لائیو, امریکی حملے میں چابہار ’نیول واچ ٹاور تباہ‘، جوابی کارروائیاں طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی: پاسداران انقلاب
ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے امریکی حملے میں چابہار میری ٹائم واچ ٹاور کے تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اُدھر پاسداران انقلاب نے عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’جوابی کارروائیاں بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی‘۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ 'ایران اب بھی امریکی صدر کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔'
لائیو کوریج
جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی: ایرانی وزارت صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ جولائی میں امریکی حملوں میں 38 افراد ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی وزارتِ صحت کے حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 16 جولائی کو صبح ساڑھے چھ بجے تک امریکی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اس دوران 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نو بچے شامل ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک 18 برس سے کم عمر نوجوان شامل ہے۔
حکام کے مطابق 47 افراد اب بھی ایران کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
پاسداران انقلاب کا عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کرنے دعویٰ:’جوابی کارروائیاں بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی‘
پاسداران انقلاب نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے عمان میں دو امریکی ریڈار مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج علی الصبح صلالہ میں بحری کنٹرول ریڈار اور عمان کے علاقے غنم میں واقع امریکی فضائی کنٹرول ریڈار کو تباہ کر دیا ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ ایران کی (دشمن کے خلاف) جوابی کارروائیاں طاقت کے ساتھ جاری رہیں گی اور آبنائے ہرمز پاسداران انقلاب نیوی کے کنٹرول میں رہے گا۔‘
امریکی حملے میں چابہار نیول واچ ٹاور تباہ: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہIRNA
،تصویر کا کیپشنچابہار میری ٹائم واچ ٹاور
ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا نے امریکی حملے میں چابہار میری ٹائم واچ ٹاور کے تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ارنا کے مطابق بندرگاہ پر نصب آلات اور آپریشنل انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ اس کی وجہ سے ’ٹاور مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق اس حملے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ اس ٹاور کی تباہی کے بعد تکنیکی اور آپریشنل ٹیمیں بندرگاہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
وائٹ ہاؤس اہلکار پر ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگا کر تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمانے کا الزام, فرانسسکو ویلاسکیز، بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کے ایک ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے خلاف اس الزام پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ انھوں نے اندرونی معلومات کو اپنے استعمال میں لا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقاریر پر شرطیں لگائیں اور اس سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر کمائے۔
گیبریل پیریز 2016 سے وائٹ ہاؤس میں کام کر رہے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر کی بڑی عوامی تقاریر بشمول سٹیٹ آف دی یونین کے خطاب میں استعمال ہونے والے الفاظ پر شرطیں لگائیں۔
یہ لین دین کالشی (Kalshi) نامی ایک ایسے مارکیٹس پلیٹ فارم پر کیا گیا جہاں صارفین حقیقی دنیا کے واقعات پر شرط لگا سکتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ٹیلی پرومپٹر آپریٹر کے بارے میں آگاہی تھی اور یہ ملازم فی الحال بغیر تنخواہ کی رخصت پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پیریز اب وائٹ ہاؤس میں کام نہیں کریں گے۔
کالشی نامی کمپنی نے تصدیق کی کہ اس نے اس سرگرمی کی اطلاع کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کو دی جو اس پلیٹ فارم کو ریگولیٹ کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کالشی نے پیریز کا اکاؤنٹ کسی بھی منافع کی رقم نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا تھا۔
اس پلیٹ فارم نے بی بی سی کو بتایا کہ مارچ میں اس کے تجزیہ کاروں نے ’مینشن مارکیٹس‘ میں غیر معمولی شرطیں لگتی دیکھیں۔
یہ ایسے معاہدے ہوتے ہیں جن میں صارفین پیش گوئی کرتے ہیں کہ آیا کوئی مقرر عام طور پر استعمال ہونے والی اصطلاحات، مثلاً مخصوص ممالک کے نام، معاشی الفاظ یا انتخابی نعروں کا ذکر کرے گا یا نہیں۔
کالشی کا کہنا ہے کہ ’صدور اور فیڈرل ریزرو کے سربراہان جیسے سیاسی رہنماؤں کے الفاظ فارن ایکسچینج مارکیٹس، تیل کے فیوچرز اور سٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی نقل و حرکت کا سبب بنتے ہیں۔‘
کمپنی نے جب اکاؤنٹ کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے معلومات لیں تو ان کے علم میں آیا کہ یہ صارف ایک وفاقی ملازم تھا جو وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرومپٹر چلاتا تھا۔
ایکسچینج نے 90 ہزار ڈالر سے زیادہ کی رقم کو نکالے جانے سے پہلے ہی منجمد کر دیا۔
کالشی سے وابستہ رابرٹ ڈینالٹ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اس لین دین کی نشاندہی کی تھی اور شواہد ریگولیٹرز کے حوالے کر دیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ٹی وی خطاب میں چین پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا اور امریکی ووٹنگ نظام میں ’حیران کن کمزوریوں‘ کا دعویٰ کیا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر ووٹر دھاندلی اور 2020 کے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے ایسے دعوے دہرائے جن کے حق میں اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان انتخابات میں وہ جو بائیڈن سے شکست کھا گئے تھے۔
وسط مدتی انتخابات سے تین ماہ قبل کیے گئے اس آدھے گھنٹے کے خطاب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے انٹیلی جنس کی سینکڑوں خفیہ فائلیں عوام کے لیے جاری کر دی ہیں، جو ان کے بقول اس دعوے کی تائید کرتی ہیں کہ بیجنگ نے بائیڈن کے حق میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ چین نے 2020 کے انتخابات میں مداخلت نہیں کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران اپنی اعلیٰ ٹیم کے کئی ارکان کو اپنے ساتھ رکھا، تاہم صحافیوں کو صدر سے سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنی تقریر میں انہوں نے چین پر 22 کروڑ ووٹر فائلوں، جن میں ذاتی معلومات بھی شامل تھیں، کے ’غیر قانونی حصول‘ کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ 18 ریاستوں میں ووٹروں کا ڈیٹا ’چین نے خریدا، چوری کیا یا ہیک کیا‘ اور ان افراد پر تنقید کی جو ان کے بقول اس معاملے سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے اس دریافت سے حکومتی حکام یا کانگریس کو مطلع نہیں کیا۔
ٹرمپ نے اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ چین نے مبینہ طور پر حاصل کی گئی معلومات کو ووٹنگ نظام میں تبدیلی یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا تھا۔
ان کی تقریر کے جواب میں واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا کہ بیجنگ نے ’نہ کبھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ کبھی کرے گا‘۔
بی بی سی نے بھی اس معاملے پر چینی وزارت خارجہ سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی ساکھ اور سلامتی پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے ذریعے ان کی باقی مدتِ صدارت کے دوران کانگریس کا کنٹرول طے ہوگا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے سرکردہ رہنما چک شومر نے تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا: ’یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ امریکہ میں ووٹر اپنے رہنما منتخب کرتے ہیں، اس کا الٹ نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ڈیموکریٹس بھرپور جدوجہد کریں گے تاکہ ہر امریکی ووٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی رکاوٹ یا مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا ووٹ ڈال سکے۔‘
صدر کے ریمارکس امریکی انٹیلی جنس اداروں کے پہلے سے موجود جائزوں کے برعکس ہیں۔ 2021 میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ادارے کو ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ چین نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا: ’ہماری تشخیص یہ ہے کہ چین نے انتخابات میں مداخلت کی کوئی کارروائی نہیں کی اور اگرچہ اس نے اثر و رسوخ استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا، لیکن ایسے اقدامات نہیں کیے جن کا مقصد امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنا ہو۔‘
رپورٹ کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ یہ تھی کہ چین ’کسی بھی انتخابی نتیجے کو اپنے لیے اتنا فائدہ مند نہیں سمجھتا تھا کہ پکڑے جانے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا خطرہ مول لیتا۔‘
ٹرمپ نے یہ خطاب ایک نئے واشنگٹن پوسٹ-ایپسوس سروے کے بعد کیا، جس سے ظاہر ہوا کہ ان کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ بہت سے ووٹر مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔
پاسداران انقلاب کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ
ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں دعویٰ گیا ہے کہ انھوں نے شام کے علاقے تنف میں امریکی افواج کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں، پاسدارانِ انقلاب کی فضائی افواج نے ایران شہر میں فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں ’شام کے تنف علاقے میں امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا، جس میں ایک ریڈار سسٹم، کئی خصوصی ہیلی کاپٹروں اور متعدد امریکی افواج کو نشانہ بنایا۔‘
پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایرانی فورسز کے ہاتھ میں ہے اور جب تک لڑائی جاری رہے گی اس راستے سے تیل اور گیس کی برآمدات معطل رہیں گی۔
500 سے زائد روہنگیا باشندوں کے سمندر میں لاپتہ ہونے کا خدشہ, جوناتھن ہیڈ، جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
29 جون کو میانمار کی ریاست رخائن سے تقریباً 530 روہنگیا پناہ گزینوں کو لے جانے والی دو کشتیاں روانہ ہوئیں جن کے بارے میں اس کے بعد کوئی خبر نہیں ملی۔
خدشہ ہے کہ دونوں کشتیاں الٹ گئی ہوں۔ مون سون کا موسم شروع ہو چکا ہے، سمندر میں طوفانی لہریں ہیں، اور یہ کشتیاں، جو عموماً پرانی ماہی گیری کی کشتیوں کو تبدیل کر کے بنائی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سوار کیا جا سکے، بمشکل سمندر کے قابل ہوتی ہیں اور ان کے انجن بھی غیر قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔
یہ بھی بہت ممکن ہے کہ بہت کم لوگ، یا شاید کوئی بھی زندہ نہ بچا ہو۔ ان مسافروں میں تقریباً نصف خواتین اور بچے ہو سکتے تھے۔
رخائن کئی برسوں سے جنگ کی حالت میں ہے۔ باغیوں نے میانمار کی فوج کو زیادہ تر علاقوں سے باہر نکال دیا ہے اور ریاستی دارالحکومت سٹوے میں فوج کے آخری مضبوط ٹھکانے کا محاصرہ کر رکھا ہے، جہاں اب صرف فضائی یا سمندری راستے سے پہنچا جا سکتا ہے۔ فوج نے تقریباً تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے ہیں۔
روہنگیا کے حالات بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم اراکان پروجیکٹ کی سربراہ کرس لیوا یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان دونوں کشتیوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔
مختلف ذرائع اور معلومات کو ملا کر انھیں یقین ہے کہ دونوں کشتیاں واقعی 29 جون کو روانہ ہوئی تھیں، ایک صبح کے وقت اور دوسری دن میں بعد میں۔
ان کے مطابق یہ کشتیاں میانمار کے جنوبی ساحل کی طرف جا رہی تھیں، جہاں مسافروں کو اتارا جانا تھا۔ وہاں سے انھیں سڑک کے ذریعے، جنگلوں میں قائم عارضی اور غیر منظم کیمپوں سے گزارتے ہوئے، تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا کی سرحد تک لے جایا جانا تھا۔
عام طور پر ان کے خاندان ایک ہفتے یا دس دن کے اندر ان کی خیریت کی خبر کی توقع کرتے ہیں۔ لیکن تقریباً تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
بنگلہ دیشی حکام کو ایک خاتون کی لاش ملی ہے جو سمندر سے بہہ کر ساحل تک پہنچی تھی۔ ادھر ایراوادی ڈیلٹا اور مون ریاست کے ساحل کے درمیان سمندر میں ماہی گیری کرنے والوں کو نو دن بعد مزید کئی لاشیں بھی ملیں۔
کرس لیوا کا خیال ہے کہ یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں کشتیاں الٹ گئی تھیں۔ ایک سن ٹیٹ ماؤ سے روانگی کے چند گھنٹوں بعد، جبکہ دوسری جنوب مشرق کی سمت کئی دن سفر کرنے کے بعد۔
بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں قائم گنجان آباد کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا رہتے ہیں، جہاں امداد کم ہوتی جا رہی ہے، روزگار کے مواقع تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، اور منظم جرائم پیشہ گروہ آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔ انھیں کیمپوں سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
ایران کے خلاف حملوں کی تازہ لہر مکمل ہو گئی: سینٹکام
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کے تازہ حملوں کی لہر مکمل ہو گئی ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی تازہ بڑی کارروائی مکمل کر لی ہے۔
امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں نے درجنوں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فوجی رسد کا نظام اور بحری صلاحیتیں شامل تھیں۔
قطر پر ایرانی حملوں میں چھرے سے بچہ زخمی، مسلح افواج فضائی حملوں کو روک رہی ہیں: قطری حکام
قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ملک پر ایران کے حملے کے بعد ایک بچہ ملبے کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا ہے۔
وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ موصول ہونے والی اطلاعات اور موقع پر کی گئی تحقیقات کے مطابق ایک بچہ انٹرسیپشن آپریشن کے دوران گرنے والے ملبے سے زخمی ہوا، جسے ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اس وقت کئی فضائی حملوں کو روک رہی ہیں۔
بغداد میں امریکی سفارت خانے کا عراق میں اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ
بغداد میں امریکی سفارت خانے نے اربیل پر بدھ کو ہونے والے ڈرون حملے کے بعد عراق میں موجود امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی، اغوا، مسلح تصادم اور بدامنی کے خطرات کے باعث امریکی شہری عراق کا سفر نہ کریں۔
سفارت خانے کے مطابق عراق کے ہنگامی حالات میں امریکی شہریوں کی مدد کرنے کی امریکی حکومت کی صلاحیت بھی محدود ہے۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے گریز کریں اور کسی حملے کی صورت میں ملبے یا ملبہ گرنے والی جگہوں کے قریب نہ جائیں۔
کویت کا ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
کویت کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی افواج ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ’ملک بھر میں سنی جانے والی بلند آوازیں انٹرسیپشن آپریشن کے نتیجے میں سنائی دی گئی ہیں۔‘
کویت نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی نشاندہی کر لی ہے، جبکہ تباہ کیے گئے میزائلوں کے ملبے سے کچھ نقصان بھی پہنچا ہے تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے
ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد بحرین میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔‘
قبل ازیں تسنیم خبر رساں ادارے نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی فوج نے بحرین کے صخر ایئر بیس پر امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی فوج نے اپنے بیان میں بحرین میں امریکی اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شہری انفرا سٹرکچر اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے‘ والی دشمن کی جارحیت کے جواب میں بحرین کے سخیر ایئربیس پر موجود امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
اس سے چند گھنٹے قبل بحرین نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں انتباہی سائرن بجائے گئے ہیں اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
امریکہ کے ایران میں رات بھر مختلف اہداف پر حملے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران میں رات بھر مختلف علاقوں میں امریکہ کی جانب سے کئی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ایران میں ہرمزگان کے گورنر کے دفتر نے اعلان کیا کہ صوبے میں آج رات کے امریکی حملوں میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
النا نیوز ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’بندر عباس سے خمیر تک کی سڑک کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، اور کیشر سے کوہورستان جانے والی سڑک کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔‘
فارس نیوز ایجنسی نے ہرمزگان گورنر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’بندر عباس ریلوے جنکشن سٹیشن پر بھی رات گئے حملہ کیا گیا۔‘
سرکاری ادارے کا کہنا تھا کہ ’ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورت حال پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
مہر خبررساں ایجنسی نے بوشہر میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ دھماکے بوشہر شہر کے اندر ہوئے۔
ادھر لرستان کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ امریکہ نے صوبے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ سرکاری اہلکار کے مطابق، ’چیگنی کاؤنٹی کے وزیان ضلع کے ایک مقام پر حملہ کیا گیا ہے۔‘
ابھی تک حملوں کے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (IRC) کے ایک رپورٹر نے ایران شہر سے اطلاع دی کہ شہر کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک شخص زخمی ہوا۔
فارس نیوز کے مطابق، ’اس حملے کے بعد ایران شہر ہوائی اڈے کی بجلی کی تنصیبات اور ایندھن کے ٹینکوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘
بوشہر کے نائب سیاسی اور سیکورٹی گورنر احسان جہانیاں نے کہا کہ صوبے پر حملوں کے نئے دور میں، ’آج صبح دشتی کاؤنٹی کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔‘
انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ’متعدد میزائلوں‘ نے ’بوشہر ایئر بیس اور نیول بیس‘ کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں نے ’بندر لنگہ کے قریب‘ کو نشانہ بنایا۔
مہر خبررساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ بندر خمیر میں پلوں پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ حملے میں نو افراد زخمی بھی ہوئے اور زخمیوں کو اس وقت ریسکیو فورسز اور طبی عملے سے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حکام نے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
سینٹکام کا ایران پر نئے حملوں کا اعلان
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM/X
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں سینٹرل کمانڈ نے لکھا کہ ’امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔‘
اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعے کے روز خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل ہم گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں تاکہ ابھی ہمیں پڑھنے والے آگاہ رہ سکیں۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام نے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سرکاری حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے یہ حملہ جمعرات کو ضلع مستونگ میں کوئٹہ، کراچی ہائی وے پر کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایکس پر ایک پیغام میں سینٹرل کمانڈ نے لکھا کہ ’امریکی افواج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے آمادہ رہتے ہیں اور اسی لیے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے اختتام پر ’ہم سفارتی مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔‘
کویت اور بحرین کی افواج کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دونوں ممالک ایک بار پھر ایرانی فضائی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے تنازع پر ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران میں کشیدگی بڑھنے سے ثالثی کا عمل چیلنجز کا شکار ضرور ہے لیکن پاکستان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر انڈیا نے بحری جہازوں کے مالکان اور جہاز ران بھرتی کرنے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ اطلاع تک انڈین جہاز رانوں کو ان بحری جہازوں پر تعینات نہ کریں جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آپ سب کو خوش آمدید!
اس صفحے پر آپ کو مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبریں، تبصرے اور تجزیے پڑھنے کے لیے ملیں گے۔