آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا: خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی تنبیہ، باقر قالیباف کا اسرائیل سے جنوبی لبنان میں موجود فوج واپس بلانے کا مطالبہ

ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے اسرائیل سے جنوبی لبنان میں موجود اپنی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
  • ایران کی افزودہ یورینیم ضبط کرنے کی جلدی نہیں، معاہدہ منظوری کے لیے کانگریس کو بھیجا جائے گا: صدر ٹرمپ
  • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ’دہشتگردی‘ افغانستان سے ہو رہی ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘
  • پاکستانی وزیرِ دفاع نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔‘
  • حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران، امریکہ مذاکرات کا نیا دور جمعے سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا: عباس عراقچی
  • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت ہو گی: جے ڈی وینس

لائیو کوریج

  1. جنگ کے بعد ایران میں سزائے موت دیے جانے کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا؟, شاداب حاتمی، بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں کئی ماہ کے بد امنی اور جنگ کے بعد کی عدم تحفظ کی صورتحال کے بعد سزائے موت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام ان مقدمات کو قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پھانسیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اور شہری آزادی محدود ہو رہی ہے۔

    یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست خوف کے ذریعے سیاسی اور سماجی تناؤ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اس کی وجہ کیا بیان کی جا رہی ہے؟

    16 جون کو جواد زمانی اور ابوالفضل سعیدی کو دی جانے والی سزائے موت، قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے سلسلے کی تازہ مثال ہے۔

    عدلیہ کے زیرِ انتظام میزان نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں افراد کو ’خدا کے خلاف دشمنی (محاربہ)‘ اور ’زمین پر بد عنوانی‘ کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ یہ الزامات ایران کے قانونی نظام میں عموماً سنگین سکیورٹی جرائم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    دونوں پر شمال مشرقی شہر شاہرود میں مسلح سرگرمیوں، اسلحہ کے استعمال، املاک کو نقصان پہنچانے اور ایک منظم گروہ کا حصہ ہونے کا الزام تھا جسے مبینہ طور پر ’جنوری میں بغاوت کی کوشش‘ سے جوڑا گیا۔ یہ اصطلاح ایرانی حکام رواں سال کے حکومت مخالف احتجاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ایرانی حکام احتجاج کے بعد بنائے گئے مقدمات کو ’مسلح گروہوں‘ اور ’بیرونی حمایت یافتہ عدم استحکام کی کوششوں‘ کے خلاف وسیع مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس مبینہ نیٹ ورک، اس کے حجم یا ملزمان کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کے بارے میں تفصیلی شواہد عوامی سطح پر فراہم نہیں کیے گئے۔

    پھانسیوں کی یہ سزائیں کئی ماہ کی بد امنی کے بعد سامنے آئی ہیں، اس تناظر میں سزائے موت ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ ریاست اب بھی مکمل کنٹرول میں ہے۔

    کیا یہ خوف کے ذریعے باز رکھنے کا طریقہ ہے؟

    انسانی حقوق کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کی تعداد بڑھا کر ریاست یہ تاثر مضبوط کرنا چاہتی ہے کہ اختلاف رائے کے سخت نتائج ہوں گے، خاص طور پر جب یہ مسلح مزاحمت یا احتجاجی تشدد سے جڑی ہو۔

    اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے 15 جون کو خبردار کیا کہ سال کے آغاز سے اب تک ایران میں کم از کم 40 افراد کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے، جن میں 18 مظاہرین بھی شامل ہیں۔

    اگرچہ تہران سیاسی جبر کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن پھانسیوں کی رفتار اور حجم نے عالمی سطح پر تشویش کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں پھانسیوں میں نمایاں اضافے کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہ پھانسیاں منشیات کے جرائم، قتل اور سلامتی سے متعلق مقدمات میں دی گئیں۔

  2. تہران کے سخت گیر حلقے امریکہ، ایران معاہدے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایسے موقع پر جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے، ملک کے سخت گیر حلقوں میں ایک شدید بحث زور پکڑ رہی ہے۔

    ناقدین مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی طے کردہ سرخ لکیر سے انحراف کیا ہے اور اہم سٹریٹیجک اثاثے سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں۔

    جبکہ حکومتی عہدیدار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدے کو اعلیٰ ترین سطح پر منظوری حاصل ہے اور یہ ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔

    سخت گیر عناصر کا مؤقف کیا ہے؟

    15 جون کو تہران نے تصدیق کی کہ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اس سفارتی ’کامیابی‘ کو سراہا اور زور دیا کہ مذاکراتی ٹیم ’کسی بھی صورت میں رہبرِ اعلیٰ (مجتبیٰ خامنہ ‌ای) کی جانب سے مقرر کردہ فریم ورک اور پالیسیوں سے انحراف نہیں کرے گی، اور تمام اقدامات قومی مفادات اور ریاستی رہنما خطوط کے دائرے میں انجام دیے جائیں گے۔‘

    تاہم حکام کی خوش امیدی کے باوجود اس ایم او یو کے خلاف مخالفت زور پکڑ رہی ہے۔

    15 جون کو فارسی نیوز ویب سائٹ دیدبانِ ایران کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سخت گیر رکنِ پارلیمنٹ ابوالفضل ابوترابی نے مؤقف اختیار کیا کہ متوقع امریکہ، ایران ایم او یو، آبنائے ہرمز کے حوالے سے خامنہ ‌ای کی ہدایات کو نظر انداز کرتا ہے۔ انھوں نے اس آبی گزر گاہ کو ایران کا سب سے مؤثر سٹریٹیجک ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ مقتول رہنما آیت اللہ علی خامنہ ‌ای کی رہنمائی میں برسوں کی عسکری تیاری نے اس کی بندش کو ممکن بنایا۔

    قانون ساز کے مطابق آبنائے ہرمز ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ایران کو حریف پر برتری ملتی ہے اور پارلیمنٹ کو اس کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔ ابوترابی نے مزید کہا کہ اراکینِ پارلیمنٹ سپیکر قالیباف کے خلاف آرٹیکل 90 کمیشن میں شکایت دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ہنگامی پارلیمانی اجلاس طلب کرانا چاہتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو باضابطہ بنانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی جا سکے۔

    کن سرخ لکیروں کو اجاگر کیا جا رہا ہے؟

    اسی روز پارلیمنٹ کے انتہائی قدامت پسند دھڑے کے حمید رسائی نے بھی ابوترابی کے ان الزامات کی تائید کی کہ قالیباف نے لیڈر کی ہدایات سے انحراف کیا ہے۔ انھوں نے 11 سوالات پر وضاحت طلب کی، جن میں آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول میں مبینہ رعایتیں، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے بھی آگے بڑھ کر امریکہ سے وعدے اور تہران کے علاقائی اتحادی شامل ہیں۔

    16 جون کو حمید رسائی نے 70 اراکینِ پارلیمنٹ کی فہرست شائع کی جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ قالیباف ان 11 سوالات کا جواب دیں۔

    اسی روز قدامت پسند سیاسی تجزیہ کار صادق کوشکی نے بھی ایم او یو پر تنقید کرتے ہوئے اسے رہبرِ اعلیٰ کے طے کردہ مذاکراتی فریم ورک سے نمایاں طور پر مختلف قرار دیا اور اصرار کیا کہ قالیباف اور عراقچی کو اس معاہدے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔

    اسی دن دیدبانِ ایران نے سخت گیر اخبار کیہان کے اداریے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ رہبر اعلیٰ نے جان بوجھ کر جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے بیان کردہ وژن سے جوہری مسئلے کو خارج رکھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جوہری مذاکرات عملاً ختم ہو چکے ہیں اور مزید بحث کا موضوع نہیں رہے۔

    اخبار نے تنازعے کو محض پابندیوں میں نرمی تک محدود کرنے کے خلاف خبردار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ سے فاتح بن کر نکلا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عہدیدار کو حتمی مذاکرات کے دوران رہبر کی سرخ لکیروں کو کمزور کرنے یا عبور کرنے کا حق نہیں۔

    دریں اثنا رکنِ پارلیمنٹ ملک شریعتی نے خبردار کیا کہ ایم او یو پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ ایران تصادم کی حالت سے باہر آ گیا ہے، اور کہا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے دشمنی پر مبنی کارروائی اب بھی ممکن ہے۔

    عہدیدار اتحاد پر زور کیوں دے رہے ہیں؟

    16 جون کو نائب صدر محمد رضا عارف نے بظاہر ایم او یو کے سخت گیر ناقدین کو بالواسطہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری پر اختلافات فطری ہیں لیکن انھیں داخلی تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

    مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سفارت کاری میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور تمام دھڑوں پر زور دیا کہ مذاکرات کے نتائج کا احترام کریں اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔

    اسی روز سابق رکنِ پارلیمنٹ اور سابق ممبر قومی سلامتی کمیٹی شہریار حیدری نے مذاکراتی ٹیم کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد نے امریکہ کو ایم او یو قبول کرنے پر مجبور کیا اور اس کی شرائط مجموعی طور پر ایران کے مفادات کے مطابق ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ مخالفت اسرائیلی مقاصد پورے کرنے کا باعث بن سکتی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاکرات اور کسی بھی حتمی معاہدے کو بالآخر رہبر اعلیٰ کی منظوری درکار ہوتی ہے اور وہ ان کے فیصلے کے تابع رہتے ہیں۔

    اس گفتگو سے ظاہرہوتا ہے کہ کشمکش اس بات پر نہیں رہی کہ آیا ایم او یو پر دستخط ہونے چاہئیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر مرکوز ہو چکی ہے کہ آیا اس کی حتمی شرائط خامنہ‌ ای کی بیان کردہ سرخ لکیروں اور جنگی مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔

  3. روسی جنگی جہاز ایڈمرل گریگورووچ کی برطانوی کشتی کے قریب فائرنگ، برطانیہ میں تحقیقات جاری

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ایک روسی جنگی جہاز نے انگلش چینل میں برطانیہ کی ایک رجسٹرڈ کشتی کے قریب وارننگ فائر کیے۔

    یہ واقعہ منگل کو برطانوی وقت کے مطاب صبح تقریباً 11:40 پر آئل آف وائٹ اور نورمنڈی کے درمیان پیش آیا، جس میں روسی فریگیٹ ایڈمرل گریگورووچ ملوث تھی۔

    سمجھا جاتا ہے کہ اس واقعے میں یاٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا: ’ہم چینل میں پیش آنے والے اس واقعے کی رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

    برطانوی حکام کو ایک برطانوی رجسٹرڈ کشتی کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ روسی جہاز نے تقریباً 500 گز کے فاصلے سے وارننگ فائر کیے، جو سمندری سفر کے معیار کے لحاظ سے کافی کم فاصلہ سمجھا جاتا ہے۔

    یہ واقعہ مبینہ طور پر آئل آف وائٹ سے تقریباً 20 سمندری میل جنوب میں، برطانوی علاقائی پانیوں سے باہر پیش آیا۔

    یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل رائل میرین کمانڈوز نے اتوار کے روز چینل میں پابندیوں کے باوجود آنے والے تیل بردار روسی ’شیڈو فلیٹ‘ ٹینکر کو روکا تھا، جو اس نوعیت کی برطانوی فوج کی پہلی کارروائی تھی۔

    تاہم، برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حالیہ واقعے کو اتوار کی کارروائی سے متعلق نہیں سمجھا جا رہا۔

    روسی جنگی جہاز باقاعدگی سے انگلش چینل سے گزرتے ہیں اور معمول کے مطابق رائل نیوی کے جہازوں کی جانب سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ منگل کے واقعے میں ملوث فریگیٹ کی نگرانی ایچ ایم ایس مرسی کر رہی تھی۔

    پیر کے روز بحریہ نے بتایا تھا کہ ایڈمرل گریگورووچ کی ہفتے کے اختتام پر ایچ ایم ایس ٹائن اور ایچ ایم ایس مرسی کی جانب سے نشاندہی کی جا رہی تھی، جسے اس نے ’معمول کی کارروائی‘ قرار دیا، جب اسے فرانس کے شہر بریسٹ کے ساحل کے قریب دیکھا گیا۔

    گذشتہ ہفتے نیٹو کے ایک ذریعے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا تھا کہ ماسکو نے ایڈمرل گریگورووچ کو انگلش چینل میں ’شیڈو فلیٹ‘ کے جہازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا۔

    یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ یہ فریگیٹ کئی مہینوں سے اس علاقے میں سرگرم ہے اور اسے بار بار ایک مرمتی جہاز کے ذریعے رسد فراہم کی جا رہی تھی۔

  4. اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہیئیں: باقر قالیباف

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں باقر قالیباف نے بتایا کہ انھوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران زور دیا کہ ’جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بشمول لبنان۔‘

    قالیباف، جنھوں نے اتوار کے روز ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے، نے کہا کہ ’قابض قوتوں‘ یعنی اسرائیل کو زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری ’عزت اور وقار کے ساتھ‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ’لبنان کسی بھی ایسے معاہدے کا ’لازم و ملزوم حصہ‘ ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہو۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اس صورت میں بھی برقرار رہ سکتا ہے اگر اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔

  5. لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا: خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی اسرائیل کو تنبیہ

    ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 84 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

    قرارگاہ خاتم الانبیاء نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل ’جنوبی لبنان میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتا تو اسے ایران کی مسلح افواج کے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ ’یہ تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتیں جن پر انھوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے لبنان پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی اور لبنانی سرزمین پر قبضے کا تسلسل ہماری نظر میں معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔‘

    ایران کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی پہلی شق جنگ کے خاتمے سے متعلق ہے، جس کا اطلاق لبنان سمیت تمام متعلقہ محاذوں پر ہوتا ہے۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    • ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات بڑھنے پر منگل کی دوپہر تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔
    • برطانیہ کی وزارتِ دفاع اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ایک روسی جنگی جہاز نے انگلش چینل میں برطانیہ کی ایک رجسٹرڈ کشتی کے قریب وارننگ فائر کیے۔ یہ واقعہ منگل کو برطانوی وقت کے مطاب صبح تقریباً 11:40 پر آئل آف وائٹ اور نورمنڈی کے درمیان پیش آیا، جس میں روسی فریگیٹ ایڈمرل گریگورووچ ملوث تھی۔
    • امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت ایران کو ’امریکہ کا ایک پیسہ بھی‘ نہیں دیا جائے گا۔
    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس برطانوی شہریت ہے‘ یا انھیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔