عامل کے کہنے پر چار سالہ بچی کو زندہ جلانے کی کوشش: ’ملزمان کبھی اس کا چہرہ آگ کی طرف کرتے اور کبھی کمر کے بل چولہے پر لٹاتے رہے‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک خاتون اور ان کے تین بچوں کو گرفتار کرلیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی بیماریوں کو دور کرنے کے لیے اپنی چار سالہ بیٹی کو زندہ جلانے کی کوشش کی ہے۔

یہ واقعہ گوجرانوالہ کے تھانہ اروپ میں واقع ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں پیش آیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس علاقے میں پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ وہاں کے ایک رہائشی نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک گھر سے بچی کے زور سے چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں جس دوران بچی کہتی سنائی دے رہی ہے کہ ’مجھے مت جلاو مجھے مت جلاو۔‘

مقامی پولیس کے مطابق انھیں اطلاع دینے والے شخص نے اپنے تئیں گھر کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہوا اور پھر انھوں نے وہاں پر پیٹرولنگ کرنے والی ٹیم کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسرعلی اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی پیٹرولنگ ٹیم جب جائے وقوع پر پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں سے بچی کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں لیکن اس گھر کے اندر سے کسی نے دروازہ نہیں کھولا جس پر پولیس اہلکار دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

مقامی پولیس کے مطابق پولیس اہلکار جب اندر داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک چار سالہ بچی کے ہاتھ پاؤں کو رسیوں کے ساتھ باندھا گیا تھا جبکہ دو خواتین سمیت چار افراد نے اس چھوٹی بچی کے ہاتھ پاؤں پکڑے ہوئے تھے اور صحن میں رکھے ہوئے چولہے پر اس کو زندہ جلا رہے تھے۔

تفتیشی افسر کے مطابق جن افراد نے اس بچی کے ہاتھ پاؤں پکڑے ہوئے تھے اس میں اس بچی کی سگی والدہ اور اس کی ایک بہن اور دو بھائی شامل تھے۔

اس واقعہ سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے جب بچی کو بچانے کی کوشش کی تو ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملہ کردیا جس سے ایک پولیس اہلکار کی وردی بھی پھٹ گئی۔

مقامی پولیس کے مطابق بعدازاں ملزمان کو حراست میں لے لیا جبکہ اس عامل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جس نے ملزمہ کو ایسا قدم اٹھانے کا مشورہ دیا تھا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کا جسم چالیس فیصد تک جل چکا ہے۔

’بچی کے پاس موجود جن گھر میں بیماریاں پھیلا رہے ہیں‘

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق اس مقدمے کی مرکزی ملزمہ متاثرہ بچی کی والدہ ہیں جو چار بچوں کی ماں ہیں اور ان کا خاوند کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی اور برتن دھونے کا کام کرکے روزی روٹی کماتی ہے جبکہ اس کے دونوں بیٹے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ اور اس کے دو بیٹے، جن کی عمریں اٹھارہ سال سے زیادہ ہیں، اکثر بیمار رہا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان تھے۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر علی اکبر کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ دو روز قبل ایک عامل کے پاس گئی اور اسے اپنی بیماری کے بارے میں بتایا جس پر پولیس افسر کے بقول عامل بابا نے ملزمہ کو کہا کہ ان کی چار سالہ بیٹی کے پاس جن ہیں۔

پولیس کے مطابق عامل نے دعویٰ کیا کہ ’بچی کے پاس موجود جن ہی ان کے گھر میں بیماریاں پھیلا رہے ہیں اور اس جن کی وجہ سے ہی بیماری کے علاج کے لیے ملزمہ اور ان کے بیٹے جو ادویات استعمال کرتےہیں وہ اثر نہیں کرتیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ عامل بابا نے ملزمہ کو یہ کہہ کر اس چار سالہ بچی کو آگ میں جلانے کا کہا کہ اس سے جن اس بچی سے نکل جائے گا اور اگ اس کی بچی کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔

تفتیشی افسر کے مطابق چار سالہ بچی کو جلانے سے پہلے ملزمان بچی کو ایک کمرے میں لے گئے اور پورے کمرے میں درجنوں اگربتیاں جلا دیں تاکہ جن اس بچی سے نکل جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ عمل دو گھنٹے تک جاری رہا اور جب ان کو احساس ہوا کہ جن نے بچی کا پیچھا نہیں چھوڑا تو پھر انھوں نے عامل کی بات پر عمل درآمد کرتے ہوئے بچی کو جلانے کا فیصلہ کیا۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزمہ نے عامل کی کہی گئی باتوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تین بچوں کو بھی ساتھ ملایا اور گھر میں موجود سلینڈر اور چولہے کو صحن میں رکھ کر چولہے پر آگ جلائی اوراس کی آنچ تیز کردی۔

پولیس کے مطابق جب وہ جائے حادثہ پر پہنچے تو ملزمان چار سالہ لڑکی کا چہرہ آگ کی طرف کرتے اور کبھی اس کو کمر کے بل چولہے پر لٹا دیتے جس سے چار سالہ بچی جھلس کر شدید زخمی ہو گئی۔

پولیس کے مطابق جب وہ اس گھر کے اندر داخل ہوئے تو ملزمان نے اس بچی کو قریب پڑی ہوئی چارپائی پر پھینک دیا اور گھر کے صحن میں پڑے ہوئے ڈنڈوں سے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا۔

پولیس کے مطابق بچی کو مقامی ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جہاں پر اس کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔

پولیس نے اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے ملزمہ (متاثرہ بچی کی ماں) اور بچی کی بہن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ اس واقعہ میں ملوث بچی کے دو بھائیوں کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ملزمان سے وہ ڈنڈے برآمد کرنے ہیں جن کے ساتھ انھوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق انھوں نے اس واقعہ سے متعلق ابتدائی تفتیش کی ہے اور اب اس مقدمے کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دی گئی ہے۔