حماس اور دیگر عسکری تنظیموں کو کیسے غیر مسلح کیا جائے گا اور اس کی تصدیق کیسے کی جائے گی؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے عہدیداروں نے صحافیوں کو فلسطینی عسکری گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے مجوزہ عمل کے بارے میں ایک ابتدائی خاکہ پیش کیا ہے۔
انھوں نے ایک ٹیلی فون بریفنگ میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں غزہ میں حماس کی پولیس اپنے ہتھیار عبوری فلسطینی حکام کے حوالے کرے گی۔
اس کے بعد بھاری ہتھیاروں کو ختم یا غیر فعال کرنے کا ایک عمل شروع کیا جائے گا، جس میں سرنگوں اور اسلحہ گوداموں کو بند کرنا شامل ہو گا جبکہ ان تنصیبات کو چلانے والے جنگجوؤں کو بھی اپنی سرگرمیاں ترک کرنا ہوں گی۔
حکام کے مطابق یہ ایک ’انتہائی تکنیکی عمل‘ ہو گا جس میں ایک اہم سوال جمع کیے گئے ہتھیاروں کو محفوظ طریقے سے رکھنا ہے۔
آخری مرحلے میں غزہ میں موجود تمام ذاتی ہتھیاروں کو فلسطینی قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کے تحت مقامی مسلح گروہوں اور قبائلی دھڑوں کو بھی اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے۔
امریکی حکام اور بورڈ آف پیس کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ عسکری تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک ’عمل درآمد اور تصدیقی کمیٹی‘ قائم کی جائے گی۔
یہ کمیٹی آزادانہ طور پر جائزہ لے گی کہ معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق چونکہ حماس اور اسرائیل ایک دوسرے کی نگرانی نہیں کر سکتے، اس لیے ایک غیر جانبدار تصدیقی نظام ضروری سمجھا گیا ہے۔
عہدیداروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس بات کی تصدیق کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کہ حماس واقعی مکمل طور پر غیر مسلح ہو چکی ہے۔ ان کے بقول حماس کا عسکری ڈھانچہ، سرنگوں کا نیٹ ورک اور اسلحہ سازی کی صلاحیتیں ایک عام عسکریت پسند گروہ کے مقابلے میں کسی ریاست کے فوجی نظام سے زیادہ مشابہت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔







