دلجیت دوسانجھ کی فلم ’پنجاب 95‘ کا نام ’ستلج‘ کیوں رکھنا پڑا اور جسونت سنگھ خالڑا کی کہانی کیا ہے؟

فلم ستلج

،تصویر کا ذریعہzee5/Insta

،تصویر کا کیپشنفلم ستلج کا اصل نام پنجاب 95 تھا
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی دلجیت دوسانجھ کی فلم اب ستلج کے نام سے او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی 5 پر ریلیز ہو گئی ہے۔

فلم کے ہدایت کار ہنی ٹریہن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا، ’اس فلم میں کوئی کاٹ چھانٹ نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔‘

اس فلم کا اصل نام پنجاب 95 تھا۔ مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز طویل عرصے سے رکی ہوئی تھی۔

دو دن قبل انسٹاگرام لائیو کے دوران پنجاب 95 کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے کہا تھا کہ ’بہت سے لوگوں کے منھ بند ہو جائیں گے۔ میں نے جو بھی فلمیں بنائی ہیں، وہ ضرور ریلیز ہوں گی۔‘

7 فروری 2025 کو اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کا ٹیزر بھی جاری کر دیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں اس کی ریلیز ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔

فلم میں دلجیت دوسانجھ، ارجن رامپال، سوویندر وِکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان نے مختلف کردار ادا کیے ہیں۔

جسونت سنگھ خالڑا

،تصویر کا ذریعہKhalra Mission Committee

،تصویر کا کیپشنجسونت سنگھ خالڑا کا دعویٰ تھا کہ یہ لاوارث لاشیں پولیس کی غیر قانونی کارروائیوں کے ثبوت ہیں

جسونت سنگھ خالڑا کون تھے؟

جسونت سنگھ خالڑا کا 6 ستمبر 1995 کو امرتسر کے کبیر پارک میں واقع ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس کے بعد وہ کبھی گھر واپس نہیں لوٹے۔

عدالت میں سی بی آئی کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، جسونت سنگھ خالڑا ایک انسانی حقوق کے کارکن تھے اور شرومنی اکالی دل کے انسانی حقوق سیل کے جنرل سیکریٹری رہ چکے تھے۔

سی بی آئی کے مطابق، 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پنجاب انتہاپسندی کے ساتھ ساتھ پولیس زیادتیوں، حراست میں اموات اور مبینہ فرضی پولیس مقابلوں کے واقعات کی وجہ سے مسلسل بحث میں رہا۔

انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا نے جون 1984 سے دسمبر 1994 کے درمیان امرتسر، مجیٹھا اور ترنتارن کے تین شمشان گھاٹوں میں ملنے والی نامعلوم لاشوں کی تفصیلات عام کی تھیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ یہ لاوارث لاشیں پولیس کی غیر قانونی کارروائیوں کی گواہ ہیں۔

جسونت سنگھ خالڑا کے اس دعوے کو اس حقیقت سے تقویت ملی کہ ان میں سے بیشتر لاشیں پولیس ہی شمشان گھاٹوں تک لائی تھی۔

سی بی آئی رپورٹ کے مطابق، جسونت سنگھ خالڑا نے ان مبینہ واقعات کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مقامی پولیس کو یہ پسند نہیں آیا اور اس نے ان کے اغوا کی سازش رچی۔ اسی مجرمانہ سازش کے تحت مقامی پولیس افسران نے 6 ستمبر 1995 کو کبیر پارک میں واقع ان کے گھر سے جسونت سنگھ خالڑا کو اغوا کر لیا۔‘

رپورٹ کے مطابق، ’انھیں غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش ہریکے علاقے کی ایک نہر میں پھینک دی گئی۔‘

دلجیت دوسانجھ

،تصویر کا ذریعہDiljit Dosanjh/FB

،تصویر کا کیپشنستلج فلم ریلیز ہونے کے بعد دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیرخواہوں کا شکریہ ادا کیا (فائل فوٹو)

’ابتدائی ریلیز کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘

اس فلم کو اپنی ابتدائی ریلیز کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ہدایت کار ہنی ٹریہن پہلے بتا چکے ہیں کہ مرکزی بورڈ برائے فلمی تصدیق نے فلم میں کئی تبدیلیاں لانے کا کہا تھا۔

فلم کے زی فائیو پر ریلیز ہونے کے بعد ہنی ٹریہن نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کا ساتھ دیا۔

انھوں نے لکھا کہ جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی ہمیشہ ان کے لیے تحریک کا ذریعہ رہی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’یہ ان (خالڑا) کی کہانی ہے۔ یہ ان (خالڑا) کی انصاف کی لڑائی ہے۔‘

انھوں نے آگے فلم کے نام کے بارے میں لکھا کہ ’ہم فلم کا پرانا نام نہیں رکھ سکے۔ اب اس کا عنوان ستلج ہے۔ یہ مکمل فلم ہے، بغیر کسی کٹ کے اور بغیر کسی سمجھوتے کے اپنی اصل شکل میں، جیسا ہم ہمیشہ چاہتے تھے۔‘

انھوں نے مزید لکھا، ’یہ دلجیت اور ہمارے پروڈیوسرز کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسا کہ میں اور دلجیت ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ ہم فلم کے کسی نئے ورژن کی حمایت نہیں کریں گے۔ خدا کے کرم سے ہمیں ایسا نہیں کرنا پڑا۔‘

فلم ریلیز ہونے کے بعد بھی انھوں نے انسٹاگرام پر لائیو آ کر کہا، ’فلم میں کچھ سینسر نہیں کیا گیا ہے۔ بس کسی وجہ سے ہمیں اس کا پرانا عنوان نہیں حاصل کر سکے۔‘

انھوں نے کہا، ’یہ وہی مکمل فلم ہے، بغیر کسی تبدیلی یا سمجھوتے کے، جیسی ہم ہمیشہ ناظرین تک پہنچانا چاہتے تھے۔ یہ سب دلجیت، ہمارے پروڈیوسرز اور فلم کی اصل شکل کو برقرار رکھنے کے ان کے پختہ عزم کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔‘

مارچ 2025 میں بی بی سی پنجابی نے فلم کے ریلیز نہ ہو پانے کے حوالے سے ہدایت کار ہنی ٹریہن سے بات چیت کی تھی۔

انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ جسونت سنگھ خالڑا پر بننے والی فلم کا پہلا نام گھلوگھارا تھا۔

بعد میں اس کا نام بدل کر پنجاب 95 رکھا گیا۔ بلکہ یہ تبدیلی ہم سے کروائی گئی تھی۔

فلم ریلیز ہونے پر دلجیت نے کیا کہا؟

ستلج کی ریلیز کے بعد دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیرخواہوں کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا، ’آخرکار آج ہماری فلم ستلج ریلیز ہو رہی ہے۔ میں آپ تمام خیرخواہوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے اب تک اپنی دعاؤں اور محبت سے ہمارا ساتھ دیا۔ یہ فلم جتنی ہماری ہے، اتنی ہی آپ کی بھی ہے۔‘

انھوں نے لکھا، ’ایک ٹیم کے طور پر ہم خدا کے بے حد شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے اصولوں اور اقدار پر ثابت قدم رہنے کی طاقت اور اس سفر کو آخری منزل تک پہنچانے کا حوصلہ اور صبر دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مقتول جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی ہمیشہ بے لوث خدمت اور تحریک کا ذریعہ رہی ہے۔ اس فلم کی تیاری سے لے کر اب تک کے پورے سفر میں ان کی برکت ہمارے ساتھ رہی ہے۔ یہ ان کی کہانی ہے۔ یہ انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کی کہانی ہے۔‘

فلم کے نام کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’ہمیں فلم کا پرانا ٹائٹل نہیں مل سکا۔ اب اس فلم کا نام ستلج ہے۔‘

’ابتدا میں 21 کٹ لگانے کو کہا گیا مگر پھر تعداد 120 سے بھی بڑھ گئی‘

جسونت سنگھ خالڑا

،تصویر کا ذریعہKHALRA MISSION ORGANISATION/FB

،تصویر کا کیپشنجسونت سنگھ خالڑا کا 6 ستمبر 1995 کو امرتسر کے کبیر پارک میں واقع ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا

ہنی ٹریہن نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم کے مرکزی بورڈ نے ابتدا میں فلم میں 21 کٹ لگانے کو کہا تھا۔

لیکن جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھا، کٹ کی تعداد 120 سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ’یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ کئی کٹ ایسے تھے جن کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔‘

اس وقت ہنی ٹریہن نے کہا تھا، ’یہ جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ہے اور مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ جسونت سنگھ خالڑا کا نام ہی ہٹا دیا جائے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ان کا نام لینا ہی جرم ہے۔ ایسی تمام مطالبات منظور نہیں کیے جا سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں کو فلم سے کوئی اعتراض ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ آ کر مجھ سے بات کریں۔ اگر ان کا کوئی جائز اعتراض ہو گا تو میں اسے قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ میں ایک پُرامن اور قانون کی پابندی کرنے والا شہری ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’جس کسی کو بھی اعتراض ہے، اس کے لیے میں عدلیہ میں لڑنے کو تیار ہوں۔ لیکن اگر آپ مجھے عدالت ہی نہیں جانے دیں گے، تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں؟‘