سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان، پاکستان اور ترکی سمیت 14 ممالک حمایت کرنے والوں میں شامل

سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی، جس میں مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    31 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے معاونتی نیٹ ورک پر امریکی پابندیاں

    ماہان ایئر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزارتِ خزانہ نے جمعرات کے روز چھ افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں جن کا تعلق فضائی کمپنی ’ماہان ایئر‘ سے ہے۔ واشنگٹن اس ایئرلائن پر پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے۔

    نئی پابندیوں کا نشانہ ایک چینی شہری کے علاوہ چین، روس، ایران اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم کمپنیاں بھی بنی ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا: ’جو افراد پاسدارانِ انقلاب یا ماہان ایئر کو مالی، لاجسٹک یا تجارتی خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ ایک شدت پسند تنظیم کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ ایسے افراد کی نشان دہی اور انھیں بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی ختم کرنے کا عمل جاری رکھے گی۔‘

    ماہان ایئر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سویلین فضائی کمپنی کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی پروازیں چلاتی ہے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنی پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو سفری خدمات فراہم کرتی ہے اور ان کے لیے اسلحے کی منتقلی میں کردار ادا کرتی ہے۔

    تہران مسلسل ماہان ایئر اور سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرتے رہے ہیں۔

  3. ریفائنریوں پر حملوں کے بعد سردیوں میں گیس کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے: ایران

    ایران گیس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی صدر کے ایگزیکٹو معاون محمد جعفر قائم پناہ نے کہا ہے کہ ملک کو توانائی کے عدم توازن کا سامنا ہے اور اس عدم توازن کا انتظام کرنا ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملک کی گیس ریفائنریوں پر حملوں کے بعد یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ سردیوں میں ’روزانہ تقریباً 100 ملین مکعب میٹر گیس کی کمی کا سامنا ہو گا۔‘

    قائم پناہ نے یہ بھی کہا کہ ملک کے تمام صوبوں کے لیے پانی، گیس، بجلی اور توانائی کے دیگر ذرائع کے استعمال کا واضح طریقۂ کار طے کیا جائے گا تاکہ ہر صوبے کے حالات کے مطابق کوٹے ماہانہ بنیاد پر یا طے شدہ طریقۂ کار کے تحت جاری کیے جا سکیں۔

  4. سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق جمعرات کو سعودی عرب نے ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ ہے۔

    یہ اقدام یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک میں خلل پیدا کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی، جس میں مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اس کا مرکزی دفتر بھی سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنانے، جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی راہداریوں کو محفوظ بنانے اور باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔

    سعودی عرب کی وزارت وزارت کے مطابق ترکی، پاکستان، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مجوزہ اتحاد کی حمایت کی ہے۔ خلیج کے چھ عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس بیان کی حمایت کی۔

  5. مصر میں ڈرون حملے کے بعد صدر عبدالفتاح السیسی کی ہسپانوی وزیرِ اعظم سے گفتگو

    مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ملک کی دمیاط بندرگاہ پر ڈرون حملے کے بعد علاقائی کشیدگی میں ’اضافے‘ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر السیسی نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے مصر، سپین، یورپ اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

    مصری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دمیاط بندرگاہ پر گذشتہ روز لگنے والی آگ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں بھڑکی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد مصر پر یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔

    مصری حکام کے مطابق، بدھ کے روز لگنے والی آگ کے نتیجے میں گیس لے جانے والے دو بحری جہازوں کو نقصان پہنچا۔

  6. کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں حادثے کے بعد 18 لاشیں نکال لی گئیں: مینیجر آپریشنز پی ڈی ایم اے, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ایک حادثے کے باعث پھنس جانے والے کانکنوں میں سے 18 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے (پروونشیئل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی) کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے 18 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کا مشترکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    حکام اور مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کان میں حادثہ ایک زوردار دھماکے کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث اس میں 24 سے زائد کانکن پھنس گئے۔

    مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر مائنز میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    ’کان میں پیش آنے والا واقعہ بہت زیادہ شدید تھا‘

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ ضلع کوئٹہ کے علاقے سورینج کی ایک کوئلہ کان میں پیش آیا۔ پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق اطلاع ملتے ہی اس کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئیں، جن میں چار ایمبولینسز بھی شامل تھیں۔

    مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ نے فون پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہمیں ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ کان میں میتھین گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔

    نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی عہدیدار عمر حیات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا، جس کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا ہے۔

    اے ایف پی کے کیمرہ مین بنارس خان کے مطابق جب تک وہ کان پر موجود تھے اس وقت تک چھ کانکنوں کی لاشیں نکالی جاچکی تھیں۔

    سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کان کے مالکان سے ان کی بات ہوئی، جنھوں نے بتایا کہ کان میں 35 سے زائد کانکن موجود تھے۔

    سرکاری اہلکار نے دھماکے کی شدت اور ریسکیو کے جدید سہولیات کی فقدان کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

    سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے اس واقعے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپیکٹر آف مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ قائم کرنے اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    سورینج کہاں واقع ہے؟

    سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلہ کانیں موجود ہیں۔

    سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

    دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں، جن سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں کانکن اور مزدور وابستہ ہیں۔

    سینئر مزدور رہنما لالا سلطان کا کہنا ہے کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے اور ٹھیکیداری کے نظام کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی کانوں حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے ان حادثات میں ہر سال بڑی تعداد میں کانکن ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔

  7. بلغاریہ میں امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی ’ناقابلِ قبول‘ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بلغاریہ کے ہم منصب کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں بیزمیر فضائی اڈے پر امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی کے فیصلے پر احتجاج ریکارڈ کروایا اور اس پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق عراقچی نے کہا کہ امریکی فوجی طیاروں کو عسکری کارروائیوں میں مدد کے لیے تعینات کرنے پر بلغاریہ کی حکومت کی رضامندی تہران کے نزدیک ’قابلِ مذمت، ناقابلِ قبول اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی اور دوستانہ تعلقات کے منافی‘ ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314، جو جارحیت کی تعریف سے متعلق ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی ایک ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے تیسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے دینا ’اقدامِ جارحیت‘ کی ایک مثال تصور کیا جاتا ہے۔

    بلغاریہ کی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے ایک حکومتی تجویز کی منظوری دی تھی، جس کے تحت امریکی فوجی دستوں، بشمول متعدد ایندھن بردار طیاروں، کو صوفیہ سے 260 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع بیزمیر کے فضائی اڈے پر عارضی طور پر تعینات کیا جائے گا۔ امریکہ اور بلغاریہ کے درمیان 2006 سے مشترکہ دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے۔

  8. اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ، بحیرہ احمر اور باب المندب کی حالیہ صورتحال پر بھی گفتگو

    Dar, Hakan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنپاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اردن کی جانب سے عرب اور اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے (فائل فوٹو)

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے بحیرہ احمر اور باب المندب کی حالیہ صورتحال پر بھی گفتگو کی اور خطے میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اردن کی جانب سے عرب اور اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ مجوزہ اجلاس میں فلسطین، بالخصوص مشرقی یروشلم میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام سے متعلق امور پر مشاورت جاری رکھنے اور باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق بھی کیا۔

  9. کوٹلی میں احتجاجی مظاہرے، پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال, روحان احمد، بی بی سی اردو

    Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    ،تصویر کا کیپشنکوٹلی میں تعینات پولیس افسران نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ضلع میں ہونے والے احتجاج کی تصدیق کی ہے

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں جمعرات کو حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

    کوٹلی میں تعینات پولیس افسران نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ضلع میں ہونے والے احتجاج کی تصدیق کی ہے۔

    کوٹلی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عدیل احمد نے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں فیک ہیں۔‘

    انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ علاقے میں ’کچھ تھوڑے بہت مظاہرین‘ نکلے تھے، ’جو بعد میں پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔‘

    کوٹلی میں تعینات ایک اور پولیس افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ مرکزی شہر میں ایک ’چھوٹا سا جلوس‘ نکلا تھا، جسے منتشر کر دیا گیا۔

    Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    ،تصویر کا کیپشنکوٹلی کے مقامی افراد نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو دن کے وقت پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا

    تاہم دونوں افسران نے یہ نہیں بتایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے۔

    دوسری جانب کوٹلی کے مقامی افراد نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو دن کے وقت پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔

    بی بی سی اردو کو دستیاب اور تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقے میں دکانیں بند تھیں، کچھ مظاہرین وہاں موجود تھے جبکہ پولیس کی گاڑیاں بھی علاقے میں گشت کر رہی تھیں۔

    ویڈیوز میں خواتین کو بھی کشمیر کے جھنڈے اٹھائے احتجاج میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔

    Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    ،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے

    بی بی سی اردو کو موصول ہونے والی اور تصدیق شدہ متعدد ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب کوٹلی پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر ایک بچی کے فوت ہونے، خواتین کے ایک مدرسے پر حملے اور خواتین کو اٹھا کر لے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں حقیقت سے کوسوں دور اور سراسر بے بنیاد ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کوٹلی ایک انتہائی پرامن شہر ہے اور یہاں کے شہری امن پسند ہیں۔ کسی بھی شرپسند کو شہر کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

  10. امریکی فوج کی لڑاکا طیاروں کو نقصان پہنچنے کی تردید، خطے میں نافذ بحری ناکہ بندی بدستور مؤثر ہے

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’غلط‘ قرار دیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران امریکی فضائیہ کے کسی بھی طیارے، بشمول جدید F-35 لڑاکا طیاروں، کو نہ تو تباہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا۔

    سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائلوں اور ڈرونز کو یا تو راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا یا وہ اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

    امریکی کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہوں سے متعلق پاسداران انقلاب کے دعوؤں کی بھی تردید کی۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں تجارتی بحری جہازوں اور ان کے سویلین عملے کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں اور حملے ہیں، نہ کہ بین الاقوامی بحری راستے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والی ان خبروں پر بھی امریکی فوج نے ردعمل دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نورا ٹینکر امریکی ناکہ بندی عبور کر گیا ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں اور مذکورہ جہاز کسی ناکہ بندی سے نہیں گزرا۔

    سینٹکام نے مزید کہا کہ خطے میں نافذ بحری ناکہ بندی بدستور مؤثر ہے اور اس کے نفاذ کے لیے 20 سے زائد جنگی جہاز، سیکڑوں طیارے اور ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

  11. قطر کی اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت، فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر نے اردن اور کویت پر ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اسے کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    قطر کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کا تسلسل صورتِ حال کو خطرناک حد تک بگاڑ سکتا ہے، جس سے کشیدگی پر قابو پانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جائیں گی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سیاسی اور سفارتی اقدامات متاثر ہوں گے۔‘

    قطر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔

  12. کیچ میں اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد، سب کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا: پولیس

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں اغوا کیے گئے چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق چھ افراد کی لاشیں ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب ناصر آباد کے علاقے سے ملیں۔ اطلاع ملنے پر لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ یہ وہ مزدور ہیں جنھیں دو روز قبل تربت کے قریب کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر سات مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے ایک کو اغوا کے فوراً بعد قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ باقی چھ افراد کی لاشیں آج برآمد ہوئیں۔

    بابر یوسفزئی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں سے چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ انھوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ایسے شرپسند عناصر نے کی ہے جو بیرونی سرپرستی میں بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔

    دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں: محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں مسلح افراد کے ہاتھوں چھ مزدوروں کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بہیمانہ اور سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں محسن نقوی نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنا کر نہ صرف قیمتی انسانی جانیں چھینی ہیں بلکہ بلوچستان کی ترقی اور مقامی روزگار پر بھی حملہ کیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اب معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھ غیر مقامی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی تمام تر ہمدردیاں مارے جانے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں اور اس غم کی گھڑی میں انھیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  13. سعودی عرب کی ایران کے اردن پر حملوں کی مذمت، علاقائی سلامتی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

    سعودی عرب نے اردن پر ایران کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انھیں ’وحشیانہ جارحیت‘ قرار دیا ہے اور خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری اپنے بیان میں اردن کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے منافی ہیں۔

    سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی حکومت نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اردن اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں فوراً بند کرے۔ بیان میں خطے کے ممالک اور ان کے شہریوں کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    ایران نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے چند روز کے وقفے کے بعد کیے گئے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملوں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔

    ادھر اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے گذشتہ دو روز کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو فضاء ہی میں تباہ کر دیا اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  14. ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے ابتدائی اہداف حاصل کر لیے ہیں: امریکی فوج

    CENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے گذشتہ شب بی بی سی فارسی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو محدود کرنے کے اپنے ابتدائی اہداف حاصل کر چکا ہے۔

    کیپٹن ہاکنز نے انٹرویو کے دوران ایران کے اردن پر کیے گئے حملے، لامرڈ پر امریکی فوج کی کارروائی میں غیر معمولی ہتھیاروں کے استعمال، اور مناب پر حملے سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں، بالخصوص میزائل اور ڈرون پروگرام، کو کمزور کرنا تھا اور اس سلسلے میں ابتدائی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

  15. پاسداران انقلاب کا الازرق ایئر بیس پر امریکی لڑاکا طیاروں کی تباہی کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر کیے گئے میزائل حملے میں تین امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ مزید تین طیاروں کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم اس دعوے کی تاحال امریکی یا اردنی حکام، یا کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا کہ یہ حملہ جزیرہ قشم میں دو رہائشی گھروں پر ہونے والے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایک بچے سمیت ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک اور دو دیگر بچے زخمی ہوئے تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الازرق ایئر بیس پر لڑاکا طیاروں کی تنصیب اور مرمت کے ایک ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی افسران اور فنی عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی مخصوص تعداد یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے تھے اور حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    امریکہ نے بھی تاحال F-35 طیاروں کی مبینہ تباہی یا اپنی افواج میں کسی جانی نقصان کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

  16. زنجان میں امریکی میزائل حملے، پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار ہلاک

    ایران کے صوبہ زنجان میں پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تین اہلکار جمعرات کی صبح ہونے والے امریکی میزائل حملوں میں ہلاک ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کی انصار المہدی کور کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’سرحدوں اور وطن کے دفاع‘ کے دوران مارے گئے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس مقام پر ہلاک ہوئے یا حملے کے وقت کس نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملے جمعرات کی صبح اردن میں امریکی افواج پر ہونے والے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    سینٹ کام کے بیان کے مطابق، کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، میزائل اور ڈرون اڈے، ساحلی نگرانی و دفاعی تنصیبات، اور ایران کی بحری صلاحیتوں سے وابستہ مراکز شامل تھے۔

    یہ حملے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جس کے باعث خطے میں مزید فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

  17. دمیاطہ بندرگاہ میں امریکی جہاز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا: مصر

    Oleksandr Lisyanskyy /Reuters

    ،تصویر کا ذریعہOleksandr Lisyanskyy /Reuters

    مصری حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ دمیاطہ بندرگاہ پر بدھ کے روز لگنے والی آگ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں بھڑکی تھی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جس میں مصری سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

    مصری حکام نے پہلے بتایا تھا کہ آگ لگنے کے باعث دو گیس بردار جہاز متاثر ہوئے تھے۔ سمندری تجارت پر نظر رکھنے والی کمپنی کیپلر کے مطابق، اس واقعے کے نتیجے میں مصر کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمدی ٹرمینلز میں سے ایک کے آپریشنز بھی متاثر ہوئے ہیں۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے پیچھے کون تھا۔ تاہم یہ واقعہ ایران کی جانب سے اردن میں امریکی افواج پر میزائل حملے اور اس کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کے فوراً بعد پیش آیا، جسے خطے میں کشیدگی میں اضافے کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری نے ابتدائی جائزے کی بنیاد پر کہا ہے کہ ایک ڈرون نے دمیاطہ بندرگاہ میں موجود ایک امریکی کمپنی کے گیس سٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا۔

    ایک علیحدہ بیان میں انچکیپ پورٹ سروسز نے بھی تصدیق کی کہ دمیاطہ بندرگاہ پر گیس لے جانے والے دو جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    روئٹرز نے تین تجارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ڈرون اینرگوس ونٹر نامی جہاز سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں یہ آگ دوسرے جہاز گوزیلوگ سالم تک پھیل گئی۔ دو سکیورٹی ذرائع نے بھی روئٹرز کو بتایا کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ڈرون حملہ ہی تھی۔

    روئٹرز کے مطابق، اینرگوس امریکی کمپنی اینرگوس انفراسٹرکچر کی ملکیت میں مائع قدرتی گیس کے لیے ایک تیرتا ہوا ذخیرہ اور ری گیسیفیکیشن یونٹ ہے۔

    مصری وزارتِ پٹرولیم نے بُدھ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ دمیاطہ بندرگاہ میں گیس ذخیرہ کرنے اور ری گیسیفیکیشن کرنے والے ایک جہاز کے ساتھ ایک دوسرے ذخیرہ بردار جہاز میں بھی آگ لگ گئی تھی، جس پر فائر فائٹنگ اور سکیورٹی ٹیموں سمیت ہنگامی امدادی عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا۔

    وزارت کے مطابق، مصری وزیرِ پٹرولیم کریم بدوی نے ریسکیو اور آگ پر قابو پانے کی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ تکنیکی اور امدادی ٹیمیں اب بھی واقعے کی وجوہات اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔

  18. چینی کمپنی کی عمارت پر ایرانی حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے: کویت

    کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات ایران نے ایک چینی کمپنی کی عمارت کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔‘

    کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی کا کہنا ہے کہ ایران نے ’ملک کے شمالی حصے میں واقع ایک چینی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والا ایک شخص ہلاک جبکہ عمارت کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔‘

    کویتی وزارتِ دفاع نے اسے 'سنگین جارحیت' قرار دیا ہے۔

  19. امریکہ اور ایران کو دوبارہ اسلام آباد معاہدے کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں: پاکستان

    MOFA Tahir Andrabi طاہر اندرابی

    ،تصویر کا ذریعہX/ForeignOfficePk

    پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ فریقین کو دوبارہ اسلام آباد معاہدے کی طرف لایا جا سکے۔

    جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ گذشتہ چند روز کے نسبتاً پُرسکون ماحول کے باوجود خطے کی سکیورٹی کی صورت حال اب بھی نازک ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس نسبتاً امن سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ مثبت پیش رفت ایک پائیدار اور مکمل طور پر قابلِ احترام جنگ بندی کی صورت اختیار کرے گی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔‘

    طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے درمیان پاکستان اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔

    ’ہم ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے متحرک ہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان صورت حال کو معمول پر لانے خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورت حال کو بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

    ’ہم اپنی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں تاکہ فریقین کو دوبارہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف لایا جا سکے، تاکہ اسلام آباد معاہدے اور پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق تمام رکاوٹوں اور اختلافی نکات کو دور کیا جا سکے۔‘

    طاہر اندرابی نے فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے عزم پر مکمل طور پر قائم رہیں۔

  20. بلوچستان: دو روز قبل اغوا ہونے والے چھ مزدوروں کی لاشیں کیچ سے برآمد

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ سے چھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تمام افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد پیشے سے مزدور تھے۔

    انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    تمام چھ افراد کی لاشیں ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب ناصر آباد کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

    مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فون پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے انھیں گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا۔

    بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ان مزدوروں کو دو روز قبل تربت کے قریب کلاتک سے اغوا کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل مجموعی طور پر سات مزدوروں کے اغوا کی خبر سامنے آئی تھی جن میں سے ایک کو مسلح افراد نے اغوا کے فورا بعد ہلاک کر دیا تھا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا کا کہنا ہے کہ جن چھ مزدوروں کی لاشیں ملی ہیں ان میں سے چار کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

    بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان واقعات میں ملوث شرپسندوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔