مصباح کا استعفیٰ اور ٹیم میں ’ہول سیل تبدیلیاں‘: پی سی بی نے سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیوں لیا؟

Pakistan Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

80 اور نوے کی دہائی میں پاکستان کرکٹ کا عروج دیکھنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے مداحوں کے لیے پچھلی دو دہائیاں کچھ اچھی نہیں رہیں۔ لیکن اس دوران بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کچھ ایسا کر جاتی تھی کہ مداح ہر ورلڈ کپ یا بڑی سیریز سے پہلے کچھ اُمیدیں باندھ لیتے تھے۔

سنہ 2009 کا ٹی 20 ورلڈ کپ ہو یا 2017 کی چیمپئنز ٹرافی ان دونوں بڑے ٹورنامنٹس کے علاوہ بھی پاکستان کی ٹیم مختلف مواقع پر جان لڑاتی تھی، یہی وجہ تھی کہ کرکٹ مبصرین اسے ’کسی بھی وقت کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیم‘ قرار دیتے تھے۔

2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انڈیا کے خلاف میچ میں جب شاداب خان نے وراٹ کوہلی کا کیچ تھاما تو کمنیٹیٹر ناصر حسین کے تاریخی الفاظ آج بھی پاکستان کے کرکٹ شائقین یاد رکھتے ہیں۔ ’پاکستان کرکٹ ون منٹ ڈاؤن۔۔نیکسٹ منٹ اپ۔‘

لیکن وہی ناصر حسین لارڈز میں پاکستان ٹیم کی انگلینڈ کے ہاتھوں 194 رنز کی شکست پر مایوسی کے عالم میں یہ تبصرہ کر رہے تھے کہ ’پاکستانی ٹیم میں کوئی جوش و جذبہ نہیں ہے۔ بولرز کے پاس پیس نہیں ہے۔ ہم انڈیا پاکستان مقابلوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مقابلے بھی اب یکطرفہ ہو گئے ہیں۔ یہ وہ پاکستان کی ٹیم ہی نہیں ہے جو ماضی میں مقابلہ کرتی تھی۔‘

پاکستان کی حالیہ دو، تین برس کی کارکردگی دیکھی جائے تو نہ صرف ٹیسٹ میچز میں تواتر کے ساتھ شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ وائٹ بال کرکٹ میں بھی پاکستان ٹیم زوال پذیر ہے۔

لیکن ایسے میں پیر کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا جس کی شاید کسی کو بھی توقع نہیں تھی۔ پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا سمیت سات کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران پاکستان واپس بلا کر ان کی جگہ سات متبادل کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

خراب سیریز کے بعد کپتان، کوچز یا کھلاڑیوں کو تبدیل کرنا پاکستان کرکٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن سیریز ہارنے کے بعد اور آخری ٹیسٹ میچ سے پہلے جس میں ہار یا جیت کا سیریز کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان تبدیلیوں پر نہ صرف پاکستان کے سابق کرکٹرز بلکہ دُنیا بھر میں اس پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پیر کی شب سے سوشل میڈیا پر انڈین مبصرین، غیر ملکی تجزیہ کار اور پاکستان کے سابق کرکٹرز اس پر بات کر رہے ہیں اور اسے پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب قرار دے رہے ہیں۔

آخر یہ فیصلہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو واپس کیوں بلایا گیا؟ اور کیا یہ وہ سرجری ہے جس کا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے 2024 کا ٹی 20 ورلڈ کپ ہارنے کے بعد وعدہ کیا تھا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے لیے بی بی سی نے پاکستان کرکٹ نظام کا حصہ رہنے والے سابق کرکٹرز اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے بات کی ہے۔

لیکن پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ پیر اور منگل کو پاکستان کرکٹ سے متعلق کون سی خبریں شہ سرخیوں میں رہیں۔

Pakistan Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سات کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے کا فیصلہ اور مصباح کا استعفیٰ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پیر کی شب پی سی بی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکواڈ میں شامل سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کے متبادل کھلاڑیوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں۔

ایک بیان میں پی سی بی کا کہنا تھا کہ محمد رضوان، امام الحق، سلمان آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیسٹ سکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔

سکواڈ میں ان سات کھلاڑیوں کی جگہ صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، عمران جونیئر، سعد بیگ، عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو شامل کیا گیا ہے۔ پی سی بی کے مطابق یہ سات کھلاڑی تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی سکواڈ میں شامل ہو جائیں گے۔

تاہم پی سی بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے۔ ان کی جگہ مائیک ہیسن ہیڈ کوچ اور ایشلے نوفکے بولنگ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔‘

خیال رہے کہ مائیک ہیسن پہلے ہی پاکستان کے وائٹ بال کوچ ہیں اور اب انھیں ریڈ بال کرکٹ کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔

منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سلیکشن کمیٹی کے رُکن مصباح الحق نے بھی استعفی دے دیا ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان میں عاقب جاوید، سرفراز احمد اور اسد شفیق شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2023 سے 2026 کے دوران پاکستان نے 20 ٹیست میچز کھیلے جن میں سے اسے 15 میں شکست ہوئی۔

اس دوران پاکستان کے پانچ ہیڈ کوچز تبدیل کیے جن میں محمد حفیظ، جیسن گلسپی، عاقب جاوید اور اظہر محمود شامل ہیں۔ اس دوران شان مسعود، سلمان آغا اور بابر اعظم نے کپتانی کی۔

اس عرصے کے دوران پاکستان کی سلیکشن کمیٹی میں 17 مختلف افراد شامل رہے جن میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ 13 نئے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دی گئی۔ اس وقت پاکستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں نویں نمبر پر ہے۔

Pakistan Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’میں خود کو یقین دلا رہا ہوں کہ سب ٹھیک ہے، لیکن ایسا نہیں ہے‘

یہ کہنا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجہ کا جو بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ میں گھبراہٹ اور افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔‘

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے ٹیم کا مورال مزید گرے گا اور یہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

’جس طرح کھلاڑیوں کو واپس بھیجا گیا ہے اور جن کھلاڑیوں کو اُن کی جگہ بلایا گیا ہے، سب کا اعتماد کم ہو گا اور ہر کھلاڑی ٹیم کے لیے کھیلنے کے بجائے اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش کرے گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے لیڈز ٹیسٹ میں سپنر علی عثمان نے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں، لیکن اُنھیں بھی پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ عامر جمال کو بھی بغیر کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے ہی واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

’کیا گارنٹی ہے کہ نئے آنے والے کھلاڑی اچھا کریں گے، ان میں تو کئی ایسے ہیں، جنھوں نے کافی عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ ہی نہیں کھیلی۔‘

رمیز راجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ورلڈ کرکٹ میں کیا کبھی ایسا ہوا ہے؟ شاید یہ فٹبال میں ہوتا ہے کہ سیزن کے دوران مینیجر کو گھر بھیج دیا جاتا ہے۔‘

’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ پاکستان کرکٹ کیسے بہتر ہوں گی تو یقینا جانیں میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے۔‘

پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد رمیز راجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالات مزید خرابی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک ستون گر چکا ہے اور وہ ہے شائقین، کیونکہ وہ مایوس ہو چکے۔ جب ٹیم ایسی کارکردگی دکھائی گی تو پھر شائقین بھی اُنھیں سپورٹ نہیں کریں گے۔

’اگر آپ گذشتہ 20 ٹیسٹ میچز میں سے 17 ہار جائیں تو کوئی بھی اس ٹیم کی حمایت نہیں کرے گا۔‘

Ramiz Raja

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسابق چیئرمین کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پینک بٹن دبا دیا ہے

’ضروری نہیں کہ یہاں سے جانے والے ساتوں کرکٹر آخری ٹیسٹ کھیلیں‘

سابق چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھی اس فیصلے کی منطق سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون رشید کا کہنا تھا کہ ’جس نوعیت کا یہ غیر معمولی فیصلہ ہے، اس سے لگتا ہے کہ پاکستان ٹیم کے اندر کچھ چل رہا ہے اور اس کی تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آئیں گی۔‘

اُن کے بقول یہ تبدیلیاں آخری ٹیسٹ جیتنے کی کوشش کے لیے نہیں کی گئیں، یہ ایک طرح سے کھلاڑیوں کو پیغام دیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ضروری نہیں ہے کہ یہاں سے جانے والے سات کے سات کھلاڑی ہی اگلا ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک فاسٹ بولر شامل کریں اور وکٹ کیپر کو شامل کر لیا جائے ورنہ فائنل الیون میں زیادہ تر کھلاڑی تو پہلے سے موجود سکواڈ میں سے ہی ہوں گے۔‘

’پاکستان کرکٹ اس وقت دوراہے پر کھڑی ہے‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلے لینے والے سابق کرکٹرز ہی ہیں جو اس وقت کرکٹ بورڈ میں بیٹھے ہیں، چیئرمین پی سی بی نے تو ان فیصلوں کی صرف منظوری دی ہے۔‘

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب محمد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ اس وقت تاریخ کے بدترین دوراہے پر کھڑی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس دلدل سے ٹیم کو نکالنے کی کوئی منصوبہ بندی بھی نظر نہیں آتی۔‘

شعیب محمد کا کہنا تھا کہ اس تباہی کے ذمے دار وہ سب سابق کرکٹرز ہیں جو حالیہ دو دہائیوں سے پاکستان کرکٹ کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔

شعیب محمد کہتے ہیں کہ ’دُنیا کا کوئی ایسا کرکٹر اور تجزیہ کار نہیں ہے جس نے کرکٹ بورڈ کے عجلت میں لیے گئے اس فیصلے کی تائید کی ہو۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب آپ کے پاس تیز بولرز نہ ہوں اور آپ کی ٹیم 35 اوورز میں آل آؤٹ ہو رہی ہو تو یہ ٹیم دُنیا کی بڑی ٹیموں کا کیسے مقابلہ کر سکتی ہے۔‘

شعیب محمد کہتے ہیں کہ جب تک متعلقہ لوگوں کو سسٹم میں شامل نہیں کیا جاتا، اُس وقت تک پاکستان کرکٹ بہتر نہیں ہو سکتی۔

لیکن ساتھ ہی شعیب محمد کا کہنا تھا کہ ’ہر دن نیا دن ہوتا ہے، اُمید ہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کرکٹ کچھ بہتر ہو جائے۔‘

Pakistan Cricket

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہم جائیں تو جائیں کہاں‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بورڈ پر ہونے والی تنقید اور سیریز کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا دفاع کیا ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے ترجمان پی سی بی عامر میر کا کہنا تھا کہ ’اگر تبدیلیاں نہ کی جائیں تو بھی تنقید ہوتی ہے اور اگر ہم اصلاح کے لیے اقدامات کریں تو بھی تنقید ہوتی ہے تو جائیں تو جائیں کہاں۔‘

ٹیم کی واپسی پر مزید تبدیلیوں کے امکانات سے متعلق سوال پر عامر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ساری مینیجمنٹ انگلینڈ میں ہی ہے اور واپسی پر ہی دیکھا جائے گا کہ ٹیم کی بہتری کے لیے مزید کیا فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔‘

پہلے ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لینے والی علی عثمان کو بھی واپس بلانے کے فیصلے پر عامر میر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سلیکشن کمیٹی نے کیا ہے، ’جو واپس آ رہے ہیں، ان کی جگہ کسی کو تو وہاں بھیجنا ہے۔‘

’ایک پیغام بھی تو دینا ہوتا ہے کھلاڑیوں کو تم اچھا نہیں کھیلو گے تو پھر آپ کے لیے ٹیم میں جگہ نہیں ہے اور پھر آپ کی جگہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا۔‘

عامر میر کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے کو سرجری یا کوئی بھی نام دے دیں، سرجری تو ایک ٹرم چل رہی ہے۔ لیکن ہم اسے اصلاحی اقدامات کہہ سکتے ہیں۔‘

ٹیم مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی، اسی لیے سکواڈ میں تبدیلیاں کیں: عاقب جاوید

پاکستانی ٹیم کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں خراب کارکردگی اور ٹیم انتظامیہ کی جانب سے دستیاب کھلاڑیوں کے مؤثر استعمال میں ناکامی کے باعث سکواڈ میں تبدیلیاں کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے سات کھلاڑیوں کو واپس بلانے اور نوجوان کرکٹرز کو موقع دینے کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ چونکہ پاکستان سیریز ہار چکا تھا، اس لیے نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ کس حد تک ٹیم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل سینئر کھلاڑیوں کو بھی یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ صرف ایک بار منتخب ہو جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ پوری سیریز کھیلیں گے۔ ان کے مطابق ہر کھلاڑی کو کارکردگی دکھانا اور ٹیم کے لیے بھرپور کوشش کرنا ہوتی ہے۔

بابراعظم کی کپتانی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بابراعظم کو ان کی سینئر حیثیت اور بطور بیٹر صلاحیتوں کی بنیاد پر قیادت سونپی گئی تھی۔ تاہم جب ٹیم مسلسل ناکام کارکردگی دکھائے تو تبدیلی لانا ضروری ہو جاتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات کو بابراعظم کی بطور کپتان آخری اننگز قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ٹیم صرف ایک فرد نہیں بلکہ کپتان اور کوچ مل کر چلاتے ہیں۔

سابق چیف سلیکٹر مصباح الحق کے استعفے سے متعلق سوال پر عاقب جاوید نے تصدیق کی کہ خراب کارکردگی کے بعد ہر ذمہ دار فرد سے جواب طلبی کی گئی۔ ان کے مطابق مصباح الحق نے اپنا فیصلہ کیا جبکہ انھوں نے اپنا مؤقف پیش کیا ہے اور وہ استعفیٰ دینے کے بجائے نظام میں رہ کر بہتری لانے کے حق میں ہیں۔

غیر ملکی کوچز گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی کے جلد عہدہ چھوڑنے کے بارے میں عاقب جاوید نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو اس بات پر تحفظات تھے کہ دونوں کوچز پاکستان میں مطلوبہ وقت نہیں گزار رہے تھے۔ ان کے مطابق کسی بھی قومی ٹیم کے کوچ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیم اور ملک کے ساتھ مکمل وقت اور کمٹمنٹ دے۔

جیسن گلیسپی کی جانب سے عاقب جاوید پر مکمل اختیار حاصل کرنے کی خواہش کے الزام پر انھوں نے کہا کہ ان کا کوچ بننے کا کوئی ذاتی ارادہ یا دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے مطابق گلیسپی کے جانے کے بعد انھیں صرف عبوری طور پر ذمہ داری سونپی گئی تھی کیونکہ مستقل کوچ کے تقرر کے لیے باقاعدہ اشتہارات اور انٹرویوز کا عمل درکار ہوتا ہے۔

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو درپیش مسائل کا حل صرف تبدیلیوں میں نہیں بلکہ بہتر فیصلوں، احتساب، درست کمبینیشن اور کھلاڑیوں کی مسلسل کارکردگی میں مضمر ہے۔