سنیکس پر مکمل پابندی والی’موٹے لوگوں کی جیل‘ جہاں گھنٹوں ورزش اور دن میں دو بار وزن کیا جاتا ہے

    • مصنف, سارہ بیل
    • عہدہ, گلوبل ڈیجیٹل ہیلتھ
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

حال ہی میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں لوگوں کو ایک بڑے سپورٹس ہال میں ورزش کرتے، کینٹین سے کھانا لینے کے لیے لان میں کھڑے اور متعدد بستروں والے مشترکہ کمروں میں سوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ کسی لگژری فٹنس کلب کی نہیں بلکہ چین میں فوجی طرز پر چلائے جانے والے وزن کم کرنے کے کیمپس کی ویڈیوز ہیں۔ کچھ لوگ انھیں ’موٹے لوگوں کی جیل‘ کہتے ہیں۔

یہاں ہر طرح کے سنیکس پر پابندی ہے اور دن میں دو مرتبہ لوگوں کا وزن کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کی طرح چین میں بھی موٹانے کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں ایسے تقریباً ایک ہزار کیمپس چل رہے ہیں۔

چھ سو ڈالر کے عوض کوئی بھی شخص یہاں ایک مہینے کی بکنگ کروا سکتا ہے۔ اس دوران اسے کیمپ میں رہائش اور کھانے کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ورزش کی کلاسز بھی کروائی جائیں گی۔

کانٹینٹ کریئیٹر ٹی ایل ہوانگ ایسے ہی ایک کیمپ میں گزارے اپنوں دنوں کے تجربات ’ایگ ایٹس‘ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتی ہیں۔

ہوانگ نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ’واٹ ان دا ورلڈ‘ کو بتایا کہ وہ جگہ بالکل ’جیل‘ کی طرح محسوس ہوتی تھی کیونکہ وہ 28 دن تک وہاں سے نکل نہیں سکیں اور انھیں روز اپنے وزن پر نظر رکھنی پڑتی تھی۔

’ہمارے ٹرینرز ہر وقت ہم پر نظر رکھتے تھے، یہ یقینی بناتے کہ ہم چوری چھپے جنک فوڈ نہ کھائیں۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ بنا کسی معقول وجہ کے کلاسز چھوڑنے یا کیمپ سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اگرچہ ہوانگ کو یہ طریقہ کارگر لگا تاہم ماہرینِ غذائیت کوخدشہ ہے کہ وزن کم کرنے کے ایسے سخت طریقوں سے جسمانی اورذہنی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرِ غذائیت لیوک ہانا کہتی ہیں کہ کچھ کیمپوں میں مبینہ طور پر روزانہ ایک کلو گرام وزن کم کرنے کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طبی نگرانی میں بالغوں میں وزن کم کرنے کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیمپ کیسے کام کرتے ہیں اور یہ اتنے مقبول کیوں ہو رہے ہیں؟

’تبدیلی لانے کا وقت آ گیا‘

ہوانگ کا کہنا ہے کہ انھیں ان کیمپس سے متعلق ان کی والدہ نے بتایا جو کہ چینی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چین میں اکیلے سفر کرنے کے بعد انھیں اپنی صحت خراب لگنے لگی تھی۔ ان کا روزمرہ کا معمول بھی بگڑ گیا تھا اور وہ بہت زیادہ باہر کا کھانا کھانے لگیں تھیں۔

ہوانگ کا کہنا ہے کہ پچھلے تین سال میں ان کا تقریباً 20 کلو وزن بڑھ چکا تھا جس کے باعث ان کے رشتہ دار ان کے متعلق طرح طرح کے تبصرے کرنے لگے تھے۔ ہوانگ کو لگا کہ اب اپنی زندگی میں ’تبدیلی لانے کا وقت آ گیا۔‘

’مجھے لگتا تھا کہ جیسے مجھے میرے موٹاپے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر ایک طرح سے مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ وہ اپنی تنقید کے ذریعے اپنا پیار جتا رہے ہیں۔‘

لیکن یہ کیمپ ہوانگ کے لیے ایک ’کلچرل شاک‘ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق کیمپ کے شرکا میں گہری دوستی ہو گئی تھی کیونکہ وہ سب ہی اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

کیمپ میں دن کا آغاز صبح 7.30 بجے وزن کیے جانے کے ساتھ ہوتا۔ شرکا کو روزانہ چار گھنٹے ورزش کروائی جاتی جس میں سپن کلاس، ٹرامپولنگ، ہائی انٹینسٹی انٹرول ٹریننگ (ایچ آئی آئی ٹی)، ٹاباٹا جو کہ ایچ آئی آئی ٹی کی ایک مزید سخت شکل اور وزن اٹھانے جیسی ورزشیں شامل ہوتیں۔

ناشتے میں انھیں چار ابلے انڈوں کے ساتھ آدھا ٹماٹر اور کھیرے کے دو ٹکڑے ملتے۔ ایک ویڈیو میں ہوانگ دوپہر میں ملنے والے کھانوں سے متعلق بات کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جس میں جھینگے، ابلی سبزیاں اور پھیلیاں ہوتی یا پھر ابلی مچھلی، سبز پتوں والی ابلی ہوئی سبزیاں اور پھول گوبھی شامل ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کھانے ’روزمرہ کے چینی کھانوں کی طرح اچھے اور متوازن ہوتے۔‘

شرکا کو رات کے کھانے کے بعد ایک گھنٹے کی سپن کلاس لینی ہوتی تھی جس کے بعد ان کا دن میں دوسری مرتبہ وزن کیا جاتا۔ اس کے بعد وہ نہا کر آرام کر سکتے تھے۔

ہوانگ کا کہنا ہے کہ پہلے ہفتے تو انھیں یہ سب ’بہت اچھا‘ محسوس ہوا لیکن پھر انھیں احساس ہوا کہ انھیں مزید تین ہفتے یہی روٹین رکھنی ہو گی۔ ان کے مطابق، دوستوں سے میسجز پر بات چیت نے ان کا حوصلہ برقرار رکھنے میں مدد دی۔

وہ اس کیمپ کو جیل سے تشبیہ دیتی ہیں تاہم اس کے باوجود ان کا ماننا ہے کہ انھیں وہاں جانے سے بہت فائدہ ہوا اور وہ 28 دن میں تقریباً چھ کلو گرام وزن کم کرنے میں کامیاب رہیں۔

’معمول کی نشوونما میں رکاوٹ‘

ماہرین اس بارے میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

لندن میں مقیم پرسنل ٹرینر لیوک ہانا کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں کا نقطہ نظر تشویش کا باعث ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب آپ اپنا وزن کم کرتے ہیں تو آپ اپنی چربی کے ساتھ پٹھوں کے ٹشو بھی کھو رہے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ ضرورت سے زیادہ ورزش جیسے سخت طریقوں پر عمل کرتے ہیں تو اس سے آپ کے پٹھوں کے ٹشو کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

خاص طور پر جب بچے یا کم عمر افراد اس طرح وزن کم کرتے ہیں تو یہ اور بھی تشویشناک ہو جاتا ہے۔

’اس طرح ان کی معمول کی نشوونما میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ یعنی اس چیز پر اثر پڑ سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنے لمبے ہوں گے یا ان کی ہڈیاں کتنی صحت مند ہوں گی۔‘

اس کے علاوی یہ نفسیاتی عارضوں کا باعث بھی بن سکتا ہے جس میں خوارک سے متعلق مسائل (ایٹنگ ڈس آرڈر) شامل ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ واقعتاً بہت زیادہ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں یہ طریقہ بہت پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم ہانا کے مطابق جب یہ افراد اپنی معمول کی زندگی میں واپس آتے ہیں تو ان میں سے اکثر کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے کیونکہ یہ طریقہ وزن بڑھنے کی اصل وجوہات یا مسائل کو حل نہیں کرتا۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس ایک سے دو پاؤنڈ یا 0.5 سے 1 کلوگرام وزن میں بتدریج کمی کا مشورہ دیتی ہے۔

ہانا کے مطابق اس کے بجائے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی معمول کی زندگی میں اپنی عادات میں بتدریج تبدیلیاں لانے پر توجہ دیں۔ جیسے باقاعدگی سے غذائیت سے بھرپور غذائیں کھانا، اچھی مقدار میں پروٹین حاصل کرنا اور سزا کے بجائے کھیل اور تفریح ​​کے لیے ورزش کرنا۔

ہوانگ نے کیمپ سے واپس آنے کے بعد انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اعتراف کیا کہ ان کے لیے سب سے مشکل گھر واپس آنا تھا کیونکہ ان کا جسم بھول چکا تھا کہ ’نارمل‘ طریقے سے کھانا کیسے کھایا جاتا ہے۔

ایک صحت مند غذا میں روزانہ کی بنیاد پر پھل اور سبزیوں کی کم از کم پانچ سرونگ شامل ہونی چاہیے اور ساتھ ہی ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش کا ہدف بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

چینی والے مشروبات کی بجائے پانی کا استعمال اور زیادہ چکنائی والی اور میٹھی غذاؤں کے استعمال میں کمی بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

’زیادہ وزن والے افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا‘

بی بی سی گلوبل چائنا یونٹ کے وان کنگ ژانگ بتاتے ہیں کہ چین میں وزن کم کرنے والے ان کیمپوں کا رجحان 2000 کی دہائی کے اوائل میں پروان چڑھا۔

یہ دراصل ایک ٹی وی پروگرام کے بعد شروع ہوا جس میں وزن کم کرنے والے مختلف کیمپوں اور اداروں کے متعلق دکھایا جاتا تھا۔ ان شوز کے کوچز نے وزن کم کرنے کے اپنے کیمپس کھولنے کا فیصلہ کیا لیکن اس رجحان میں اصل تیزی پچھلے دس سال میں سوشل میڈیا کے عروج کے بعد آئی۔

ژانگ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ چینی سوشل میڈیا پر جائیں، تو آپ کو وزن کم کرنے والے کیمپ کے منتظمین یا ان کیمپوں میں شرکت کرنے والے کلائنٹس کی جانب سے پوسٹ کیا گیا بہت سارا مواد نظر آئے گا۔‘

ژانگ کے مطابق ان میں سخت نظم و ضبط والے کیمپوں سے لے کر ایسے کیمپ بھی شامل ہیں جہاں کمروں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے ہیں تاکہ کوئی باہر سے کھانا منگوا کر نہ کھا سکے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ ایسے پرتعیش اور اعلیٰ درجے کے کیمپس بھی موجود ہیں جہاں آپ کسی خوبصورت جھیل کے نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ٹریڈ مل پر دوڑ سکتے ہیں۔

ان تمام کیمپوں کو شروع کیے جانے کی سب سے وجہ دنیا بھر میں موٹاپے کا مسئلہ ہے۔ تقریباً دو تہائی ممالک میں 50 فیصد سے زیادہ نوجوانوں کا وزن زیادہ ہے یا وہ موٹے سمجھے جاتے ہیں۔ چین کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ملک میں تقریباً 34 فیصد نوجوانوں کا وزن زیادہ جبکہ 16 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں۔

ژانگ کا کہنا ہے کہ یہاں اس مسئلے کا ایک ثقافتی پہلو بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چین میں زیادہ یا بہت کم وزن والے لوگوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ’مثال کے طور پر اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، تو آپ کو کام کی جگہ یا ڈیٹنگ میں زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

چاول، ڈمپلنگز اور نوڈلز میں پایا جانے والا ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات یہ کہ اب دنیا بھر میں لوگ اپنا فارغ وقت باہر گزارنے کے بجائے اپنے فون یا ٹیبلیٹ پر گزارتے ہیں۔

دریں اثنا، ہوانگ کے انسٹاگرام سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس وقت تھائی لینڈ میں ہیں اور وزن کم کرنے کے ایک اور 30 ​​روزہ چیلنج میں حصہ لے رہی ہیں۔ وہاں وہ شدید گرمی میں روزانہ دو گھنٹے ورزش کرتی ہیں۔