لائیو, اسرائیل میں ووٹنگ کا عمل ختم، اپوزیشن اتحاد کا نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کا دعویٰ
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا‘ اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ’واضح شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزنکوٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔
نیتن یاہو مخالف 'یشار' پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں حامیوں کا جشن
افغان طالبان کی مبینہ فائرنگ سے ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے: ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان
خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا ہو گئے ہیں: پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ماسکو میں روسی صدر پوتن سے ملاقات
لائیو کوریج
اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا: یاشر پارٹی کی رہنما
،تصویر کا ذریعہAFP
سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی جماعت ’یاشر‘ کی رہنما اوریت فرکاش ہاکوہن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انتخابات میں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید بنیامین نیتن یاہو کی قیادت نہیں چاہتے۔
ان کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو تقریباً 20 نشستوں کا نقصان ہوا ہے اور اب اس کے پاس پارلیمان میں اکثریت نہیں رہی، جس کے باعث وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اوریت فرکاش ہاکوہن نے کہا کہ ووٹرز نے مختلف ترجیحات اور ایک نئی طرز کی قیادت کے حق میں فیصلہ دے کر تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
آج نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشننفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ تل ابیب میں اسرائیلی انتخابی پول کے نتائج پر ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا‘ اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ’واضح شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں۔ ہم اکثریت میں ہیں۔ جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس پر ایسا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ اب ترجیح ایک نئی ’صیہونی حکومت‘ کی تشکیل ہونی چاہیے، چاہے وہ ابتدا میں مکمل یا وسیع اتحاد پر مشتمل نہ ہو۔ ان کے بقول بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
یائر لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور کنیسٹ اراکین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک بہادر ساتھی اور دوست ہیں، اور میں اس سے بہتر شراکت دار کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو قیامِ ریاست کے بعد کے شاید سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کا قیام، فوجی بھرتی میں مساوات اور قومی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر یائر لیپڈ نے کہا کہ ’ہمارا سفر آج ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جسے درست سمت میں لے جانا ہے اور ایک ایسا معاشرہ ہے جس کی بحالی ضروری ہے۔‘ انھوں نے قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی پر بھی زور دیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
عوام نے نیتن یاہو کی حکمرانی کے خاتمے کے لیے ووٹ دیا، نئی حکومت بنانے کی کوشش کروں گا: سابق آرمی چیف
اسرائیل میں انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اور وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔
انھوں نے نیتن یاہو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئزن کوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی یا ہنگامی صورتحال سے حکومت سازی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک پر معمولی برتری حاصل ہے، تاہم دونوں میں سے کوئی بھی فریق کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اسرائیلی حکومت کے قیام کے چار ممکنہ منظرنامے کیا ہیں؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کنیسٹ میں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کے 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے بعد، اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے چار اہم امکانات زیرِ غور ہیں:
1- مخلوط (اتحادی) حکومت کی تشکیل
سیاسی جماعتیں اکثریتی اتحاد قائم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر سکتی ہیں۔ اس عمل میں عرب جماعتیں گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کے لیے فیصلہ کن حمایت فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ بنیامین نیتن یاہو کو دائیں بازو کی بعض چھوٹی جماعتوں کی ناکامی کے باعث نئے اتحادی تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
2- اقلیتی حکومت کا قیام
گادی آئزن کوٹ ایسی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں جو پارلیمان میں موجود بعض جماعتوں، بالخصوص عرب جماعتوں، کی بیرونی حمایت پر انحصار کرے۔ اس صورت میں حمایت کرنے والی جماعتیں حکومت کا حصہ بنے بغیر اسے برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں گی۔
3۔ قومی اتحاد کی حکومت
ایک اور امکان یہ ہے کہ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر مرکزی اور دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں۔ تاہم، سیاسی وعدوں اور باہمی عدم اعتماد کے باعث اس آپشن کو خاصی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
4۔ نئے انتخابات
اگر کوئی جماعت یا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اسرائیل دوبارہ انتخابات کی طرف جا سکتا ہے۔ حکومت سازی کے لیے نامزد امیدوار کو پہلے 28 دن اور ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی مہلت دی جا سکتی ہے۔ اگر اس مدت میں بھی اتفاقِ رائے نہ بن سکا تو نئے انتخابات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل میں انتخابات: ’تاریخی‘ ٹرن آؤٹ کے بعد ووٹنگ باضابطہ طور پر ختم
،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی انتخابات میں ’تاریخی‘ ٹرن آؤٹ کے بعد ووٹنگ کا عمل باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تک پہنچ گیا، جو 1999 کے بعد پولنگ کے اختتام پر ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔
کمیٹی نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے تک 56 لاکھ 95 ہزار 682 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔
انتخابی حکام کے مطابق ووٹرز کی یہ بھرپور شرکت گذشتہ تقریباً تین دہائیوں میں کسی بھی اسرائیلی عام انتخاب کے اختتامی وقت پر دیکھی جانے والی بلند ترین شرح ہے، جسے ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے لیے مشکل رات، اسرائیلی انتخابات کا نتیجہ تاحال غیر یقینی
،تصویر کا ذریعہEPA/Reuters
،تصویر کا کیپشناسرائیلی انتخابات
اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں مقابلہ اتنا سخت ہے کہ ابھی کسی بھی فریق کی فتح کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
نظرِ ثانی شدہ دو ایگزٹ پولز کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور ان کے حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
ایک تیسرے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے۔
بعض اندازوں کے مطابق عرب جماعتیں اپنی تاریخ کی بہترین انتخابی کارکردگی دکھاتے ہوئے کم از کم 17 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ حتمی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے ایک ’مضبوط دائیں بازو کی حکومت‘ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دوسری جانب آئزن کوٹ نے اپنی جماعت کے مرکز میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے‘۔
ووٹوں کی سرکاری گنتی جاری ہے اور مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے تک تقریباً ایک چوتھائی ووٹ شمار کیے جا چکے تھے۔
مبصرین نے ابتدائی نتائج کو نیتن یاہو کے لیے ’انتہائی مایوس کن اور سخت دھچکہ دینے والی رات‘ قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ’ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘ کے ایک ’منفرد موقع‘ کا ذکر
اپنی تقریر کے اختتام پر بینیامن نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اسرائیل کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ’ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘ کا ایک ’منفرد موقع‘ موجود ہے۔
اسرائیل اور امریکہ نے 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے مشترکہ حملے کیے تھے، جبکہ رواں سال فروری میں دونوں ممالک نے ایران پر ایک اور مشترکہ حملہ کیا تھا جس کے بعد موجودہ تنازع شروع ہوا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے حکومت نیتن یاہو کے اتحاد کی بنے یا ان کے حریف گاڈی آئزنکوٹ کے اتحاد کی، ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اسرائیل کی موجودہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے۔
نیتن یاہو نے ’عرب حمایت‘ سے حکومت بنانے کا امکان مسترد کر دیا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت قائم کرنے کا امکان مسترد کر دیا ہے ہے۔
لیکوڈ پارٹی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فی الحال کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، اور وہ کسی بھی فیصلے سے پہلے ’حقیقی نتائج‘ کا انتظار کریں گے۔
موجودہ اندازوں کے مطابق ان کے اتحاد اور ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد کے درمیان برابر کا مقابلہ جاری ہے۔
تاہم اپنے حامیوں سے خطاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’لیکود سب سے بڑی جماعت ہے۔‘
’ہمیں ایک مضبوط دائیں بازو کی قومی حکومت قائم کرنی چاہیے۔‘
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایسی کسی حکومت کے تحت نہیں چلایا جا سکتا جو ’عرب حمایت‘ کے سہارے قائم ہو۔
دوسری جانب عرب جماعتوں کے لیے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کرنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ دونوں بڑے اتحاد اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں تک پہنچنے سے ابھی دور نظر آ رہے ہیں۔
اسرائیل میں حکومت کیسے بنتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
اسرائیل میں آج تک کوئی بھی سیاسی جماعت پارلیمان میں اتنی نشستیں حاصل نہیں کر سکی کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے، اسی لیے وہاں ہمیشہ اتحادی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل کے صدر مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں انھیں لگتا ہے کہ اس کے پاس اکثریت حاصل کرنے کا بہتر موقع ہے۔
اس امیدوار کو اتحادی حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر مزید وقت درکار ہو تو وہ 14 روز کی توسیع کی درخواست بھی کر سکتا ہے۔
اگر مقررہ مدت میں حکومت نہ بنائی جا سکے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو اپنی اتحادی حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔
اگر دوسری کوشش بھی ناکام ہو جائے تو کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے ارکان صدر سے درخواست کر سکتے ہیں کہ کسی تیسرے رہنما کو حکومت سازی کی کوشش کا موقع دیا جائے۔ اگر وہ بھی کامیاب نہ ہو تو پھر نئے انتخابات کروائے جاتے ہیں۔
2019 سے 2022 کے درمیان سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات اور اتحاد بنانے میں ناکامی کے باعث اسرائیل میں پانچ مرتبہ انتخابات کرائے گئے تھے۔
2022 کے انتخابات میں بییامن نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 رکنی کنیسٹ میں 32 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے کئی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد قائم کیا، جس کے نتیجے میں ان کے اتحاد کو 64 نشستوں کی اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔
اسرائیلی انتخابات کے نئے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے اتحادوں میں برابر کی ٹکر
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان 11 اور چینل 13 کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ایگزٹ پولز کے مطابق دونوں حریف اتحادوں کے 51، 51 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
چینل 12 نے بھی اپنے ایگزٹ پول میں نظرِ ثانی کی ہے، جس کے مطابق آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد 50 نشستوں کے ساتھ معمولی فرق سے پیچھے ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 52 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسی چینل کے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو مخالف اتحاد کو موجودہ وزیرِ اعظم پر معمولی برتری حاصل دکھایا گیا تھا۔
حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کو کنیسٹ میں کم از کم 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے سرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اب تک تقریباً 2.5 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔
نیتن یاہو مخالف ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں حامیوں کا جشن
تل ابیب میں نیتن یاہو مخالف گاڈی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں موسیقی زوروں پر ہے۔
جیسے ہی بڑی سکرین پر ’ایگزٹ پولز‘ (انتخابی نتائج کے ابتدائی اندازے) دکھائے گئے، وہاں موجود کچھ حامی رقص کرنے، گانے گانے اور اسرائیلی پرچم لہرانے لگے۔
تاہم، ابھی تک کسی بھی پارٹی کے نمائندے سٹیج پر نہیں آئے ہیں اور ہال بھی ابھی آدھا خالی ہے۔ ٹی وی عملے اور دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے سامنے، جو یہاں نتائج جاننے کے لیے موجود ہیں، کافی جگہ خالی پڑی ہے۔
آئزنکوٹ کا ’تبدیلی کا بلاک‘ نیتن یاہو کے بلاک کے مقابلے میں بڑا دکھائی دے رہا ہے، لیکن پھر بھی یہ اکثریت حاصل کرنے سے کافی دور ہے۔
اس رات کی اصل کہانی عرب جماعتوں کے گرد گھومتی ہے، جن کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ تقریباً 17 یا 18 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اسرائیلی انتخابات کے ایگزٹ پولز: نیتن یاہو کی جماعت سب سے بڑی پارٹی، مگر اپوزیشن اتحاد نشستوں میں آگے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز ظاہر کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اسرائیلی انتخابات میں سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ حکمران اتحاد سے تو آگے ہے، لیکن اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد سے کافی کم نشستیں ملی ہیں۔
وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے۔
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔
اسرائیلی چینلز 11، 12 اور 13 کی جانب سے نشر کیے گئے ابتدائی اندازوں کے مطابق، سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کیمپ 52 سے 53 نشستیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے کیمپ جس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
عرب اسرائیلی جماعتوں نے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔
سرکاری نتائج کا اعلان اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد کر دیا جائے گا، تاہم تقریباً چھ لاکھ ’غیر حاضری والے ووٹ‘ جن میں سے تقریباً تمام فوجیوں کے ہیں اور جو کل ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل نہیں ہو سکے گی۔
تمام نتائج سامنے آنے اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس پارٹی رہنما کو حکومت سازی (اتحادی حکومت بنانے) کی دعوت دیں گے جن کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی مجموعی 120 نشستوں کے لیے انتخابات منگل کے روز ہوئے جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ تاہم اندازوں کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی، جس کے بعد مخلوط حکومت تشکیل دینا پڑ سکتی ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے انادولو اور روئٹرز کے مطابق، یمنی حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں اور ایران کی فضائی و بحری ناکہ بندی سے عالمی توانائی کا تحفظ خطرے میں پڑ رہا ہے۔¬
جنوبی وزیرستان (لوئر) کے ڈپٹی کمشنر نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 اکتوبر کی رات افغان طالبان کی جانب سے انگور اڈہ بازار اور گھروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری برائے بہبود آبادی آغا عمر احمد زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد کے بڑے صاحبزادے شہزادہ محمد خان بلوچستان کے ضلع خضدار سے قلات جاتے ہوئے تین دیگر افراد سمیت لاپتہ ہو گئے ہیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔