آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم جنگ کے بجائے مذاکرات سے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: صدر پزشکیان

اپنی حلف برداری کے دو سال مکمل ہونے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا دفاع کیا اور کہا کہ عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ’ہم سب اس معاملے میں ایک ساتھ ہیں۔‘

خلاصہ

  • آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے سات مبینہ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران فوج کے کیپٹن حمزہ اکرم ہلاک ہو گئے۔
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم جنگ کے بجائے بات چیت سے بھی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
  • ایران کے ’رہبر بینکاری نظام‘ کی مدد کا الزام، امریکہ نے کئی نیٹ ورکس پر پابندیاں عائد کر دیں
  • یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا: حوثیوں کا دعویٰ
  • کاغذی معاہدے سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے: دفاعی معاہدے پر ایرانی رکن قومی سلامتی کمیٹی کا ردعمل

لائیو کوریج

  1. ہنگو میں سکیورٹی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کیپٹن اور سات شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں سات مبینہ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سات اگست 2026 کو سکیورٹی فورسز نے ہنگو میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔

    فوج کے بیان کے مطابق ’سکیورٹی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے بعد مبینہ شدت پسند ایک مسجد میں چلے گئے۔‘

    بیان کے مطابق ’بعد میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں سات شدت پسند ہلاک ہوئے۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم بھی ہلاک ہو گئے۔

    فوج کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم ضلع نارووال کے رہائشی تھے اور آپریشن کے دوران اپنے دستے کی قیادت کر رہے تھے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فوج کے مطابق یہ افراد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دیگر مبینہ شدت پسندوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

  2. یمن کے صوبے مارب میں حوثی حملے، کم از کم 10 افراد ہلاک

    یمن کے تیل سے مالا مال صوبے مارب میں حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک یمنی فوجی زرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں کے تازہ حملوں میں سرکاری فورسز کے آٹھ اہلکار ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔

    سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے وزیر صحت کے مطابق مارب شہر میں رہائشی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر گولہ باری کے نتیجے میں دو شہری ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔

    حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صوبہ مارب میں سرکاری فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ حملے اس واقعے کے ایک روز بعد ہوئے ہیں جب مارب میں حوثیوں کے میزائل حملوں میں سرکاری فورسز کے کم از کم 58 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان 2022 میں ہونے والی جنگ بندی گزشتہ ماہ ختم ہو گئی تھی۔

    یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو اپریل 2022 میں جنگ بندی کے بعد کے کسی بھی وقت کے مقابلے میں اب دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

  3. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کمی: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو روز تک اسرائیلی حملوں میں اضافے کے بعد جمعے کو جنوبی لبنان میں فوجی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) نے اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی فوج کی جانب سے داغے گئے 129 میزائل ریکارڈ کیے جو جون کے آخر کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ان کے مطابق زیادہ تر حملے المنصوری کے علاقے میں ہوئے تھے اور یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اس ہفتے ایک واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

    یونیفل نے کہا کہ رات کے وقت مزید فائرنگ ریکارڈ کی گئی، تاہم دن میں کئی گھنٹوں تک کوئی حملہ نہیں دیکھا گیا۔ فرحان حق نے اسے ’فوجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی‘ قرار دیا۔

    یونیفل نے اسرائیل پر لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا۔

  4. امریکہ نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج شیلبِٹ پر بھی پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم شیلبِٹ سمیت کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شیلبِٹ نے ایرانی حکومت سے منسلک اداروں کے لیے کرپٹو کرنسی کی صورت میں لاکھوں ڈالر منتقل کیے۔

    تاہم شیلبِٹ نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنوری 2026 میں اپنی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

    یہ اقدام 31 جولائی کو شائع ہونے والی روئٹرز کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق میں دبئی میں قائم ایکسچینج شیلبِٹ کو ایک ایسے نیٹ ورک کا اہم حصہ قرار دیا گیا تھا جس کے ذریعے مبینہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے چار ارب ڈالر منتقل کیے گئے۔

    روئٹرز کے مطابق شیلبِٹ نے ایران کے مرکزی بینک کے لیے کرپٹو کرنسی منتقل کی۔

    تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کا تعلق ایک بڑے غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورک سے تھا اور اس نے ایسے کرپٹو کوائن استعمال کیے جنھیں اسرائیلی حکومت پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھتی ہے۔

    امریکہ اس سے پہلے دو جون کو ایران کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج نوبی ٹیکس پر بھی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

    دوسری جانب شیلبِٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، غیر قانونی جوا، پابندیوں سے بچنے کی کوششوں یا کسی پابندی زدہ ادارے، فوجی تنظیم یا سرکاری ادارے کی جانب سے کام نہیں کیا۔

    کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے جنوری 2026 میں اپنی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

  5. ’جنگ کے بجائے مذاکرات سے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک خطاب میں واضح کیا ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم جنگ کے بجائے بات چیت سے بھی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنی حلف برداری کے دو سال مکمل ہونے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم بات چیت سے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں تو ہم کیوں لڑیں؟‘

    انھوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم ان کے بقول اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ کا سلسلہ جاری رہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ایران لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کروانے اور بعض پابندیوں میں نرمی کروانے میں کامیاب رہا ہے۔

    اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ایران کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی جسے انھوں نے قبول کر لیا تھا۔

    صدر پزشکیان کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ’ہم سب اس معاملے میں ایک ساتھ ہیں۔

  6. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ذال لیتے ہیں۔

    • پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
    • جمعے کے روز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی صورتحال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بی بی سی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ اور پلندری کے سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ چار حلقوں میں پولنگ اپنے شیڈول کے مطابق 10 اگست کو منعقد ہو گی۔
    • پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا ہے: ’سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے ان کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، جس طرح برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ ساتھ دینے سے بھی انھیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔‘
    • بینکاک کے ڈیبسرین سکول میں پیش آنے والے فائرنگ کے نتیجے میں پانچ اساتذہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ تھائی لینڈ کے وزیرِ صحت کے مطابق مبینہ حملہ آور نے سکول جانے سے پہلے اپنے دادا دادی کو بھی مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی شہریت کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل سپریم کورٹ نے ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد اس حق کو ختم کرنا تھا۔
  7. ایران کے ’رہبر بینکاری نظام‘ کی مدد کا الزام، امریکہ کا کئی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا اعلان

    امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے کئی ممالک میں سرگرم ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے جن پر ایران کے مبینہ ’رہبر بینکاری نظام‘ کے ذریعے کروڑوں ڈالر منتقل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی اس کارروائی کا مقصد ایران کی مالیاتی اور تیل کے شعبے سے منسلک نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کا شیڈو بینکنگ سسٹم شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کے پاس رقوم کی منتقلی کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے شہر بینک اور اس سے منسلک ادارے بیرونِ ملک تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک سے قومی ایرانی آئل کمپنی، نفتیران انٹرٹریڈ، ٹرائلیئنس پیٹروکیمیکل اور دیگر ایرانی ادارے مستفید ہوتے رہے ہیں۔

    امریکہ نے دبئی میں قائم ٹائٹن ایکسچینج اور ایلپس انٹرنیشنل سمیت متعدد کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ ادارے ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے لیے رقوم کی منتقلی اور لین دین میں مدد فراہم کرتے تھے۔

    بیان کے مطابق ہانگ کانگ، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ کئی کمپنیوں اور متعدد ایرانی شہریوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک عراقی شہری، بشیر عبدالقاظم علوان الشبانی، پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔

    پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور اداروں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ مالی لین دین سے روک دیا جائے گا۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے بھی ثانوی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔

  8. ایران نے دنیا کی سب سے مہنگی فوج کے مقابلے میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی ’طاقتور فوج نے دنیا کی سب سے مہنگی فوجی طاقت کے مقابلے میں اپنی تیاری، صلاحیت اور قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’جب مسلمان متحد ہو جائیں تو وہ بیرونی عناصر کی جانب سے پیدا کیے گئے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف اپنی قوت پر بھروسہ کریں اور حقیقی بھائی چارے کو فروغ دیں۔‘

  9. یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا: حوثیوں کا دعویٰ

    یمن کے حوثیوں نے جمعے کے روز صوبہ مأرب میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ علاقہ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک یمنی فوجی ذریعے نے بھی اس صوبے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

    حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں اس فوجی اڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ’اپنی حمایت یافتہ فورسز کو متحرک اور مشتعل کرتا رہا، جس کے نتیجے میں صحن الجن کے فوجی اڈے پر موجود اہلکاروں، اسلحہ خانے، گاڑیوں اور فوجی ساز و سامان کو متعدد میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    حالیہ دنوں میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی یمن کے شمالی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں اور وہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف برسوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

  10. عراق کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے: وزیر اعظم علی الزیدی

    عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق علی الزیدی نے یہ بات سعودی عرب کے محکمۂ انٹیلی جنس کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان سے کہی، جنھوں نے جمعے کو ایک وفد کے ہمراہ بغداد میں ان سے ملاقات کی۔

    دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم الزیدی نے کہا کہ عراقی حکومت سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں مدد ملے۔

    انھوں نے بغداد کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ عراق اپنی خود مختاری کا تحفظ کرے گا اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل ایک سینیئر سعودی عہدے دار نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو شمال میں عراقی مسلح گروہوں اور جنوب میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے مربوط حملوں کا خدشہ ہے۔

  11. سعودی عرب کے علاقے نجران پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہیں: قطر

    قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ریاست قطر سعودی عرب کے علاقے نجران پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ان حملوں میں ’متعدد شہری زخمی ہوئے۔‘

    قطر نے ان حملوں کو خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک کشیدگی ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

    بیان میں سعودی عرب کی جانب سے اپنی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

  12. پاکستانی وزیر اعظم، سعودی ولی عہد اور ترک صدر نے مکہ میں نمازِ جمعہ ادا کی: تصاویر

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے مکہ میں نمازِ جمعہ ادا کی۔

    اس موقع پر پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، اعلی سعودی و ترک حکام بھی موجود تھے۔

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے سربراہان نے آج ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

  13. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں: ترک صدر

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ ’ کسی ملک کے خلاف نہیں۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’خطے کے امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔‘

    رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ ترکی ’تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے احترام، مکالمے اور سفارت کاری پر مبنی اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے گا۔‘

    ترک صدر کے مطابق یہ معاہدہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کی ترقی اور شدت پسندی کے خلاف جدوجہد میں معاون ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

  14. حوثیوں کے حملے میں یمنی حکومت کی فورسز کے تین اہلکار ہلاک

    یمن کے ایک فوجی عہدے دار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ جمعے کے روز صوبہ مأرب میں حوثیوں کے ڈرون حملے کے نتیجے میں یمنی حکومت کی فورسز کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    اے ایف پی کے مطابق حوثیوں نے اس صوبے میں گولہ بارود کے ایک گودام پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل ایک فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 58 سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ یہ حملے گذشتہ چار برسوں کے دوران یمن کی خانہ جنگی کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک سمجھے جا رہے ہیں۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع سے متاثر ہو رہا ہے، اور حوثیوں نے یمنی حکومتی فورسز کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

  15. کراچی ایدھی ہوم میں ڈکیتی، 65 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے: سعد ایدھی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے عہدے دار سعد ایدھی نے پولیس کو درخواست جمع کرائی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی ہوم میں ڈکیتی کی واردارت ہوئی ہے، جس میں 65 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے ہیں۔

    سعد ایدھی کے مطابق لوٹی گئی رقم 200 ملازمین کی تنخواہ تھی۔ انھوں نے بتایا کہ رقم کے ایدھی فاؤنڈیشن فاؤنڈیشن پہنچنے کے کچھ ہی دیر میں تقسیم کا مرحلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ رقم پہنچتے ہی سہ پہر تین، ساڑھے تین بجے کے قریب دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد آئے اور 65 لاکھ روپے لوٹ کر لے گئے۔

    سعد ایدھی نے شبہ ظاہر کیا کہ ’ڈاکو ساری صورتحال سے واقف تھے، اس لیے رقم پہنچتے ہی آ گئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ واردات میں کوئی موجودہ یا سابق ملازم ملوث ہو سکتا ہے کیوں کہ ’ڈاکو سیدھا اسی دفتر میں پہنچے جہاں رقم موجود ہوتی ہے۔‘

  16. کاغذی معاہدے سعودی عرب کی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے: دفاعی معاہدے پر ایرانی رکن قومی سلامتی کمیٹی کا ردعمل

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا ہے: ’سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے ان کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، جس طرح برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ ساتھ دینے سے بھی انہیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے مزید لکھا کہ ’اپنی پالیسیوں کی اصلاح کریں تاکہ دوسروں سے سلامتی کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘

    واضح رہے کہ آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

  17. پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط: تصویری جھلکیاں

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

    جمعہ کی دوپہر مکہ میں مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

    معاہدے میں طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

    اس حوالے سے مزید تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  18. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تیسرے مرحلے کے انتخابات، سات حلقوں میں ووٹنگ ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے بی بی سی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ اور پلندری کے سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ چار حلقوں میں پولنگ اپنے شیڈول کے مطابق 10 اگست کو منعقد ہو گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ملتوی کیے جانے والے حلقوں سے متعلق حتمی فیصلہ مختلف درخواستوں اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

    واضح رہے کہ ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کے ایک حلقے میں انتخابی مقابلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک موجودہ وزیراعظم اور دو سابق وزرائے اعظم میدان میں ہیں۔

    دوسری جانب جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو مختلف علاقوں کی مجموعی صورتحال سے متعلق متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں انتخابات کے التوا کی استدعا کی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق موصول ہونے والی درخواستوں اور متعلقہ اداروں سے حاصل کی گئی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد بعض حلقوں میں انتخابی عمل ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ دیگر حلقوں میں پولنگ شیڈول کے مطابق 10 اگست کو کرائی جائے گی۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے آئینی و قانونی ذمہ داریوں کے مطابق اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام فیصلے عوامی مفاد اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے ووٹرز، امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی اور انتخابی عمل میں تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔

  19. شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کی مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط آج متوقع ہیں۔

    مکہ کے قصر الصفا آمد پر محمد بن سلمان نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

  20. ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو ’مکہ معاہدہ‘ کا نام دیا جائے گا: ترکی کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین آج متوقع دفاعی معاہدے کو ’مکہ معاہدے‘ کا نام دیا جائے گا۔

    خطے میں موجود ذرائع نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان آج (جمعہ کو) دفاعی تعاون کے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    ایک ترک عہدیدار نے اس معاہدے پر دستخطی تقریب کی تصدیق کی ہے۔

    ترکی نیٹو (NATO) کا رکن ہے، سعودی عرب جو امریکہ کا ایک اور اتحادی ہے، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے اور پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق ترک صدر اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، ملک کے آرمی چیف عاصم منیر کے ہمراہ اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔