یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
اکتوبر میں ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملے ہوئے، حوثیوں نے کشیدگی میں کمی کے لیے ملاقات کی تجویز مسترد کر دی: سعودی حکام
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔
خلاصہ
- تہران سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے: سعودی وزارتِ خارجہ کا الزام
- یمنی حکومتی فورسز کا تعز میں واقع جبلِ ہان پر حوثیوں کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ
- صدر ٹرمپ نے نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
- پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی
- پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں 33 طلبا اور ایک خاتون ٹیچر ہلاک ہوئے ہیں۔ مارے جانے والے بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان ہیں
- پشاور سکول حادثے میں ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رُکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر خیبرپختونخوا سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے
لائیو کوریج
بلوچستان میں رخشاں ڈیویژن کے کمشنر اغوا: سرکاری اہلکار کی تصدیق, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے رخشاں ڈویژن کے کمشنر کو جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع خاران سے اغوا کرلیا ہے۔ حالیہ کے دوران بلوچستان میں اغوا کا یہ تیسرا ہائی پروفائل واقعہ ہے۔
بی بی سی کو ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمشنر کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے رخشاں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر خاران جاتے ہوئے اغوا کیا۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق کمشنر اسداللہ کاکڑ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آئے تھے اور اجلاس میں شرکت کے بعد جمعرات کو خاران کے لیے نکلے تھے۔
اہلکار کے مطابق اس گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ ایک کلرک اور کیشیئر بھی سفر کررہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ جب یہ گاڑی ضلع خاران کی حدود میں برشونکی کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں گاڑی کو روکا، کلرک اور کیشیئر کو چھوڑ دیا جبکہ کمشنر اور ڈرائیور کو نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
خیال رہے کہ 20 ستمبر کو اس علاقے سے خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے تین دیگر افراد کے ہمراہ اغوا کرلیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر سمیت دو افراد کو 2 اکتوبر کو رہا کیا گیا تھا، جبکہ گن مین اور ڈرائیور کو پہلے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔
اس کے بعد ایڈیشنل سیشنز جج پنجگور کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ضلع سوراب کے علاقے سے اغوا کیا تھا۔ تاہم اس واقعے کے کچھ روز بعد ایڈیشنل سیشن جج اور ان کے ساتھ اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
اکتوبر میں حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے: سعودی فوجی اتحاد

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اکتوبر میں اب تک ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے ہیں۔
جمعرات کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے 7 اور 11 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں17 افراد ہلاک اور 333 لوگ زخمی ہوئے۔
دوسری جانب بی بی سی عربی کے مطابق سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ریاض کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے۔
انھوں نے ایک ویڈیو بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ حوثیوں سے آخری رابطہ چند ہفتے قبل ہوا تھا، تاہم انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ گروپ کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذرائع اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔
یمن کے صدارتی محل پر حوثیوں کے حملے میں دو افراد ہلاک: حکام

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جنوبی یمن کے بندرگاہی شہر عدن میں واقع صدارتی محل پر حوثیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ بیلسٹک میزائلوں کے المعاشیق محل پر گرنے کے باوجود وزیرِ اعظم اور دیگر وزرا محفوظ رہے، تاہم متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ گروہ نے ’سعودی افسران کی قیادت میں قائم فوجی آپریشنز کے ہیڈکوارٹر‘ کے ساتھ ساتھ اسلحہ کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد یمن کی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف حکومت نواز فورسز کی کارروائیوں کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔
حوثیوں نے مغربی یمن میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا، پر ہونے والے حملوں کے جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل و گیس کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ہفتے کے روز حوثیوں کے ایک میزائل حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔
تہران سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے: سعودی وزارتِ خارجہ کا الزام

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ تہران نہ صرف حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف حالیہ شدت پسند کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے بلکہ اس گروہ کو اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے ایک ورچوئل بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کرتا جا رہا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ تنازع کے اس حالیہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ایران کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔‘
ڈاکتر کریملی کا کہنا تھا کہ بظاہر تہران اس معاملے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہا تاہم اس کے باوجود سعودی عرب ایران کے ساتھ رابطے میں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ ایرانی حکام کسی حل تک پہنچنے کے لیے کسی قسم کی رعایتیں دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
تہران کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
سعودی عہدیدار نے حوثیوں پر حالیہ ہفتوں میں عمان میں ملاقات سے انکار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
ڈاکتر کریملی ’کشیدگی کے حالیہ دور کے آغاز پر ہم نے انھیں مسقط، عمان میں ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘
ان کے بقول چند ہفتے قبل ہونے والا یہ رابطہ فریقین میں ہونے والا آخری رابطہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
دریں اثنا، سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں اور گروہ کے خلاف اتحاد کی فوجی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کیں۔
انھوں نے کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب میں درجنوں ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
مالکی کا کہنا تھا کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے حملوں میں 10 ڈرون، میزائل اور دیگر پروجیکٹائل استعمال کیے گئے تھے۔
سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اتحاد کی افواج نے یمن کے پہاڑی علاقوں میں حوثیوں کے 127 گودام تباہ کر دیے ہیں۔
یمنی حکومتی فورسز کا تعز میں واقع جبلِ ہان پر حوثیوں کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز نے جمعرات کو تعز شہر کے مغرب میں واقع جبلِ ہان پر حوثیوں کا ایک حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تعز کے فوجی ڈویذن کے نائب سربراہ کرنل عبدالباسط البحر کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے یہ حملہ ناکام بنا دیا، تاہم انھوں نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
جبلِ ہان اس سڑک پر واقع ہے جو تعز کو صوبۂ لحج سے اور وہاں سے عدن سے ملاتی ہے اور اس ہی وجہ سے شہر تک رسائی کے راستوں کے تحفظ کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے فضائی حملوں میں تعز گورنریٹ کے جنوب میں واقع ضلع المعافر میں ٹیلی کمیونی کیشنز کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک ریاض یا سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا

،تصویر کا ذریعہBell County Sheriff's Office / Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشر کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ فورٹ ہڈ حملے کے ذمہ دار نضال حسن کی پھانسی کو آن لائن نشر کیے جانے کے حامی ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود یہ منظر نہیں دیکھیں گے۔
اس فیصلے پر تنقید میں اضافے کے بعد ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’بہت سے نیک نیت اور مخلص لوگ اسے مرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہیں گے۔‘
اس سے قبل گذشتہ ہفتے امریکہ کے 72 ریٹائرڈ جنرلز، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ایک گروپ نے امریکی حکومت پر زور دیا تھا کہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو منسوخ کیا جائے۔
انھوں نے ایک خط میں لکھا کہ ’ہم صدر، کانگریس میں اپنے نمائندوں اور اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختیارات کے اس وحشیانہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔‘
اب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ’اگر پھانسی عوامی طور پر نشر کی جاتی تو یہ دنیا کے لیے ایک تنبیہ ثابت ہو سکتی تھی کہ امریکہ دہشت گردوں اور حسن جیسے افراد سے کیسے نمٹتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ نضال حسن کو طے شدہ شیڈول کے مطابق فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، لیکن اس عمل کو براہِ راست نشریات نہیں کیا جائے گا۔
نضال حسن نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
امریکہ میں ہندو مندر پر فائرنگ کی دھمکی کے بعد ایک شخص گرفتار: ’ملزم کے گھر سے رائفل، سینکڑوں کارتوس اور حفاظتی جیکٹ برآمد‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی شہر شکاگو کے قریب واقع ایک ہندو مندر پر فائرنگ کی دھمکیوں کی تحقیقات کے بعد ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق ریاست الینوائے کے شہر پالیٹائن سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ الیگزینڈروس پاپوراکس بدھ کے روز عدالت میں پیش ہوئے۔ ان پر دہشت گردانہ دھمکی دینے اور غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کی ایک ایک فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ان کے قبضے سے ایسی رائفل برآمد ہوئی جس کی نال 16 انچ سے کم لمبی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایک منشور ملا ہے جس میں پاپوراکس نے خود کو سفید فام برتری کا حامی قرار دیا اور غیر سفید فام افراد کے خلاف نفرت کا اظہار کیا۔
سی بی ایس کے مطابق استغاثہ نے بتایا کہ ملزم نے ایک ساتھی کارکن کو فون پر کہا تھا کہ اس کی بندوق جام ہو گئی تھی۔ اس نے ایسے پیغامات بھی بھیجے جن میں اے آر طرز کی ایک رائفل دکھائی گئی تھی۔
استغاثہ کے مطابق دیگر پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹریگر دبانے کے باوجود بندوق فائر نہیں ہوئی، جبکہ ایک تصویر میں وہ ٹیکٹیکل جیکٹ پہنے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
پاپوراکس کے ساتھ کام کرنے والے اس ساتھی اور ٹیکو بیل کے ایک اور ملازم نے اتوار کو پولیس کو واقعے کی اطلاع دی تھی۔
پالیٹائن کے پولیس چیف ولیم نورڈ نے بتایا کہ ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے ایک رائفل، گولیوں سے بھری میگزینیں، رائفل کے سینکڑوں کارتوس اور حفاظتی جیکٹ (باڈی آرمر) برآمد کی۔
پشاور سکول حادثہ: بی بی سی نے جائے وقوعہ پر کیا دیکھا؟
پاکستان کے صوبہ پشاور میں جمعرات کی صبح دیر کالونی میں واقع نجی سکول الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 34 ہو چکی ہے۔ ان میں چھ سے 14 سال عمروں کے 33 بچے اور 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سکول کے پرنسپل کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سکول کی عمارت کمزور تھی جس کے باعث یہ حادثہ ہوا۔
جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو حکام اور بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد کے مطابق بظاہر سکول میں تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں اور یہاں کوئی پکا لینٹر نہیں تھا۔
پشاور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکول کی عمارت خستہ حال تھی، چھتیں طلبہ کا وزن برداشت نہیں کر سکیں اور گر گئیں۔
دیکھیے جائے حادثہ سے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کی رپورٹ
،ویڈیو کیپشنپشاور کے سکول میں چھت گرنے سے ہلاکتیں: بی بی سی نے جائے وقوعہ پر کیا دیکھا؟ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دو الگ الگ حملوں میں خواتین بسیج فورس کی ایک کمانڈر سمیت دو سکیورٹی اہلکار ہلاک
ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز صوبہ سیستان بلوچستان میں دو الگ حملوں میں خواتین بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ضلع مہرستان میں مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں سارجنٹ فرسٹ کلاس محمد علی شہریاری زخمی ہوئے جو بعد ازاں حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
سرحدی شہر مہرستان میں خواتین بسیج فورس ’شہید افضل‘ کی کمانڈر افسانہ عقیلہ کو ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
افسانہ عقیلہ کی ہلاکت کے بعد حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والی بسیج اور پولیس فورس کی خواتین اہلکاروں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔
اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو سیستان بلوچستان پولیس کمانڈ کی نائب ڈائریکٹر نصرت افتخاری زاہدان کے علاقے چشمہ زیارت روڈ پر سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
حالیہ ہفتوں میں صوبہ سیستان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں، پولیس چوکیوں پر حملوں اور گشتی گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کراچی میں گھر سے میاں بیوی کی تشدد زدہ لاشیں برآمد: دونوں کو سر پر کسی وزنی چیز سے وار کرکے قتل کیا گیا، پولیس, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں گھر سے میاں بیوی کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سر سید میں درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ مقتول محمد یامین کے بھائی محمد انور کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مدعی کے مطابق ان کے بھائی محمد یامین اور بھابھی نفیس اختر حال ہی میں کینیڈا سے واپس آئے تھے اور نارتھ کراچی میں واقع اپنے مکان کی مرمت کروا رہے تھے۔
ان کے بقول اس سے قبل اس مکان میں ان کی بہن پروین اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، تاہم یامین نے وطن واپسی کے بعد ان سے مکان خالی کروا لیا تھا۔
محمد انور نے ایف آئی آر میں بتایا کہ گذشتہ روز صبح ان کی بھابھی کے بھائی رضوان نے فون کرکے بتایا کہ وہ یامین کے گھر کے باہر موجود ہیں، لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا۔ مدعی کے مطابق وہ دوپہر تقریباً تین بجے بھائی کے گھر گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تاہم جواب نہ ملنے پر واپس اپنے کام پر چلے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعد میں رضوان نے دوبارہ فون کرکے بتایا کہ وہ مسلسل یامین کو کال کر رہے ہیں، لیکن کوئی فون نہیں اٹھا رہا۔ اس کے بعد محمد انور ڈپلیکیٹ چابی لے کر گھر پہنچے۔
ان کے مطابق دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو ٹی وی لاؤنج کے فرش پر ان کے بھائی اور بھابھی کی خون میں لت پت لاشیں پڑی تھیں۔ انھوں نے گھر سے باہر آکر مددگار 15 پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے لاشیں عباسی شہید اسپتال پہنچا دیں، جہاں دونوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ڈاکٹر عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں کو سر پر کسی وزنی چیز سے وار کرکے قتل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق بدھ کی شام کو لاشیں برآمد ہوئیں تو اس وقت تک واردات کو تقریبا 24 گھنٹے ہوچکے تھے۔
پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی گئی۔
جمعرات کے روز مشترکہ اجلاس کے دوران خیبر ہختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی۔
پارلیمان نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق سات کے تحت صدرِ پاکستان کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اقدام کی منطوری دی ہے۔
اس سے قبل گذشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔
پشاور: سکول کی چھت گرنے سے ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی, بلال احمد، بی بی سی اُردو، پشاور

،تصویر کا ذریعہMuhammad Hussain
پشاور میں سکول کی چھت گِرنے سے ہلاک ہونے والے 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
اجتماعی نماز جنازہ پشاور میں سپیرئر سائنس کالج کے ساتھ واقع گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ جمعرات کی صبح پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں مجموعی طور پر 34 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 33 طلبہ جبکہ ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
مرنے والے 33 بچوں کی عمریں چھ سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
انڈیا کی سرکاری دفاعی کمپنی کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر رشوت کے بدلے معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈیا کے مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے پونے میں واقع دفاعی ہتھیار بنانے والی سرکاری کمپنی ’میونیشن انڈیا لمیٹیڈ‘ یعنی ایم آئی ایل کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر انل کمار کو دفاعی پیداوار، خریداری اور عسکری نوعیت کی اہم سرگرمیوں کی معلومات ایک نجی دفاعی کمپنی کو فراہم کرنے کے عوض رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
سی بی آئی کے مطابق ’ایک پرائیوٹ کمپنی کو ان اہم اور حساس معلومات کی فراہمی سے ملک کے عسکری اور حفاظتی نظام اور دفاع سے متعلق عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ قومی سلامتی اور پبلک سیفٹی کے لیے بھی سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔‘
تفتیشی ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاملے میں ایک پرائیوٹ دفاعی کمپنی کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر آشیش کنسل اور ان کی کمپنی کے ایک دیگر اہلکار کو بھی گرفت میں لیا گیا ہے۔ تاہم سی بی آئی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ مبینہ طور پر رشوت کی کل رقم کتنی طے ہوئی تھی یا یہ کہ اب تک کتنی رشوت دی گئی ہے لیکن سرکاری دفاعی کمپنی کے سربراہ کی رہائش گاہ سے اب تک دو کروڑ 20 لاکھ روپے نقد اور بہت سی متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں تفتیشی ادارے نے 12 اکتوبر کو مذکورہ اہلکاروں کے خلاف ایک رپورٹ درج کی تھی۔
ایم آئی ایل ایک سرکاری ملکیت کی دفاعی کمپنی ہے جس کی کئی شاخیں ہیں اور اس کا ہیڈ کوارٹر مہاراشٹر کے شہر پونے میں واقع ہے۔ یہ کمپنی پنا کا ملٹی بیرل راکٹ لانچر، دستی بم، توپ کے گولے، مارٹر بم، فضا سے زمین پر گرائے جانے والے بم اور اس طرح کے ديگر جنگی ساز وسامان بناتی ہے۔
سی بی آئی کے ذریعے درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ نجی دفاعی کمپنی ایس ایم پی پی لمیٹڈ ڈرون ٹیکنالوجی، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بنانے کا کام کرتی ہے۔ سرکاری دفاعی کمپنی ایم آئی ایل نے اس کمپنی کو پانچ ارب روپے کے گولہ بارود کی سپلائی کا ٹھیکہ دیا تھا۔ یہ سپلائی ایک سال کے اندر کی جانی تھی۔ سی بی آئی کو اپنے ذرائع سے خبر ملی تھی کہ نجی کمپنی کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر آشیش کنسل اور ایک دیگر اہلکار رویت کمار تیواتیا ایک سازش کے تحت ایم آئی ایل کے سربراہ انل کمار سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایم آئی ایل ایک سرکاری ملکیت کی دفاعی کمپنی ہے جو ملٹی بیرل راکٹ لانچر، دستی بم، توپ کے گولے، مارٹر بم، فضا سے زمین پر گرائے جانے والے بم اور اس طرح کے ديگر جنگی ساز وسامان بناتی ہے۔ تفتیشی ادارے کے مخبروں نے خبر بھی دی کہ انل کمار مبینہ طور پر رشوت کی رقم کو اپنی اہلیہ چیتنا شری اور اور بھائی ہرش وردھن کے ذریعے حاصل کیا کرتے اور اسرقم کو وہ انھیں کے توسط سے اپنی مختلف رہائش گاہوں پر پہنچاتے تھے۔
سی بی آئی کو یہ اطلاع ملی تھی کہ انل کمار کو 12 اکتوبر کو آشیش کنسل سے رشوت کی ایک بڑی رقم ملنے والی ہے اور انل کمار نے اپنے بھائی سے آئندہ روز میں پونے پہنچے کا کہا ہے تاکہ اس رقم کو بحفاظت چھپایا جا سکے۔ اسی دوران سی بی آئی نے میسور، بنگلور اور دلی میں انل کمار کے گھروں پر چھاپے مار کر دو کروڑ 23 لاکھ روپے نقد برآمد کیے۔ سی بی آئی نے ان کی اہلیہ چیتنا اور ان کے بھائی ہرش وردھن کے خلاف اس معاملے میں ملوث ہونے کا معاملہ درج کر لیا ہے۔
دفاعی معاملوں میں رشوت خوری کے معالے میں اتنے اعلی اہلکاروں کی گرفتاری کے واقعات شاذونادر ہی سامنے آتے ہیں۔
سی بی آئی کا کہنا ہے وہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ انل کمار نے حساس نوعیت کے کتنی معلومات نجی کمپنی کے سربراہ کو فراہم کی ہیں اور وہ سرکاری دفاعی ادارے کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
غفلت برتنے پر حکام کے خلاف کارروائی کی جائے، پشاور واقعے پر پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہEPA
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے پشاور میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ ’ان متعلقہ حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جن کی غفلت کے باعث ایک خستہ حال اور گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی عمارت سکول کے طور پر کام کرتی رہی۔‘
ایک بیان میں فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے کہا کہ ’اگر غفلت برتنے والوں کو سزا نہیں دی گئی، تو ایسے سانحات دوبارہ رونما ہوں گے۔‘
’واقعے کی ایک مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہییں، تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ آیا تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی تھی اور کیا اس عمارت کا سکول رجسٹریشن پر کبھی معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔‘
کاشف مرزا نے مطالبہ کیا کہ ’تحقیقات میں نہ صرف عمارت کے مالک بلکہ ان حکام کا بھی تعین کیا جانا چاہیے جنھوں نے ایک خستہ حال عمارت میں سکول چلانے کی اجازت اور این او سی جاری کیے۔‘
پشاور میں سکول کی چھت کرنے کے واقعے پر وزیر اعظم نے رپورٹ طلب کر لی
وزیر اعظم شہباز شریف نے پشاور میں سکول کی چھت گِرنے کے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ’واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔‘
پی ایم آفس کے بیان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے ’واقعے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد و معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔‘
سعودی اتحاد کا مدینہ کی طرف داغے گئے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جانب سے مدینہ میں حوثیوں کا کروز میزائل حملہ روکا گیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ مملکت نے ’مدینہ ریجن میں ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کیا گیا۔‘
دریں اثنا اتحاد نے جمعرات کی صبح اعلان کیا تھا کہ اس نے مشرقی ریجن میں ایک ڈرون کو بھی روک کر تباہ کیا ہے۔
دوسری طرف حوثی تحریک انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی سرزمین کی جانب ایسی کوئی بھی کارروائی کرنے کی تردید کی ہے۔ اس نے کہا کہ مدینہ پر میزائل داغنے کے سعودی الزام کو ’جھوٹ‘ قرار دیا۔
حوثی تحریک انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا یہ کہ اپنے ہدف تک ’درست انداز میں پہنچا۔‘
سریع نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کے بعد یہ بھی اعلان کیا کہ صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں ایک سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسے ’براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔‘
اس ماہ کے آغاز میں سعودی اتحاد نے مدینہ میں بجلی تقسیم کرنے والے الطیبہ سٹیشن پر ایک ’دہشت گرد حملے‘ کی اطلاع دی تھی اور حوثیوں پر اسے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔
اس نے کہا کہ حملے میں ’ایک شہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتی ہے‘ اور ’اس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہو گیا۔ تاہم بجلی کے نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔‘
حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے اس وقت ایک حوثی فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ حملہ حوثیوں نے نہیں کیا ہے۔
ریاض نے گذشتہ ماہ بھی حوثیوں پر مکہ کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام لگایا تھا تاہم حوثیوں نے اس کی تردید کی تھی۔
پاکستان میں بچوں کی نصف آبادی نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم کیوں؟, کیرولین ڈیوس، پاکستان میں بی بی سی کی نامہ نگار

،تصویر کا کیپشنالخیر ایجوکیشن سینٹر، جہاں کی چھت گِرنے سے بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 46.5 فیصد طلبہ نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ تاہم عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق یہ شرح اس سے زیادہ یعنی تقریباً 49 فیصد یا دو کروڑ 17 لاکھ بچوں تک ہے۔
لیکن بچوں کی اتنی بڑی تعداد نجی سکولوں میں کیوں؟
نیشنل کریکولم کونسل کی سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر مریم چغتائی کہتی ہیں کہ والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں دی جانے والی تعلیم معیاری نہیں ہوتی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سے سرکاری سکول عملی طور پر درس گاہوں کی بجائے ایسی جگہیں ہیں جہاں محض دن کے اوقات بچوں کو رکھا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’والدین اس حقیقت سے واقف ہیں۔ ایک غریب خاندان بچوں کو سرکاری سکول میں اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہاں تعلیمی سال ضائع ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ان کی آمدن کم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے وہ بچوں کو کم فیس والے نجی سکول میں بھیجنے کے لیے دو یا تین ملازمتیں کرتے ہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ لازم نہیں کہ ان نجی سکولوں میں تعلیم کا معیار بہتر ہو اور وہاں اتنی حفاظتی جانچ پڑتال نہیں ہوتی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’نجی سکولوں کے لیے رجسٹریشن ضروری ہے۔ لیکن تدریسی معیار اور عمارت کی حفاظت کا طریقہ کار کمزور ہے۔۔۔ کم فیس والے بہت سے سکول خستہ حال رہائشی گھروں میں چل رہے ہیں، جن میں طلبہ کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اضافی منزلیں تعمیر کر دی جاتی ہیں۔‘
ڈاکٹر مریم چغتائی کا کہنا ہے کہ ’جب تک بچوں کی حفاظت کو ایک ناقابلِ سمجھوتہ ترجیح کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، اور اسے منافع کمانے کا ذریعہ سمجھنا بند نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہم اس طرح کے المناک واقعات پر سوگ مناتے رہیں گے۔‘

،تصویر کا کیپشنالخیر ایجوکیشن سینٹر میں چھت گِرنے سے 34 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے یہ سنگین غفلت کا معاملہ ہے: سی سی پی او پشاور

سی سی پی او پشاور پولیس ڈاکٹر میاں سعید نے دیر کالونی میں سکول کی چھت گِرنے کے واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات بتائی ہیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انتہائی تنگ گلی میں واقع کثیر المنزلہ عمارت کی چھتوں کے سلیب معیاری نہیں تھے۔
ان کے مطابق چھت گِرنے سے تین کلاس رومز متاثر وئے۔ ’ہر منزل پر ایک کلاس روم موجود تھا۔ ان کلاس رومز میں مجموعی طور پر تقریباً 110 طلبہ موجود تھے، جن میں بالائی منزل کی کلاس میں 30، درمیانی منزل کی کلاس میں 40 اور گراؤنڈ فلور کی کلاس میں 45 طلبہ تھے۔‘
ڈاکٹر میاں سعید نے کہا کہ پوری عمارت ’ضرورت سے زیادہ بوجھ‘ کا شکار تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اب بھی لوگوں سے عمارت سے دور رہنے کی اپیل کر رہے ہیں کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ہے اور مزید نقصان ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ یہ سنگین غفلت کا معاملہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ بھی جائزہ لیں گے کہ آیا تعمیراتی ضوابط کی کوئی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں۔ ہم مکمل تحقیقات اور تمام حقائق جمع کریں گے۔‘
اس سے قبل پولیس نے تصدیق کی تھی کہ الخیر سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بریکنگ, چھت گِرنے سے 34 ہلاکتوں کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم: سکول کی خستہ حال عمارت بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکی، پولیس کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
صوبہ خیبر پختونخوا میں ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پشاور میں سکول کی چھت گِرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ جاوید اقبال کریں گے۔
اس کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی ان حقائق اور حالات کا تعین کرے گی جن کے نتیجے میں پشاور کی دیر کالونی میں کلاس روم کی چھت گِری۔ ’واقعے کے اسباب کا تعین کیا جائے گا اور یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا اس میں کسی قسم کی غفلت، تعمیراتی خامی یا کوئی اور وجہ شامل تھی۔‘
اس کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب سفارشات مرتب کرے گی۔
دریں اثنا پشاور میں ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکول کی عمارت ’طلبہ کا وزن برداشت نہیں کر سکی اور منہدم ہو گئی۔‘
پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) فرحان احمد نے کہا کہ دیر کالونی میں واقع الخیر سکول ’انتہائی خستہ حالت میں تھا۔‘
پولیس حکام کا اندازہ ہے کہ سکول میں تقریباً 300 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جبکہ عمارت گرنے سے متاثر ہونے والے تین کلاس رومز میں تقریباً 100 طلبہ موجود تھے۔
فرحان احمد نے کہا کہ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا اس عمارت کا پہلے کبھی معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
