اٹلی نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا: جورجیا میلونی
اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کے خلاف جنگ میں کبھی حصہ نہیں لیا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، میلونی کا کہنا تھا کہ کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کو یہ سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی کہ اٹلی سے کس قسم کی پروازوں کی اجازت دی گئی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بعد ازاں اپنی غلطی درست کرتے ہوئے اس بارے میں وضاحت بھی کی ہے۔
اٹلی اور فرانس کے درمیان ہونے والے 36ویں بین الحکومتی سربراہ اجلاس کے اختتام پر بات کرتے ہوئے میلونی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے اڈوں کے استعمال سے متعلق محض اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
گذشتہ روز ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹ کی فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ویڈیو ایکس پر شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران اٹلی میں موجود امریکی اڈے سے تقریباً 500 امریکی جہازوں نے اڑان بھری تھی۔
اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ نیٹو سیکریٹری جنرل کا بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ نیٹو نے ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ میں حصہ لیا۔
اسماعیل بقائی مزید کہنا تھا کہ نیٹو اور اس کے رکن ممالک جنھوں نے اس فیصلے میں حصہ لیا انھیں اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔