’ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ وہ ڈھونڈ نہیں پا رہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ڈینیئل بش
- عہدہ, نامہ نگار، واشنگٹن
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
منگل کا دن امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں سفارتی گہما گہمی کا دن تھا۔ ایئر فورس ون طیارہ نائب صدر جے ڈی وینس کو اسلام آباد لے جانے کے لیے تیار کھڑا تھا جہاں امریکہ اور ایران کے بیچ مذاکرات کا ایک نیا دور طے تھا۔
لیکن کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی یہ طیارہ اڑ نہیں سکا اور پھر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں جو آج کے دن ختم ہونے والی تھی۔ ان کے مطابق اس توسیع کا مقصد ایران کو وقت دینا ہے تاکہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ’متفقہ تجاویز‘ دے سکے۔
لیکن اس اعلان سے قبل جب دنیا انتظار کر رہی تھی کہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ختم ہونے والی ہے یا نہیں، صدر ٹرمپ اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ ان کے پاس اب کیا راستے ہیں۔
یہ گزشتہ چند ہفتوں میں دوسرا موقع ہے جب صدر ٹرمپ نے جنگ میں شدت لانے کی دھمکی پر عمل پیرا ہونے سے گریز کیا اور پیچھے ہٹے۔ اس اعلان سے انھوں نے کچھ وقت حاصل کیا ہے جس میں وہ دو ماہ سے جاری اس تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔
نائب صدر وینس نے سرکاری طور پر اس بار اسلام آباد کے دورے کا اعلان نہیں کیا تھا اور واشنگٹن میں سب ہی اندازے لگا رہے تھے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اس بار مذاکرات میں شرکت کا سرکاری طور پر کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کے لیے یہ مشکل صورت حال پیدا ہوئی جس میں فیصلہ کرنا تھا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کی میز پر پہنچنے کی یقین دہانی کے بغیر نائب صدر کو روانہ کیا جائے یا نہیں۔
دن ڈھلنے کے ساتھ ہی یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔ خصوصی مشیر سٹیو وٹکاف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی وفد کے سینئر اراکین میامی سے سیدھا اسلام آباد روانہ ہونے کے بجائے واشنگٹن پہنچے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Akhtar Soomro
کچھ ہی دیر بعد وینس پالیسی ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس میں تھے جہاں صدر ٹرمپ اور ان کے سینئر مشیر یہ بحث کر رہے تھے کہ اب انھیں کیا کرنا چاہیے۔
آخر میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہم سے کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز سامنے نہ لے آئیں۔‘
اس اعلان کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی تاکہ سفارتی کوششوں کو وقت مل سکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان تنازع کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا‘ اور انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’دونوں فریقین جنگ بندی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور میں مستقل حل کے لیے جامع امن معاہدہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن اب یہ واضح نہیں کہ یہ دوسرا دور کب ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے بھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ جنگ بندی کب تک جاری رہے گی۔ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
سابق امریکی سفیر برائے عراق اور ترکی جیمز جیفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ ختم کرنے کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھوں نے عسکری طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی ہے۔
تاہم ٹرمپ کی جانب سے کیا جانے والا اعلان ماضی میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹوں کے مقابلے میں کچھ نپا تلا تھا۔ اس سے شاید ٹرمپ کی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ کو ختم کریں جس نے ایک جانب عالمی معیشت کو بڑا دھچکا دیا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں میں بھی غیر مقبول ہے۔
برائن کیٹلس مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں سینئر فیلو ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان پر ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے یہ ابہام پیدا ہوا ہے کہ اب یہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اس معاشی تکلیف سے کیسے نمٹیں گے جس سے امریکی شہری گزر رہے ہیں اور جس سیاسی تکلیف کا ان کو خود سامنا ہے۔ اب تک انھوں نے ان سوالوں کا جواب نہیں دیا جو اس بحران کی وجہ سے موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@CMSHEHBAZ
جنگ بندی میں توسیع کے بعد اب امریکہ اور ایران دونوں کے پاس ہی وقت ہے کہ وہ پائیدار امن کے لیے معاہدہ کر سکیں۔ لیکن کئی سوال باقی ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کو اقدام جنگ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے لیکن انھوں نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ ناکہ بندی بھی ختم کر رہے ہیں۔ امریکہ کو امید ہے کہ یہ ناکہ بندی ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی۔
لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔ اور اب ٹرمپ کے پاس عسکری طاقت کے استعمال کے علاوہ زیادہ راستے باقی نہیں بچے ہیں۔
ایران نے اس دوران اپنے اتحادی عسکری گروہوں کی حمایت یا جوہری پروگرام کو ختم کرنے میں دلچسپی بھی ظاہر نہیں کی۔ اور یہ دو ٹرمپ کی ’سرخ لکیریں‘ ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ دونوں حتمی معاہدے کا حصہ ہوں۔
ٹرمپ نے کچھ وقت ضرور حاصل کیا ہے۔ لیکن جنگ کا جلد خاتمہ فی الحال ہمیشہ کی طرح ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔
’پاکستان کو ثالثی کے کردار کو سہولت کاری تک محدود رکھنا چاہیے‘
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرنے کے اعلان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے جس میں جہاں پاکستان کے بطورِ ثالت کردار پر بحث کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں ہے تو اب آگے کیا ہو گا؟
پاکستان کے سابق سیکرٹری دفاع نعیم خان لودھی نے پاکستان کی ثالثی پر بات کرتے ہوئے اسے ’حساس اور نازک معاملہ‘ قرار دیا۔
ایکس پر اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے انھوں لکھا ’اگر پاکستان ایک غیر متنازع سہولت کار یا ثالث کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے مکمل طور پر غیر جانبدار رہنا ہوگا، اور یہ تاثر دینے سے گریز کرنا ہوگا کہ کون ضدی ہے یا کون ہٹ دھرمی دکھا رہا ہے۔‘
’آخرکار، اس معاملے میں ایک سپر پاور، ایک عظیم تہذیب اور چند تخریب کار عناصر شامل ہیں، جو صورتحال کو مزید نازک اور حساس بنا دیتے ہیں۔۔۔ کوشش جاری رکھی جائے کہ تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔‘
صحافی اور تجزیہ کار اعجاز حیدر نے پاکستان کی ثالثی سے متعلق کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا تاہم ساتھ ہی انھوں نے تنبیہ کی کہ ’اس کردار کو سہولت کاری تک محدود رکھا جائے، اسے ہدایتی یا حکم دینے والی ثالثی میں نہ بدلا جائے۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ زارٹمین اور ٹووال کے بیان کردہ ’میڈی ایشن ڈائلیما‘ کو سمجھنا ضروری ہے۔
’اگر آپ حد سے زیادہ دباؤ ڈالیں گے تو شاید ایران کو یہ لگے کہ آپ امریکہ کی جانب سے ایجنڈا کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اب تک کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔‘
خیال رہے ولیئم زارٹمین اور سعدیہ ٹووال بین الاقوامی ثالثی سے متعلق اہم تصورات پیش کرنے والے ممتاز مصنفین اور نظریہ ساز ہیں۔
اعجاز حیدر کہتے ہیں کہ ’ثالثی ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عمل ہے۔ ذاتی شہرت یا کریڈٹ کی تلاش ثانوی ہونی چاہیے۔‘
’بلکہ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ آگے کا کردار ایک مشترکہ ثالثی گروپ کو دے دے، مثلاً ترکی یا مصر کو، جب تک کہ دونوں فریق، خاص طور پر ایران، یہ نہ چاہیں کہ پاکستان ہی یہ کردار جاری رکھے۔ لیکن پھر بھی بہتر یہی ہوگا کہ پاکستان مڈل پاورز کے ایک اتحاد کا حصہ بن کر یہ کردار ادا کرے۔‘
اعجاز کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ذاتی فخر یا شہرت کا نہیں، بلکہ غیر معمولی پیچیدگیوں سے بھرپور ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز یونیورسٹی آف لاہور پروفیسر ڈاکٹر رابعہ اختر کہتی ہیں کہ ہم ثالثی کو مسئلے حل کروانے کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ آج کے سٹریٹجک دور میں ضروری نہیں کہ سفارتکاری کے ذریعے ہر صورت میں مسئلہ حل ہو جاتا ہے بلکہ چیزوں کو مزید خراب ہونے سے روکنے میں بھی اس کا کردار ہے۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار مشرقِ وسطیٰ کا تنازع حل کروانے کے لیے نہیں بلکہ بحران کو تباہ کن ہونے سے بچانے کا انتظام برقرار رکھنے تک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایک ایسا خطہ جہاں کشیدگی کم کرنے کے راستے محدود ہو رہے ہیں اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کی سفارتکاری بہت اہمیت رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا اور اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے‘
ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع مگر ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان پر ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’یہ اپنی مرضی سے چھیڑی گئی جنگ کی حماقت ہے۔ اب ہمیں ایک طویل دور کا سامنا ہے جہاں نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں، نہ اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو گا۔‘
’آبنائے ہرمز سے کچھ بھی گزر نہیں رہا، اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔‘
ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ایران نے 1979–1980 کے یرغمالی بحران کے ذریعے ایک صدر کو ذلیل کیا اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اور اب اس نے ایک اور صدر کو اُس جنگ میں، جس کا آغاز اسی نے کیا تھا، جغرافیے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔‘
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کیٹلن کولنز نے سینیٹر الزبتھ وارن کا ایک کلپ شیئر کی، جس میں وہ کہتی ہیں: ’اب ہمارے پاس جنگ بندی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں ہے، ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے بھی کوئی ٹائم لائن نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوئی ٹائم لائن موجود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے اور اب وہ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔‘



























