6.3 ارب ڈالر کی ’تاریخی‘ کرپٹو ہیکنگ: شمالی کوریا نے بائنانس حملے میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے

Binance
    • مصنف, آسمونڈ چیا، انگس تھامسن، اموجن جیمز
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

شمالی کوریا نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر 6.3 ارب ڈالر (4.7 ارب پاؤنڈ) مالیت کے ریکارڈ سائبر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بے بنیاد دعوے‘ قرار دیا ہے۔

منگل کو شمالی کوریا کی اعلیٰ عہدیدار اور رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے کہا کہ یہ الزامات پیانگ یانگ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی امریکی کوشش کا ایک اور ’مذموم حربہ‘ ہیں۔

یاد رہے کہ کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا تھا ہے کہ 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے ایک ایسے سائبر حملے سے متاثر ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک ہو سکتا ہے۔

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)، سیکرٹ سروس اور سائبر سکیورٹی تجزیہ کاروں کا الزام ہے کہ یہ حملہ شمالی کوریا نے کروایا تھا۔

یہ حالیہ برسوں میں شمالی کوریا سے منسوب کیے جانے والے سائبر حملوں کی ایک اور مثال ہے۔ شمالی کوریا پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی پابندیوں کا شکار معیشت کے لیے وسائل جمع کرنے کی خاطر سائبر جرائم پر انحصار کرتا ہے۔

بلاک چین تجزیہ کاروں اور ایف بی آئی کے مطابق یہ حملہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر (TraderTraitor) نے کیا۔

ایف بی آئی نے کرپٹو انڈسٹری سے وابستہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس گروپ سے منسلک کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس سے ہونے والی لین دین کو روکنے میں مدد کریں۔

شمالی کوریا کے جنرل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر کم یو جونگ نے ایک بیان میں کہا: ’امریکہ نے ایک بار پھر ایک گھسا پٹا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے کو عوامی جمہوریہ کوریا کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا: ’یہ شمالی کوریا کے خلاف ایک سنگین سیاسی اشتعال انگیزی ہے کہ امریکہ عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے تمام سائبر جرائم ہمارے ہی کارنامے ہیں۔‘

تاہم حالیہ برسوں میں کئی بڑے سائبر حملوں کا الزام پیانگ یانگ پر عائد کیا جاتا رہا ہے، جن کی شمالی کوریا مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

ٹریڈر ٹریٹر گروپ، جسے لازارس گروپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر 2025 میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ (Bybit) پر اس وقت کے ریکارڈ 1.5 ارب ڈالر کے سائبر حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز جیسے تحقیقی اداروں کے مطابق شمالی کوریا نے برسوں کے دوران اپنی سائبر صلاحیتیں منظم انداز میں تیار کی ہیں، جہاں باصلاحیت طلبہ کو جامعات سے منتخب کر کے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کی نگرانی میں کام کرنے والے ہیکنگ یونٹس میں شامل کیا جاتا ہے۔

شمالی کوریا ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

کم یو جونگ نے کہا: ’ہر قسم کی بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں کی سختی سے مخالفت کرنا شمالی کوریا کی حکومت کی مستقل پالیسی ہے۔‘

بی بی سی نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے بائنانس سے رابطہ کیا ہے۔ حملے کے بعد کرپٹو کرنسی کمپنی نے اپنے عوامی بیانات میں زیادہ تر حملے کی تکنیکی نوعیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

Kim Yo-jong, the sister of North Korea's leader Kim Jong Un

اس سے قبل دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جمعرات کو ہونے والی ہیکنگ میں چرائے گئے 6.3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں میں سے 90 فیصد کا ازالہ کر دیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ باقی 10 فیصد اثاثوں کا مطلوبہ مقدار میں بندوبست کرنے میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

بائنانس مسلسل یہ وعدہ کرتا آیا ہے کہ وہ اس ہیکنگ سے ہونے والے 100 فیصد نقصانات پورے کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے فنڈز میں سے 6.34 ارب ڈالر سے زائد مختص کر رکھے ہیں۔

سنیچر کے روز جاری ایک بیان میں کمپنی کا کہنا تھا کہ 'چرائے گئے ان فنڈز کے مالی اثرات بائنانس خود برداشت کرے گا، ہمارے صارفین نہیں۔'

کمپنی کے مطابق اس نے مختلف فنڈز اور اپنے کارپوریٹ خزانے کے ذریعے یہ اثاثے دوبارہ فراہم کیے ہیں۔

دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشندو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔

جمعرات کے روز کرپٹو ایکسچینج نے بتایا تھا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کروائی کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔‘

بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں حملہ آور کو غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کرنے کا موقع ملا۔

دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کے ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائنانس پر حملے کی کئی خصوصیات ماضی کے شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں، بشمول بائی بٹ ہیک، سے مشابہت رکھتی ہیں۔

ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بائنانس پر حملہ ’ایک اہم موڑ‘ ہے اور اس نوعیت کا واقعہ ماضی میں کرپٹو صنعت نے نہیں دیکھا۔

آری ریڈبورڈ نے مزید کہا کہ حملہ آور کے پاس اب بھی چوری کیے گئے اثاثوں کی ایک بہت بڑی مقدار موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان رقوم کا سراغ لگانے اور انھیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔

2017 میں چین میں قائم کی جانے والی بائنانس صارفین کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے، اور اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں اس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 30 کروڑ سے زیادہ ہے۔

کمپنی نے 2024 میں کہا تھا کہ اس کے پاس 160 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے موجود ہیں۔

یہ ایکسچینج دنیا بھر میں ریگولیٹری جانچ پڑتال کی زد میں بھی رہی ہے۔

کرپٹو تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس نے بھی کہا ہے کہ اسے ’بھرپور یقین‘ ہے کہ اس ہیکنگ کے پیچھے شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والا گروہ ملوث ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران شمالی کوریا سے منسلک عناصر نے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل ٹوکن چرانے کے لیے کرپٹو کرنسی کمپنیوں کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

مغربی سکیورٹی ادارے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ چوری کی گئی رقوم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

شمالی کوریا کی حکومت ماضی میں ہیکنگ کے واقعات میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔

The Binance logo against the backdrop of blurry, blue computer text.
Source: Reuters, Binance

چین اینالیسس کے سربراہ برائے تحقیق ایرک جارڈین نے تمام کرپٹو ایکسچینجز کو چوکس رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اثاثوں کی بھاری مالیت انھیں ہیکرز کے لیے انتہائی پرکشش ہدف بناتی ہے۔

بائنانس نے بی بی سی کے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا جن میں حملے کے شمالی کوریا سے ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تاہم کمپنی نے کہا ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارم بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا ہے کہ امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا اس کا پلیٹ فارم اس حملے سے متاثر نہیں ہوا۔

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے کہا ہے کہ کمپنی کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکنگ کا آغاز ایک انجینیئر کے متاثرہ لیپ ٹاپ سے ہوا تھا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں حملہ آور کو ایک سروس کنٹینر تک رسائی حاصل ہو گئی، جہاں سے اس نے غیر مجاز رقوم نکالنے کی منظوری دی۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’حملہ آور نے محض ایک انجینیئر کی اجازتوں کا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ کوئی ایک کلک سے انجام پانے والی کارروائی تھی۔ اس میں حملے کا کہیں زیادہ پیچیدہ طریقۂ کار شامل تھا۔ ہماری تحقیقات میں اب تک کسی ایک فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اب تک ہمیں کسی بھی والٹ کی ’پرائیوٹ کی‘ کے افشا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے کہا ہے کہ کمپنی کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکنگ کا آغاز ایک انجینیئر کے متاثرہ لیپ ٹاپ سے ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے کہا ہے کہ کمپنی کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکنگ کا آغاز ایک انجینیئر کے متاثرہ لیپ ٹاپ سے ہوا تھا۔

بعد ازاں کمپنی کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ سکیورٹی بریچ میں صرف ایک جگہ سے نہیں ہوا۔ ’ہم اب بھی حقائق جمع کر رہے ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات حاصل ہوں گی، انھیں براہِ راست شیئر کیا جائے گا۔‘

چیک پوائنٹ کے جیانت ڈیو کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ستمبر میں کرپٹو ایکسچینج پلیٹ فارم بٹ گیٹ پر ہونے والی ہیکنگ سے بھی مشابہت رکھتا ہے، جس میں 388 ملین ڈالر (289 ملین پاؤنڈ) کا نقصان ہوا تھا۔ ان کے مطابق، ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کو اب والٹ کی کیز تک رسائی کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ ان نظاموں اور افراد کو نشانہ بناتے ہیں جن کے پاس ان کیز کو استعمال کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔‘

بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے متعدد پوسٹس میں مختلف کرپٹو کرنسی جاری کرنے والے اداروں کا اثاثے منجمد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا ’تحفظ اولین ترجیح ہے، اس لیے رقوم نکلوانے کی سہولت فی الحال اس وقت تک معطل رہے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ نظام محفوظ ہے۔‘

کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ بلاک چین کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کے لیے کام کیا ہے، اور چوری شدہ اثاثوں میں سے اب تک تقریباً تین ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بلاک چین پر منجمد کیے جا چکے ہیں۔

بائنینس نے ایکس پر جاری ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ’صارفین کے متاثرہ اثاثوں کی ریکوری کا عمل شروع کر دیا ہے۔‘

کمپنی کا مزید کہنا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ’مزید رقوم کا سراغ لگانے، انھیں منجمد کرنے اور واپس حاصل کرنے‘ کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

بائیننس کے مطابق اس نے پہلے ہی چوری شدہ رقم کے ازالے کے لیے 6.3 ارب ڈالر (4.7 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ رقم مختص کر دی ہے۔

کرپٹو کے دو دیگر بڑے پلیٹ فارمز، ٹیتھر اور سرکل، نے کہا کہ انھوں نے بائنانس پر ممکنہ ہیکنگ کے ردِعمل میں مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

ورلڈ لبرٹی فنانشل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان سے منسلک ایک کرپٹو کمپنی ہے، نے کہا کہ اس نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر چوری شدہ رقوم منجمد کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس نے کہا کہ وہ اس واقعے سے متاثر نہیں ہوئی اور صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

بائنانس کی جانب سے سکیورٹی مسئلے کی تصدیق کیے جانے سے کئی گھنٹے قبل ہی کرپٹو صنعت کے متعدد مبصرین نے ممکنہ ہیکنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے۔