آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی میڈیا کا امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کی ’ریورس انجینیئرنگ‘ کا دعویٰ: ’میدان جنگ دفاعی صنعت کے لیے ریسرچ لیبارٹری ہے‘
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ایرانی میڈیا اور تجزیہ کار حالیہ تنازع کے دوران ملک میں گِر کر نہ پھٹنے والے امریکی اور اسرائیلی گولا بارود کو تہران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک ’سٹریٹجک موقع‘ قرار دے رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے 26 اپریل کو رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ہرمزگان صوبے میں ’15 بھاری امریکی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ‘ بنا دیا ہے اور ان ہتھیاروں کو ’ریورس انجینیئرنگ کے لیے ٹیکنیکل اور ریسرچ یونٹس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘
پریس ٹی وی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان ہتھیارو میں ایک جی بی یو 57 بنکر بسٹر بم بھی شامل ہے۔
ریورس انجینئرنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی ہتھیار، چیز، سافٹ ویئر یا مشین کو کھول کر اور اس کے حصوں کا تجزیہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اسے کیسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
’تحفہ‘
ایران کے سخت گیر سٹوڈنٹ نیوز نیٹورک نے ان بموں کی دریافت کو ایک ’تحقہ‘ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ’میدان جنگ اب ملک کی دفاعی صنعت کے لیے ایک ریسرچ لیبارٹری بن چکا ہے۔‘
سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کے مطابق نہ پھٹنے والے ہتھیاروں کو تجزیے کے لیے لیبارٹری منتقل کرنا ایران کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ’دشمن کی خطرناک ٹیکنالوجی کی تخلیقی نقل کر کے اس صورتحال کو ایک سٹریٹجک موقع میں بدل دے۔‘
سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک نے مغربی تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں ’اصل تشویش‘ اس بات پر ہے کہ ایران جدید امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کو ’ڈی کوڈ‘ کر رہا ہے۔
اس رپورٹ میں ریورس انجیںیئرنگ کو ایران پر عائد پابندیوں کے باعث ایک طویل عرصے سے ناگزیر ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ماضی کی کوششوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں، جن میں امریکی ساختہ ہاک میزائلوں کی نقل اور 2011 میں آر کیو 170 ڈرون کو قبضے میں لینا شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی تجزیہ کار اور حکومتی حامی کیا کہتے ہیں؟
ایران کے انتہائی سخت گیر اخبار کیہان کے چیف ایڈیٹر شریعتمداری نے ان ’کامیابیوں کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی استعمال‘ کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران ’ریورس انجینئرنگ کرے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی کو امریکہ کے حریف ممالک، جیسے چین اور روس، کے ساتھ شیئر کرے۔‘
شریعتمداری نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ہتھیاروں کی ’خاصی بڑی تعداد‘، جن میں ٹوماہاک، اے جی ایم 158 میزائل اور ایم کیو نائن ڈرونز شامل ہیں، ایران میں ناکام ہوگئے تھے۔
سرکاری میڈیا سے وابستہ شخصیات نے بھی اسی پیغام کو دہرایا۔ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک میزبان نے کہا کہ ناظرین کو ’یقین ہونا چاہیے کہ نہ پھٹنے والے میزائلوں کی ریورس انجینئرنگ کی جائے گی اور انھیں بطور تحفہ واپس کر دیا جائے گا‘، جس سے مستقبل میں مخالفین کے خلاف ان ہتھیاروں کے استعمال کا عندیہ ملتا ہے۔
سخت گیر اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی آن لائن صارفین نے ان اطلاعات کو ’ہمارے لیے اچھی اور امریکہ کے لیے بری خبر‘ قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ بعض نے جلد بڑے پیمانے پر ان ہتھیاروں کی تیاری کی پیش گوئی بھی کی۔
تہران میونسپلٹی کے ایک عہدیدار احسان خرامید نے اس معاملے کو ’محض ایک خبر نہیں‘ بلکہ ’علمی جنگ کے آغاز‘ سے تعبیر کیا اور مغربی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برآمد ہونے والا سازوسامان امریکی ٹیکنالوجی کی ’پوشیدہ تہوں‘ کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار احسان تقدسی نے دعویٰ کیا کہ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر امریکہ کو نئے ہتھیاروں پر ’اربوں ڈالر‘ خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ عسکری طور پر بھی ’زیادہ محتاط‘ ہو جائے گا۔