آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند: اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا، اسرائیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا۔ تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

خلاصہ

  • امریکی صدر پاکستان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے ایران پر حملے روکنے اور مشروط جنگ بندی کے لیے تیار
  • ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
  • امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اب جمعے کو اسلام آباد میں شروع ہوگا: ایران
  • پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی دعوت
  • اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں دھمکی دی تھی کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مِٹ جائے گی جسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکے گا‘

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا: اسرائیل

    امریکہ اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اس تنازع میں شریک اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف دو ہفتوں کے لیے حملوں کو معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔

    ’اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل، اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔‘

    بیان میں کہا گیا یے کہ امریکہ نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے, واشنگٹن میں بی بی سی فارسی کے نامہ نگار ‌خشایار جنیدی کا تجزیہ

    ایسے میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہونے جا رہا ہے یہ واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

    گذشتہ ایک سال میں ایران اور امریکہ دو بار مذاکرات کر چکے ہیں۔ دونوں بار مذاکرات کے چلتے جنگ شروع ہو گئی۔

    اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ایران کا سرکاری میڈیا اپنی فتح کو کتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔

    اس کی فوج کو بہت نقصان پہنچا ہے، اس کی معیشت تباہی کا شکار ہے، اور اپوزیشن اور عوام کے ساتھ اب بھی کئی معاملات حل طلب ہیں۔

    گذشتہ دنوں حکومت نے ان میں سے کچھ افراد کو پھانسی دینا شروع کر دیا جنھیں جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

    حکومت کو ملک کے اندر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنی ہوگی۔ ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے ایران کے مطالبات ماننا آسان نہیں۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کو اس شرط کے تحت قبول کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول پر لائِ جائے گی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کنٹرول ہے۔

    مذاکرات میں ایک اور پیچیدہ مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہو گا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں یورینیم کی افزودگی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران میں افزودگی نہ ہو۔

    یہ دو ہفتے بہت مشکل ہونے جا رہے ہیں۔

  3. جنگ بندی اور دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات پر آمادگی تک کب کیا ہوا؟

    منگل اور بدھ کی درمیانی رات تین بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    اس اپیل کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس حوالے سے پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔‘

    رضا امیری نے تجویز دی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے، اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’مزید پیش رفت کے لیے جڑے رہیں۔‘

    جنگ بندی کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جمعے کو اسلام آباد میں دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل کے لیے مدعو کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل کس حد تک اب جنگ بندی پر عمل پیرا رہے گا۔

    یہاں سے تک پہنچنے کا سفر ایک مشکل اور تھکا دینے والا تھا۔ پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔

    اتوار کوصدر ٹرمپ نے ایک اور دھمکی دی کہ اگر ایران 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو وہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ اس ڈیڈلائن میں توسیع بھی کرتے رہے۔

    اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھمکی دی کہ اگر ایران 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہیں کھولتا تو وہ ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پورا ملک ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل کی رات ہو۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ جب مہلت ختم ہو جائے گی تو ’ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے۔ پتھر کا زمانہ، ہاں‘۔

    انھوں نے یہ بات ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی اپنی سابقہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

    ڈیڈلائن ختم ہونے سے قبل بھی ایران پر اور ایران سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    ایران کا دس نکاتی ایجنڈا کیا ہے جس پر ابھی امریکہ مذاکرات پر تیار ہوا ہے؟

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔

    ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:

    • عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
    • ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
    • پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
    • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
    • آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
    • ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
    • ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
    • امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی۔
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
    • مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔

    یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

    اس جنگ کے دوران ٹرمپ کی ڈیڈ لائنز بار بار بدلتی رہی ہیں۔

    ڈیڈ لائن 1 — 21 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں میں آبی راستہ دوبارہ نہ کھولا تو وہ ’بجلی گھروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گے، سب سے بڑے پلانٹس سے شروع کرتے ہوئے‘۔

    ڈیڈ لائن 2 — 23 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے، اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے۔

    ڈیڈ لائن 3 — 27 مارچ

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’ایرانی حکومت کی درخواست پر‘ توانائی کے پلانٹس پر حملہ 10 دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ اس طرح نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل ہو گئی۔

    6 اپریل کو 48 گھنٹے کی وارننگ

    6 اپریل قریب آتے ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس ’48 گھنٹے‘ ہیں، ورنہ وہ ’قیامت برپا کر دیں گے‘۔

    تازہ ترین دھمکی — اتوار

    اتوار کو ایک سخت زبان والے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے دھمکی دہرائی:

    • ’منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا‘
    • بعد میں انھوں نے وقت بھی واضح کیا کہ ’منگل، رات 8 بجے!‘
  4. پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی دعوت

    پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی معاہدے کے بعد مذاکراتی ٹیموں کو جمعے کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے، اور ہم آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔‘

  5. امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اب جمعے کو اسلام آباد میں شروع ہوگا: ایران

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے، اور جنگ کے بیشتر اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔

    بیان کے مطابق ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق اب جبکہ ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہے، اور امریکہ اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کر چکا ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات جمعے کے روز اسلام آباد میں ہوں گے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی سطح پر بھی مضبوط کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق یہ مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15 دن جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایران نے دشمن کی تمام تجاویز مسترد کرتے ہوئے اپنا 10 نکاتی منصوبہ امریکہ کو پاکستان کے ذریعے پیش کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے کنٹرولڈ گزرگاہ، خطے میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا، ایران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ، تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ان تمام امور کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے توثیق شامل ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ ان اصولی نکات کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر چکا ہے۔ تاہم بیان میں زور دیا گیا کہ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں، اور جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب 10 نکاتی منصوبے کی تمام تفصیلات مذاکرات میں طے پا جائیں۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے عوام، سیاسی جماعتوں اور تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اتحاد برقرار رکھیں اور اس عمل کی حمایت کریں۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اگر مذاکرات میں دشمن کی پسپائی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہوئی تو ایران اپنے مطالبات پورے ہونے تک میدان میں لڑائی جاری رکھے گا۔

  6. اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی: وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، جس کے لیے ایران کی مسلح افواج سے ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی خواہش، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔‘

    عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔‘

  7. ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 5.8 فیصد کمی کے بعد 103.42 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 8.5 فیصد گر کر 103.25 ڈالر فی بیرل رہی۔

    تاہم یہ قیمتیں اب بھی اس سطح سے کہیں زیادہ ہیں جو 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے تھیں۔

  8. بریکنگ, امریکی صدر پاکستان کی درخواست پر دو ہفتے کے لیے ایران پر حملے روکنے اور مشروط جنگ بندی کے لیے تیار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

    ان کے مطابق یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ بطور صدر، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

  9. ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا

    ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے‘ کی دھمکی اور جاری فضائی حملوں پر ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں نے بھی تنقید کی ہے۔

    جارجیا سے ریپبلکن رکنِ کانگریس آسٹن سکاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے بیانات لڑائی روکنے میں مددگار نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق صدر کے تبصرے ’غیر مؤثر‘ ہیں اور وہ ان سے اتفاق نہیں کرتے۔

    ٹیکساس کے ریپبلکن نیتھینیئل موران نے بھی ٹرمپ کی دھمکی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ ’جائز اور اخلاقی بنیادوں‘ پر فوجی کارروائیاں کرتا آیا ہے، اور کسی تہذیب کو تباہ کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

    میڈیا کی قدامت پسند شخصیات جیسے ٹکر کارلسن، الیکس جونز، کینڈیس اوونز اور جو روگن نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کی ہے۔

    سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین، جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی تھیں، نے ان کے بیان کو ’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ’ہم پوری تہذیب کو ختم نہیں کر سکتے، یہ سراسر برائی اور جنون ہے۔‘

    دہشت گردی کے خلاف قومی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ، جنھوں نے ایران پر حملے کے فیصلے کے بعد استعفیٰ دیا تھا، نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو امریکہ کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق ایسی کارروائی امریکہ کو ’استحکام لانے والی قوت‘ کے بجائے ’افراتفری پھیلانے والی طاقت‘ کے طور پر متعارف کرائے گی۔

  10. کیا ٹرمپ پسپائی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں؟, ڈینیئل بش، واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں کمی لانے کے لیے ممکنہ طور پر ایک پسپائی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ پاکستان کی اس تجویز سے آگاہ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ڈیڈ لائن دو ہفتے کے لیے بڑھا دیں تاکہ عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ کھل سکے۔ پاکستان کی تجویز میں دو ہفتے کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ شامل ہے، جس کے بعد مستقل امن کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ امریکہ اور ایران ’پرمغز نوعیت کے مذاکرات‘ میں مصروف ہیں۔

    ٹرمپ نے ایران کو مشرقی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے تک کی مہلت دی ہے کہ وہ معاہدہ کرے، ورنہ امریکہ ایران کے پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔‘

    ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک طرف معاہدے کے لیے دباؤ میں ہیں اور دوسری طرف اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنگ کو مزید بڑھایا جائے یا نہیں۔

  11. بریکنگ, فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے: پاکستان میں ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔‘

    رضا امیری نے تجویز دی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے، اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’مزید پیش رفت کے لیے جڑے رہیں۔‘

  12. ایران میں پلوں اور توانائی کے مراکز کے قریب ’انسانی زنجیریں‘، بی بی سی ویریفائی کی ویڈیوز کی تصدیق

    ایران کے سرکاری میڈیا نے ایسی ویڈیوز اور تصاویر جاری کی ہیں جن میں درجنوں افراد کو مختلف پلوں اور توانائی کے مراکز کے قریب ’انسانی زنجیریں‘ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مظاہرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے ان تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے متعدد ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں ایرانی حکومت کے حامی مختلف مقامات پر جمع دکھائی دیتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

    • جنوب مغربی صوبہ فارس میں کازرون پاور پلانٹ
    • شمالی صوبہ قزوین میں شہید رجائی پاور پلانٹ
    • جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے شہروں دزفول اور اہواز کے پل

    یہ مظاہرے بظاہر امریکی دھمکیوں کے جواب میں حکومتی حمایت کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے بعض حکام نے شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ امریکی حملوں کی دھمکیوں کے پیشِ نظر بجلی گھروں اور دیگر اہم تنصیبات کے گرد "انسانی زنجیریں" بنائیں تاکہ ان مقامات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ایران کے نائب وزیرِ نوجوانان و کھیل علی رضا رحیمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’روشن مستقبل کے لیے ایرانی نوجوانوں کی انسانی زنجیر‘ کے نام سے مہم پورے ملک میں منعقد کی گئی۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز، جن کی بی بی سی نے تصدیق کی، میں کازرون کے مشترکہ سائیکل پاور پلانٹ کے سامنے انسانی زنجیر بناتے ہوئے افراد کو دکھایا گیا۔

    ایرانی حکومت کے ایک ٹیلیگرام اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ اس مہم میں شریک افراد نے ’امریکی-اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت کی اور ملک کی مسلح افواج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ نوجوانوں نے ملک کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔

    ایک علیحدہ بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ ایرانی ’ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے‘ کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، اور مزید افراد مخصوص نمبر پر پیغام بھیج کر شامل ہو سکتے ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم تنصیبات کے گرد انسانی ڈھال بنانے کی رپورٹس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ قرار دیا۔

  13. پاکستان کی سفارتی کوششیں، اسحاق ڈار کا سعودی اور ترک ہم منصب سے رابطہ

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے منگل کی شب سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے خطے کی مجموعی صورتِ حال، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور وسیع تر علاقائی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

    اسحاق ڈار نے اپنے سعودی اور ترک ہم منصب کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں اور مکالمے کے فروغ سے متعلق تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

  14. کچھ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

    امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ ترمیم اس صورت میں نائب صدر کو صدر کے اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتی ہے جب صدر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔

    اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہو جائے کہ صدر اپنے منصب کے قابل نہیں رہے، تو وہ کانگریس کو اس بارے میں باضابطہ اطلاع دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس یا کابینہ کے ارکان اس متعلق سوچ رہے ہیں۔

    کئی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’نسل کشی جیسے جنگی جرائم کی دھمکیاں‘ دے رہے ہیں اور ’اتنے خطرناک‘ ہیں کہ انھیں جوہری ہتھیاروں کے کوڈز تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

    کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو-کورتیز نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’نسل کشی کی دھمکی‘ ہیں اور ان کے مطابق صدر کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

    ایوانِ نمائندگان کے سینیئر ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے ووٹ دیں، ورنہ ٹرمپ ملک کو ’تیسری عالمی جنگ‘ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ’ایک پوری تہذیب کو مٹانے‘ کا بیان انتہائی تشویشناک ہے اور کانگریس کو اس پر فیصلہ کن ردعمل دینا چاہیے۔

    ایوانِ نمائندگان اس وقت تعطیلات پر ہے اور 14 اپریل کو دوبارہ اجلاس ہو گا۔

  15. بریکنگ, صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں مستقل، مضبوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، اور امکان ہے کہ یہ کوششیں مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچیں۔‘

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔‘

  16. اگر ایران صدر ٹرمپ کی دی گئی ڈیڈ لائن پوری نہ کر سکا تو امریکی فوج کیا کر سکتی ہے؟, ڈینیئل بش، بی بی سی نیوز۔ واشنگٹن

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی شہری تنصیبات کے بڑے حصے کو تباہ کرنے کی دھمکی پر اس وقت سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں، یہ سب اس لیے کہ انھوں نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس کا کوئی واضح منصوبہ یا اختتامی حکمتِ عملی موجود نہیں تھی۔

    ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے ایسی دھمکیاں دے کر خود کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جنھیں امریکی فوج ایک ہی وار میں عملی جامہ نہیں پہنا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں کا نیا سلسلہ، چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایرانی حکومت کو فوری طور پر جنگ بندی پر آمادہ نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ اگر منگل کی شام آٹھ بجے تک معاہدہ نہ ہوا تو وہ چار گھنٹوں میں ایران کے ’ہر پل‘ اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے۔ منگل کی صبح انھوں نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیڈ لائن تک معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔

    یہ بیانات مجموعی طور پر ایک امریکی صدر کی جانب سے غیر معمولی دھمکی تصور کیے گئے۔ ناقدین نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، جسے ٹرمپ نے پیر کی پریس کانفرنس میں مسترد کر دیا۔

    اس بحث سے ہٹ کر، سابق امریکی دفاعی حکام اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران جیسے بڑے ملک کے ہر پل کو چند گھنٹوں میں تباہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔

    ایران رقبے کے لحاظ سے امریکہ کے براعظمی حصے کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہے۔

    ماہرین کے مطابق امریکہ کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات اور کچھ بنیادی ڈھانچے کے مقامات کا علم ہے، مگر ہزاروں دیگر اہداف کی نشاندہی اور انھیں اتنے کم وقت میں تباہ کرنا ممکن نہیں۔

    ایک سابق اعلیٰ دفاعی اہلکار نے کہا کہ ’اس دھمکی پر لفظی طور پر عمل کرنا ایک دیوہیکل کام ہو گا۔ اور کیا اس کا مطلوبہ سٹریٹجک اثر بھی ہو گا؟ ان کے مطابق ٹرمپ ایسے الفاظ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکہ کے حق میں سٹریٹجک دباؤ بڑھا سکیں۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے بجلی کے شعبے پر بڑے پیمانے کا حملہ ہر پل کو تباہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ عمل ہے۔

    سابق امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار میاد ملیکی کے مطابق ایران کے زیادہ تر بجلی گھر اور ریفائنریاں خلیج فارس کے ساحلی صوبوں، بوشہر، خوزستان اور ہرمزگان میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں حملے ایرانی حکومت کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آپ ان تین صوبوں میں کچھ بھی کریں، آپ حکومت کی تیل آمدنی اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز تک رسائی کو کاٹ دیتے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے خلیج فارس کے اہم جزیرے خارگ پر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات گزرتی ہیں۔

    بوداپیسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ حملے ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن تک مذاکرات جاری رہیں گے، مگر خبردار کیا کہ امریکہ ایران کی معیشت کو ’بہت زیادہ نقصان‘ پہنچا سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو مسترد کیا کہ جے ڈی وینس کے بیانات میں کسی امریکی جوہری حملے کا اشارہ تھا۔

    کچھ شہری تنصیبات پہلے ہی نشانہ بن چکی ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو کہا کہ امریکی۔اسرائیلی فضائی حملوں نے قم شہر کے ایک پل کو نشانہ بنایا۔ گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے سب سے بڑے پل کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

    یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے مطابق حملوں کا نیا سلسلہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کافی ہو گا یا نہیں۔

    منگل کو امریکی اور ایرانی حکام نے براہِ راست بات چیت کی، جبکہ کئی ہفتوں کی بالواسطہ بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکی تھی۔ دونوں ممالک اب بھی اہم معاملات۔۔ ایران کے تیل کے شعبے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر شدید اختلاف رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ مگر ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روزمرہ مذاکرات وٹکوف اور کشنر دیکھ رہے ہیں اور جے ڈی وینس کو صرف اس وقت شامل کیا جائے گا جب معاہدہ قریب ہو۔

    ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کا پاور گرڈ بڑے پیمانے پر تباہ ہو گیا تو عوامی دباؤ حکومت کو معاہدے پر مجبور کر سکتا ہے۔

    مگر جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی عوام بجلی کی بندشوں کا سامنا کر رہے تھے۔ میاد ملیکی کے مطابق حکومت شاید مزید بلیک آؤٹس کو امریکہ سے مذاکرات کی ترغیب کے طور پر نہ دیکھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگی مسئلہ نہیں۔ ایرانی عوام پہلے ہی ناکارہ توانائی کے شعبے سے نمٹ رہے ہیں۔‘

    ایران کے بجلی کے شعبے پر حملہ ٹرمپ کی اس کوشش کو پیچیدہ بنا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ ایران نے اس آبی راستے میں زیادہ تر تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی تیل منڈی میں ہلچل اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    سابق امریکی دفاعی اہلکار جیسن کیمبل کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ میں اضافہ کر کے امریکہ اپنے مقاصد کیسے حاصل کرے گا۔

    ان کے مطابق جنگ کے چھ ہفتے بعد بھی ایرانی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ برداشت کر سکتی ہے اور امریکی مطالبات کے آگے آسانی سے نہیں جھکے گی۔

    جیسن کیمبل نے کہا کہ ایران کی قیادت کے لیے یہ جنگ ’صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ حکومت کے وجود کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لڑائی ہے۔‘

  17. ٹرمپ کی پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت، امریکی عوام حامی نہیں: امریکہ کی سابق نائب صدر

    امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ایک ایسی جنگ شروع کرنے کے بعد، جو اُن کی اپنی پیدا کردہ ہے اور جس کے خاتمے کے لیے اُن کے پاس نہ کوئی منصوبہ ہے نہ حکمتِ عملی، اب جنگی جرائم کرنے اور ایک ’پوری تہذیب کو مٹانے‘ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

    کملا ہیرس نے کہا کہ ’یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور امریکی عوام اس کی حمایت نہیں کرتے۔‘

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے ٹرمپ کے خلاف اپنی رائے دی کہ ’صدر کی یہ لاپرواہی ہمارے بہادر فوجیوں کو بلاوجہ خطرے میں ڈال رہی ہے، امریکہ کی عالمی ساکھ کو تباہ کر رہی ہے، اور امریکی عوام کے لیے زندگی کو مزید ناقابلِ برداشت بنا رہی ہے‘۔

    انھوں نے تجویز دی کہ ’ہم سب کو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور اس غیر قانونی جنگ کے لیے فنڈنگ کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘

    یاد رہے کہ کملا ہیرس صدر ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والی پہلی سیاہ فام خاتون امیدوار تھیں۔

  18. پاکستان کا ایک ارب 43 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی بانڈ کی ادائیگی کا اعلان, سارہ حسن، صحافی

    پاکستان نے یورو بانڈ کی مدت مکمل ہونے پر ایک ارب 43 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے۔

    انھوںنے اپنے بیان میں کہا کہ آٹھ اپریل کو پاکستان کو 10 سالہ مدت کے لیے جاری کیے گئے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے یورو بانڈ ادائیگی کرنا تھی۔

    خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ یورو بانڈ پر واجب الادا کوپن ریٹ یا شرح سود کی مد میں 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالر بھی ادا کیے گئے ہیں اور اس طرح پاکستان نے مجموعی طور پر ایک ارب 42 کروڑ ڈالر کی ادئیگیاں کی ہیں۔

    قرض کی ادائیگی کے موقع پر مشیر برائے وزیر خزانہ نے کہا کہ واجب الادا قرض کی بروقت ادائیگی پاکستان کے نظم و ضبط، مؤثر صلاحیت اور مضبوط ساکھ کو ظاہر کرتی ہے۔

    اس سے قبل پاکستان نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں باقاعدگی سے اپنے بانڈ کے اجرا کے ذریعے قرض لیتا رہا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 27 مارچ تک مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 16 ارب 38 کروڑ ڈالر ہے۔

    کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرِ مبادلہ کے ذخائر پانچ کروڑ 41 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے بعد ملک کے مجموعی ذخائر 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

  19. روس اور چین نے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے قرارداد ویٹو کردی, ناڈا توفیق، نیو یارک

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی ایک مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی اور مربوط کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

    گیارہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کونسل کے دو ارکان (پاکستان اور کولمبیا) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

    چند ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ قرارداد ابتدا میں چیپٹر سیون کے تحت تھی (جس میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت شامل تھی)، پھر بعد میں اسے حذف کر کے لکھا گیا کہ ’ریاستوں کو تمام ضروری دفاعی ذرائع استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے‘ اور آخرکار اسے محض دفاعی کوششوں کی پُرزور حوصلہ افزائی تک ہی محدود کر دیا گیا۔

    بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اس اجلاس کی صدارت کی۔

    ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ اس قرارداد کے ذریعے کوئی نئی حقیقت نہیں بنائی جا رہی، بلکہ یہ ایران کے بار بار دہرائے جانے والے جارحانہ رویّے کے سلسلے کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے، جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بطور ہتھیار استعمال کو روکنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کے دنیا کے لیے سنگین نتائج ہوں گے اور اس طرزِ عمل کو دیگر آبی گزرگاہوں میں بھی دہرایا جا سکتا ہے، جس سے دنیا ایک جنگل میں تبدیل ہو جائے گی۔

  20. صدر میکخواں نے ایران میں دو فرانسیسی شہریوں کی رہائی کی تصدیق کر دی

    ایران نے ماضی میں حراست میں لیے گئے دو فرانسیسی شہریوں سیسلی کوہلر اور جیکیوس پیرس کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں فرانسیسی شہریوں کی رہائی کوششوں کے لیے حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    گذشتہ برس کوہلر اور پیرس کو ایران کی ایک عدالت کی جانب سے جاسوسی کے الزامات پر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ انھیں مئی 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔