ایران پر حملے، سخت بیانات اور اسلام آباد معاہدے کے مستقبل پر سوال: کیا ٹرمپ کے پاس تہران سے مذاکرات کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے؟

    • مصنف, جیریمی بوون
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ایران کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ مذاکراتی معاہدے کے امکانات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، کیونکہ وہ بہرحال دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کے صدر ہیں۔

ترکی میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اب ان کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا، وہ انتہائی خراب لوگ ہیں۔ آپ جانتے ہیں خراب لوگ کسے کہتے ہیں؟ وہ خراب لوگ ہیں۔ وہ بیمار ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی قیادت بیمار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ظالم اور تشدد پسند لوگ ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انھیں استعمال کرتے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

تاہم کیا یہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کے آخری الفاظ ہیں؟ بظاہر ایسا نہیں۔ وہ جنگ اور اس دوران زیرِغور مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے مسلسل بیانات دیتے رہے ہیں۔ ان کے مؤقف میں کبھی کامیابی کے دعوے سامنے آئے، کبھی ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کبھی مذاکرات کی حمایت کی گئی۔

بعد میں ٹرمپ نے اپنی تازہ دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر آج رات (یعنی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب) انھیں دوبارہ زیادہ سخت نشانہ بنائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں نے انھیں ایک چھوٹی سی وارننگ دی تھی۔ ہم آج رات انھیں دوبارہ سخت جواب دیں گے۔‘

ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی امریکہ کی صلاحیت پر کوئی شبہ نہیں، لیکن اب تک امریکہ یہ نہیں کر سکا کہ وہ ایرانی حکومت کو اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرے، جن میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کنٹرول کا معاملہ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ کے تازہ سخت بیانات کے درمیان ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں جب ایران اپنے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کئی روزہ سوگ کی تقریبات سے گزر رہا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کو جنگ کے پہلے روز، 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی کارروائی میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے اور خلیج میں امریکہ کے بعض عرب اتحادیوں کی شمولیت کے بعد کیا مذاکرات ختم ہو چکے ہیں؟ تو انھوں نے اپنے مذاکرات کاروں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘

ایرانی حکومت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’یہ سب جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں۔‘

ان بیانات کو اس بات کے اعتراف کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی بہتر راستہ موجود نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

تاہم مذاکراتی عمل انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنے والے ثالثوں میں شامل ایک ذریعے نے موجودہ صورتحال کو ’یقینی طور پر ایک دھچکا‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا ماحول ’انتہائی کشیدہ‘ ہے۔

سفارتی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دو ایسے ممالک کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں جن کے درمیان اعتماد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور دونوں فریق اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں دوسرا فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کی بنیادی وجہ تہران حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے والی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی۔

ایرانی حکومت آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کو روکنے کی صلاحیت ایران کو عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کا ایک طاقتور ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

یہ اختیار اس امکان کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ استعمال ہتھیار سمجھا جاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرے گا۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مفاہمت کی یادداشت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے بھی تیار ہے، حالانکہ اس معاہدے میں ایران کے لیے کئی ممکنہ مراعات شامل ہیں۔

تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب حالات ماضی کی طرف واپس نہیں جائیں گے۔ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے خیال کے مطابق حقوق کے تحفظ کے لیے طویل جنگ کا خطرہ مول لینے کو بھی تیار دکھائی دیتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی حکومت کو ختم کرنے کی کوششوں کی ناکامی نے تہران حکومت کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات نے بھی یہ ظاہر کیا کہ اسلامی جمہوری نظام کو اب بھی ایک مضبوط حمایت حاصل ہے۔

تاہم ملک کے اندر موجود مخالفت ختم نہیں ہوئی۔ لیکن جنوری میں سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکومت کی سخت کارروائی، جس میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، کے بعد اندرونی اپوزیشن فی الحال محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔

اگر دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جا سکے تو مذاکراتی عمل میں شامل ثالثوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ممکن ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری رہ سکے۔

اس کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی ضرورت ہوگی جس میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں، ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے اور سب سے بڑھ کر تہران کے لیے یہ تسلیم کیا جائے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا اختیار برقرار رہے گا۔

اس کے بدلے میں ایران کو یورینیم افزودگی پر پابندیاں قبول کرنا ہوں گی، اقوامِ متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دینا ہوگی اور ان ذخائر کی وضاحت کرنا ہوگی جنھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’جوہری گرد‘ قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا افزودہ یورینیم جو جوہری ہتھیار بنانے کے قریب کی سطح تک پہنچ چکا ہو۔

تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ ایسے معاہدے تک پہنچنا کتنا مشکل ہوگا۔