تکنیکی مذاکرات جاری، پیش رفت اطمینان بخش: امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو غیر سرکاری طور پر فراہم کیے گئے بیان میں، دوحہ میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ملاقاتوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی خطے کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ’بہت مثبت‘ رہی ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات بدستور جاری ہیں اور ان میں ہونے والی پیش رفت اطمینان بخش ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت ایک بار پھر تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار نے دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک فریقین یا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ براہِ راست، اعلیٰ سطح مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سے ایک روز قبل، منگل کو قطری وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کی ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات طے نہیں ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ٹرمپ کے نمائندے ثالثوں سے ملاقات کریں گے اور مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالر کے فنڈز تاحال تہران کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر آج دوحہ میں امریکی وفد کے ساتھ ایک ملاقات ہوگی۔
اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ’اعلیٰ سطح‘ ملاقات میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔
تاہم کچھ ہی دیر بعد تہران نے ایک وفد کے قطر جانے کی تصدیق کی، لیکن یہ واضح کیا کہ اس کی امریکی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اور ایرانی وفد کا سفر ’مفاہمتی یادداشت کی شقوں، بالخصوص شق 11، پر عملدرآمد کی پیروی‘ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ’کسی بھی سطح پر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔‘





