ایران کے میناب سکول پر حملے کے بعد امریکہ کی ’غیر معمولی‘ خاموشی پر پینٹاگون تنقید کی زد میں

    • مصنف, ٹام بیٹمین، اور کائی پیگلیوچی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

امریکہ میں عسکری امور کے ایک سابق قانونی مشیر سمیت پانچ سابق امریکی عہدیداروں نے اس سال کے اوائل میں ایران کے ایک سکول پر ہونے والے جان لیوا حملے میں ممکنہ امریکی کردار کو تسلیم نہ کرنے پر پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان میں سے بعض عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ اتنے طویل عرصے کے بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا انتہائی غیر معمولی ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی جنگ کے ابتدائی حملوں کے دوران میناب میں ایک پرائمری سکول کو میزائل نے نشانہ بنایا تھا جس میں ایرانی حکام کے مطابق 168 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 110 بچے تھے۔

اس کے بعد دو مہینوں میں پینٹاگون نے صرف یہ کہا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مارچ کے اوائل میں فوجی تفتیش کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ امریکی فورسز نے غلطی سے سکول کو نشانہ بنایا تاہم وہ اس کی حتمی تصدیق کرنے سے قاصر تھے۔

بی بی سی کی جانب سے اس حملے اور شفافیت کی کمی کے الزامات پر پوچھے گئے متعدد سوالات کے جواب میں پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’یہ واقعہ اس وقت زیرِ تفتیش ہے‘ اور اس کی مزید تفصیلات دستیاب ہونے پر فراہم کی جائیں گی۔

بی بی سی نے تین تاریخی واقعات کا جائزہ لیا جن میں امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ہر معاملے میں پینٹاگون نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں نمایاں طور پر زیادہ معلومات جاری کی تھیں۔

امریکی فضائیہ میں ریٹائرڈ جج ایڈووکیٹ جنرل اور عراق و افغانستان کی جنگوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ میں سابق سینیئر قانونی مشیر لیفٹیننٹ کرنل ریچل ای وین لینڈنگھم نے کہا کہ موجودہ امریکی موقف ’معیاری ردعمل سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی کی انتظامیہ کم از کم وفاداری اور جنگی قوانین سے وابستگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔‘

وین لینڈنگھم کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے بیانات میں نہ تو جواب دہی کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ یقین دہانی کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی۔

صدر ٹرمپ نے سات مارچ کو اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خیال میں میناب حملے کا ذمہ دار ایران ہے تاہم انھوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

چند دن بعد جب ان سے سکول کے ساتھ قائم فوجی اڈے پر امریکی ٹوماہاک میزائل لگنے کی ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بولے کہ انھوں نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی اور پھر بغیر ثبوت یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل ہیں۔

11 مارچ کو جب ان سے ان رپورٹس کے بارے میں سوال ہوا جن میں کہا گیا تھا کہ ابتدائی فوجی تحقیقات میں سکول پر امریکی حملے کا شبہ سامنے آیا ہے تو انھوں نے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا۔

وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے چار مارچ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور امریکہ کبھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتا۔

امریکی محکمۂ دفاع نے حملے کے بارے میں کئی سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے بارہا اس بات کو بتانے سے بھی گریز کیا کہ 28 فروری کو سکول کے ساتھ موجود ایرانی فوجی اڈہ پہلے سے طے شدہ اہداف میں شامل تھا یا نہیں۔ حالانکہ جنگ کے دوران کئی دوسرے مواقع پر اس محکمے نے اپنے اہداف کے بارے میں بات کی ہے۔

گذشتہ ماہ بی بی سی نے خود اس ویڈیو کی تصدیق کی جس میں ایک امریکی ٹوماہاک میزائل سکول کے ساتھ قائم ایرانی پاسداران انقلاب کے اڈے کو نشانہ بناتا دکھائی دیتا ہے۔

امریکی میڈیا نے نام نہ ظاہر کرنے والے فوجی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ ایک امریکی میزائل سکول پر گِرا ہے۔

ان رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے دیے گئے اہداف کے پرانے ڈیٹا کی وجہ سے ہوا۔ تاہم پینٹاگون نے ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پینٹاگون کے سینٹر آف ایکسی لینس برائے سویلین پروٹیکشن سے وابستہ سابق سینیئر مشیر ویس برائنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کی ابتدائی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لیے کی جاتی ہے کہ آیا واقعی شہری نقصان ہوا اور کیا اس وقت امریکی فورسز اس علاقے میں موجود تھیں اور نقصان کا سبب بن سکتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جب یہ دونوں معیار پورے ہو جائیں، تب ہی باضابطہ تحقیقات شروع کی جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عملی نقطۂ نظر سے یہ بات اس طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ امریکی کارروائی تھی، ورنہ وہ اس تفتیش میں مصروف ہی نہ ہوتے اور وہ صرف اسے تسلیم یا اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

برائنٹ گذشتہ سال پینٹاگون چھوڑ چکے ہیں جب ہیگسیتھ کے دور میں شہری نقصان کے یونٹ میں عملے میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس پر بالکل کوئی تبصرہ بھی نہ کر پانا ناقابلِ قبول ہے۔‘

ایک اور سابق دفاعی عہدیدار نے کہا کہ بعض شہری نقصان کی تحقیقات صورتِ حال کی پیچیدگی کے لحاظ سے طویل وقت لے سکتی ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’لیکن یہ ایسا معاملہ ہے جہاں یہ غیر معمولی طور پر غیر شفاف ہے جبکہ صورتِ حال سے میں بتا سکتا ہوں کہ یہ دراصل اتنی پیچیدہ نہیں۔‘

معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’عام طور پر پینٹاگون فوری یا نسبتاً تیزی سے ذمہ داری قبول کر لیتا ہے اور پھر تمام تفصیلات فراہم کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے میرے نزدیک یہ مسئلہ بن رہا ہے۔‘

ڈیموکریٹس کی جانب سے جوابات کا مطالبہ

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے ہیگسیتھ کو کئی بار خطوط لکھے جن میں میناب حملے کے بارے میں متعدد سوالات کیے گئے جن کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ آیا یہ حملہ امریکہ نے کیا تھا۔

بی بی سی نے پینٹاگون کے دو جوابی خطوط دیکھے ہیں جو ہیگسیتھ کی جانب سے بھیجے گئے، اور ان میں کسی بھی سوال کا جواب شامل نہیں۔

دو اپریل کو ڈیموکریٹس کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا کہ سینٹ کام کی کمانڈ چین سے باہر ایک تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے اور تفتیش مکمل ہونے پر نتائج شیئر کیے جائیں گے۔

بی بی سی نے کانگریس کے 15 ریپبلکن اراکین سے انتظامیہ کے اس حملے سے نمٹنے کے بارے میں سوال کیا، تاہم سب نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ان میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹیوں کے سرکردہ ریپبلکن بھی شامل تھے۔

10 مارچ کو لوزیانا سے ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم سے غلطی ہوئی۔ یہ ایک بہت، بہت بڑی غلطی تھی۔‘

پینٹاگون کے عہدیداروں نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے کانگریس کے اراکین کو فوجی کارروائیوں پر متعدد بند کمرہ بریفنگز دی ہیں، جن میں میناب حملے کے بارے میں سوالات بھی پوچھے گئے۔

ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ ایڈم سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ عہدیداروں نے کہا وہ جاری تفتیش کے باعث تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ بریفنگز میں امریکی ذمہ داری کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔

بی بی سی نے شہری ہلاکتوں سے متعلق تین تاریخی واقعات کا جائزہ لیا تاکہ میناب حملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ردعمل سے اس کا موازنہ کیا جا سکے۔

افغانستان میں اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ

پینٹاگون نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس نے ایک ایسی گاڑی کو نشانہ بنایا جو دولتِ اسلامیہ کے ایک فوری خطرے کی نمائندگی کر رہی تھی۔ درحقیقت اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک ہو گئے جن میں سات بچے شامل تھے۔ بمباری کے تین ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد پینٹاگون نے اپنی ذمہ داری قبول کی اور معذرت کی۔

اکتوبر 2015 میں افغانستان کے شہر قندوز میں ہسپتال پر بمباری

امریکی AC-130 ہیلی کاپٹر گن شپ کے حملے میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہوئے، جن میں طبی خیراتی ادارے ایم ایس ایف کے 24 مریض اور 14 طبی اہلکار شامل تھے۔

پانچ دن بعد افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر نے کانگریس میں تفصیلی گواہی دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ’امریکی کمانڈ چین کے اندر امریکی فیصلے‘ کے تحت کیا گیا تھا۔

اسی دن وائٹ ہاؤس نے غلطی تسلیم کی اور معذرت کی۔

فروری 1991 میں عراق کے شہر بغداد میں العمریہ شیلٹر پر حملہ

امریکی فضائیہ کی بمباری میں 408 شہری ہلاک ہوئے۔ انتظامیہ نے کہا کہ یہ بنکر ایک فوجی کمانڈ سینٹر تھا اور اس لیے جائز ہدف تھا۔ بی بی سی سمیت دیگر صحافیوں نے بمباری کے فوراً بعد اس مقام کا دورہ کیا اور اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں پایا۔

امریکی انتظامیہ نے ابتدا سے ہی شہری ہلاکتوں اور اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ امریکی حملہ تھا۔

ان تمام تاریخی واقعات میں، چاہے ڈیموکریٹ یا ریپبلکن انتظامیہ ہو، امریکی فوج کے سینیئر عہدیداروں نے میناب حملے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیلی عوامی بیانات دیے۔

سابق امریکی عہدیدار اینِی شیل سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں شہری نقصان میں کمی پر کام کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے معاملات میں ایک ہی طرز دیکھی گئی۔

امریکہ نے کہا کہ ’یہ ہم نہیں تھے‘، پھر میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹنگ سے واضح ہوا کہ یہ دراصل امریکی حملہ تھا اور پھر امریکہ کو اپنا مؤقف واپس لینا پڑا۔

شیل، جو اب سینٹر فار سویلینز اِن کنفلکٹ کی امریکی ایڈووکیسی ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ میناب کیس میں سینٹ کام سے باہر تفتیشی افسر کی تعیناتی ’کم از کم کاغذ پر آزادی کی جانب ایک اچھا آغاز‘ ہے۔

لیکن انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جاری تفتیش کے دوران امریکی کردار کے بارے میں مزید اعتراف کی ’بالکل‘ توقع کریں گی۔

واقعے کے بارے میں تصدیقی تفصیلات حاصل کرنا اس وجہ سے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ ایرانی حکام نے آزادانہ رسائی کی اجازت نہیں دی۔

ایران پر اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے 17 مارچ کو کہا کہ اس نے رسائی کی درخواست کی تھی لیکن اسے جائے وقوع کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دفتر برائے سکیورٹی اور انسانی حقوق کے سابق ڈائریکٹر چارلس او بلاہا نے کہا کہ واشنگٹن میں شفافیت کی کمی انتظامیہ کے اندر اس ’ہچکچاہٹ‘ سے پیدا ہو سکتی ہے کہ صدر کے اس بیان سے اختلاف کیا جائے جس میں انھوں نے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔

ایک دعویٰ جسے انھوں نے ’انتہائی بعید از قیاس اور بالکل واضح طور پر غلط‘ قرار دیا۔

چارلس او بلاہا نے امریکی فارن سروس میں 32 سال گزارے، اب ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کے سینیئر مشیر ہیں۔

انھوں نے میناب کیس میں نسبتاً خاموشی کو انتظامیہ کی جانب سے اس رویے سے جوڑا کہ وہ جنگ کے بارے میں ’ہر منفی خبر کو غیر محبِ وطن‘ قرار دیتی ہے۔

اس مضمون کے لیے اضافی رپورٹنگ کیتھرین الائمو نے کی ہے۔