ڈاکٹر آصف محمود: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نئے پاکستانی نژاد سربراہ جو ماضی میں کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے متفقہ طور پر پاکستانی نژاد امریکی شہری آصف محمود کو اپنا چیئر پرسن منتخب کیا ہے۔

2024 کے دوران امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر حکیم جیفریز نے آصف محمود کو کمیشن میں تعینات کیا تھا اور پھر 2026 میں انھیں دوسرے دور کے لیے دوبارہ تعینات کیا گیا۔ اس سے قبل آصف محمود کمیشن کے نائب چیئر تھے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے آصف محمود ایک ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے نئے سربراہ بننے پر آصف محمود نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان کے ایک چھوٹے گاؤں سے دنیا میں مذہبی آزادی یا عقیدے کی آزادی کے دفاع کے لیے سب سے نمایاں اداروں میں سے ایک کی قیادت کرنا ایک غیر معمولی سفر ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ ادارہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کرتا ہے۔ دریں اثنا آصف محمود ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر کانگریس کا الیکشن بھی لڑیں گے جو نومبر 2026 میں ہو گا۔

ڈاکٹر آصف محمود کون ہیں؟

ڈاکٹر آصف محمود ایک پاکستانی نژاد امریکی معالج، ڈیموکریٹ سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں جن کا شمار امریکی سیاست میں نمایاں پاکستانی امریکی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے بقول وہ پاکستان کے ایک چھوٹے گاؤں میں پیدا ہوئے۔

ان کی انتخابی مہم کے مطابق وہ پاکستان میں طب کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ آئے اور 1999 سے جنوبی کیلیفورنیا میں مقیم ہیں، جہاں وہ پلمونولوجسٹ اور داخلی امراض کے ماہر ہیں۔ عوامی بیانات میں وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی مریض ہیلتھ انشورنس نہ رکھتا ہو تو ان کا کلینک علاج سے انکار نہیں کرتا۔

مختلف انٹرویوز میں وہ یہ بتا چکے ہیں کہ امریکی سیاست میں ان کی دلچسپی پاکستانی امریکی برادری کی محدود سیاسی نمائندگی کے احساس سے پیدا ہوئی۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ امریکہ آنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ پاکستانی نژاد افراد ڈاکٹر، انجینئر اور کاروباری شخصیات تو بن رہے ہیں لیکن منتخب عہدوں اور مرکزی سیاسی دھارے میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود نے ڈیموکریٹک پارٹی میں طویل عرصے تک مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ 2008 سے 2016 تک ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے مندوب رہے اور مختلف صدارتی انتخابی مہمات میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔

2018 میں انھوں نے کیلیفورنیا کے انشورنس کمشنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑا جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

انھوں نے 2022 میں امریکی ایوان نمائندگان کے لیے کیلیفورنیا کے 40ویں کانگریشنل ضلع سے ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا جس میں انھیں ریپبلکن امیدوار ینگ کم سے شکست ہوئی تھی۔

2024 میں انھیں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کمشنر مقرر کیا گیا اور وہ 2025 میں اس کے نائب چیئر بنے۔ اب انھیں اسی ادارے کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

امریکہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق وہ بحران کا شکار خطوں جیسے کشمیر اور ٹیگرے سمیت کئی علاقوں میں جانیں بچانے میں مدد فراہم کر چکے ہیں۔

ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’کیلیفورنیا میڈیکل بورڈ کے دو مدتوں تک رکن رہنے والے ڈاکٹر محمود مریضوں کے حقوق کے پُرجوش حامی ہیں اور تمام طبقات کے لیے طبی سہولتوں اور بیمہ جاتی کوریج تک بہتر رسائی کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

پاکستان اور انڈیا سے متعلق سرگرمیاں

ڈاکٹر آصف محمود گذشتہ برسوں کے دوران کئی بار عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ جولائی 2025 میں عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان نے امریکہ میں ریپبلکن رہنما رچرڈ گرینیل سے ملاقات کی تو اس میں آصف محمود بھی شریک تھے۔

رواں سال فروری عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق اطلاعات پر انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر عمران خان کے لیے اعلیٰ درجے کی طبی نگہداشت درکار ہو تو کیلیفورنیا کے عالمی معیار کے طبی ادارے جامع علاج کی سہولت فراہم کرنے میں مدد کے لیے دستیاب ہیں۔‘

جبکہ انڈیا کے حوالے سے آصف محمود کی سرگرمیاں زیادہ تر مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور کشمیر کے مسئلے پر مرکوز رہی ہیں۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے وابستگی کے دوران وہ انڈیا میں مسلمانوں، سکھوں، مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

مارچ 2026 کے دوران یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں امریکی حکومت کو یہ سفارش کی گئی تھی کہ انڈیا کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے ’خاص تشویش‘ پائی جاتی ہے۔ کمیشن نے جن اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی ان میں آر ایس ایس اور خفیہ ایجنسی ریسرچ را بھی شامل تھے۔ تاہم انڈین وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو ’سیاسی ایجنڈے پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ ان کی عوامی پوسٹس اور بیانات میں شہریت ترمیمی قانون، کشمیر کی صورتحال، ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح اور مذہبی آزادی کے معاملات پر تنقیدی موقف دیکھا گیا ہے۔

8 جون کو اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات پر آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ جبکہ میں اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔‘