آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کا امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، کویت کا ’میزائل اور ڈرون حملے‘ روکنے کا اعلان

ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے حملے کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی کویتی فوج کی جانب سے کہا گیا: ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

خلاصہ

  • تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ
  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا: ایران
  • ٹرمپ کا ایران معاہدہ دیگر ممالک کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرنے کا عندیہ
  • امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کا رویہ دیگر ممالک جیسا نہ ہوا تو ’ہمیں اس کو تباہ کرنا پڑے گا‘
  • ہم ایران کے ساتھ مذاکرات سے ابھی مطمئن نہیں، لیکن ہو جائیں گے: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی وزارت خزانہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں اس ادارے کے قیام کو پاسداران انقلاب کی جانب سے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

    ایران نے آبنائے ہرمز بند کیے جانے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے بعد جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کے لیے اس ادارے کو قائم کیا تھا۔

    ایک بیان میں آبنائے خلیج فارس اتھارٹی نے آبنائے ہرمز میں ’نگرانی کے دائرہ کار‘ کا نقشہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس علاقے میں آمد و رفت ’اس ادارے کے ساتھ ہم آہنگی سے مشروط‘ ہے۔

    اس بیان کے مطابق یہ دائرہ کار آبنائے کے مشرق میں ’ایران کے کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی لکیر‘ سے لے کر مغرب میں ’ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے اور متحدہ عرب امارات کے ام القیوین کو ملانے والی لکیر‘ تک پھیلا ہوا ہے۔

  2. اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے: پاسداران انقلاب

    ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔

    پاسداران انقلاب کا بیان خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا۔ اس کے مطابق ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔‘

    خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔‘

    امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا پاسداران انقلاب کا بیان کویت کی فوج کے اس بیان کے ساتھ ہی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاسداران انقلاب کا بیان کردہ حملہ اور کویت کے بیان کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان، سینٹکام، نے بھی جمعرات کی صبح ایک بیان میں کہا کہ اس نے چار ایرانی ڈرونز اور ایک ڈرون لانچ کرنے کے مقام کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام نے اس حملے کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی بیان کیا تھا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جسے انتباہی فائرنگ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

  3. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کر کے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا: ایران

    کچھ دیر پہلے رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے تین دنوں کے دوران ایران پر دوسرا حملہ کیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ جسے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

    اب اس حوالے سے ایران کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔

    انڈیا کے شہر ممبئی میں ایرانی قونصل خانے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا: ’(خبر رساں ادارے) تسنیم سے بات کرنے والے ایک با خبر فوجی ذریعے کے مطابق ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔‘

    بیان کے مطابق ایران کی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی اور جہاز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

    ایرانی قونصل خانے کی پوسٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے بندر عباس کے قریب ایک غیر آباد علاقے پر فائرنگ کی۔ علاقے میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں اسی واقعے سے منسلک تھیں۔‘

    ایکس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  4. کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے: فوج

    کویتی فوج کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

    پاکستانی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 40 منٹ پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

    کویتی فوج کی ایکس پوسٹ میں شہریوں سے کہا گیا: ’گزارش ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔‘

  5. تین دن میں امریکہ کا ایران پر دوسرا حملہ

    امریکی فوج نے ایران میں نئے حملے کیے ہیں، جن میں ساحلی شہر بندر عباس کے ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فورسز نے چار ایرانی حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے ’جو آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بن رہے تھے۔‘

    سینٹکام کے بیان میں گیا گیا کہ امریکی فوج نے بندر عباس میں ایران کے عسکری مقام کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کیا جانے والا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرق میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مذاکرات جاری ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق یہ نئے حملے اس نے اپنے دفاع کی خاطر ایک ’محتاط‘ در عمل کے تحت کیے۔

    اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

    سینٹکام نے اس حملے کو بھی اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دیا تھا۔

    ایران نے پیر کے روز ہوئے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا اور عزم ظاہر کیا تھا کہ ایرانی حکومت ’ہر حملے کا جواب دے گی۔‘

    ایران کے پاسداران انقلاب نے منگل کو یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور ایک لڑاکا طیارے اور ایک اور ڈرون پر فائرنگ کی۔ تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ واقعہ پیش کب آیا۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف ایران کو جوابی کارروائی کا ’جائز اور قطعی‘ حق حاصل ہے۔

  6. ٹرمپ کا ایران معاہدے کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرنے کا عندیہ، عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک فوراً معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو جائیں۔‘

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا: ’ایمانداری سے بات کروں تو they owe it to us‘۔ یعنی وہ ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی ہماری بات ماننے کے پابند ہیں۔

    پھر انھوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کو مخاطب کر کے پوچھا: ’سٹیو!ً کیا آپ انھیں (معاہدے پر) دستخط کے لیے آمادہ کر لیں گے؟‘

    اس پر جواب دیا گیا: ’جناب صدر! ہم یقینی طور پر اس کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر انھوں نے دستخط نہ کیے تو میں پُر یقین نہیں ہوں کہ کیا ہمیں معاہدہ کرنا بھی چاہیے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم بھرپور انداز میں درخواست کریں گے کہ وہ اس (معاہدہ ابراہیمی) میں شامل ہوں۔‘

    رپورٹر نے سوال کیا، تو کیا ایران کے ساتھ معاہدہ اس بات کے ساتھ مشروط ہو گا کہ مزید ممالک بھی معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنیں؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا، میں نہیں بتانا چاہتا کہ کیا مشروط ہے اور کیا نہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم ابھی ایک اچھا معاہدہ کر سکتے ہیں لیکن شاید وہ زبردست معاہدہ نہ ہو۔ اور اگر وہ معاہدہ زبردست نہیں ہے تو ہم کر ہی نہیں رہے۔‘

    امریکی صدر سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا وہ ایک ایسا قلیل مدتی معاہدہ قبول کر لیں گے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں؟

    اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہر کسی کے لیے کھلی رہے گی۔ ہم اس کی نگرانی کر رہے ہوں گے لیکن کوئی بھی اس پر کنٹرول نہیں کر رہا ہو گا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ عمان کا رویہ بھی ایسا ہی ہو گا جیسا کہ دیگر ممالک کا ہو گا ورنہ ’ہمیں اس کو تباہ کرنا پڑے گا، وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔‘

  7. آبنائے ہرمز پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی پر بات نہیں ہو رہی: صدر ٹرمپ

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ’سب کے لیے کھلی‘ ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اسے (آبنائے ہرمز کو) کنٹرول نہیں کرے گا۔ ہم اس کی نگرانی کریں گے، اسے دیکھیں گے لیکن اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کرے گا۔ یہ ان مذاکرات کا حصہ ہے جو ہم کر رہے ہیں۔‘

    اس موقع پر صدر ٹرمپ سے سوال ہوا کہ کیا وہ ایران کو تیل کی فروخت کی اجازت دینے کے لیے اس پر عائد پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’نہیں، ہم اس وقت پابندیوں میں نرمی یا پیسے دینے پر بات چیت نہیں کر رہے۔ نہ پابندیاں ہٹ رہی ہیں اور نہ پیسے دیے جا رہے ہیں۔‘

    ’ہمارے پاس اس پیسے کا کنٹرول ہے جسے ایران اپنا کہتا ہے۔ جب تک وہ درست برتاؤ نہیں کرتے ہم اس پیسے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ جب وہ درست برتاؤ کریں گے تو ہم انھیں ان کے پیسے تک رسائی دے دیں گے۔ لیکن ہم فی الحال ایسا نہیں کر رہے۔‘

  8. مذاکرات میں اچھی طرح آ گے بڑھ رہے ہیں، ایران کے ساتھ ’بہترین‘ معاہدہ چاہتے ہیں: امریکی صدر

    امریکی کابینہ کے اجلاس میں ایران کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت بھی ایران کے ساتھ ’اچھا معاہدہ‘ کر سکتا ہے لیکن ’شاید وہ بہترین نہ ہو۔‘

    ’اگر یہ معاہدہ بہترین نہیں ہوگا تو ہم کریں گے ہی نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ مذاکرات میں اچھی طرح سے آگے بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے آ گے نہیں بڑھا تھا ’لیکن اب ہم مختلف لوگوں کے ایک گروہ سے بات کر رہے ہیں، جو کہ میں سمجھتا ہوں عقلمند اور مناسب ہیں۔ یہ ایک طریقے سے حکومت کی تبدیلی ہی ہے۔‘

  9. اُمید ہے کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا: شہباز شریف کی ایرانی ہم منصب سے فون پر گفتگو

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق تقریباً تیس منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ممالک کے عوام اور پوری مسلم اُمہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    ایرانی صدر نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی ان کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے موجودہ بحران کے دوران ایرانی شہریوں کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے ایرانی صدر کے خیرسگالی کے جذبات پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ اُمید رکھتے ہیں کہ امن معاہدہ جلد طے پا جائے گا اور یہ ایرانی قوم کے وقار کے مطابق ہوگا۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے قیام سے ایران کی معاشی صلاحیت کو فروغ ملے گا جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا اور امن کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے لیے روشن مستقبل موجود ہے۔

    گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے اور قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  10. ہم معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ راستہ کام نہ کرے تو صدر کے پاس اور بھی آپشنز موجود ہیں: امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے کہنے پر اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح کہا کہ ’ایران دنیا میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہییں۔‘

    مارکو روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہمیشہ یہ ترجیح رہی ہے کہ ان معاملات کو ’مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا ہم کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ سفارتکاری ہمیشہ پہلا آپشن ہوتی ہے اور ہم اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ممکن ہو سکا، تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ معاہدہ طے پا جائے،‘ اور مزید کہا کہ ’آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں دیکھا جائے گا کہ کیا پیشرفت ہو سکتی ہے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’میں صرف سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں، اور مسٹر صدر، آپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں، کہ اگر یہ راستہ کام نہ کرے تو آپ کے پاس دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم مذاکرات اور سفارتکاری کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دیا جائے۔ آپ (ٹرمپ) بھی اس کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع فراہم کر رہے ہیں۔‘

  11. ہم ایران کے ساتھ مذاکرات سے ابھی مطمئن نہیں، لیکن ہو جائیں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے‘ اور ’ہم ابھی اس سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن (یہ کامیاب) ہو جائیں گے۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یا تو یہ اسی طریقے سے حل ہو جائے گا، یا پھر ہمیں اسے ختم کرنا پڑے گا۔‘

    ایرانی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ کمزوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں واپس جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ کرنا پڑے۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی قیادت ’معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار ہے۔‘

  12. ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس وقت ایسا لگتا ہے کہ وہ (ایرانی) صرف معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، میرے خیال میں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے والا ملک جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

  13. ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں: ایرانی میڈیا

    ایران کے خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر آئندہ چند گھنٹوں میں یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن (جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے کہا کہ: ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ابھی کچھ مسائل حل طلب ہیں، اور جب تک ایران سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو جاتے، کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘

    ذرائع کے مطابق ’اگر یہ باقی ماندہ معاملات مکمل طور پر حل ہو جائیں تو ایران خود باضابطہ طور پر نتائج کا اعلان کرے گا۔‘

    فارس نیوز نے مزید لکھا کہ ’باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی یکطرفہ طور پر ایران-امریکہ معاہدے کے حتمی ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عوامی رائے پر اثر انداز ہونے اور تنازع پوری طرح حل ہونے سے پہلے ہی معاہدے کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  14. گذشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے 23 جہاز گزرے، پاسداران انقلاب

    پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی اجازت سے 23 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ پاسداران کی بحریہ نے ایک روز قبل بھی بتایا تھا کہ اس کی ہم آہنگی سے 25 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

    اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ابتدائی اور غیر رسمی مسودہ موصول ہوا ہے۔

    اس مبینہ مسودے کے مطابق ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔

  15. بریکنگ, ایرانی میڈیا کا امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کی تردید

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسے تہران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کا ایک ابتدائی اور غیر سرکاری مسودہ موصول ہوا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ مفاہمت کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کو جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے اطراف میں تعینات اپنی فوجی موجودگی ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی بھی اٹھا لے گا۔

    اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہازوں کے راستوں کے انتظام کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے گی۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سلامتی کے نائب سربراہ، علی باقری کنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر مشترکہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے شرائط اور طریقہ کار ایران سے متعلق تنازع سے پہلے کی صورتحال سے مکمل طور پر مختلف ہوں گے۔

    علی باقری کنی نے مزید کہا کہ ’جب تک ہم تمام مسائل پر اتفاق نہیں کر لیتے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق نہیں ہوا۔‘

    وائٹ ہاؤس سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی یہ رپورٹ درست نہیں ہے اور جس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو انھوں نے ریلیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہ مکمل طور پر من گھڑت ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات پر کسی کو یقین نہیں کرنا چاہیے۔ حقائق ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

  16. لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج: ’عید کے دن بھی خوشی میسر نہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا اہتمام تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کیا تھا۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔

    مظاہرین اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی بازیابی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

    مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، نیاز بلوچ اور بزرگ سیاسی رہنما مہیم خان بلوچ کے علاوہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ملک بھر میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب وہ اپنے پیاروں کی جدائی کے باعث اس دن بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔

    ان کے مطابق برسوں گزر جانے کے باوجود ان کے عزیزوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم مطالبہ کرتی رہی ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کیا جائے، تاہم ان کے بقول حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب حکومت اس مسئلے کو حل نہیں کر رہی تو ہم اسے سول سوسائٹی کے سامنے لے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری میں متعارف کرائے گئے قانون کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    ان کے مطابق فروری سے اب تک ان کی تنظیم کے پاس مبینہ جبری گمشدگی کے 257 نئے کیسز رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری مراکز میں صرف محدود تعداد میں افراد موجود ہیں۔

    نصراللہ بلوچ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گذشتہ چند ماہ سے سرکاری حکام کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو ختم کروانے کے لیے کیمپ انچارج نیاز بلوچ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

    دوسری جانب سرکاری حکام اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق حکومت نے قانون سازی کے ذریعے لاپتہ افراد کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت مشتبہ افراد کو تحویل میں لے کر مخصوص مراکز میں رکھا جائے گا اور ان کے اہلِ خانہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

  17. ’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا: ایرانی سفارتخانے کی لنڈسے گراہم پر تنقید

    جاپان میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے ایک ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت‘ کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی ایک خودمختار ریاست پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کے منافی ہے اور اسے اس کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بطور ثالث کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’کچھ عرصے سے میرے لیے یہ واضح ہے کہ پاکستان بطور ثالث ایک مشکل انتخاب ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ ’طویل عرصے سے جاری کشیدگی‘ ایک پس منظر ہے۔

    سینیٹر گراہم نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ایرانی فوجی طیاروں کو پاکستانی فضائی اڈوں پر رکھا جا رہا ہے‘، تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیرِ دفاع کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا عدم اعتماد ’تشویش کا باعث‘ ہے اور ان کے بقول یہ مؤقف تاحال برقرار ہو سکتا ہے۔

    سینیٹر گراہم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے مطالبے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

  18. اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس: اسحاق ڈار کے خطاب کے بعد پاکستان اور انڈیا کے مندوبین کے ایک دوسرے پر الزامات

    اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے تنازع کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے ذکر کے بعد انڈیا کے مندوب نے پاکستان کو الزامات کا نشانہ بنایا اور پاکستان کی مندوب نے بھی جوابی الزامات عائد کیے۔

    اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل تحت منعقد کردہ مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا موضوع تھا: ’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانا۔‘

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والے اس مباحثے میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا: ’تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع حل طلب ہے، حالانکہ اس بارے میں سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘

    پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جبر پر قائم نہیں ہو سکتا اور ’نہ ہی یہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پانی کے حوالے سے تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جبر، بے دخلی اور بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ کے ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

    جبکہ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب ہریش پرواتھنینی نے الزام لگایا کہ پاکستان سرحد پار جارحیت کرتے ہوئے ان انڈین علاقوں پر نظر رکھتا ہے جو انڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔

    انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان ’ہزار زخموں کے ذریعے انڈیا کو لہولہان کرنے‘ کے نظریے پر عمل کرتا ہے۔

    اس کا جواب اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت کار صائمہ سلیم نے دیا۔

    انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور ’اس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل در آمد سے انکار کر کے انڈیا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

    صائمہ سلیم نے بھی انڈیا پر پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا الزام لگایا اور پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کا سہولت کار انڈیا کو قرار دیا۔

  19. گذشتہ سال سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح رہا کر دیے گئے

    انڈیا کے بحری حکام نے اعلان کیا ہے کہ جولائی 2025 سے ایران میں قید 10 انڈین ملاح ’مسلسل سفارتی کوششوں‘ کے بعد رہا کر دیے گئے ہیں۔

    انڈیا کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے بتایا کہ گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے جہاز ایم وی ہاربر فینکس کو اپنی تحویل میں لیا تھا اور جہاز پر سوار عملے کو قید کر لیا تھا۔

    اس ادارے نے ایک بیان میں کہا: ’یہ ملاح اب رہا ہو چکے ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں، انھیں جلد از جلد انڈیا واپس بھیجنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔‘

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے عملے کی گرفتاری یا جہاز کی ضبطی کی وجہ کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز ایک آئل ٹینکر ہے جو پیٹرولیم مصنوعات لے جا رہا تھا اور پالاؤ کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔

  20. ایران میں تبریز ایئرپورٹ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے: سول ایوی ایشن تنظیم

    ایران کی سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان کے مطابق تبریز کا بین الاقوامی ہوائی اڈا، جو حالیہ جنگ کے دوران متاثر ہوا تھا، آج سے دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔

    مجید اخوان نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہوائی اڈے کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق، تبریز ایئرپورٹ 21 واں ہوائی اڈا ہے جو جنگ بندی کے بعد پھر سے فعال کیا جا رہا ہے۔

    ایران کے مقامی میڈیا نے گذشتہ ہفتوں میں رپورٹ کیا تھا کہ تبریز پر حملوں کے دوران اس ہوائی اڈے کا رن وے اور کنٹرول ٹاور متاثر ہوا تھا۔

    تبریز ایئرپورٹ ایران کے اہم ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور استنبول، بغداد، دبئی، باکو اور ہیمبرگ سمیت تقریباً نو بین الاقوامی مقامات کے لیے یہاں سے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔

    سول ایوی ایشن تنظیم کے ترجمان نے خبر رساں ادارہ مہر سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 39 روزہ جنگ کے بعد ملک کے ہوائی اڈے بتدریج معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔