ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ ایک نیا خطرہ مول لے رہا ہے, بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ
ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا مطلب ہے کہ امریکہ پہلے سے زیادہ خطرناک قانونی، عسکری اور اقتصادی صورتحال میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ یہ اقدام ممکن ہے لیکن اس میں بے شمار خطرات موجود ہیں۔
امریکی بحریہ کے جنگی جہاز بندر عباس یا جاسک کی بندرگاہوں کے قریب کھڑے نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ ڈرون، میزائل یا تیز رفتار ’کامی کازی‘ کشتیوں کے نشانے پر ہوں گے اور خطرناک حملے کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
اس کے بجائے امریکی فوج کا مشرقِ وسطیٰ میں ذمہ دار ادارہ ’سینٹکام‘ سیٹلائٹ اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع استعمال کرے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نکلے ہیں اور وہ کس کے ملکیت ہیں اور اُن کا رخ کس جانب ہے۔
چاہے ان جہازوں کے اے آئی ایس یعنی آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم ٹرانسپونڈر بند بھی ہوں، امریکی جنگی جہاز نسبتاً محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے انھیں خلیج عمان میں داخل ہوتے ہی شناخت کر کے روک سکیں گے۔
ایران نے اس دھمکی کو سمندری قزاقوں کی کارروائی سے تشبیح دی ہے، یعنی وہی الزام جو اس پر آبنائے ہرمز کو محدود کرنے پر لگایا گیا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ پڑوسی خلیجی عرب بندرگاہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
اس کے ساتھ ایران کے اتحادیوں، چین اور روس، کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ کیا امریکہ اس بات کے لیے تیار ہوگا کہ کسی چینی ملکیت والے جہاز یا کارگو کو روک کر قبضے میں لے؟ اور اگر چین، جس کا فوجی اڈہ جیبوتی میں قریب ہی موجود ہے، فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے جہازوں کو مسلح بحری سکواڈ کے ساتھ تحفظ فراہم کرے تو پھر صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی؟