امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی شہری تنصیبات کے بڑے حصے کو تباہ کرنے کی دھمکی پر اس وقت سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں، یہ سب اس لیے کہ انھوں نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس کا کوئی واضح منصوبہ یا اختتامی حکمتِ عملی موجود نہیں تھی۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ نے ایسی دھمکیاں دے کر خود کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جنھیں امریکی فوج ایک ہی وار میں عملی جامہ نہیں پہنا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں کا نیا سلسلہ، چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایرانی حکومت کو فوری طور پر جنگ بندی پر آمادہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ اگر منگل کی شام آٹھ بجے تک معاہدہ نہ ہوا تو وہ چار گھنٹوں میں ایران کے ’ہر پل‘ اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے۔ منگل کی صبح انھوں نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیڈ لائن تک معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی‘۔
یہ بیانات مجموعی طور پر ایک امریکی صدر کی جانب سے غیر معمولی دھمکی تصور کیے گئے۔ ناقدین نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، جسے ٹرمپ نے پیر کی پریس کانفرنس میں مسترد کر دیا۔
اس بحث سے ہٹ کر، سابق امریکی دفاعی حکام اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران جیسے بڑے ملک کے ہر پل کو چند گھنٹوں میں تباہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔
ایران رقبے کے لحاظ سے امریکہ کے براعظمی حصے کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات اور کچھ بنیادی ڈھانچے کے مقامات کا علم ہے، مگر ہزاروں دیگر اہداف کی نشاندہی اور انھیں اتنے کم وقت میں تباہ کرنا ممکن نہیں۔
ایک سابق اعلیٰ دفاعی اہلکار نے کہا کہ ’اس دھمکی پر لفظی طور پر عمل کرنا ایک دیوہیکل کام ہو گا۔ اور کیا اس کا مطلوبہ سٹریٹجک اثر بھی ہو گا؟ ان کے مطابق ٹرمپ ایسے الفاظ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکہ کے حق میں سٹریٹجک دباؤ بڑھا سکیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے بجلی کے شعبے پر بڑے پیمانے کا حملہ ہر پل کو تباہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ عمل ہے۔
سابق امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار میاد ملیکی کے مطابق ایران کے زیادہ تر بجلی گھر اور ریفائنریاں خلیج فارس کے ساحلی صوبوں، بوشہر، خوزستان اور ہرمزگان میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں حملے ایرانی حکومت کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ ان تین صوبوں میں کچھ بھی کریں، آپ حکومت کی تیل آمدنی اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز تک رسائی کو کاٹ دیتے ہیں۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ نے خلیج فارس کے اہم جزیرے خارگ پر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات گزرتی ہیں۔
بوداپیسٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ حملے ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن تک مذاکرات جاری رہیں گے، مگر خبردار کیا کہ امریکہ ایران کی معیشت کو ’بہت زیادہ نقصان‘ پہنچا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو مسترد کیا کہ جے ڈی وینس کے بیانات میں کسی امریکی جوہری حملے کا اشارہ تھا۔
کچھ شہری تنصیبات پہلے ہی نشانہ بن چکی ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو کہا کہ امریکی۔اسرائیلی فضائی حملوں نے قم شہر کے ایک پل کو نشانہ بنایا۔ گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے سب سے بڑے پل کو بمباری کا نشانہ بنایا۔
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے مطابق حملوں کا نیا سلسلہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کافی ہو گا یا نہیں۔
منگل کو امریکی اور ایرانی حکام نے براہِ راست بات چیت کی، جبکہ کئی ہفتوں کی بالواسطہ بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکی تھی۔ دونوں ممالک اب بھی اہم معاملات۔۔ ایران کے تیل کے شعبے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر شدید اختلاف رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، داماد جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ مگر ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روزمرہ مذاکرات وٹکوف اور کشنر دیکھ رہے ہیں اور جے ڈی وینس کو صرف اس وقت شامل کیا جائے گا جب معاہدہ قریب ہو۔
ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران کا پاور گرڈ بڑے پیمانے پر تباہ ہو گیا تو عوامی دباؤ حکومت کو معاہدے پر مجبور کر سکتا ہے۔
مگر جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی عوام بجلی کی بندشوں کا سامنا کر رہے تھے۔ میاد ملیکی کے مطابق حکومت شاید مزید بلیک آؤٹس کو امریکہ سے مذاکرات کی ترغیب کے طور پر نہ دیکھے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ جنگی مسئلہ نہیں۔ ایرانی عوام پہلے ہی ناکارہ توانائی کے شعبے سے نمٹ رہے ہیں۔‘
ایران کے بجلی کے شعبے پر حملہ ٹرمپ کی اس کوشش کو پیچیدہ بنا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولا جائے۔ ایران نے اس آبی راستے میں زیادہ تر تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے، جس سے عالمی تیل منڈی میں ہلچل اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سابق امریکی دفاعی اہلکار جیسن کیمبل کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ میں اضافہ کر کے امریکہ اپنے مقاصد کیسے حاصل کرے گا۔
ان کے مطابق جنگ کے چھ ہفتے بعد بھی ایرانی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ برداشت کر سکتی ہے اور امریکی مطالبات کے آگے آسانی سے نہیں جھکے گی۔
جیسن کیمبل نے کہا کہ ایران کی قیادت کے لیے یہ جنگ ’صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ حکومت کے وجود کے لیے بھی ایک فیصلہ کن لڑائی ہے۔‘