٹیکساس میں ڈیموکریٹس سے ملا تو انھیں محسوس ہو رہا تھا کہ اس بار صورتحال مختلف ہے اور جیمز تالاریکو کے پاس کامیابی کا حقیقی موقع موجود ہے۔

    ان کا خیال تھا کہ تالاریکو کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن ان کی نظر میں تنازعات میں گھرا اور کمزور امیدوار تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ٹیکساس کے ووٹروں کے رویوں میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے اور یہی وہ انتخاب ہوگا جس میں وہ آگے بڑھنے میں کامیاب ہوں گے۔

    اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔

    مٹیکساس کے بہت سے ڈیموکریٹس چند گھنٹے پہلے تک بھی کھل کر اس امکان کا اعتراف کرنے کو تیار تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تبدیلی کافی عرصے سے شکل اختیار کر رہی تھی۔

  10. ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آج رات کا پہلا عوامی بیان ملک بھر کے ریپبلکنز کو شاید پسند نہ آئے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا نام آج کے بیلٹ پیپر پر نہیں تھا اور ’اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیتتے۔‘

    ان مختصر الفاظ سے ایسا تاثر ملا کہ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری ریپبلکن امیدواروں پر ڈال دی ہے۔ متعدد ریپبلکن پہلے ہی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔

    ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ یہ بیان پارٹی کے اندر موجود اختلافات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریپبلکنز ایوانِ نمائندگان سے محرومی اور سینیٹ میں بھی ممکنہ شکست کے سیاسی اثرات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

  11. وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی مشکلات پر ٹرمپ کا ردعمل: ’میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا‘

    gettyimages

    وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے:

    ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابتدائی نتائج ریپبلکن پارٹی کے لیے توقعات کے مطابق نہیں دکھائی دے رہے۔

  12. بریکنگ, سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کو ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کی درجہ بندی مزید تبدیل کرتے ہوئے اسے اب ’ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے حق میں‘ قرار دے دیا ہے، جہاں جیمز تالاریکو کو برتری حاصل ہے۔

    اس سے قبل اس اہم مقابلے کو ’ڈیموکریٹس کی معمولی برتری‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، تاہم تازہ اندازے ڈیموکریٹ امیدوار کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

  13. ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکلات کیسے بڑھا سکتی ہے؟

    donald trump

    ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں کتنی بڑی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں، اور یہی آئندہ صورتحال کا ایک اہم پہلو ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انھیں ریپبلکنز کی گزشتہ دو برس کی طرح معمولی اکثریت ملتی ہے یا وہ واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنا سینیٹ کے مقابلے میں نسبتاً آسان سمجھا جا رہا تھا، اس لیے اس نتیجے سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سینیٹ میں بھی لازماً اکثریت حاصل کر لیں گے۔

    تاہم یہ نتائج انتخابی رات کے مجموعی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ڈیموکریٹس کی حمایت میں اضافے کے جو اشارے رائے عامہ کے جائزوں میں مل رہے تھے، ابتدائی نتائج ان سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتے۔

    اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ اور ان کے خاندان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ہونے والی مالی سرگرمیوں سے متعلق مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے جیسے متنازع فیصلوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔

    وہ ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ ان کی توجہ انتظامیہ کے بعض وزرا کی جانب زیادہ ہو۔

    یہ صورتحال آئندہ دو برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے اور منصوبوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

  14. یہ رات ڈیموکریٹس کے لیے تاریخی ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے

    ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے اور سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں۔

    افق پر ڈیموکریٹس کی ایک مضبوط انتخابی لہر ابھرتی نظر آ رہی ہے۔

    اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ لہر ریپبلکنز کے سیاسی گڑھوں تک کس حد تک پہنچتی ہے۔

  15. بریکنگ, امریکہ کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کا ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان

    getty

    سی بی ایس کے مطابق ڈیموکریٹس امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ان کے کم از کم 218 نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جس کے ساتھ وہ ریپبلکنز سے ایوان کا کنٹرول واپس لے لیں گے۔

    ریپبلکنز کے کم از کم 160 نشستیں جیتنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ یہ نتیجہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

  16. جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع کامیابی، ٹرمپ کو سیاسی دھچکا

    Annie Andrews

    جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کی سینیٹ میں کامیابی ڈیموکریٹس کے لیے ایک غیر متوقع فتح ہے، جو اس انتخابی مرحلے میں ریپبلکنز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی ناراضی کو ظاہر کرتی ہے۔

    چند ہفتے قبل تک جنوبی کیرولائنا جیسی مضبوط ریپبلکن ریاست میں ڈیموکریٹ امیدوار کی سینیٹ میں کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا۔ اس ریاست سے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کوئی ڈیموکریٹ امریکی سینیٹر منتخب نہیں ہوا۔

    یہ کامیابی ٹرمپ کے لیے بھی ایک سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اینی اینڈریوز کی حریف، سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت کی تھی، جنھیں اپنے بھائی سینیٹر لنڈسی گراہم کی رواں سال وفات کے بعد ان کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔

    جنوبی کیرولائنا میں یہ کامیابی اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ یہ رات ڈیموکریٹس کے لیے غیر معمولی طور پر کامیاب ثابت ہو سکتی ہے۔

  17. ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان میں مزید پیش رفت، ریپبلکنز سے مزید دو نشستیں چھیننے کا امکان

    ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں 435 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔

    امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں ارکان دو سالہ مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اور یہی وہ ایوان ہے جہاں بیشتر مجوزہ قوانین پہلے پیش اور زیرِ بحث لائے جاتے ہیں، اس سے قبل کہ انھیں سینیٹ میں بھیجا جائے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ریپبلکنز سے مزید دو نشستیں چھیننے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔

    زیک ڈیمبو (کینٹکی) اور ربیکا بینیٹ (نیو جرسی) کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے لیے نشستیں حاصل کر لیں گے۔

  18. مشی گن میں ڈیموکریٹس پُرامید، عبدالصمد السید کی کامیابی کے امکانات روشن

    Abdul El-Sayed

    ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹس کے انتخابی مرکز پر سٹیج سج چکا ہے اور ڈی جے موسیقی بجا رہا ہے، جبکہ پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے۔

    جن ڈیموکریٹس سے بی بی سی کی بات ہوئی ہے، وہ چند روز قبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔

    سیاسی مشیر ایڈریان ہیمونڈ کا کہنا ہے کہ عبدالصمد السید کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں اور ان کے خیال میں پارٹی کے لیے یہ رات اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اعتماد صرف سرویز ہی نہیں بلکہ آج کے ووٹر ٹرن آؤٹ کے رجحانات پر بھی مبنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے حامی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی ووٹنگ کے اعدادوشمار بھی جغرافیائی لحاظ سے ڈیموکریٹس کی برتری ظاہر کرتے ہیں۔

    ان کے بقول ریپبلکنز کے لیے یہ خسارہ پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    تاہم یاد رہے کہ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے اپنی تازہ ترین درجہ بندی میں مشی گن کے مقابلے کو اب بھی کانٹے کا مقابلہ قرار دیا ہے۔

  19. امریکہ کی مغربی ریاستوں میں ووٹنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل

    امریکہ کی مغربی ریاستوں میں بھی پولنگ کا عمل اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا ہے اور گذشتہ چند منٹوں کے دوران آئیڈاہو، مونٹانا، یوٹاہ، واشنگٹن اور نیواڈا میں مزید پولنگ سٹیشن بند ہو گئے ہیں۔

  20. ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ فتح امریکی سیاست میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے

    gettyimages

    جیسا کہ ہم ابھی رپورٹ کر چکے ہیں، بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کو اب ’ڈیموکریٹس کو معمولی برتری‘ قرار دیا ہے۔

    اگرچہ جیمز تالاریکو کئی ماہ سے اس مقابلے میں معمولی مگر مستحکم برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب ان کی جیت کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اگر ڈیموکریٹس ٹیکساس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسے امریکی انتخابی سیاست میں ایک بڑا دھچکا تصور کیا جائے گا، کیونکہ یہ امریکہ کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جہاں ایک سے زیادہ نسلوں کے عرصے سے ڈیموکریٹس ریاست گیر سطح کے اقتدار سے باہر رہے ہیں۔