کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹڈ کلنگ: ’یہ چھوٹے بچے اب اپنے خاندانوں کی کفالت کیسے کریں گے؟‘

،تصویر کا ذریعہHameedullah
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
حفاظت کے پیش نظر اس رپورٹ میں چند افراد کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔
احمد اور ابراہیم کی عمریں دیکھیں تو یہ اُن کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں مگر اپنے اپنے گھر کا بڑا بیٹا ہونے اور اپنے والدین کی ٹارگٹڈ کلنگ کے ایک حالیہ واقعے میں ہلاکت نے پورے گھروں کی ذمہ داری اُن کی کندھوں پر ڈال دی ہے۔
یہ کہانی ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے احمد اور ابراہیم کی ہے۔ ہزار گنجی کے علاقے میں پیش آئے ایک حالیہ واقعے میں ان دونوں کے والد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
اپنے رشتہ داروں کی موجودگی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں بچے غم سے نڈھال نظر آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ مستقبل کے حوالے سے ان کے خوابوں کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔
بلوچستان کے سرکاری حکام نے اس واقعے کو ’ٹارگٹڈ کلنگ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اس واقعے کے خلاف ہزارہ برادری کے لوگوں نے احتجاج کیا لیکن ماضی کی نسبت انھوں نے اپنے اس احتجاج کو زیادہ طول نہیں دیا اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ کی یقین دہانی پر چند گھنٹے بعد ہی احتجاج ختم کر دیا۔
ٹارگٹڈ کلنگ کے اس حالیہ واقعے نے ہزارہ قبیلے کے افراد کو ایک مرتبہ پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں ہزارہ قبیلے پر متعدد اور بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جن میں کافی جانوں کا نقصان ہوا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حالیہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعہ کب پیش آیا اور مارے جانے والے افراد کون تھے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ٹارگٹ کلنگ کا یہ واقعہ گذشتہ اتوار کو صبح سویرے کوئٹہ شہر کے علاقے ہزار گنجی میں سبزی منڈی کے قریب پیش آیا، جس میں مجموعی طور پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ افراد سبزی فروش تھے، جو شہر میں ہزارہ ٹاؤن کے علاقے میں رہائش پذیر تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب یہ افراد ایک لوڈر رکشے میں منڈی کے قریب پہنچے تو دو موٹر سائیکلوں پر سوار افراد نے اُن پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔
مارے جانے والوں میں محمد موسیٰ اور جہان علی شامل ہیں، جن کی عمریں پچاس سے پچپن سال کے درمیان تھیں۔
محمد موسیٰ نے سوگواران میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ اُن کا بیٹا احمد بہن، بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔
اسی طرح جہاں علی کے بچوں میں اُن کے بیٹے ابراہیم سب سے بڑے ہیں۔
احمد اور ابراہیم کے اہلخانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ موسیٰ اور جہان علی ہفتے میں دو، تین روز زرنج رکشے پر ہزار گنجی جا کر سبزی اور فروٹ لایا کرتے تھے اور اس کو ہزارہ ٹاؤن میں فروخت کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے والدین غریب تھے اور سبزی اور پھلوں کی فروخت سے جو آمدن ہوتی تھی اس پر ہی دونوں خاندانوں کا گزر بسر تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابراہیم نے بتایا کہ ’کم وسائل اور آمدنی کے باوجود میرے والد مجھے پڑھانا چاہتے تھے اور اُن کی یہ خواہش تھی کہ میں ایک اچھا اور بڑا انسان بن کر بڑھاپے میں ان کا سہارا بنوں۔‘
احمد نے بتایا کہ اُن کے والد ہی گھر کے واحد کفیل تھے، جو محنت مزدوری کر کے گھر کو چلا رہے تھے ۔
انھوں نے بتایا کہ میں سکول کا طالبعلم ہوں اور مزید پڑھنا چاہتا ہوں مگر اب کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں۔
محمد موسیٰ کے بھانجے حمید اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’آپ دیکھ لیں کہ یہ دونوں چھوٹے بچے اب اپنے اپنے خاندانوں کے بڑے ہیں۔ وہ اس عمر میں اپنے اہلخانہ کی کس طرح کفالت کر سکیں گے؟
’ان کے تو کھیلنے، کودنے کے دن ہیں لیکن ظالموں نے والدین کا سایہ ان کے سر سے چھین لیا۔‘
انھوں نے کہا کہ جو لوگ اس واقعے میں زخمی ہوئے وہ بھی چھوٹی موٹی مزدوری ہی کرتے تھے۔
طویل عرصے بعد ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ
ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں انسداد دہشت گردی کی مختلف دفعات کے تحت محمد موسٰی کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 80 اور 90 کی دہائیوں میں جب پاکستان کے دیگر صوبوں میں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑی تعداد پیش آ رہے تھے تو بلوچستان اس سے متاثر نہیں ہوا تھا، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 90 کی دہائی کے آخر میں اس نوعیت کا صرف ایک واقعہ پیش آیا تھا۔
90 کی دہائی کے آخر میں پیش آنے والے اس واحد واقعے میں بلوچستان کے سابق وزیر تعلیم اور ہزارہ قبیلے کے سردار خاندان سے تعلق رکھنے والے سردار نثار علی ہزارہ کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے جبکہ ان کا ذاتی محافظ ہلاک ہوا۔
بلوچستان میں فرقہ واریت کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا بڑے پیمانے پر آغاز سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا، جن میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔
مشرف کے دور میں کوئٹہ شہر میں ہزارہ قبیلے کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ جون 2003 میں پیش آیا، جس میں قبیلے سے تعلق رکھنے والے پولیس کیڈٹس کو نشانہ بنایا گیا اور دس سے زائد پولیس کیڈٹس مارے گئے جبکہ نو زخمی ہوئے۔
ان واقعات کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ سنہ 2021 کے اوائل تک 19 سال تک جاری رہا۔
سنہ 2021 کے اوائل میں ضلع کچھی میں مچھ کے کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے ہزارہ قبیلے کے 11 افراد کو حکام کے مطابق بیدردی کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی قادر نائل کا دعویٰ ہے کہ اِن واقعات میں مجموعی طور پر قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے جبکہ بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ان واقعات کی وجہ سے قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نہ صرف پاکستان کے دوسرے شہروں بلکہ بیرون ملک بھی نقل مکانی کرنی پڑی جبکہ کوئٹہ شہر میں ان کا روزگار اور کاروبار بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔
ان واقعات کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، شیعہ کانفرنس، مجلس وحدت المسلین سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیے گئے جن میں کوئٹہ کی تاریخ کے طویل پرامن دھرنوں کے علاوہ حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی شامل تھی۔
تاہم 2021 کے اوائل کے بعد قبیلے کے افراد کا فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔
حالیہ واقعے کے بعد تشویش کی نئی لہر
اتوار کو پیش آنے والا واقعہ رواں سال کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کا دوسرا واقعہ تھا۔
8 مارچ کو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جو پنکچر لگانے کا کام کرتا تھا۔
ماضی میں جب ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے سبزی اور پھل فروشوں کی ٹارکلنگ کلنگ کے واقعات پیش آئے تھے تو حکومت کی جانب سے انھیں منڈی تک سکیورٹی میں لے جانے اور واپس لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔
شیعہ کانفرنس سے تعلق رکھنے والے انجینیئر جواد رفیع نے بتایا کہ بہت عرصہ پہلے سے ہزارہ ٹاؤن کے سبزی اور پھل فروشوں کو سکیورٹی میں لانے اور لے جانے کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا حالیہ ہفتوں میں ٹارگٹ کلنگ کے ان دو واقعات کے باعث لوگوں میں ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو بہت زیادہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی طرح یہاں حالات خراب کرنے والوں کو دوبارہ کوئی موقع نہ ملے۔
شعیہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد کوئٹہ شہر میں مشرق میں مری آباد جبکہ مغرب میں بروری کے علاقے میں ہزارہ ٹاِئون میں آباد ہیں۔
سنہ 2021 تک پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی وجہ سے حکومت کی جانب سے قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی سکیورٹی کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں ان کی آبادی کے گردونواح میں چیک پوسٹوں کے قیام کے علاوہ دونوں علاقوں کے درمیان ان کی آمدورفت کو ایک ہی روٹ تک محدود رکھنے کا اقدام شامل تھا۔
قبیلے سے تعلق رکھنے والے بعض حلقوں کی جانب سے سکیورٹی کے اس پلان پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کیونکہ ان کے بقول اس سے قبیلے کے لوگ تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما قادر نائل کا کہنا ہے کہ ہزارہ قبیلہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر قبائل اور آبادیوں کا حصہ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم یقیناً سکیورٹی چاہتے ہیں لیکن یہ ایسی نہیں ہونی چاہیے جو ہزارہ قبیلے کے لوگوں کو دیگر آبادیوں سے الگ تھلگ کر دے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی کا ایسا نظام وضح کرے جس سے مسئلہ جڑ سے حل ہو اور یہاں کی تمام آبادیاں بلا خوف و خطر ماضی کی طرح گھل مل کر رہیں۔
سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

اس واقعے کے بعد ہزارہ افراد نے احتجاج کیا تھا۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ان سے مذاکرات کِیے جس پر انھوں نے اپنا احتجاج ختم کر کے لاشوں کو دفنا دیا۔
بابر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے قبیلے کے سیاسی اور قبائلی زعما کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس واقعے کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ قاتلوں کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نہ صرف اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیا بلکہ میر ضیا اللہ لانگو نے مظاہرین سے مذاکرات کیے جس پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کیا۔
انھوں نے بتایا کہ قبیلے کے زعما کی کمشنر کوئٹہ، ڈی آئی جی کوئٹہ اور ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ سے ملاقات کرائی گئی تاکہ وہ انھیں اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ اور دیگر حکام نے ان کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرے گی۔
بابر یوسفزئی نے کہا ہزارہ قبیلے کے لوگ کوئٹہ اور بلوچستان کی آبادی کا اہم حصہ ہیں اور حکومت ان کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
بی بی سی کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم داعش نے قبول کی ہے اور بلوچستان حکومت کی یہ پوری کوشش ہے کہ ایسے واقعات کو جڑ سے ختم کیا جائے، اور جو بھی ملزمان ہیں ان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے حوالے سے تفتیش کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔



























