چین کی اقتصادی ترقی اپریل سے جون کے دوران نمایاں طور پر سست پڑ گئی۔ اس کی وجہ ملک کے اندر کمزور طلب اور ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مضبوط برآمدات پر بھی حاوی رہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی مجموعی قومی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 4.3 فیصد بڑھی، جو بیجنگ کے سالانہ ہدف سے کم ہے۔ اس سے قبل پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد رہی تھی۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل جاری ہونے والے سرکاری ڈیٹا میں بتایا گیا تھا کہ جون میں چین کی برآمدات گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 27 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
مارچ میں چین نے اپنی اقتصادی ترقی کا ہدف کم کرتے ہوئے 4.5 سے پانچ فیصد کے درمیان مقرر کیا تھا، جو 1991 کے بعد ملک کا سب سے کم ترقیاتی ہدف ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ میں زیادہ لچک حاصل ہوئی ہے۔
28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر مشتمل پہلی مکمل سہ ماہی ہے۔ واضح رہے کہ سنہ 2022 کے اختتام کے بعد، جب چین سخت کووِڈ پابندیوں سے باہر آ رہا تھا، یہ اقتصادی توسیع کی سب سے کم رفتار بھی ہے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور بیرونی عوامل میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق ملکی معیشت میں پیداوار اور طلب کے درمیان عدم توازن بھی برقرار ہے، جہاں رسد مضبوط ہے لیکن طلب نسبتاً کمزور ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے دیگر اعداد و شمار نے بھی چین کو درپیش اندرونی اقتصادی مشکلات کی نشاندہی کی، جن میں جائیداد کی منڈی کا طویل بحران اور صارفین کے کمزور اخراجات شامل ہیں۔
جون میں نئے گھروں کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی، اگرچہ 0.1 فیصد کی یہ کمی مئی کے مقابلے میں قدرے کم تھی۔ دوسری جانب ’ریٹیل سیلز‘ میں بہتری دیکھی گئی اور جون میں یہ ایک فیصد بڑھی، جبکہ مئی میں اس میں 0.6 فیصد کمی آئی تھی۔
سرمایہ کاری پلیٹ فارم آئی جی سے وابستہ مارکیٹ تجزیہ کار فابیئن ییپ کے مطابق چینی کاروباری ادارے توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت خود برداشت کر رہے ہیں کیونکہ صارفین کی طلب اتنی مضبوط نہیں کہ ان اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکے۔
ان کے مطابق ایران جنگ جتنی طویل ہوگی، چین کے لیے اس صورتحال کا انتظام کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔
منگل کو جاری ہونے والے کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیٹا سینٹرز کے لیے سیمی کنڈکٹرز کی عالمی طلب میں اضافے نے چین کی ٹیکنالوجی برآمدات کو نمایاں سہارا دیا۔
اس کے علاوہ چینی الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ نے بھی برآمدات میں اہم کردار ادا کیا۔ جون میں پہلی بار چین کی ماہانہ گاڑیوں کی برآمدات 10 لاکھ سے تجاوز کر گئیں۔