اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس، لبنان میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی پر اظہار تشویش

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کی شام فرانس کی درخواست پر لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافے اور جنوبی لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے معاملے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
اس اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ لبنان اور اسرائیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں سے چند نکات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
روساقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبینزیا نے کہا: ’17 اپریل کو امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، بد قسمتی سے اس کے پردے میں اسرائیل نے لبنان کے خلاف جارحیت کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جب دنیا دو جون کو مذاکرات کے اگلے دور کی منتظر تھی، لبنان میں غزہ کی صورت حال سے ملتی جلتی صورتحال دیکھی گئی، جس میں آبادی کی جبری بے دخلی شامل ہے۔
نبینزیا نے خبردار کیا: ’لہٰذا یہ حیران کن نہیں کہ مسلح مزاحمت کا نظریہ واحد متبادل کے طور پر زیادہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔‘
فرانس
اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ ان کے وفد نے اس اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم ’اس کے باوجود لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وسعت اور تسلسل کا کوئی جواز نہیں۔‘
بونافون کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، آبادی بے دخل ہوئی اور لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ ہوا۔
انہوں نے کہا: ’یہ اسرائیل کی جانب سے ایک بڑی سٹریٹیجک غلطی ہے۔‘
امریکہ
امریکہ کے نمائندے مائیکل جی والٹز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’لبنان کی قانونی حکومت ایک ایسی تنظیم سے ملک کو آزاد کرانے کی کوشش میں جرات کا مظاہرہ کر رہی ہے جو تہران کو جواب دہ ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’اگر حزب اللہ فوری طور پر اپنے حملے بند کر دے، جیسا کہ اس نے بظاہر وعدہ کیا ہے، تو کشیدگی میں کمی اور امن تیزی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
والٹز کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے، لبنان کی فوج اور حکومت کو ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنا ہو گا اور ایران کو لبنان کو ’اپنے آپریشنز کے اگلے مورچے‘ کے طور پر استعمال کرنا بند کرنا ہو گا۔
لبنان
لبنان کے نمائندے احمد عرفہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بحران کو محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود اسرائیل نے ’علاقائی کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ اپنے فوجی اقدامات میں خطرناک اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب بھی ’تباہی کی منظم مہم‘ جاری رکھے ہوئے ہے اور جان بوجھ کر طبی عملے، ہسپتالوں، صحافیوں، سکولوں، سکیورٹی اداروں، اقوام متحدہ کی فورس، مذہبی مقامات اور آثار قدیمہ سمیت بے شمار اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
عرفہ نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے معاملات میں یہ کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘
انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرنا ہو گا تاکہ لبنان کی حکومت پورے ملک پر اپنا کنٹرول قائم کر سکے۔
عرفہ نے کہا: ’لبنان کی حکومت اس بات کی پابند ہو گی کہ اس کے بعد کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری قبول کرے۔‘
اسرائیل
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینون نے کہا کہ ان کا ملک ’کسی ایک صبح جاگ کر لبنان میں داخل ہونے کا فیصلہ نہیں کر بیٹھا‘ بلکہ دو مارچ کو حزب اللہ کے حملوں کے بعد ’اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کو اسرائیل کے شمالی علاقوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور یہ کہ حالیہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے ’اپریل کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین تھے۔‘
ڈینون نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے کبھی حقیقی جنگ بندی نہیں رہی کیونکہ حزب اللہ نے ’کبھی اپنے میزائل اور ڈرون حملے بند کیے ہی نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ہزاروں طلبہ اب بھی سکول نہیں جا پا رہے کیوں کہ حزب اللہ نے سکولوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
انہوں نے فرانسیسی نمائندے سے مخاطب ہو کر کہا: ’ذرا تصور کریں کہ آپ کے ملک پر سپین حملہ کر دے۔ کیا آپ انتظار کریں گے کہ ڈرون پیرس کے اوپر پرواز کریں یا خطرے کو ختم کرنے کے لیے اقدام کریں گے؟‘




















