کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟

کلیجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سراج
    • عہدہ, بی بی سی پنجابی
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

آپ میں سے اکثر لوگوں نے اپنے گھروں میں سنا ہو گا کہ ’کلیجی کھاؤ تو خون اچھا بنے گا‘ اور یہ ٹوٹکہ خصوصاً حاملہ خواتین یا کمزور افراد کو بتائے جانے کا رواج بھی ہمارے ہاں عام ہے۔

اسی لیے عموما بکرے کی کلیجی کو بہت سے لوگ رغبت سے کھاتے بھی ہیں تاہم کیا اس میں کوئی صداقت بھی ہے؟ کیا مرغی یا بکری کی کلیجی کھانے سے انسانی جگر کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) نے بتایا ہے کہ وٹامنز، آئرن، پروٹین اور دیگر بہت سے غذائی اجزاء نہ صرف مرغی یا بکری کی کلیجی (جگر) میں پائے جاتے ہیں بلکہ گائے اور سور کے جگر میں بھی یہی مفید اجزا موجود ہوتے ہیں۔

دوسری جانب وٹامن اے کی زیادتی کو حاملہ خواتین کے لیے بہتر نہیں سمجھا جاتا۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو زیادہ کلیجی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں وٹامن اے کی زیادہ مقدار جنین کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

کچی کلیجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر اور ذیابیطس کے ماہر پرشانت ارون کہتے ہیں کہ ’آسانی سے دستیاب چکن یا بکری کا جگر غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس میں ’ہیم‘ آئرن کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، جو جسم آسانی سے جذب ہو جاتا ہے۔ یہ خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے اور خون کی کمی کو روکتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیلے میں موجود وٹامن بی 12 خون کے سرخ خلیوں کی تشکیل، مردانہ صحت، دماغی نشوونما اور یادداشت کے لیے اہم ہے۔

پرشانت ارون کے مطابق جانوروں کے جگر میں اعلیٰ قسم کا پروٹین ہوتا ہے جو کہ پٹھوں کی مرمت کے لیے ضروری ہے اور بیماری کے بعد صحت یاب ہونے میں مدد کرتا ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق کلیجی میں وٹامن اے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

وٹامن اے بیماریوں اور انفیکشن کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اس کے علاوہ وٹامن اے بینائی، جلد کی صحت اور جسم کے کچھ حصوں جیسے ناک کی جھلیوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ہے۔

اگرچہ وٹامن اے دودھ، پنیر، انڈے اور چربی والی مچھلی جیسے سالمن اور سارڈینز میں بھی پایا جاتا ہے لیکن برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ جانوروں کی کلیجی میں میں بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔

بچوں کو کلیجی کھلانا کتنا فائدہ مند

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماہرغذائیت دھرینی کرشنن کا کہنا ہے کہ ’کلیجی میں عام طور پر نان ویجیٹیرین کھانے میں پائے جانے والے ’ہیم آئرن‘ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے 5 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو ہفتے میں ایک بار تقریباً 50 گرام پکی ہوئی کلیجی دی جا سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’10 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو ہفتے میں ایک بار 50 سے 100 گرام کلیجی دی جا سکتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس میں موجود وٹامن بی 12 بچوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے تاہم اسے متوازن مقدار میں دینا چاہیے۔

دھرینی کرشنن مزید کہتے ہیں کہ ’کلیجی کو تیل میں تل کر بچوں کو نہیں دینا چاہیے کیونکہ بھوننے سے اس میں موجود وٹامن بی 12 ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسے سالن یا گریوی کے طور پر پکا کر بچوں کو دیں۔‘

اسی طرح وہ کہتی ہیں کہ ہفتے میں ایک بار 100 سے 200 گرام کیلے کھانا بالغوں کے لیے کافی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق کلیجی میں وٹامن اے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے حاملہ خواتین کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ وٹامن اے کی زیادتی جنین کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

وٹامن اے کی یومیہ ضرورت مردوں کے لیے 700 مائیکروگرام اور خواتین کے لیے 600 مائیکرو گرام تجویز کی جاتی ہے۔

کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کئی سالوں تک روزانہ اوسطاً 1,500 مائیکرو گرام وٹامن اے لینے سے ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں اور عمر کے ساتھ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ خاص طور پر عمر رسیدہ لوگوں کے لیے اہم ہے خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو پہلے سے ہی آسٹیوپوروسس ہونے کے زیادہ خطرے میں ہیں۔

ڈاکٹر پرشانت ارون کے مطابق ’ہائی کولیسٹرول والے لوگوں کے لیے کلیجی سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔ اسی طرح اسے دو سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں دینا چاہیے۔ اور جو لوگ الرجی کا شکار ہیں ان کو بھی اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔‘

کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کو ٹھیک کر سکتی ہے؟

اب کلیجی میں موجود اتنی غذائیت کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کو ٹھیک کرسکتی ہے؟

اس سوال پر ڈاکٹر پرشانت ارون کہتے ہیں کہ ’جانوروں کا جگر انسانی جگر کو پہنچنے والے نقصان کو ٹھیک نہیں کرتا۔ اور اس پر موجود روایات کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس معاملے کو ’ڈیٹاکسیفیکیشن‘ کے نام سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ جگر ہی وہ عضو ہے جو جسم کو صاف کرتا ہے اور خود کو صاف کرتا ہے۔ اس کے لیے الگ جگر کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایک متوازن اور صحت مند غذا، ورزش اور مناسب نیند ہی ہمارے جگر کی حفاظت کرتی ہے۔‘

اس لیے جانوروں کے جگر اور انسانی جگر میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ اگر کلیجی کو زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو اس میں موجود وٹامن اے کی زیادہ مقدار انسانی جگر پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔