آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز سے متعلق پوسٹ: دو کروڑ جرمانے کے بعد نسیم شاہ کی معذرت، ’وہ ٹویٹ میرے خیالات کی عکاسی نہیں کرتی تھی‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے سینٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے دو کروڑ روپے جرمانہ کیے جانے کے بعد معذرت کر لی ہے۔
پیر کی شب ایکس پر اپنے بیان میں نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ اُن کی مینجمنٹ کی جانب سے اُن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کی گئی تھی جو اُن کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتی تھی۔
نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے غلط استعمال سے جس کسی بھی دل آزاری ہوئی ہے، اس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔‘
اس سے قبل پی سی بی نے سینٹرل کانٹریکٹ کی خلاف ورزی پر فاسٹ بولر نسیم شاہ پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا تھا۔
پی سی بی کے مطابق ’نسیم شاہ نے اپنے سینٹرل کانٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
یاد رہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کانٹریکٹ اور پی سی بی سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے 27 مارچ کو نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نسیم شاہ نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا اور ’اس کا جائزہ لینے کے بعد 30 مارچ کو تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے انھیں بلا کر بھی ان کا مؤقف سنا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرکٹ بورڈ کے مطابق نسیم شاہ کی پیش کردہ وضاحتوں کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگرچہ نسیم شاہ غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں، اس کے باوجود ’انھوں نے اپنے سینٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی ہے لہذا ان پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔‘
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق: ’اس بات کو نوٹ کیا گیا کہ نسیم شاہ پہلے ہی اپنے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو برطرف کر چکے ہیں اور پی سی بی نے اس ایڈوائزر کو مستقبل میں اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ کام کرنے سے بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
پی سی بی نے کہا کہ وہ پیشہ ورانہ معیار، معاہدے کی ذمہ داریوں اور کھیل کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
نسیم شاہ پر الزام ہے کیا؟
جمعرات 26 مارچ کو پاکستان سپر لیگ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قذافی سٹیڈیم آمد کے موقع پر نسیم شاہ کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی تھی جس میں درج تھا کہ ’ان کے ساتھ ملکہ کی طرح کا برتاؤ کیوں کیا جا رہا ہے؟‘
نسیم شاہ کے ایکس اکاؤنٹ سے یہ پوسٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس تقریب سے متعلق جاری کیے گئے اعلامیے پر کی گئی جس میں مریم نواز، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے ہمراہ کھلاڑیوں سے مل رہی تھیں۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی تھی، جس میں نسیم شاہ کے فینز اور کرکٹ مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ نسیم شاہ کے لیے مستقبل میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
نسیم شاہ کا مؤقف تھا کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا جسے بعد میں کامیابی سے بحال کرا لیا گیا تھا۔
اسی معاملے پر پی سی بی کی جانب سے نسیم شاہ کو سینٹرل کنٹریکٹ اور میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے شوکاز نوٹس بھیجا گیا۔
ایک بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ یہ شوکاز نوٹس ڈسپلنری فری ورک کے تحت بھیجا گیا تھا۔
خیال رہے کہ نسیم شاہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ’راولپنڈیز‘ میں شامل ہیں، جس نے اُنھیں آٹھ کروڑ 65 لاکھ روپے کے عوض خریدا تھا۔
پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب اور مریم نواز کی شرکت
مشرقِِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور خطے کی صورتحال کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے میچز شائقین کے بغیر کروانے کا اعلان کیا تھا۔
پی سی بی نے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب بھی منسوخ کر دی تھی، تاہم جمعرات کو پی ایس ایل کے پہلے میچ سے پہلے ایک مختصر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک ہوئیں۔
پی سی بی کی جانب سے اس تقریب کی تصاویر جاری کی گئیں، جن میں مریم نواز کے ہمراہ صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی ہیں اور مریم نواز کو فرنچائز مالکان، کھلاڑیوں اور امپائرز کے ساتھ ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے۔
نسیم شاہ کے ایکس اکاونٹ سے انھی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے مریم نواز سے متعلق ٹوئٹ کی گئی جسے کچھ دیر بعد حذف کر کے نسیم شاہ کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی۔
لیکن اس سے پہلے ہی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن چکا تھا۔
’نسیم شاہ اب آپ کے لیے بہت مشکلات ہوں گی‘
شیری نامی صارف نے لکھا کہ ’نسیم شاہ یہ آپ نے کیا کر دیا، آگے چل کر آپ کے لیے بہت سی مشکلات ہوں گی۔‘
عمارہ نے لکھا ’نسیم شاہ کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔ ان پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے اور کسی کھلاڑی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔‘
کچھ صارفین نے سوال اُٹھایا کہ ’اب تو ایکس اکاونٹ ہیک کرنا بہت مشکل ہے، کہیں نسیم شاہ کی وضاحت اُن کی پہلے کی گئی ٹویٹ کا نقصان کم کرنے کی کوشش تو نہیں؟‘
حیات الرحمن نامی صارف نے نسیم شاہ کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ نسیم شاہ ایسی ٹویٹ کریں، اُن کا اکاونٹ ہیک ہو گیا ہو گا۔‘
23 سالہ نسیم شاہ پاکستان کی جانب سے اب تک 20 ٹیسٹ، 34 ون ڈے اور 37 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔
راولپنڈیز سے قبل وہ اسلام آباد اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں۔
اگر ایکس اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو پھر کیا کیا جائے؟
اگر کسی وجہ سے کسی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے اور اس کے پاس اکاؤنٹ تک رسائی نہیں رہتی تو وہ ایکس (سابق ٹوئٹر) کے ’ہیلپ سینٹر‘ کے لنک پر جا کر وہ موجود فارم میں تفصیلات درج کر کے بھی اپنا اکاؤنٹ واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
ہیلپ سینٹر کے لنک پر پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ ہیک ہونے کے بعد بھی اپنا ایکس اکاؤنٹ استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے مطابق آپ کو اگلا سوال دیکھایا جاتا ہے۔
اگر اکاؤنٹ تک رسائی نہیں رہی تو صارف سے اس کا ہینڈل اور اکاؤنٹ سے منسلک ای میل کا پوچھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پوچھا جاتا ہے کہ آخری دفعہ اکاؤنٹ تک رسائی کب ہو رہی تھی اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ بناتے ہوئے کون سا ای میل یا فون نمبر استعمال کیا گیا تھا۔
اس کے بعد آپ سے مزید معلومات لی جاتی ہیں کہ آیا اس ای میل تک آپ کی رسائی ہے یا جو فون نمبر آپ نے بتایا ہے اس پر آپ کو ایس ایم ایس موصول ہو جاتا ہے، آپ کس ملک میں مقیم ہیں، آپ کو کیا شک ہے کہ کیسے آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہوا، اپنے مسئلے کی تفصیل لکھیے، اگر کوئی سکرین شاٹ ہے تو وہ ہیلپ سینٹر کو فراہم کیجیے۔
یہ معلومات جمع کروائی جاتی ہیں اور اس کے بعد ایکس رسائی بحال کرنے کے لیے مناسب کارروائی کرتا ہے۔
اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اکاؤنٹ کی رسائی حاصل ہے تو وہ آنے والے فارم میں آپ سے آپ کا ای میل، یوزر نیم یا فون نمبر وغیرہ مانگے جاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے ای میل یا نمبر پر کوڈ بھیجا جاتا ہے۔ کوڈ کے کامیابی سے اندراج کے بعد ایکس آپ کو نیا پاس ورڈ درج کرنے کا کہتا ہے۔