یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ ملاقاتیں مکمل کر لی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں ملاقاتیں مثبت اور نتیجہ خیز رہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
29 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جانسن اینڈ جانسن (جے اینڈ جے) نے امریکہ میں دائر ہونے والے ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب ڈالر (4.14 ارب پاؤنڈ) تک ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کا بے بی پاؤڈر اور ٹیلک پر مشتمل دیگر مصنوعات بیضہ دانی کے کینسر کا سبب بنتی ہیں۔
اس مجوزہ تاریخی تصفیے کا مقصد ایک طویل قانونی تنازع کا خاتمہ کرنا ہے جو کئی برسوں سے نیو جرسی میں قائم صحتِ عامہ کی اس بڑی کمپنی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
جے اینڈ جے نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس کی ٹیلک پر مبنی مصنوعات کینسر کا سبب بنتی ہیں، اور کمپنی اپنے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے بے بی پاؤڈر کا فارمولا بھی تبدیل کر چکی ہے۔
کمپنی کے نائب صدر برائے قانونی چارہ جوئی ایرک ہاس نے پیر کے روز کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم جے اینڈ جے اس معاملے کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے تصفیے پر آمادہ ہے۔
جے اینڈ جانسن کے مطابق یہ تصفیہ تقریباً 76 ہزار مقدمات سے نمٹنے کے لیے ہے، جو ٹیلک سے متعلق باقی ماندہ مقدمات کی بڑی تعداد ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال تین ارب ڈالر تک ادا کرے گی اور 2028 سے پہلے مزید کوئی ادائیگی نہیں کرے گی۔
کمپنی کے مطابق اس تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اور وفاقی عدالتوں میں زیرِ سماعت بیضہ دانی کے کینسر سے متعلق 95 فیصد دعووں کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرمیں اسے قبول کریں۔
ایرک ہاس نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ اگر مقدمات کی کارروائی جاری رہتی تو وہ بالآخر کامیاب رہتی، جیسا کہ اب تک عدالتوں میں سنے گئے زیادہ تر مقدمات میں ہوا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مجوزہ تصفیہ کمپنی کو اس معاملے کو ماضی کا حصہ بنانے کا موقع دے گا اور جے اینڈ جے کو جانیں بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی تیاری کے اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دے گا۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 31 جولائی تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
بلوچستان میں موجودہ شورش میں نوشکی دوسرا ضلع ہے جہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق کرفیو منگل کی شب 8 بجے نافذ کر دیا گیا جو کہ 31 جولائی کی شب 8 بجے تک جاری رہے گا۔
نوٹیفیکشن کے مطابق کوئی بھی شخص مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بغیر اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی ضلع نوشکی کی حدود میں نقل و حرکت کر سکے گا۔
کرفیو کے دوران ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت، اجتماعات، جلوس اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر نوشکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد، سرکاری فرائض انجام دینے والے افسران و اہلکاروں، ہنگامی طبی خدمات، ریسکیو سروسز، یوٹیلٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری قرار دیے جانے والے دیگر افراد یا طبقات کو کرفیو سے استثنیٰ دینے کے مجاز ہوں گے۔
تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس کے نفاذ کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیال رہے نوشکی کا شمار بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ نوشکی سے قبل ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں تشدد کے ایک واقعے میں ایک پولیس آفیسر مارے گئے جبکہ دو مختلف علاقوں سے سات مزدوروں سمیت 11 افراد کو اغوا کرلیا گیا ہے۔
ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد مزید سات مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ دو گاڑیوں سے چاول چھین کر لے گئے۔
ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے اور جوابی کارروائی کے بعد نوشکی شہر میں کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔
پولیس آفیسر کہاں مارے گئے؟
پولیس کے ڈی ایس پی مرید بگٹی ضلع بارکھان میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی مرید بگٹی ایک پرائیویٹ گاڑی میں ایک اور پولیس اہلکار کے ساتھ بارکھان میں جا رہے تھے کہ ناکہ بندی کرنے والے مسلح افراد نے ان کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ہلاک کر دیا۔
وزیر اعلی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی مارے گئے جبکہ دوسرے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ رکھنی میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
11 افراد کو کہاں کہاں سے اغوا کیا گیا ؟
اغوا ہونے والے 11 افراد میں سے سات مزدور تھے جن کو ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کلاتک کے مقام پر ناکہ بندی کی تھی جہاں سے ان مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔
اغوا کیے جانے والے مزدور غیر مقامی ہیں۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کے بعد مسلح افراد نے ایک مزدور کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا جبکہ باقی چھ کو اپنے ساتھ لے گئے۔
انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ریاست دشمن عناصر کی کارروائی ہے جو اپنے بیرونی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
چار دیگر افراد کو ضلع خضدار کے علاقے کرخ سے اغوا کیا گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے اس علاقے میں آبپاشی کے مقاصد کے لیے ایک پراجیکٹ پر کام کررہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ تین روز قبل اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ مینیجر اور ایک سرویئر شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو افراد کا تعلق سندھ جبکہ دو کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
گاڑیوں کو کہاں نذرِ آتش کیا گیا؟
ادھر ضلع چاغی کے علاقے پدگ میں نامعلوم مسلح افراد نے سات گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ گاڑیاں کوئٹہ سے تفتان کی جانب جارہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے رات ڈھائی بجے ان گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔
انھوں نے بتایا کہ نذر آتش کی جانے والی گاڑیوں میں تین آئل ٹینکر اور چار ٹریلرز شامل تھے۔
ایک اور واقعے میں دالبندین اور پدگ کے درمیان نامعلوم مسلح افراد دو ٹرکوں سے چاول اتار کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
نوشکی شہر میں حملے کے بعد دکانیں بند ہو گئیں
ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی صبح سیکورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کے حملے میں سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے کے بعد نوشکی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قانون کی عملداری، امن و امان اور انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی عوام کو اس بات سے آگاہ کر چکی ہے کہ وہ ایسے پرتشدد گروہوں سے دور رہیں۔ انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ عناصر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے عناصر ماضی میں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ کامیاب ہوں گے۔‘
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ایک بار پھر یقین دلاتی ہے کہ قانون کی عملداری، امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے ووٹ کے حق کے دفاع کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت منتخب کر سکیں اور اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کشمیری عوام کا حقِ رائے دہی ہے جبکہ دوسری طرف ایسے عناصر ہیں جو اس عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ جس احتجاجی تحریک کی بات کی جا رہی ہے وہ حقوق کے حصول کی نہیں بلکہ عوام سے حقوق چھیننے کی تحریک ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے 38 مطالبات میں سے 37 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آٹے، بجلی، ترقیاتی منصوبوں، سکولوں، کالجوں اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بھی زیادہ امداد فراہم کی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی تحریک کا وقت بھی قابلِ غور ہے۔ ’پہلے انتخابات کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کی گئی تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ کشمیریوں سے ووٹ کا حق چھین لیا گیا ہے۔ جب یہ کوشش ناکام ہوئی تو لانگ مارچ اور دھرنوں کے ذریعے حکومت اور انتظامی معاملات کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی عناصر کی آخری امید یہ تھی کہ میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابی مرحلے میں عوام باہر نہیں نکلیں گے، تاہم پولنگ کے روز بڑی تعداد میں ووٹرز نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب پولنگ سٹیشنوں پر رش بڑھا تو اسی وقت احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر جدید اسلحے سے حملے کیے گئے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موقع سے ایم فور رائفلیں، کلاشنکوفیں اور سنائپر رائفلیں برآمد ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے، جن میں ایک افسر بھی شامل ہے، اور بعض اہلکار سنائپر فائرنگ کا نشانہ بنے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ عام عوامی احتجاج نہیں بلکہ احتجاج کی آڑ میں عسکریت پسندی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایک گرفتار شخص دو ہفتے قبل کسی دوسرے ملک سے آیا تھا اور وہ دور سے نشانہ لگانے میں مہارت رکھتا تھا۔
طلال چوہدری نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کریں اور ایسے گروہوں سے دور رہیں جو انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو اب صرف احتجاجی نہیں بلکہ فسادی سمجھا جائے گا اور ریاست قانون کے مطابق اپنی رٹ قائم کرے گی۔ ان کے مطابق عام شہریوں کو ایسے گروہوں سے دور رہنا چاہیے کیونکہ ان میں مسلح اور تربیت یافتہ افراد بھی شامل ہیں جن کی موجودگی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
وفاقی وزرا نے کہا کہ وفاقی حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے، انتخابی عمل کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے باقی مراحل بھی پُرامن ماحول میں منعقد ہوں گے اور عوام اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہX: PPP & PMLN
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابی عمل پر شدید تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا، انھوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹ پر ’ڈاکہ ڈالنے‘ کی کوشش کی گئی۔
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین دو نشستوں پر امیدوار تھے اور مخالفین کو معلوم تھا کہ وہ دونوں نشستوں پر کامیاب ہوں گے، اسی لیے مبینہ طور پر ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کئی علاقوں میں پولنگ سٹیشنوں پر مناسب سکیورٹی موجود نہیں تھی اور دعویٰ کیا کہ دھاندلی کے شواہد بھی موجود ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کامیاب ہونے والے پارٹی امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے مشکل حالات کے باوجود پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے نکیال میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ کوشش ناکام رہی‘۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کوٹلی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ چوری کیے گئے ہیں اور ان ووٹوں کو واپس لیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا جماعتی مفاد۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو ’مقبوضہ کشمیر‘ نہیں بننے دیا جائے گا اور ’اگر ریاست سنجیدہ ہوتی تو کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جاتے۔‘
انھوں نے حالیہ احتجاجی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت اور احتجاجی قیادت کو فوری طور پر ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن‘ (Truth and Reconciliation Commission) قائم کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ حالات کو معمول پر لانے میں مدد مل سکے۔
اپنے خطاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ بھی سیاسی سطح پر ناانصافی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن انتخابی عمل کے باقی مراحل میں مزید محنت کریں، انھوں نے دعویٰ کیا کہ مخالفین دباؤ اور خوف کے ذریعے حکومت بنانا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے 30 جولائی کو مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جلسے کا پیغام ’کشمیر پر ڈاکہ نامنظور‘ ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 2 اگست کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ چوری نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPPP
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام کا فیصلہ قرار دیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں مریم نواز نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے ’اپنی ترقی اور بہتر مستقبل‘ کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اس کے اثرات انتخابات کے آئندہ مراحل پر بھی مرتب ہوں گے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس دھاندلی کا الزام آج لگایا جا رہا ہے، گلگت بلتستان میں جیت گئے تو دھاندلی نہیں تھی، کشمیر میں ہار گئے تو دھاندلی یاد آ گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ عوام نے وہی فیصلہ دیا جو انھیں بہتر لگا۔ ’پنجاب کی سہولتیں اتفاق سے نہیں آئیں، ان کے لیے ڈھائی سال مسلسل محنت کی گئی ہے۔‘
ویڈیو بیان میں وزیراعلی پنجاب نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پاس کارکردگی ہوتی، گورننس ہوتی، عوام کے لیے ایجنڈا ہوتا تو دوسروں پر حملوں میں وقت ضائع نہ کرتے۔‘

،تصویر کا ذریعہPMLN
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام نے فیصلہ کارکردگی پر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کو گرین بس، اپنی چھت اپنا گھر، اپنا کھیت اپنا روزگار، کسان کارڈ، بہتر سڑکوں اور امن و امان پر ووٹ ملا۔ ’جن کے پاس اپنی کارکردگی بتانے کو کچھ نہ ہو، وہ الزامات لگاتے ہیں۔ عوام کے فیصلے کو جمہوریت کے جذبے کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے۔‘
مریم نواز نے مزید کہا کہ ’کشمیر میں الیکشن آپ نے اپنی حکومت، اپنی انتظامیہ اور اپنے وزیراعظم کے ہوتے ہوئے لڑا۔ پھر دھاندلی کا الزام کس پر لگا رہے ہیں؟ عوام نے کارکردگی دیکھی اور فیصلہ دیا۔ لوگ رونے والوں کو نہیں، کام کرنے والوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ اگر عوام کا اعتماد چاہیے تو تنقید نہیں، کارکردگی دکھائیں۔‘
مریم نواز نے مزید کہا کہ اگر کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو وہاں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے متعارف کرائے جائیں گے، جن میں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور سماجی تحفظ کے پروگرام شامل ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات مکمل کر لی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے یوکرینی صدر زیلنسکی سے بھی ملاقات کی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صدر زیلنسکی اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقاتیں مکمل کر لی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’دونوں ملاقاتیں مثبت اور نتیجہ خیز رہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX/Prime Minister of Israel
نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس آمد کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ایسی تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں وہ اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔
جاری کی گئی تصاویر میں نیتن یاہو کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے مصافحہ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ موجود ہیں۔
دیگر تصاویر میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کو اپنے مشیروں کے ہمراہ اوول آفس میں ایک اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPrime Minister of Israel

،تصویر کا ذریعہX/Prime Minister of IsraelX/Prime Minister of Israel

،تصویر کا ذریعہX/Prime Minister of Israel

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب سے کچھ دیر بعد اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو 40 روز سے جاری جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات ایک ایسے حساس مرحلے پر ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ شدید کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم آج وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو واحد مہمان نہیں ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی ایسے وقت میں ٹرمپ سے ملاقات کی ہے جب بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز پر حملے کے بعد ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ آٹھویں ملاقات ہو گی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی باتیں سنی جا رہی ہیں۔
آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کا مرکزی موضوع ایک بار پھر ایران اور وہ جنگ ہے جو اب تقریباً چھ ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اسرائیل حالیہ مرحلے کی جنگ میں شامل نہیں رہا، تاہم گذشتہ چند روز کے دوران اس کی سرحدوں کے قریب ڈرونز کی روک تھام سے متعلق متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
نیتن یاہو نے اسرائیل سے روانگی سے قبل کہا: ’ہم ایجنڈے میں شامل تمام امور، خصوصاً ایران، پر بات کریں گے۔ ہمارا مقصد اپنی سلامتی کا تحفظ اور اپنے گرد امن کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق واشنگٹن پہنچنے کے بعد نیتن یاہو نے پیر کی شام ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر سینیٹر گراہم کی یاد میں منعقدہ نجی عشائیے میں شرکت کی۔
وہ آج لنڈزی گراہم کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
یاد رہے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان اور مذاکرات کے آغاز کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وفد پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اس وقت چھوڑ کر چلا گیا جب فرانس نے انسانی حقوق کے معاملات پر واشنگٹن کے ووٹنگ کے انداز کا موازنہ آمرانہ حکومتوں کے طرزِ عمل سے کیا۔
یہ سفارتی تنازع گذشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ نے شمالی کوریا اور روس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
جمعے کے روز ہونے والی ووٹنگ کے بعد اقوام متحدہ میں فرانس کے مشن نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے اس کے مؤقف کا موازنہ شمالی کوریا اور روس سے کیا۔ فرانسیسی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’امریکہ کبھی انسانی حقوق کے لیے مشعلِ راہ تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔‘
اس کے ردعمل میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایسے کمشنر کی قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے جو، ان کے بقول، جمہوری ممالک کو ’نصیحت‘ کرتا ہے جبکہ ’دنیا کی سب سے جابرانہ حکومتوں کے ساتھ قربت رکھتا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اپنے اس مؤقف کی مزید وضاحت نہیں کی۔
وولکر ترک روس کی یوکرین کے خلاف جنگ اور غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔
امریکی وفد کا اجلاس سے واک آؤٹ فرانس کے سفیر ژیروم بونافون کی تقریر کے دوران ہوا۔ وہ سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ پر بات چیت ہو رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری ضلع بہارک میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
بدخشان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان احسان اللہ کامکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ذبیح اللہ امیری منگل کے روز ضلع بہارک میں موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بنے اور جان کی بازی ہار گئے۔
کامکار کے مطابق اس واقعے میں ذبیح اللہ امیری کے ایک محافظ کو بھی معمولی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
بدخشان میں طالبان حکومت کی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ذبیح اللہ امیری آج صبح اپنے دفتر جاتے ہوئے بہارک۔فیض آباد شاہراہ پر حملے کا نشانہ بنے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ذبیح اللہ امیری کے محافظوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران حملہ آوروں میں سے ایک مارا گیا جبکہ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کامکار کے مطابق گرفتار شخص اس وقت زیرِ علاج ہے۔
بدخشان میں طالبان حکومت کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا محرک تاحال واضح نہیں ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔
اب تک کسی فرد یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان پولیس کے ترجمان نے بھی حملہ آوروں کے ممکنہ محرکات یا اس حملے کا طالبان حکومت کے مخالفین سے تعلق ہونے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ذبیح اللہ امیری طالبان حکومت کی معروف میڈیا شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور گذشتہ چند برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
بدخشان ان صوبوں میں شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اس نوعیت کے سکیورٹی واقعات پیش آ چکے ہیں۔
افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے مطابق گذشتہ تین روز سے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کی فورسز کے ساتھ اس کی جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ علاقہ پاکستان کے ضلع لوئر چترال سے متصل ہے۔
اے ایف ایف افغانستان میں طالبان مخالف نمایاں مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ اتوار 26 جولائی کو گروہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے پر راکٹ حملہ کیا، جس سے سات طالبان جنگجو ہلاک اور مزید چھ زخمی ہوئے۔
اے ایف ایف نامی گروپ کیا ہے؟ اس بارے میں مزید پڑھیے >>

،تصویر کا ذریعہPPP Media Cell
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد کے قریبی علاقے تحصیل پٹیکہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ’سچ اور مفاہمت کمیشن‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے معاملے پر ایک درمیانی راستہ موجود تھا۔ کیا کسی اسمبلی کی نشست کسی انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’احتجاج کرنے والے نوجوان غلط بھی ہو سکتے ہیں اور درست بھی، لیکن وہ نوجوان ہیں۔ ممکن ہے وہ سیاسی نعروں پر سڑکوں پر نکلے ہوں یا ایک ماہ تک انٹرنیٹ بند رہنے کے بعد گھروں سے باہر آئے ہوں، لیکن جب کوئی نوجوان جان سے جاتا ہے تو اس کی ماں، بہن اور باپ کے دکھ کو محسوس کرنا چاہیے۔‘
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’ان کی جماعت یہ نہیں کہتی کہ احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں، تاہم مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ ضرور نکالا جانا چاہیے تھا۔‘
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ’ان کے پاس ایک ایسا حل موجود تھا جس میں نہ ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑتا اور نہ ہی کسی فریق کا مطالبہ فوری طور پر تسلیم کرنا پڑتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر دونوں فریق اس کمیشن کو تسلیم کر لیتے تو احتجاج کرنے والوں سے کہا جا سکتا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک احتجاج مؤخر کر دیں۔‘ ان کے مطابق اس طرح کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’آنے والے انتخابات انتہائی اہم ہیں کیونکہ اس وقت امن کا قیام، غیر متنازع انتخابات کا انعقاد اور مستقبل کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔‘ ان کے مطابق کشمیر کاز کو بھی محفوظ رکھنا ہے اور پاکستان کے مؤقف کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’یہ کسی کی ہار یا جیت کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کا مسئلہ ہے، اسی لیے ریاست کو پیپلز پارٹی کے مؤقف کو قبول کرتے ہوئے سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ اپنے ہی بھائیوں کو اس طرح جان سے جاتے نہیں دیکھ سکتے، کیونکہ ان کا اپنا خاندان بھی ہلاکتوں کا دکھ برداشت کر چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو قانون کے مطابق کی جائے، تاہم کسی کو سڑکوں پر اس طرح سزا نہیں دی جا سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہ@pmln_org
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد سیکرٹری الیکشن کمشن راجہ شکیل نے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے تاہم اُن کے مطابق حتمی نتائج تیار کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے چار حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔
غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق ضلع میرپور کی چار نشستوں میں ایل اے-1 ڈڈیال سے مسلم لیگ ن کے اظہر صادق، ایل اے-2 چکسواری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری قاسم مجید، ایل اے-3 میرپور سٹی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے یاسر سلطان اور ایل اے-4 کھڑی شریف سے مسلم لیگ ن کے چوہدری رخسار نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ضلع بھمبر کی تینوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی۔ ایل اے-5 برنالہ سے کرنل (ر) وقار نور، ایل اے-6 سماہنی سے چوہدری محمد رزاق اور ایل اے-7 بھمبر سے چوہدری طارق فاروق کامیاب رہے ہیں۔
ضلع کوٹلی کی چھ نشستوں میں ایل اے-8 راج محل سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک ظفر اقبال، ایل اے-9 نکیال سے مسلم لیگ ن کے عمیر نعیم، ایل اے-10 کوٹلی سٹی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین، ایل اے-11 سہنسہ سے مسلم لیگ ن کے راجہ آصف، ایل اے-12 چڑھوئی سے مسلم لیگ ن کے راجہ ریاست اور ایل اے-13 کھوئی رٹہ سے مسلم لیگ ن کے راجہ ایاز خان کامیاب قرار دیے گئے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کے چار امیدواروں کو مبینہ دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی۔ ترجمان کے مطابق چوہدری محمد یاسین کو چڑھوئی، چوہدری اخلاق کو سہنسہ، چوہدری پرویز اشرف کو برنالہ اور جاوید بڈھانوی کو نکیال کے حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے ذریعے ہرایا گیا۔
پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان چاروں حلقوں میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائیں اور دوبارہ پولنگ کا انعقاد کیا جائے۔
ادھر غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد کامیاب امیدواروں کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں جشن منایا گیا، اس موقع پر ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ’حالیہ جنگ کے دوران امریکی فوجی طیاروں نے ایران پر حملوں کے لیے اسرائیلی فوجی اڈوں کا استعمال کیا۔‘
اسرائیلی ٹی وی چینل 14 سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’ایرانی حکام اس حقیقت سے آگاہ ہیں، تاہم انھوں نے اب تک اسرائیل کو نشانہ نہیں بنایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایرانی خطے میں ہر جگہ حملے کر رہے ہیں، سوائے ایک ملک کے اور وہ اسرائیل ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال ایک گھنٹے میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران کی جانب سے اسرائیل پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیل ’پوری طاقت‘ کے ساتھ اس کا جواب دے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہMinistry of External Affairs, India
انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجودہ انتخابی عمل محض ایک نمائشی مشق ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ’غیر قانونی قبضے‘ اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسا کہ انڈیا پہلے بھی واضح کر چکا ہے، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، جن کی تازہ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس معاملے پر انڈیا کا مؤقف ہمیشہ سے واضح، مستقل اور سب کے علم میں ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ’جموں و کشمیر اور لداخ سمیت وہ تمام علاقے جو اس وقت پاکستان کے ’غیر قانونی قبضے‘ میں ہیں، انڈیا کا حصہ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد ایک شاپنگ سینٹر میں متعدد افراد کے پھنس جانے کی اطلاعات ہیں۔
حکام کے مطابق زلزلے کے بعد کوماموتو پریفیکچر میں واقع ایون مال میں دھماکے کی اطلاع بھی ملی ہے۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 27 منٹ پر جزیرۂ کیوشو میں آیا، جس کے بعد تقریباً تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات اور امدادی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔
حکام نے مختصر وقت کے لیے سونامی کی وارننگ بھی جاری کی، جسے تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس لے لیا گیا۔
ہنگامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ کوماموتو پریفیکچر کے ایون مال کے اندر متعدد افراد پھنسے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کاشیما شہر میں ایک شاپنگ کمپلیکس کی دوسری منزل منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ملبے تلے پھنس گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس نے کہا ہے کہ بحیرہ کیسپین یا بحیرہ قزوین میں ایرانی جہاز پر یوکرین کے حملے کو خود ایران پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’یہ حملہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کیئو سے پیدا ہونے والے خطرے‘ کا خاتمہ کرنا کس قدر ضروری ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ’اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ ایک اور زخمی ہوا ہے۔‘ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ’اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘
یوکرین نے سنیچر کے روز اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بحیرہ قزوین میں ایران سے متعلق فوجی سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والے دو روسی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
دمتری پیسکوف نے آج یوکرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ’دہشت گردانہ حملوں‘ کا جغرافیائی دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIRNA
ایرانی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’حالیہ جنگ کے نتیجے میں ملک کی گیس اور پیٹرول کی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایران تقریباً 230 ملین مکعب میٹر گیس کی پیداواری صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے پیٹرول کی پیداوار سے متعلق کوئی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم کہا کہ ’دشمن کے حملوں کے باعث پیٹرول کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث حکومت کو اس معاملے کا مؤثر انتظام کرنا پڑ رہا ہے۔‘
فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ ’ایران یومیہ 100 ملین لیٹر پیٹرول پیدا کرتا ہے، جو عوام کو بلا تعطل فراہم کیا جائے گا۔ تاہم ملک اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کچھ مقدار میں پیٹرول درآمد بھی کرتا ہے، جس کے لیے قیمتی زرمبادلہ مختص کرنا پڑتا ہے۔‘
ان کے مطابق یہی زرمبادلہ بنیادی اشیائے ضروریہ، ادویات اور کارخانوں کے لیے خام مال کی فراہمی پر بھی خرچ ہونا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتی ترجمان کے مطابق 29 مارچ کو ’اسرائیل اور امریکہ کے بیک وقت حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران کی متعدد تیل اور گیس تنصیبات، جن میں ساؤتھ پارس کے منصوبے بھی شامل ہیں، حملوں کا نشانہ بنے۔‘
فاطمہ مہاجرانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’جنگ کے دوران امریکی حملوں میں عوامی خدمات انجام دیتے ہوئے 350 سے زائد سرکاری ملازمین ہلاک ہوئے۔‘
انھوں نے حالیہ امریکی حملوں سے ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مجموعی طور پر 12 پل اور دو سرنگیں متاثر ہوئیں۔‘
حکومتی ترجمان کے مطابق بوشہر ایئرپورٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسے ازسرِ نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں خریدا گیا ایک مسافر طیارہ بھی براہِ راست حملے کا نشانہ بنا۔‘

،تصویر کا ذریعہScreen Grab/X
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ ملک کے توانائی تحفظ کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریاں نہ صرف توانائی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ضروری ہے۔
وزیراعظم نے اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور توانائی کی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ توانائی کے شعبے میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
انھوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نئی پالیسی پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پالیسی میں کی جانے والی ترامیم کا مقصد یورو فائیو معیار کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا اور فرنس آئل سمیت کم معیار کی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں کمی لانا ہے۔
وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائنریوں سے متعلق ترمیم شدہ پالیسی کے فروغ کے لیے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان رابطوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن و امان کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایران اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے اتحادی حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ایران اور عمان کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی فوجی حملوں کے خاتمے کے بعد کی صورتحال پر بات ہوئی تھی۔
فریقین کی جانب سے ان مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا تھا، تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز کہا کہ ایران نے مذاکرات کے دوران عمان کی ایک تجویز مسترد کر دی ہے۔