ایرانی رکنِ پارلیمان کا سیستان و بلوچستان میں بدامنی میں دو عرب ملکوں کے ملوث ہونے کا الزام
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے الزام عائد کیا ہے کہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ بدامنی کے پیچھے دو عرب ملکوں کے ’واضح آثار‘ موجود ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے فدا حسین مالکی نے ان دونوں ملکوں کے نام تو نہیں بتائے، تاہم کہا کہ اس خطے میں ’جدید آلات اور ماہر اہلکار‘ بھیجنے کے معاملے کی پیروی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سرحدی علاقوں میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کو محض الگ تھلگ سکیورٹی اقدامات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ ان کے سیاسی، سماجی اور علاقائی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس امکان کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے کہ بیرونی عناصر جنگی حالات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے 12 اکتوبر کو خبر دی تھی کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے مہرستان میں دو الگ الگ حملوں کے دوران خواتین کی بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، مسلح افراد نے مہرستان میں پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ جھڑپ کے دوران ایک اہلکار زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد دم توڑ گئے۔
اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو سیستان و بلوچستان پولیس کمان کے نائب سربراہ برائے ثقافتی و سماجی امور نصرت افتخاری زاہدان میں چشمہ زیارت کے راستے پر سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صوبہ سیستان و بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں اور پولیس کی چوکیوں اور پیٹرولنگ کرنے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔