آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپیس ایکس: چار ہزار کلو وزنی راکٹ کا چاند سے تصادم سائنسدانوں کے لیے ’تحفہ‘ کیوں ہے؟
- مصنف, پلب گھوش
- عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سپیس ایکس کا ایک بھٹکا ہوا چار ہزار کلو وزنی راکٹ چاند پر جا گرا ہے۔ اس تصادم سے چاند کی سطح پر ایک بڑا گڑھا بن گیا ہے اور سائنس دانوں کو ایک منفرد تحقیقی موقع ملا ہے جو مستقبل کے خلائی مشنوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز فالکن 9 راکٹ کا خالی بالائی حصہ تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے آئنسٹائن کریٹر کے قریب چاند سے ٹکرا گیا۔
امریکہ میں راکٹ کے اس تصادم سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے اور یہ سمجھنے میں کہ اس سے کیا سیکھا جا سکتا ہے، کئی دن یا حتیٰ کہ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ تاہم ارضیات کے ماہرین کے لیے یہ غیر متوقع تصادم ایک سائنسی تحفہ ہے۔
راکٹ چاند پر کیسے گیا؟
سپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ دوبارہ استعمال ہونے والا ماڈل ہے اور اسے کئی مشنوں کے لیے خلا میں بھیجا جا چکا ہے۔
اس کا ڈیزائن اس طرح بنایا گیا ہے کہ راکٹ کا ایک حصہ زمین پر واپس آ جاتا ہے، جبکہ دوسرے حصے خلا میں الگ ہو جاتے ہیں۔
یہ راکٹ گذشتہ سال جنوری میں فلوریڈا سے روانہ ہوا تھا، جس کے ذریعے دو قمری لینڈر بھیجے گئے تھے۔
اس راکٹ کا کام بالائی مرحلے کو اتنی طاقت سے آگے بڑھانا تھا کہ دونوں لینڈر زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف سفر کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلے 18 ماہ کے دوران زمین، چاند اور سورج کی ہلکی ثقلی کشش کے ساتھ ساتھ سورج کی روشنی نے بھی اسے معمولی سا دھکا دیا۔
راکٹ کے اس حصے پر نظر رکھنے والے ماہرینِ فلکیات نے آخرکار معلوم کیا کہ انہی چھوٹے چھوٹے دھکوں نے اسے چاند کی طرف جانے والے راستے پر ڈال دیا تھا، اور یہ روز بروز رفتار حاصل کرتا رہا۔
راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کا واقعہ بدھ کے روز تقریباً 11:05 بجے پیش آیا۔ اس سے پیدا ہونے والی مختصر سی چمک اتنی مدھم تھی کہ دوربین کے ذریعے بھی اسے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔
آسمان کا مشاہدہ کرنے والے شوقیہ ماہرینِ فلکیات کے لیے بھی اس چمک کو دیکھ پانا تقریباً ناممکن تھا، کیونکہ یہ صرف ایک سیکنڈ کے انتہائی مختصر حصے کے لیے ظاہر ہوئی تھی اور چاند کے اس حصے میں ہوئی تھی جہاں اس وقت دن کی روشنی تھی۔ اسی لیے ان کے لیے تقریباً 100 کلومیٹر تک پھیلنے والی اور کئی منٹ تک برقرار رہنے والی گرد کی تہہ کو دیکھنا بھی مشکل رہا ہوگا۔
یہاں تک کہ چاند کے گرد گردش کرنے والے خلائی جہاز بھی درست وقت پر درست مقام پر موجود نہیں تھے، اس لیے وہ اس تصادم کو براہِ راست نہیں دیکھ سکے۔
جنوبی کوریا کے دانوری آربیٹر کے پاس اسے دیکھنے کا بہترین موقع تھا، کیونکہ وہ حادثے کی جگہ کے قریب سے کچھ ہی دیر پہلے گزرا تھا۔ اس کی ٹیم نے کوریائی میڈیا کو بتایا ہے کہ کوئی بھی ویڈیو یا تصاویر اسی وقت جاری کی جائیں گی جب محققین اپنا تجزیہ مکمل کر لیں گے۔
آئندہ چند دنوں میں ناسا کا لونر ریکونیسنس آربیٹر اس مقام کی تصاویر لینے کے لیے موجود ہوگا، جس سے حادثے سے پہلے اور بعد کی تصاویر کا موازنہ کیا جا سکے گا۔
مستقبل میں انجینئرز کو کیا مدد ملے گی؟
سائنسی تحقیق اور ممکنہ طور پر پہلی تصاویر امریکہ میں موجود طاقتور دوربینوں سے حاصل ہوں گی، جہاں اس وقت بھی آسمان تاریک تھا۔
اس کے باوجود، زمین سے تقریباً 3,85,000 کلومیٹر دور چاند کی سطح سے 14 میٹر حجم کی کسی چیز کے ٹکرانے کا سراغ لگانا آسان نہیں ہوگا، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔
تصویر کو واضح کرنے کے لیے امیج پروسیسنگ میں گھنٹوں، دنوں یا حتیٰ کہ ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ سائنس دان حاصل شدہ معلومات کا جائزہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔
چونکہ محققین کو پہلے ہی راکٹ کے درست حجم، رفتار اور تصادم کے مقام کا علم ہے، اس لیے یہ واقعہ محض ایک حادثاتی تصادم کے بجائے ایک نایاب اور کنٹرول شدہ تجربے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
سیاروی سائنس دانوں کے لیے یہ ایک خواب جیسا موقع ہے، کیونکہ اس سے انھیں ان ماڈلز کو جانچنے کا موقع ملتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے گڑھے کیسے بنتے ہیں، سطح پر ملبہ کیسے پھیلتا ہے اور چاند کے اندرونی حصوں میں ارتعاش کیسے پیدا ہوتا ہے۔
اس کی عملی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
یہ سمجھنے سے کہ شہابِ ثاقب کے ٹکرانے پر کتنی چٹان اور گردوغبار فضا میں بکھرتا ہے، انجینئروں کو زیادہ محفوظ لینڈر اور مستقبل کے قمری اڈے ڈیزائن کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ اڑنے والا ملبہ کتنی دور تک جا سکتا ہے اور اردگرد کی زمین کتنی شدت سے ہل سکتی ہے۔
ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے؟
سطح کے نیچے سے باہر آنے والا مواد چاند کی ارضیاتی ساخت کے بارے میں نئے اشارے فراہم کرتا ہے، جس سے سائنس دانوں کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تقریباً 4.5 ارب سال پہلے زمین اور چاند کے نظام کی تشکیل کیسے ہوئی تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئی انسانی ساختہ چیز چاند سے ٹکرائی ہو۔ 1959 سے اب تک درجنوں خلائی جہاز چاند سے ٹکرا چکے ہیں، کچھ حادثاتی طور پر اور کئی سائنسی مقاصد کے لیے جان بوجھ کر۔
سوویت یونین کا لونا 2 اس نوعیت کا پہلا مشن تھا۔ اس کے بعد 1960 کی دہائی میں ناسا کے رینجر مشن، اپالو دور کے متعدد راکٹ مرحلے، اور پھر 2009 میں ایل کراس مشن آیا، جسے چاند پر پانی کی برف کی تلاش کے لیے جان بوجھ کر چاند سے ٹکرایا گیا تھا۔
2022 میں پیش آنے والا آخری تصدیق شدہ حادثاتی تصادم 2014 میں لانچ کیے گئے ایک چینی قمری مشن کے باقی رہ جانے والے بوسٹر کے باعث ہوا تھا۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اس قسم کا خلائی ملبہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے خاموشی کے ساتھ ہمارے سروں کے اوپر جمع ہوتا رہا ہے۔