آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ، ایران امن معاہدہ: غیریقینی میں لپٹا ٹرمپ کی سالگرہ کا بہترین تحفہ
- مصنف, انتھونی زرچر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
ایران کے ساتھ معاہدے کے اعلان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نہایت خوش آئند سالگرہ کا تحفہ فراہم کیا، اگرچہ یہ خاصی غیر یقینی صورتحال میں لپٹا ہوا ہے۔
معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلی ہو گی اور امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔‘
اُنھوں نے معاہدے کے بعد تیل کی آزادانہ نقل و حمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’تیل کو بہنے دیں۔‘
واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔‘
صدر ٹرمپ نے نے مزید کہا کہ ماضی کے امریکی صدور کی ’ناکامیوں‘ کے برعکس ’میں نے ایک بہترین معاہدہ حاصل کیا جو پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا۔‘
اس طرح کا مبالغہ ٹرمپ کے لیے نیا نہیں۔ گذشتہ سال غزہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ان کے بیانات ’ہمیشہ کے لیے امن‘ اور ’عقیدے، اُمید اور خدا کے دور کا آغاز‘ جیسے الفاظ پر مشتمل تھے حالانکہ زمینی حقائق اس سے مختلف تھے۔
ایسے اعلیٰ سطح کے سفارتی معاہدوں میں کامیابی یا ناکامی عموماً تفصیلات پر منحصر ہوتی ہے اور یہاں تفصیلات کم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کی شام فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کا کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنا ’اس معاہدے میں شامل ہے‘ اور امریکہ اس کی تعمیل کی تصدیق کر سکے گا۔
ان میں سے کچھ معاملات آئندہ مذاکرات اور ’تکنیکی‘ بات چیت میں طے کیے جائیں گے، جو موجودہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کے دوران ہوں گے۔
لیکن گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار کروانے کی کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
امریکہ چاہے یہ سمجھے کہ اس ’مفاہمتی یادداشت‘ کے ذریعے سب کچھ حاصل کر لیا گیا، پھر بھی اس بات کی یقین دہانی نہیں ہو سکتی کہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کر دے گا۔
اس نکتے کو مزید واضح کرتے ہوئے، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’حتمی مذاکرات اس وقت تک ملتوی رہیں گے جب تک دوسرا فریق اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتا۔‘
یہ وعدے کیا ہیں اور ایران انھیں کیسے دیکھتا ہے، اس سے طے ہو گا کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے یا نہیں۔
توانائی کے شعبے سے منسلک ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کا امکان نہیں۔
بڑی تعداد میں پھنسے ٹینکرز، بارودی سرنگیں ہٹانا اور تیل کی باقاعدہ ترسیل اور پیداوار بحال کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
معاہدہ ٹوٹنے کے خدشات اور ایک غیر متوقع عنصر
سرکاری دستخط سے پہلے کئی دن باقی ہیں، اس دوران ایران اور امریکہ کے پاس اہم تفصیلات طے کرنے کا وقت ہے تاکہ معاہدے کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے لیکن اس کے ٹوٹنے کا امکان بھی موجود ہے۔
ایک اور غیر متوقع عنصر اسرائیل ہے۔ یہ ہمیشہ تین فریقی جنگ رہی اور ٹرمپ نے اتوار کو وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم سے شدید ناراض تھے کیونکہ اُنھوں نے اس ہفتے لبنان پر حملے کا حکم دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ اقدام ایران کے ساتھ معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لیکن اگر اسرائیل لبنان میں نئی فوجی کارروائیاں شروع کرتا ہے، تو ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے اور یوں عالمی معیشت کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اپنے بیان میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے اس جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے امریکیوں کو ہونے والی مشکلات کا بھی اعتراف کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ میرا بنیادی پیغام امریکی عوام کے لیے شکریہ ہے اور یہ وعدہ ہے کہ توانائی کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔
یہ کتنی تیزی سے ہوتا ہے اور کس حد تک یہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے امریکیوں کے لیے مجموعی اخراجات میں کمی کا باعث بنتا ہے، اس سے یہ طے ہوگا کہ آیا رپبلکن پارٹی پر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ نومبر کے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے پہلے کم ہوتا ہے یا نہیں۔
حالیہ جائزوں کے مطابق، ٹرمپ اور ان کی جماعت کو بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا سامنا ہے۔
یوگَو کے سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی ان کے معاشی معاملات سنبھالنے کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں، جبکہ 57 فیصد کا خیال ہے کہ معیشت بدتر ہو رہی ہے۔
تاہم امن معاہدہ تنازع سے پیدا ہونے والے کچھ معاشی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔
اگر پیٹرول کی قیمتیں واقعی کم ہونا شروع ہو جائیں، تو یہ امریکیوں کے لیے ایک واضح اشارہ ہو سکتا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
یہ جنگ کے آغاز سے پہلے کے حالات کی جانب ایک نمایاں قدم ہے، چاہے ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل نہ ہوئے ہوں اور انھیں اندرون ملک سیاسی خطرات کا سامنا ابھی بھی ہو۔